جب وزیرِاعلیٰ کو دن دہاڑے یرغمال بنا لیا گیا...کرشن پرتاپ سنگھ

1847 میں اودھ کے وزیرِاعلیٰ امین الدین کو لکھنؤ میں فضل علی اور اس کے ساتھیوں نے یرغمال بنا کر 50 ہزار روپے تاوان وصول کیا۔ اس سازش کے پس پردہ علی نقی خان تھے، جو بعد میں وزیرِاعلیٰ بن گئے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

اقتدار کی کشمکش میں خطرناک مجرموں اور بااثر مسلح افراد کے استعمال کے بہت سے واقعات تاریخ میں ملتے ہیں، لیکن اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے عہد کا یہ واقعہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ چار بااثر مسلح افراد نے دارالحکومت لکھنؤ میں دن دہاڑے نواب کے وزیرِاعلیٰ امین الدین کو ہی یرغمال بنا لیا اور ان کی رہائی کے بدلے 50 ہزار روپے تاوان بھی وصول کر لیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت وزیرِاعلیٰ فوری طور پر ان کا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکے۔

یہ حیرت انگیز واقعہ 8 اپریل 1847 کو، واجد علی شاہ کے تخت نشین ہونے کے محض دوسرے ماہ پیش آیا۔ اس سازش کے پس پردہ وزیرِاعلیٰ کے عہدے پر نظریں جمائے بیٹھے ان کے حریف نواب علی نقی خان تھے۔ علی نقی خان، واجد علی شاہ کے سسر تھے اور ہر ممکن طریقے سے امین الدین کو نیچا دکھا کر خود وزیرِاعلیٰ بننا چاہتے تھے۔

ایک وقت ایسا آیا جب یہ سیاسی عداوت سازش میں بدل گئی۔ علی نقی خان نے اس مقصد کے لیے اُس زمانے کے بدنام زورآور فضل علی کی مدد حاصل کی اور اس کے عوض اسے بھاری رقم دینے کا وعدہ کیا۔ طے پایا کہ فضل علی موقع ملتے ہی امین الدین کو یرغمال بنا لے گا۔ اس کے بعد جب علی نقی خان وزیرِاعلیٰ بن جائیں گے تو فضل علی کی بھی خوب پذیرائی ہوگی۔

علی نقی خان مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے پڑپوتے تھے، جس کی وجہ سے اودھ کے دربار میں ان کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ ان کی بیٹی اختر محل، واجد علی شاہ کی اہلیہ تھیں، جبکہ ان کی بھتیجی بیگم عالم آرا عرف خاص محل، واجد علی شاہ کی پہلی بیوی تھیں۔ علی نقی خان کی سیاسی اہمیت بہت بلند تھیں۔ انہیں پورا کرنے کے لیے جب انہوں نے خفیہ طور پر امین الدین کو راستے سے ہٹانے کی ذمہ داری فضل علی کو سونپی تو اس نے دیر نہیں لگائی۔


8 اپریل 1847 کو امین الدین اپنے دو معاونین اور ایک خادم کے ساتھ لکھنؤ کے گولہ گنج میں واقع ملکۂ زمانی کے امام باڑے کے قریب سے گزر رہے تھے کہ فضل علی نے اپنے تین قابلِ اعتماد اور خطرناک ساتھیوں، تفضل حسین، حیدر خان اور علی احمد کے ساتھ ان کی بگھی روک لی۔ چاروں نے امین الدین، ان کے معاونین اور خادم کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ خبر پھیلتے ہی واجد علی شاہ کی پوری حکومت میں کھلبلی مچ گئی۔ معاملہ اس لیے بھی سنگین تھا کہ اس وقت تک انگریز اودھ کی حکومت کا بیشتر اختیار اپنے ہاتھ میں لے چکے تھے اور نواب کی خودمختاری بڑی حد تک محدود ہو چکی تھی۔

تاریخ نویسوں کے مطابق امین الدین ابھی یہ سمجھ بھی نہیں پائے تھے کہ فضل علی اور اس کے ساتھیوں نے انہیں اس طرح بدمعاشی کے ساتھ یرغمال بنانے کی جرأت کیوں کی، کہ ان چاروں نے ان کے خادم کو بری طرح زخمی کر دیا۔ خادم نے بھی اپنی طرف سے حیدر خان پر تلوار کا زوردار وار کیا، لیکن وہ حیدر خان کو تفضل کے ساتھ بگھی میں داخل ہونے اور امین الدین کو بے بس کرنے سے نہ روک سکا۔

امین الدین نے حیدر خان کا تلوار والا دایاں ہاتھ پکڑ کر اسے بائیں جانب دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن گھبراہٹ میں اپنا توازن کھو بیٹھے اور اسی پر جا گرے۔ حیدر کی مدد کے لیے تفضل آگے بڑھا تو امین الدین نے اسے بھی بائیں ہاتھ سے پکڑ لیا۔ اسی دوران تیسرے حملہ آور نے ان کے اسی ہاتھ پر تلوار سے وار کر دیا۔جب وہ سنبھلے تو دیکھا کہ ان کے دونوں معاونین بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک مدد کے لیے چیخ رہا تھا، ’’بچاؤ، بچاؤ! غنڈے وزیرِاعلیٰ کو مار رہے ہیں۔‘‘

اسی دوران فضل علی اور اس کے ساتھیوں نے امین الدین کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور وہاں جمع لوگوں کو دھمکانے لگے کہ اگر کسی نے مداخلت کی تو اسے بھی نہیں بخشا جائے گا۔ بآگے کا واقعہ منشی نول کشور نے اپنی مشہور کتاب ’نادرالعصر‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ خبر ملتے ہی انگریز ریزیڈنٹ رچمنڈ اپنے معاون لیفٹیننٹ برڈ کے ساتھ چند ہی منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اس نے چھاؤنی کو حکم دے دیا تھا کہ دو توپوں کے ساتھ ایک فوجی دستہ اپنے تمام سازوسامان سمیت فوری طور پر موقع پر پہنچے۔


لیکن فضل علی نے ریزیڈنٹ سے بھی دیر تک اکڑ کر بات کی۔ اس کے ایک ساتھی نے یہاں تک کہہ دیا، ’’ارے ریزیڈنٹ صاحب! اس راج میں اندھیر نگری مچی ہوئی ہے۔ دربار میں ناچنے والیوں، گویوں اور خواجہ سراؤں کے آگے اچھے لوگوں کی کوئی قدر نہیں۔ اس ’مدار المہام‘ یعنی وزیرِاعلیٰ نے تو ہماری ملازمت تک چھین لی ہے۔‘‘

ریزیڈنٹ نے فضل علی کو سمجھانے اور معاملہ ختم کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن فضل علی نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا کہ وہ امین الدین کو اسی وقت رہا کریں گے جب انہیں 50 ہزار روپے تاوان دیا جائے گا اور بغیر کسی نقصان کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِانتظام کانپور کے علاقے میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ریزیڈنٹ ایک حد سے آگے ان کے مطالبات کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی دوران امین الدین کے پریشان حال اہلِ خانہ ان کی جان بچانے کے لیے ہاتھیوں پر 50 ہزار روپے کے سکے لاد کر تاوان ادا کرنے وہاں پہنچ گئے۔

اس کے بعد ریزیڈنٹ نے انگریز فوج کی مدد سے ہاتھیوں اور رقم سمیت فضل علی اور اس کے ساتھیوں کو ریزیڈنسی پہنچایا اور پورے واقعے کی اطلاع نواب واجد علی شاہ کو دی۔ نواب نے چاروں کی گرفتاری کے لیے سپاہی بھیجے، لیکن ریزیڈنٹ نے اپنے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اس تمام واقعے سے شدید پریشان امین الدین نے بھی نواب کو خط لکھ کر درخواست کی کہ فضل علی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ کی جائے۔ اس وقت تک تو ان کے ساتھ وعدے کے مطابق برتاؤ کیا گیا، لیکن بعد میں چاروں کے خلاف مقدمہ چلا۔ عدالت نے تفضل حسین، حیدر خان اور فضل علی کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ علی احمد کو اچھے چال چلن کی شرط پر رہا کر دیا گیا۔


جہاں تک اس سازش کے اصل محرک علی نقی خان کا تعلق ہے، وہ اس لحاظ سے اپنے مقصد میں کامیاب رہا کہ فضل علی نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد واجد علی شاہ نے امین الدین کو حکومت کی ساکھ خراب کرنے، محصولات کی وصولی میں کوتاہی، انتظامی امور میں سستی اور تقرریوں میں رشوت خوری سمیت متعدد الزامات کے تحت وزیرِاعلیٰ کے عہدے سے برطرف کر دیا اور ان کی جگہ علی نقی خان کو مقرر کر دیا۔

تاریخ نویسوں کے مطابق امین الدین نے واجد علی شاہ کے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے استعفے کی پیش کش کی تھی، لیکن اس وقت اسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔ وزیرِاعلیٰ کے عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے لکھنؤ کا مشہور امین آباد بازار آباد کرایا تھا۔ بعد میں ان کے نام سے معروف امین الدین لائبریری بھی قائم ہوئی۔ اس سب کے باوجود جب حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں انہیں عہدے سے برطرف کیا گیا تو وہ بہت دل برداشتہ ہوئے۔ انہیں اس بات نے مزید پریشان کیا کہ علی نقی خان ان کے جانشین بن گئے تھے۔

دوسری جانب فضل علی کو عمر قید کی سزا کے بعد جیل بھیج دیا گیا، لیکن چند ہی دنوں بعد اس نے ایک اور سازش کے ذریعے جیل سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کر لی۔ بعض تاریخ نویسوں کے مطابق اس فرار میں علی نقی خان نے بھی خفیہ طور پر اس کی مدد کی تھی۔ جیل سے فرار کے بعد فضل علی بہرائچ ضلع کے نانپارہ پہنچا، جہاں اسے راجا منور علی خان کی سرپرستی حاصل ہو گئی۔ 1850 میں راجا کا انتقال ہوا تو فضل علی نے ان کی بیگمات کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ چھوٹی بیگم نے اقتدار پر قبضے کی کوشش شروع کی اور واجد علی شاہ کی والدہ ’ملکۂ کشور‘ کی حمایت حاصل کر لی۔ اس سے ناراض بڑی بیگم نے فضل علی کو اپنی فوج کا کمانڈر مقرر کر دیا۔

اودھ کی نوابی فوج نے اسے بے دخل کرنے کے لیے بسواں کے تعلقہ دار نواب علی کی فوج کے ساتھ مل کر حملہ کیا، لیکن فضل علی نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے نوابی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا اور اسے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاہم بڑی بیگم کو بعد میں اس بغاوت کی اس سے بھی بڑی قیمت چکانی پڑی۔


نوابی فوج کچھ ہی عرصے بعد بڑی تیاری اور بھاری نفری کے ساتھ واپس آئی اور بڑی بیگم کو بے دخل کر دیا۔ انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑا۔ریاستی سرپرستی ختم ہوتے ہی فضل علی کے حالات بھی بدلنے لگے۔ اس نے ڈاکے ڈالنے شروع کر دیے۔ اس کے گروہ نے کانپور میں نواب محمد تقی خان کی کوٹھی لوٹنے کے علاوہ لکھنؤ کے کروڑ پتی صراف پنا لال چودھری، لالا ہرپرساد اور ملکۂ عالم کے دولت خانے بھی لوٹ لیے۔ بعد میں فضل علی گونڈا کی اترولا ریاست میں واپس آ گیا اور ترائی کے علاقے میں جروا نامی مقام پر مٹی کی ایک گڑھی بنوا کر رہنے لگا۔

1856 میں انگریزوں نے واجد علی شاہ کو اقتدار سے معزول کرکے اودھ کا انتظام براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 7 فروری کو ریزیڈنٹ کرنل سلیمان نے اقتدار سنبھالا، لیکن اس کے باوجود فضل علی نے رئیسوں اور ان کی حویلیوں کو نشانہ بنانا اور انہیں خوف زدہ کرکے رقم وصول کرنا بند نہیں کیا۔

کرنل سلیمان کی ہدایت پر گونڈا کے ضلع مجسٹریٹ کرنل بویلو نے فضل علی کی گڑھی کا محاصرہ کر لیا۔ فضل علی نے پہلے تو گڑھی کے اندر سے فائرنگ کی اور کرنل بویلو کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد وہ ان کا سر کاٹ کر گھنے جنگل میں لے گیا۔ جہاں یہ خونریز مقابلہ ہوا تھا، وہاں واقع باغ کو آج بھی ’مڑکٹوا باغ‘ کہا جاتا ہے۔ کرنل بویلو نو تشکیل شدہ گونڈا ضلع کے پہلے ضلع مجسٹریٹ تھے۔ ان کا قتل ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے لیے کھلے چیلنج کے مترادف تھا۔

انگریزوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور چند ہی ماہ بعد لیفٹیننٹ کلارک نے بھاری فوجی دستے کے ساتھ فضل علی کو دوبارہ گھیر لیا۔ ایک طویل مقابلے کے بعد فضل علی مارا گیا اور اس طرح ایک ایسے شخص کی خونریز داستان کا اختتام ہوا، جس نے اودھ کے دربار میں وزیرِاعلیٰ کو دن دہاڑے یرغمال بنانے سے لے کر انگریزی اقتدار کو مسلح چیلنج دینے تک، تاریخ کے کئی حیرت انگیز ابواب رقم کیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔