عقیدہ اور ضمیر کے فیصلہ میں حکومت کا کیا کام؟...اے جے فلپ

مذہبی آزادی کے نام پر بنائے گئے قوانین شہری کے ضمیر اور ذاتی عقیدے کو حکومتی نگرانی میں لاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ریاست ووٹ کا انتخاب نہیں بتا سکتی تو عبادت کا راستہ کیسے طے کرے؟

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

اے جے فلپ

ہندوستان کی 13 ریاستوں میں، جن میں 11 بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ اقتدار ہیں، نام نہاد ’مذہبی آزادی‘ کے قوانین مختلف شکلوں میں نافذ ہیں، جو دراصل اسی آزادی پر نہایت سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ یہ کھلا خط ان ریاستوں کی فہرست میں 28 اگست کو شامل ہونے والی مہاراشٹر ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے نام ہے۔

محترم دیویندر فڑنویس صاحب،

آپ اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں کہ مہاراشٹر میں ’مذہبی آزادی قانون‘ نافذ ہو گیا ہے، لیکن اس قانون میں ایک ایسی ستم ظریفی ہے جس پر شاید آپ کی توجہ نہیں گئی۔ پونے میں آپ کی پولیس اتنی جلد بازی میں تھی کہ اس نے دو معاملات میں قانون کے نافذ ہونے سے پہلے ہی اس کی دفعات لاگو کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کی رسمی منظوری کا انتظار بھی نہیں کیا۔ بعد میں جب محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ یہ قانون 28 اگست سے نافذ ہوگا، تب پولیس نے ان دفعات کے تحت کی گئی کارروائی واپس لی۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ کے اس قانون کا اصل نشانہ کون ہے، اگرچہ قانون کے مسودے میں کسی مخصوص مذہب کا نام نہیں لیا گیا۔ مہاراشٹر کی مجموعی آبادی میں عیسائی برادری کا حصہ بہت کم ہے۔ جس برادری سے آپ کی حکومت اس قدر خوف زدہ دکھائی دیتی ہے، وہ نظم و نسق کے لیے شاید ہی کوئی خطرہ ہو۔ پھر ایک چھوٹی سی، قانون کی پابندی کرنے والی اور نسبتاً تعلیم یافتہ برادری کے بارے میں یہ گھبراہٹ کیوں؟

ملک بھر میں ان قوانین کا جس انداز میں استعمال ہو رہا ہے، وہ صرف عیسائیوں ہی نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ رواں سال جون میں مدھیہ پردیش میں سات عیسائیوں، جن میں چھ پادری تھے، کو ریاست کے انسدادِ مذہب تبدیلی قانون اور متعلقہ دفعات کے تحت پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے دوران لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اپیل زیرِ التوا رہنے تک جبل پور ہائی کورٹ نے ان ساتوں کو ضمانت دے دی۔


آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عدالتیں آخرکار دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ کسی بے گناہ شخص کو پہلے جیل کیوں جانا پڑے؟ اسے ضمانت کے لیے پیسوں کا انتظام کیوں کرنا پڑے؟ اور اسے مذہب تبدیل کرنے کے الزام کا داغ کیوں برداشت کرنا پڑے؟ یہ قانون ایسا ڈھانچہ تیار کرتا ہے جس میں ایک بالغ شہری کا نجی روحانی فیصلہ بھی سرکاری جانچ کا موضوع بن جاتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کل آپ خود عیسائی بننے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس کا امکان نہایت کم ہے، لیکن ذرا تصور کیجئے کہ آپ ایسا کر لیتے ہیں۔ حکام کو پیشگی اطلاع دینے کی پابندی والے اس قانون کے تحت آپ کو اس نجی فیصلہ پر عمل کرنے سے پہلے حکومت کو اس کی اطلاع دینا ہوگی۔

ذرا اس صورتِ حال کی مضحکہ خیزی پر غور کیجئے۔ آپ وزیر اعلیٰ ہیں۔ آپ اعلان کرتے ہیں کہ آپ نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ اس کے بعد آپ سیاسی طور پر تنہا پڑ جائیں گے اور شاید آپ کا سیاسی مستقبل بھی ختم ہو جائے۔ جب ایک طاقتور وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو ایک غریب مزدور، ناخواندہ دیہاتی، قبائلی یا دلت کی بے بسی کا اندازہ کیجئے، جو اپنے مذہب کے بارے میں ایسا فیصلہ کرنا چاہتا ہو۔

آئینِ ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شخص کو آزادیِ ضمیر حاصل ہے۔ اسے اپنے مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ آئین بنانے والوں نے کہیں یہ نہیں کہا تھا کہ کسی شہری کو اپنے مذہب کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔

آئین ساز اسمبلی کی بحثیں اس معاملے میں بہت کچھ واضح کرتی ہیں۔ خود آئین ساز اسمبلی کے رکن جے جے ایم نکولس رائے نے آزادیِ ضمیر اور مذہب کی تبلیغ کے حق کا بھرپور دفاع کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھوکے، جبر یا ناجائز اثر و رسوخ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کی سخت مخالفت کی تھی۔ یہی باریک فرق آپ کا قانون مٹا دینے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ جبر اور دھوکہ جرم ہیں، لیکن ضمیر کی آواز پر کیا گیا فیصلہ جرم نہیں ہو سکتا۔


آپ کو آئین کے اہم معماروں میں سے ایک اور مہاراشٹر کے عظیم سپوت ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مثال بھی یاد ہوگی۔ 14 اکتوبر 1956 کو انہوں نے ناگپور کی دیکشا بھومی میں اپنے لاکھوں پیروکاروں کے ساتھ بدھ مذہب اختیار کیا تھا۔ ذرا سوچیے، اگر اس وقت امبیڈکر کے اس فیصلے پر آپ جیسا قانون نافذ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا آپ یہ چاہتے کہ مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دینے سے پہلے حکومت ان سے پوچھ گچھ کرے؟ یقیناً نہیں۔

اس قانون کی ایک اور سنگین خامی یہ ہے کہ یہ ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ہی الٹ دیتا ہے۔ شکایت کنندہ کے جبر، دھوکہ یا غیر قانونی ترغیب دینے کے الزامات پر ثبوت طلب کرنے کے بجائے یہ قانون ملزم پر یہ غیر معمولی بوجھ ڈال دیتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ مذہب کی تبدیلی رضاکارانہ تھی۔ کسی جرم کا الزام ثابت ہونے تک کسی شخص کو بے گناہ سمجھنا ہر منصفانہ فوجداری نظام کا بنیادی اصول ہے۔

شادی سے متعلق دفعات بھی اتنی ہی تشویش ناک ہیں۔ بین المذاہب شادیوں کو صرف مذہب کی تبدیلی کے زاویے سے دیکھنا ’لو جہاد‘ جیسے زہریلے بیانیے کو مزید ہوا دے گا۔ محض اس لیے کہ دو بالغ شہری مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں کسی خود ساختہ نگرانی کرنے والے گروہ، پولیس افسر یا سرکاری اہلکار کے سامنے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ان کا رشتہ حقیقی ہے۔

اسی طرح دعائیہ اجتماعات بھی سرکاری نگرانی کا میدان نہیں بننے چاہییں۔ قانون کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے سے پہلے ہی مہاراشٹر سے جو خبریں آ رہی ہیں، وہ اس قانون سے پیدا ہونے والے خوف اور اضطراب کو واضح کرتی ہیں۔ غیر قانونی تبدیلی مذہب کے جھوٹے الزامات سے بچنے کے لیے بعض چھوٹے گرجا گھروں نے اپنے دعائیہ اجتماعات میں آنے والے افراد سے تحریری حلف نامے تک لینا شروع کر دیے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے وہاں آ رہے ہیں۔


ایک مرتبہ میں اتر پردیش میں ایک گرجا گھر کی سالانہ تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوا تھا۔ وہاں ہونے والی دعائیہ مجلس میں 99 فیصد لوگ ایسے تھے جو کبھی بھیک مانگ کر زندگی گزارتے تھے۔ ان میں بہت سے لوگ شراب کے عادی تھے، کچھ معمولی نوعیت کے جرائم میں بھی ملوث رہے تھے اور تقریباً سب ہی ناخواندہ تھے۔ ان کے بچے سڑکوں پر بھیک مانگا کرتے تھے۔

لیکن اسی بستی اور اسی برادری میں ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ مردوں کو روزگار مل گیا تھا اور وہ اپنے خاندانوں کا خرچ اٹھا رہے تھے۔ بچے اسکول جانے لگے تھے۔ خاندان صاف ستھرے لباس پہننے لگے تھے۔ جو خواتین کبھی پڑھ نہیں سکتی تھیں، وہ بائبل کی سطریں پڑھ رہی تھیں۔ کیا آپ چاہیں گے کہ وہ ہمیشہ بھکاری، شرابی اور معمولی جرائم میں الجھے ہوئے ہی رہیں، صرف اس خوف سے کہ کہیں کوئی گرجا گھر پر ’مذہب تبدیل کرانے‘ کا الزام نہ لگا دے؟

عیسائی جب ’خدمت‘ کی بات کرتے ہیں تو اس کے بارے میں بھی ہمارے معاشرے میں بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ گرجا گھر غریبوں کے درمیان اپنے کام کو محض ’سماجی خدمت‘ نہیں سمجھتا۔ ایک عیسائی کے نزدیک کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی بے لباس کو کپڑے دینا یا معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے شخص کی دیکھ بھال کرنا خدا کی حقیقی خدمت ہے۔ عیسیٰ مسیح نے اپنے پیروکاروں کو اپنے ’پڑوسی‘ سے محبت کرنے کی تعلیم دی تھی۔ انہوں نے ’پڑوسی‘ کے آگے ’عیسائی‘ کا لفظ نہیں لگایا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ عیسائی مشنری اور تنظیمیں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں اسکول، اسپتال، یتیم خانے اور دیگر ادارے چلاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشنریوں اور عیسائی تنظیموں نے نسل در نسل قبائلی اور سماج کے حاشیے پر موجود برادریوں کے درمیان کام کیا ہے۔ کسی دور افتادہ قبائلی علاقے میں جائیں تو اکثر آپ کو ایسا عیسائی قبائلی خاندان مل جائے گا جس کے بچے نسبتاً بہتر تعلیم یافتہ ہیں، جن کے کپڑے صاف ستھرے ہیں اور جو محض زندہ رہنے کی جدوجہد سے نکل کر ایک باوقار زندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


یہ تبدیلی انہیں پیسے دینے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ کبھی یہ تعلیم کی وجہ سے آتی ہے، کبھی بہتر طبی سہولتوں کے باعث، کبھی شراب کی لت سے نجات ملنے سے، اور کبھی محض اس احساس سے کہ وہ بھی انسانی وقار کے حق دار ہیں۔ اگر کوئی شخص عیسائی مذہب اس لیے اختیار کرتا ہے کہ اسے یقین ہے یہ اسے روحانی سچائی تک پہنچاتا ہے، تو یہ اس کا آئینی حق ہے۔ یہی اصول کسی بدھ مت کے پیروکار، مسلمان یا ہندو پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ ان ذاتی اور نجی انتخاب میں حکومت کو نہ فیصلہ کرنے کا حق ہے اور نہ مداخلت کا۔

اسی لیے آپ کا یہ قانون محض مذہب تبدیل کرنے کا مسئلہ نہیں ہے؛ یہ شہری اور ریاست کے درمیان بنیادی تعلق سے متعلق ایک بڑا سوال ہے۔ ذرا ایسے قانون کا تصور کیجئے جو یہ کہے کہ اگر کوئی شہری آج کمیونسٹ ہے، کل کانگریس کا حامی بن جائے اور پرسوں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کرنے لگے تو اسے اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرنے سے پہلے ضلعی کلکٹر کو اطلاع دینا ہوگی۔ ظاہر ہے، آپ خود اسے مضحکہ خیز قرار دیں گے۔

لیکن مذہبی عقیدہ سیاسی پسند سے کہیں زیادہ گہرا اور نجی معاملہ ہے۔ سیاسی جماعت ایک دنیاوی تنظیم ہے، جبکہ عقیدہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے۔ اگر ریاست مجھے یہ نہیں بتا سکتی کہ مجھے کس کو ووٹ دینا چاہیے تو وہ مجھے یہ کیسے بتا سکتی ہے کہ مجھے کس کے سامنے دعا کرنی چاہیے؟

آئین آپ کو ہندو رہنے کی آزادی دیتا ہے۔ اسی طرح یہ آزادی بھی دیتا ہے کہ اگر آپ کا ضمیر آپ کو کسی دوسرے روحانی راستے کی طرف لے جائے تو آپ اسے اختیار کر سکیں۔ براہِ کرم یہی آزادی مہاراشٹر کے غریب ترین اور بے بس ترین شہری کو بھی دیجئے۔

میں آپ کی صحت اور سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ان لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی وہی حوصلہ دکھائیں گے جن کے خیالات سے آپ مکمل طور پر اختلاف کرتے ہوں۔

مخلص،

اے جے فلپ

(اس خط کا تفصیلی ورژن سب سے پہلے ’انڈین کرنٹس‘ میں شائع ہوا تھا)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔