جب نل کا پانی محض ایک خواب بن جائے...رشمی سہگل

ہندوستان کے کئی حصوں میں شدید آبی بحران نے دیہی زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ خشک ہوتے آبی ذخائر، ناکام منصوبے، زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور کم بارش کے خدشات نے صورت حال مزید سنگین بنا دی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

چھتیس گڑھ کے دور افتادہ گاؤں ریوا میں 60 سالہ بدھّا دیوی کا پورا دن پانی کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ ان کے ایک پڑوسی کا بورویل تو کام کر رہا ہے، لیکن وہ ایک کلومیٹر دور ہے۔ وہ صبح سویرے ایک برتن سر پر اور دوسرا ہاتھ میں لے کر پانی لانے نکل پڑتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی فکر نے ان کی راتوں کی نیند چھین لی ہے۔ سرکاری سولر سے چلنے والے ہینڈ پمپ میں پانی نہیں آتا، گرمیوں میں کنواں خشک ہو جاتا ہے اور جل جیون مشن کے تحت لگائے گئے نلوں سے پانی کی ایک بوند بھی نہیں ٹپکتی۔

مدھیہ پردیش میں پانی کی قلت اس قدر شدید ہے کہ دھار ضلع کے اُتّاوا گاؤں کی خواتین سخت گرمی میں کئی میل پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ پانی بھرنے کے لیے انہیں پتھریلی کھائی میں تقریباً 50 فٹ نیچے خطرناک راستے سے اترنا پڑتا ہے۔ دو سال قبل جل جیون مشن کے تحت بچھائی گئی پائپ لائن آج تک پانی فراہم نہیں کر سکی اور اس پر خرچ کیے گئے کروڑوں روپے بے سود ثابت ہوئے۔

مدھیہ پردیش کے امریا اور پنا اضلاع میں شدید گرمی اور لُو کے باعث ہینڈ پمپ خشک ہو چکے ہیں اور لوگ اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ سماجوادی جن پریشد کے کارکن فاگرام کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجہ زیر زمین پانی کا بے تحاشا استعمال اور پانی کو دوبارہ ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقوں کا ختم ہونا ہے۔

مغربی ہندوستان میں بھی صورت حال تشویش ناک ہے۔ مہاراشٹر کے دیہی علاقوں، خصوصاً مراٹھواڑہ، ودربھ، لاتور، عثمان آباد، بیڑ، جالنہ، ناسک، پونے اور ستارا جیسے اضلاع شدید آبی بحران کا شکار ہیں۔

اورنگ آباد ضلع کے کسان شیواجی گائیکواڑ کے مطابق 633 سے زائد دیہات اور 1,652 بستیاں نجی ٹینکروں پر منحصر ہیں، مگر یہ مہنگے بھی ہیں اور ان کے لیے آٹھ سے دس دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول پہلے دیہات کی ضرورتیں دریاؤں سے پوری ہوتی تھیں، لیکن اب بڑے پیمانے پر ریت کی کان کنی کی وجہ سے پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا اور ندیاں سوکھ رہی ہیں۔ ناسک کے بوریچیوری گاؤں میں خواتین کو کیچڑ آلود پانی حاصل کرنے کے لیے رسّیوں کے سہارے خطرناک کنوؤں میں اترنا پڑتا ہے۔


لیلابائی کہتی ہیں، ’’گرمی کے دو مہینوں میں ہمارا سارا وقت پانی کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ ایسا پانی پینے سے ہمارے بچے بیمار پڑ رہے ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں۔ اگر شام تک چار بالٹیاں پانی مل جائیں تو خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں، لیکن یہ مشقت جسم توڑ دیتی ہے۔‘‘

بڑی مشکل سے حاصل ہونے والی یہ چند بالٹیاں بھی رہائش اور شہری امور کی وزارت کی جانب سے ہر دیہی خاندان کے لیے تجویز کردہ یومیہ 55 لیٹر پانی کی کم از کم ضرورت کا نصف بھی پورا نہیں کر پاتیں۔ امبیگاؤں، جنّر، بھور، ملشی اور پورندر کے دیہی باشندے اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ شدید بارش والے اس علاقے میں بھی پانی کی قلت برقرار ہے، جبکہ پونے کے شہری اور صنعتی مراکز کو پانی انہی علاقوں کے ذخائر سے فراہم کیا جاتا ہے۔

امبیگاؤں تعلقہ کے بھیم شنکر مندر کے اطراف کے کئی خاندانوں کے لیے پانی لانا روزمرہ کی ایک کٹھن جدوجہد بن چکا ہے۔ بھیم شنکر کے نزدیک ایکلہارے گاؤں کے رہائشی روپیش امبیکر نے دی انڈین ایکسپریس (15 جون 2026) کو بتایا کہ ان کے علاقے میں زیادہ تر قبائلی آبادی رہتی ہے اور دور دراز دیہات کی خواتین پانی کی تلاش میں کھڑی اور پتھریلی پہاڑیاں عبور کرتی ہیں اور دشوار راستوں سے سر پر گھڑے اٹھائے واپس آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قدر بوجھ اٹھانے سے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔

امبیکر کے مطابق بھیم شنکر میں ہر سال تقریباً دو ہزار ملی میٹر بارش ہوتی ہے اور ڈمبھے ڈیم بھی قریب ہی واقع ہے، لیکن اس کے باوجود کھمکرواڑی، دھامن گاؤں اور کئی دیگر دیہات ہر گرمی میں شدید آبی بحران کا سامنا کرتے ہیں۔ تقریباً پانچ سال پہلے پانی کی ٹنکی اور پائپ لائن کا نظام بنایا گیا تھا، مگر آج تک ان دیہات تک پانی نہیں پہنچ سکا۔

یہ شکایت تقریباً پورے علاقے کے دیہات میں مشترک ہے۔ دھنوالے گاؤں کے ماروتی دھنوالے کے مطابق ان کے گاؤں سے نکلنے والی ندیاں نیرا-دیوگھر ڈیم میں جا کر گرتی ہیں، جو بارامتی، انداپور اور پورندر کے بعض حصوں کو پانی فراہم کرتا ہے، لیکن ڈیم سامنے ہونے کے باوجود خود ان کے گاؤں کے لوگ پانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اورنگ آباد کے واٹر اینڈ لینڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے سابق پروفیسر اور آبی وسائل کے ماہر پردیپ پورندرے مہاراشٹر کے موجودہ آبی بحران کے لیے گنے کی ضرورت سے زیادہ کاشت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں، کیونکہ گنے کی فصل کو بے حد پانی درکار ہوتا ہے۔


پورندرے کہتے ہیں، ’’مقامی سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے علاقوں میں پانی سے متعلق نظام پر قبضہ جما رکھا ہے۔ وہ آب پاشی کے محکمے کے افسران کی تقرری کرتے ہیں اور پھر وہی افسر ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ زمینی سطح پر ریاستی حکومت کا کنٹرول بہت محدود رہ گیا ہے۔‘‘

جھارکھنڈ میں بھی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ چترا ضلع میں قبائلی باشندے ریت کے گڑھوں سے پانی نکالنے پر مجبور ہیں اور کوئی دوسرا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر آلودہ پانی پیتے ہیں۔ کھرساواں کے کومے جیسے دیہات میں لوگ پینے کے پانی کے لیے پہاڑی چشموں اور ’’چوا‘‘ کہلانے والے عارضی آبی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ برسات کے موسم میں یہ ذرائع گندے ہو جاتے ہیں، جس کے باعث دیہاتیوں کو صاف پانی کے حصول کے لیے دور دور تک بھٹکنا پڑتا ہے۔

سنٹرل واٹر کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ہند کی ریاستوں کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے دیہی علاقوں کے بڑے آبی ذخائر میں ان کی مجموعی گنجائش کا 20 فیصد سے بھی کم پانی باقی رہ گیا ہے، جبکہ بعض ڈیموں میں تو صرف 5 فیصد پانی رہ گیا ہے۔

حیدرآباد کے آبی ماہر ستیہ نارائن بولیسیٹی کہتے ہیں، ’’ہر وزیر اعلیٰ کے ڈیش بورڈ پر ڈیموں، دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح سے متعلق روزانہ کے اعداد و شمار موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اس بات سے بے خبر نہیں کہ پانی کی فراہمی کی حالت کس قدر خراب ہو چکی ہے۔‘‘

جل ادھیکار فاؤنڈیشن (شمالی ہند) کے رابطہ کار مان ہریانہ کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح چار دہائیوں کے دوران یہ ریاست پانی کی فراوانی والے خطے سے پانی کی قلت والے علاقے میں تبدیل ہو گئی۔

ان کے مطابق، ’’1985 تک ہریانہ میں نہروں کا ایک مؤثر نظام موجود تھا، جو پینے کے پانی اور نکاسی آب، دونوں کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ اب ان نہروں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان پر غیر قانونی قبضے ہیں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں بھاری نقصان اور بخارات بن کر پانی کے ضیاع کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘


وہ گروگرام اور فرید آباد جیسے بڑے شہروں کو پانی فراہم کرنے کے لیے گروگرام اور جواہر لال نہرو نہروں کے استعمال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہمارے دیہات اور قصبوں میں مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مقامی آبی ذخائر کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔‘‘

اتر پردیش کو کبھی پانی سے مالا مال ریاست سمجھا جاتا تھا، لیکن ایک تفصیلی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ ریاست بھی ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے، کیونکہ دستیاب زیر زمین پانی کا کم از کم 80 فیصد حصہ استعمال کیا جا چکا ہے۔ دیگر بیشتر ریاستوں کی طرح اتر پردیش بھی جتنا تازہ پانی قدرتی طور پر دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، اس سے کہیں زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکال رہا ہے۔

پڑوسی ریاست اتراکھنڈ میں یہ مسئلہ اب تنازعات اور خونریزی کا سبب بننے لگا ہے۔ 13 جون کو دہرادون کے دیہی علاقے سہسپور میں آب پاشی کے تنازعے پر پڑوسیوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور اس کے اہل خانہ پر حملہ بھی کیا۔

دیوپریاگ کے ہنسریاکھال اور پاٹاخال علاقوں کے دیہاتی اپنی مشکلات اجاگر کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ انتظامی دفاتر کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کی آبی ضروریات پوری نہ کی گئیں تو وہ اپنی تحریک مزید تیز کریں گے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل میں ’’ال نینو‘‘ کی وجہ سے ہندوستان میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ہے، جو تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف گرمی اور خشک سالی میں اضافہ ہوگا، بلکہ زراعت، بجلی کے نظام اور پہلے سے کمزور آبی تحفظ پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔

بولیسیٹی کے مطابق، ’’محکمہ موسمیات کی تازہ معلومات، جن کی تصدیق اِنسیٹ-3 ڈی ایس سیٹلائٹ تصاویر سے بھی ہوئی ہے، ظاہر کرتی ہیں کہ جزیرہ نما ہندوستان کے اوپر آسمان مکمل طور پر صاف اور بادلوں سے خالی ہے، جبکہ اس وقت مون سون کو اپنے عروج پر ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہرگز اچھی علامت نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔