بلڈوزر کی الٹی پڑتی چال اور بی جے پی کے سامنے بڑھتے سوال...منی بندوپادھیائے
بلڈوزر کی سیاست اب نئے سوالات سے دوچار ہے۔ میرٹھ میں غیر قانونی تعمیرات پر عدالتی کارروائی، ووٹر لسٹ، تنظیمی ناراضگی، مہنگائی اور بے روزگاری نے 2027 سے پہلے بی جے پی کے سامنے کئی چیلنج کھڑے کر دیے

اتر پردیش میں یہ منظر اب عام ہو چکا ہے کہ جب بھی بی جے پی کا کوئی بڑا لیڈر کسی شہر کا دورہ کرتا ہے تو اس کے استقبال کے لیے شاہراہوں پر جے سی بی اور بلڈوزروں کی قطاریں لگا دی جاتی ہیں۔ 21 اور 22 ستمبر کو پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کے میرٹھ اور سہارنپور دورے کے دوران بھی ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ میرٹھ میں ان کا قافلہ ایک ٹول پلازا پر پہنچا تو بلڈوزروں سے پھول برسائے گئے اور نتن نوین بھی اس استقبال سے خوش دکھائی دیے۔
البتہ استقبال کا یہ انداز میرٹھ کے بی جے پی حامیوں کے ایک طبقے کو زیادہ پسند نہیں آیا۔ وجہ یہ تھی کہ شہر میں انہی دنوں بلڈوزر مبینہ ’غیر قانونی‘ اور غیر مجاز تجارتی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ بلڈوزروں سے ہونے والے اس استقبال پر پیدا ہونے والی ناراضگی کی خبر پارٹی قیادت تک بھی پہنچی۔ یہی وجہ بتائی گئی کہ اگلے روز جب نتن نوین کا قافلہ سہارنپور پہنچا تو وہاں جے سی بی مشینوں کی جانب سے دیے جانے والے ’گارڈ آف آنر‘ کے سامنے رکے بغیر تیزی سے گزر گیا۔
یہ محض استقبال کے ایک طریقے کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے اتر پردیش میں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران پیدا ہونے والی وہ سیاسی فضا بھی ہے جس میں بلڈوزر ایک انتظامی مشین سے بڑھ کر سیاسی علامت بن چکا ہے۔ لیکن میرٹھ میں اب یہی علامت ایک نئے سوال کے سامنے کھڑی ہے: اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا معیار سب کے لیے یکساں ہے تو اس کا دائرہ کہاں تک جائے گا؟
میرٹھ کے شاستری نگر سینٹرل مارکیٹ کا معاملہ اس سوال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2024 میں ایسی 44 رہائشی جائیدادوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا جن کا استعمال تجارتی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا تھا۔ ان میں سے کچھ کو سیل کیا گیا اور کچھ کے خلاف انہدام کی کارروائی ہوئی۔ جولائی 2026 میں عدالت کو بتایا گیا کہ تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ایسے تجارتی اداروں کی تعداد 859 تک ہو سکتی ہے۔
لیکن ستمبر میں ایک ہی سروے زون میں ’غیر قانونی تعمیرات‘ کی تعداد بڑھ کر 16,726 تک پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی۔ سپریم کورٹ نے ایسی جائیدادوں کو سیل کرنے کی ہدایت دی جن میں بڑی تعداد میں اسکول، نرسنگ ہوم، زیورات کی دکانیں، مٹھائی کی دکانیں اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے بنائے گئے مکانات بھی شامل تھے۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ کئی رہائشی جائیدادوں کا بغیر قانونی اجازت تجارتی استعمال کیا جا رہا تھا، بعض مقامات پر غیر مجاز تعمیرات کی گئی تھیں اور لازمی طور پر خالی چھوڑی جانے والی جگہوں، یعنی سیٹ بیک ایریا، پر بھی تجاوزات موجود تھیں۔ عدالت نے صرف اس بنیاد پر ان تعمیرات کو باقاعدہ قرار دینے سے انکار کر دیا کہ وہ کئی برس پرانی ہیں یا سرکاری اداروں نے پہلے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔
جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیر صرف اس لیے قانونی نہیں ہو جاتی کہ وہ کئی برس سے موجود ہے۔ یہ اصول انتظامیہ اور جائیداد کے مالکان، دونوں کے لیے دور رس اثرات رکھتا ہے۔ روایتی طور پر بی جے پی کی حمایت کرنے والے کئی تاجر اور کاروباری حلقے اب اس بات پر ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت ان کے کاروبار، املاک اور سرمایہ کاری کے تحفظ میں ناکام کیوں دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کے پابند ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’بلڈوزر جسٹس‘ کی بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اتر پردیش میں اب تک بلڈوزر کارروائی کا ذکر زیادہ تر مسلمانوں، مساجد، مزارات اور مبینہ جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔ ناقدین نے اس پر انتخابی اور امتیازی استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ایسی کارروائیوں کو غیر قانونی تعمیرات اور قانون کی خلاف ورزی کے خلاف قدم قرار دیا جاتا رہا ہے۔
اب سپریم کورٹ کے احکامات نے اس بحث کے دائرے کو وسیع کر دیا ہے۔ اگر غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اصول ہر جگہ یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے تو پھر ریاست کے تقریباً ہر بڑے شہر میں اس کے اثرات نظر آ سکتے ہیں۔ اتر پردیش میں غیر قانونی یا غیر مجاز تعمیرات کوئی نئی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر میرٹھ میں بڑے پیمانے پر انہدام کی کارروائی شروع ہوتی ہے تو ریاست کے دوسرے شہروں کے لیے اس کا پیمانہ کیا ہوگا؟
یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بھی ایک نئی تشویش پیدا کر رہی ہے جو ماضی میں مساجد، مزارات یا مسلمانوں کی املاک کے خلاف بلڈوزر کارروائی کو حکومت کی سخت پالیسی کی علامت سمجھ کر اس کا خیر مقدم کرتے رہے ہیں۔ اب انہیں یہ اندیشہ لاحق ہے کہ قانون کے اسی معیار کا دائرہ کہیں ان کی اپنی املاک، کاروبار یا تعمیرات تک نہ پہنچ جائے۔
کیا سب کچھ ٹھیک نہیں ہے؟
بی جے پی کے اندرونی حلقوں کے حوالے سے ایک اور تشویش بھی سامنے آ رہی ہے۔ پارٹی کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں ووٹروں کی فہرست کی خصوصی نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کے دوران بڑی تعداد میں بی جے پی حامیوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گئے ہیں۔ ایک وزیر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ سماج وادی پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹوں نے اس عمل کے دوران یہ یقینی بنانے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کیا کہ مسلم ووٹروں کے نام فہرست سے نہ نکلیں۔
یہ دعوے سیاسی طور پر حساس ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر اس موضوع پر تشویش کی اطلاعات اپنی جگہ اہم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس صورت حال سے ناراض ہیں اور اسی لیے بی جے پی کارکنوں سے ’نئے ووٹروں‘ کے اندراج کی رفتار تیز کرنے اور فارم 6 اور فارم 6 اے کے ذریعے ضروری کارروائی مکمل کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل صورت حال کو درست کر لیا جائے گا۔
اسی دوران یہ بات بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ 2027 کا اسمبلی انتخاب بی جے پی کے لیے کئی محاذوں پر چیلنج لے کر آ سکتا ہے۔ پارٹی کو اقتدار مخالف جذبات کے ساتھ ساتھ تنظیمی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی اور عوامی ماحول میں محسوس کیے جانے والے ٹھہراؤ سے بھی نمٹنا ہوگا۔
لکھنؤ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی رابطہ و ہم آہنگی میٹنگ میں بھی ان مسائل پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں چند اہم خدشات نمایاں رہے۔ بی جے پی کے ارکان اسمبلی اور مقامی رہنماؤں کے خلاف عوامی ناراضی میں اضافے، پارٹی کارکنوں میں مایوسی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر تشویش ظاہر کی گئی۔ ایودھیا میں رام مندر کے لیے جمع کیے گئے عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی اس بحث کا حصہ رہا۔
اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں بدعنوانی، انتظامیہ اور پارٹی کارکنوں کے درمیان بدلتے تعلقات اور نوجوانوں، خصوصاً ’جن زی‘ نسل کے ساتھ بی جے پی کی بڑھتی دوری کو بھی تشویش کے طور پر دیکھا گیا۔ اس پورے پس منظر میں آر ایس ایس کا بی جے پی کے لیے پیغام بظاہر واضح ہے: باہمی اختلافات اور شکایات کو ایک طرف رکھ کر انتخابی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جائے۔
لیکن مسئلہ صرف انتخابی تیاری کا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی ان شکایات اور خدشات کو محض انتخابی حکمت عملی کے ذریعے دور کر سکتی ہے، یا اس کے لیے انتظامیہ، کارکنوں، تاجروں اور عام شہریوں کے ساتھ تعلقات کے انداز میں بھی تبدیلی درکار ہوگی؟
بلڈوزر کبھی طاقت اور فوری کارروائی کی علامت بن کر ابھرا تھا۔ لیکن میرٹھ میں اسی بلڈوزر کا بدلتا ہوا کردار ایک مختلف سوال سامنے لا رہا ہے: جب قانون کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہو تو کیا وہی بلڈوزر جو کبھی سیاسی طاقت کی علامت تھا، بالآخر اقتدار کے حامی حلقوں کے لیے بھی تشویش کی علامت بن سکتا ہے؟
اتر پردیش میں 2027 کی سیاست ابھی شروع نہیں ہوئی، لیکن اس کے کئی سوال ضرور سامنے آ چکے ہیں۔ بلڈوزر، ووٹر لسٹ، تنظیمی ناراضگی، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور نوجوانوں سے بڑھتی دوری—یہ سب الگ الگ مسائل دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک مشترک سوال موجود ہے: کیا اقتدار کے مسلسل استعمال سے پیدا ہونے والی سیاسی طاقت اب خود اپنے لیے نئی آزمائشیں پیدا کر رہی ہے؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
