امریکی بمبار طیارہ ہٹانے کے پیچھے مقصد کیا ہے؟... آشیش رے
یہ واقعہ ایران پر امریکی فوجی حملوں سے برطانیہ کے پلہ جھاڑنے اور ٹرمپ کے ذریعہ بتائے جا رہے مہاجر مخالف تشہیر کی گہری سفارتی کشیدگی کو سامنے لاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ہی امریکی مسلح افواج برطانوی سرزمین پر تعینات رہی ہیں۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کی اپیل پر امریکہ نازی جرمنی کے خلاف اتحادی ممالک کی مہم میں شامل ہوا تھا۔ 6 جون 1944 کے تاریخی دن برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ افواج نارمنڈی کے ساحل پر اتریں، فرانس کو جرمن قبضے سے آزاد کرایا اور یورپ میں جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ دونوں ممالک، خاص طور پر وائٹ ہال (برطانوی حکومت)، امریکہ اور برطانیہ کے اس دیرینہ اتحاد کو ’خصوصی تعلقات‘ کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں۔ کبھی کبھار آنے والے اتار چڑھاؤ کے باوجود ان کی یکجہتی اٹوٹ رہی ہے اور واشنگٹن کے مقابلے میں لندن نے اس باہمی مفاہمت کی کہیں زیادہ وفاداری کے ساتھ پاسداری کی ہے۔
1982 میں، جب وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے جنوبی بحر اوقیانوس میں ارجنٹینا سے فاک لینڈ جزائر واپس لینے کے لیے رائل نیوی کو روانہ کیا تھا، تو برطانیہ کی ترجیح مشترکہ فوجی کارروائی تھی۔ 1983 میں، جب امریکی فوجیوں نے مشرقی کیریبین کے ملک گریناڈا کے وزیر اعظم مورس بشپ کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور انہیں قتل کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے حملہ کیا، تو برطانیہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ یہ براہ راست بے حرمتی تھی، کیونکہ ملکہ الزبتھ دوم گریناڈا کی سربراہِ مملکت تھیں۔ اس کے بعد 2003 کا دور آیا، جب برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر متنازع حملے میں امریکی صدر جارج بش کا پورا ساتھ دیا۔ سی آئی اے کے اس دعوے کے برعکس کہ صدام حسین کی حکومت کے پاس ’اجتماعی تباہی کے ہتھیار‘ تھے، اس کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور اس لیے وہ امریکہ تو کیا، کسی بھی ملک کے لیے جوہری خطرہ نہیں تھا۔
اس سال برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایران پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غیر قانونی حملے میں شامل ہونے سے انکار کرکے تعاون کے اس رویے کو بدل دیا۔ ٹرمپ نے جوابی تیور دکھاتے ہوئے اشارہ دیا کہ فاک لینڈ پر ارجنٹینا کا علاقائی حق ہے، جبکہ عین اسی وقت بیونس آئرس کی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے بھی جارحانہ بیانات سامنے آ رہے تھے۔
برطانیہ کی رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹھکانوں پر موجود امریکی فضائیہ کے اڈوں میں سے ایک گلوسٹرشائر میں واقع آر اے ایف فیئرفورڈ بھی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جب برطانیہ نے ایران پر دفاعی حملوں کے لیے امریکی درخواست کو منظوری دی، تو امریکی بی-1 اور بی-52 بمبار طیارے فیئرفورڈ سے مغربی ایشیا کی جانب پرواز کرتے رہے۔27 ستمبر کو مقامی باشندوں نے ایئربیس کے قریب تین سفید وین دیکھی اور پولیس کو ’مشکوک سرگرمی‘ کی اطلاع دی۔ دھماکہ خیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہے میں لندن کے پانچ باشندوں اور ایک برطانوی-ایرانی شہری (سبھی کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان تھیں) کو گرفتار کیا گیا، انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس واقعے کو ’ممکنہ دہشت گردانہ سازش‘ قرار دیا گیا۔
اسسٹنٹ پولیس کمشنر نے میڈیا کو بتایا کہ تفتیشی افسران فی الحال کئی زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا کچھ نقاب پوش یا افراد (جان بوجھ کر یا انجانے میں) کسی غیر ملکی حکومت کے اشارے پر کام کر رہے تھے؟ اس معاملے کی قیادت کر رہی برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے کہا کہ وینوں سے کوئی آئی ای ڈی (دھماکہ خیز آلہ) نہیں ملا، لیکن ’کچھ مقدار میں پٹرول‘ ضرور برآمد ہوا۔
جب یہ واقعہ منظر عام پر آیا تو امریکی فوج نے بیان دیا کہ وہ ’صورت حال پر نظر رکھنے، اثرات کو کم سے کم کرنے اور امریکی اہلکاروں، ان کے اہل خانہ اور مقامی برادری کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے‘ اپنے برطانوی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آس پاس کے 85 گھروں کو عارضی طور پر خالی کرا لیا گیا۔ 28 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے کہا کہ اس میں واضح طور پر کسی ’غیر ملکی طاقت‘ کا ہاتھ تھا۔ ایک دوسرے خبر رساں ادارے سے بات چیت میں انہوں نے اسے ’انتہائی سنگین صورت حال‘ قرار دیا۔ حالانکہ گرفتار افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا، اگرچہ ان کی نقل و حرکت اور دوسروں سے رابطے پر سخت شرائط عائد کی گئی تھیں۔ ٹرمپ نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’ہم ان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں، ہم انہیں کبھی نہیں چھوڑتے۔‘ یہاں تک کہ انہوں نے دعویٰ کیا، ’وہ طویل عرصے سے ہماری نظر میں تھے اور ہم نے انہیں پکڑ لیا تھا۔‘
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر نے عوام سے اپیل کی کہ ’جب تک حکام حقائق کی تصدیق نہ کرلیں، قیاس آرائیاں نہ کریں۔‘ ایران کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرنے والے ’تمام اشاروں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ہم مناسب وقت پر تفصیلی معلومات دیں گے، لیکن ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس میں ایران کا کردار ہے۔‘ اس کے جواب میں لندن میں واقع ایرانی سفارت خانے نے اس واقعے کو ایران سے جوڑنے والی باتوں کو ’بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے پوری طرح مسترد کردیا اور ان کی سخت مذمت کی۔ اس نے ایران اور اس کے شہریوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔
برطانوی اور امریکی تحقیقات کے طریقۂ کار میں بنیادی فرق ہے۔ برطانوی تحقیقاتی ادارے شواہد کے تجزیے اور چھان بین پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں اور اکثر بہتر نتائج دیتے ہیں۔ بلاوجہ سختی کرنا ان کا مزاج نہیں ہے۔ مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کرنے سے ان کی چوکسی میں کمی آسکتی ہے، جس سے تفتیش کار اصل سازش کرنے والوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ جلد ہی واضح ہوجائے گا کہ یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
اس دوران امریکی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آگئی۔ فیئرفورڈ سے آٹھ بی-1 بمبار طیاروں کو ہٹا کر واپس امریکہ بھیج دیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ’کچھ خطرات‘ کے پیش نظر کیا گیا۔ امریکی میڈیا نے اشارہ دیا کہ یہ فیصلہ ان خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران مہنگے امریکی طیاروں پر ڈرون حملوں کی سازش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس بارے میں براہ راست بیان دینے سے گریز کیا، لیکن واشنگٹن میں یہ بحث گرم رہی کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوتا ہے تو ایسا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے فیئرفورڈ ایئربیس کو مکمل طور پر محفوظ قرار دے کر ایسی خبروں کو مؤثر طریقے سے مسترد کردیا۔ اس نے ٹرمپ کے اس پرانے بیان کی جانب توجہ دلائی، جس میں انہوں نے اس ایئربیس کے حوالے سے برطانیہ کی پولیس، دفاعی اور سلامتی ایجنسیوں کی تعریف کی تھی۔
جہاں روبیو نے خطرے کے نظریے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ فوجی یونٹوں اور ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کوئی ’غیر معمولی بات نہیں‘ ہے، وہیں ٹرمپ کے تبصروں نے ان کے اس جھوٹے بیانیے کو ہوا دی ہے کہ برطانیہ کی امیگریشن پالیسی کے سبب وہاں مسلم دہشت گردوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔ یہ صورت حال برطانیہ کے لیے باعثِ پریشانی رہی ہے۔ بہرحال، چونکہ بین الاقوامی برادری ٹرمپ کے بیانات کو بہت سنجیدگی سے نہیں لیتی، اس لیے برطانیہ کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان محدود ہی رہے گا۔ زیادہ اہم سوال تو یہ ہے: کیا ان بمبار طیاروں کی واپسی روس سے پیدا ہونے والے کسی فرضی خطرے کے سامنے مغربی یورپ کی اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
