’مکہ معاہدہ‘ نافذ کرنے کا مطلب!... اشوک سوین

ہندوستان کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ صورت حال کو وہ سنجیدگی سے لے۔ پاکستان کے بیرونی سلامتی سے متعلق تعلقات کا جائزہ اب بنیادی طور پر چین کے ساتھ اس کی شراکت داری کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>’مکہ دفاعی اتحاد‘ تصویر، ایکس&nbsp;<a href="https://x.com/kbsalsaud">@kbsalsaud</a></p></div>
i

5 اکتوبر کو سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے کو نافذ کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی سلامتی کس نازک دور میں پہنچ چکی ہے۔ حوثیوں کی شکل میں اس کے سامنے ایک ایسا دشمن ہے جو نہ صرف اس کے شہروں کے لیے خطرہ پیدا کرسکتا ہے، بلکہ اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر تک اس کی رسائی کو بھی چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ سب اس وقت ہوا ہے، جب امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں پر بھاری رقم خرچ کی گئی اور طاقتور مغربی شراکت دار بنائے گئے۔ اس جوابی کارروائی میں ترکی اور پاکستان کو شامل کرنے سے اس کے احساسِ تحفظ کو تو تقویت مل سکتی ہے، لیکن جنگ کا دائرہ بھی وسیع ہوسکتا ہے، جو تینوں میں سے کسی بھی حکومت کے قابو میں نہیں رہے گا۔

ریاض میں 5 اکتوبر کو ہونے والی ہنگامی میٹنگ میں تینوں ممالک نے اپنے اجتماعی دفاع کی ذمہ داریاں پوری کرنے اور طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کو تیزی سے سعودی عرب بھیجنے کا وعدہ کیا۔ اس سال 7 اگست کو ہونے والے معاہدے کے تحت، کسی ایک رکن پر ہونے والے مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اسے نافذ کرنے سے اس وعدے کو سیاسی تقویت ملتی ہے۔ ریاض چاہتا ہے کہ حوثی اور ان کے ایرانی حامی سمجھ لیں کہ مسلسل حملے انہیں ایک بڑے اتحاد کے ساتھ تصادم کی صورت حال میں لا سکتے ہیں۔


تاہم ’فعال کرنے‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ترکی اور پاکستان کے فوجی حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے ان کے موجودہ کردار کو تعاون پر مبنی قرار دیا ہے۔ کسی بھی فوجی تعیناتی کا اعلان قومی قوانین کے تحت کیا جاتا ہے اور ترکی کی پارلیمنٹ نے ابھی تک اس معاہدے کو منظوری نہیں دی ہے۔ یہ شرائط اس بات کی حد متعین کرتی ہیں کہ اعلان سے فوری طور پر کیا حاصل ہوتا ہے۔ اس معاہدے کی سیاسی اہمیت ضرور بڑھ گئی ہے، لیکن اس کے کام کرنے کے طریقے اب بھی واضح نہیں ہیں۔ یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ فوجی مدد کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔ خفیہ معلومات کے تبادلے، تربیت اور فضائی دفاع کے ذریعے یمن میں اتحادی ممالک کے فوجی بھیجے بغیر سعودی علاقے کی حفاظت میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود، دفاعی مدد جارحانہ کارروائیوں میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ اس سے سعودی فوجیں دوسرے کاموں کے لیے فارغ ہوجاتی ہیں۔ خطرہ اس بات میں ہے کہ مشن بتدریج وسیع ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب کے پاس یہ دعویٰ کرنے کی ٹھوس وجوہات ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ حوثی دہشت گردوں کے بار بار کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں نے اس کے علاقائی دفاع کی حدود کو بے نقاب کردیا ہے۔ کامیاب حملوں کو روکنے میں بھی محدود گولہ بارود خرچ ہوتا ہے اور اتنے وسیع ملک میں مسلسل چوکسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکہ سے انٹرسیپٹر میزائلوں کی گھٹتی ہوئی فراہمی کی خبریں اس مسئلے کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ حوثی دہشت گردوں کو خلل پیدا کرنے کے لیے کبھی کبھار ہی کامیابی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ سعودی عرب کو بیک وقت ہوائی اڈوں، شہروں، فوجی تنصیبات، تیل کی تنصیبات اور سمندری راستوں کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ اس کے بہتر فوجی وسائل بھی اس عدم توازن کو دور نہیں کرپائے ہیں۔


حوثی باغی ریاض کے ہوائی اڈے اور تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ، صحرائی ملک کے معاشی عزائم کو کمزور کرتا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے اور اسے وسعت دینے کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کے ’ویژن 2030‘ منصوبے کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ سرمایہ کار اور سیاح وہاں کے سیاسی استحکام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی دشمن ملک کی جنوبی سرحد کے پار سے مسلسل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ اس وعدے کے لیے ایک چیلنج ہے، خواہ باہر سے آنے والے کتنے ہی ہتھیاروں کو راستے میں روک لیا جائے۔

یہ تنازعہ سعودی عرب کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے ہونے والی جہاز رانی پر پابندی لگنے کے بعد، باب المندب سے گزرنے والے سعودی عرب کے مغربی برآمدی راستے مزید اہم ہوگئے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کے پار بحیرۂ احمر کی جانب خام تیل لے جانا ایک متبادل ضرور ہے، لیکن پائپ لائنیں، بندرگاہیں اور تیل بردار جہاز اب بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ باب المندب کو خطرے میں ڈالنے کی حوثیوں کی صلاحیت انہیں بین الاقوامی تجارت پر برتری دلاتی ہے، جس کے اثرات جزیرہ نمائے عرب سے باہر کے ممالک پر بھی پڑتے ہیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فوجوں نے حوثیوں کے قبضے والے علاقوں کو واپس لینے کے لیے حملے شروع کیے ہیں، لیکن یمن کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا اور سعودی شہروں کی حفاظت کرنا بالکل الگ الگ مقاصد ہیں۔ مکہ معاہدے میں پہلے سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔ واپس لیے گئے علاقوں پر کس کی حکمرانی ہوگی؟ یمن کے مختلف گروہوں میں اقتدار کی تقسیم کیسے ہوگی؟ مختلف طبقے کون سا سمجھوتا قبول کریں گے؟ ان سوالات کے قابلِ اعتماد جوابات کے بغیر، فوجی کارروائی سے جنگ کا مستقل خاتمہ ہونے کے بجائے صرف نئے محاذ اور نئی شکایات پیدا ہوں گی۔


سعودی عرب کے تئیں حوثیوں کی دشمنی کی جڑیں یمن کی سیاسی اور مذہبی زندگی پر ریاض کے اثر و رسوخ میں گہری ہیں۔ حوثیوں کو ایران کی حمایت تو حاصل ہے، لیکن انہیں صرف تہران کا مہرہ سمجھنا ان کے اپنے عزائم اور مقامی جڑوں کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ 2015 سے سعودی عرب کی مداخلت یمن میں مضبوط گرفت رکھنے والی ایک دوست حکومت بحال کرنے میں ناکام رہی ہے اور مزید چند اتحادیوں کو ساتھ لینے سے بھی اس صورت حال میں کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس براہ راست اس تنازعہ میں شامل نہ ہونے کی مضبوط وجوہات ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب سے ملنے والی مالی مدد اور دفاعی تعاون اسلام آباد کو وفاداری دکھانے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن پاکستان کی سرحد ایران سے بھی ملتی ہے اور اس نے اس وسیع تر تنازعہ میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ حوثیوں کے خلاف لڑنے سے تہران کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی، پہلے سے موجود سلامتی کا بوجھ اور عمران خان کے حامیوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی مخالفت اس فیصلے کو مزید مشکل بناتی ہے۔ ایسا اتحاد جو پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بڑھاتا ہے، وہ کسی مہنگی بیرونی ذمہ داری سے انکار کرنے کی اس کی آزادی کو بھی محدود کرسکتا ہے۔

ترکی بھی اسی طرح کے حالات سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع میں مدد کرنے سے خلیجی معاملات میں انقرہ کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے اور فوجی تعاون کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یمن کی لڑائی میں شامل ہونے سے اس پر جوابی حملے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور اس کی فوج کو طویل عرصے تک وہاں جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے۔ نیٹو کی رکنیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ترکی کی ہر کارروائی کو اتحاد کی سلامتی خود بخود حاصل ہوجائے گی۔ اسی طرح پاکستان کے جوہری طاقت ہونے کا مطلب بھی سعودی عرب کے لیے جوہری تحفظ کی ضمانت نہیں ہے۔ ان تعلقات کے بارے میں بڑھا چڑھا کر قائم کیے گئے تصورات ایسے خطرات پیدا کرسکتے ہیں، جنہیں اصل وعدے جائز قرار نہیں دیتے۔


ایک اور بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ پورے خطے میں پہلے سے پھیل رہے تنازعہات کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ فروری 2026 میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایسی جنگ چھیڑ دی، جس کے نتائج اب جزیرہ نمائے عرب کے دونوں جانب محسوس کیے جارہے ہیں۔ لڑائی میں ترکی یا پاکستان کے فوجیوں کی ہلاکت سے جوابی کارروائی کے لیے دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ جوابی کارروائی سے ان کی فوجوں یا مفادات پر حملے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے میں حکومتیں اتحاد کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرسکتی ہیں، جس سے محدود دفاع فراہم کرنے کا اس کا بنیادی مقصد ہی ناکام ہوسکتا ہے۔

ہندوستان کو اس صورت حال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ پاکستان کے بیرونی سلامتی سے متعلق تعلقات کا جائزہ اب بنیادی طور پر چین کے ساتھ اس کی شراکت داری کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔ مکہ معاہدے نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی مستقبل کی فوجی کارروائی سے متعلق مساوات میں سعودی عرب اور ترکی کو بھی شامل کر دیا ہے۔ ان کی مداخلت خود بخود نہیں ہوگی؛ حملے کے حالات، معاہدے کی تشریح اور قومی فیصلے اہمیت رکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود، نئی دہلی یہ نہیں مان سکتی کہ تعزیری کارروائی یا جسے مودی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ صرف دو ممالک کے درمیان معاملے تک ہی محدود رہے گی۔ سیاسی حمایت، خفیہ معلومات اور فوجی رسد سے تصادم کی نوعیت بدل سکتی ہے، خواہ اتحادی ممالک کی فوجیں میدانِ جنگ میں نہ اتریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔