مغربی ایشیا میں پھر جنگ کے سائے...اشوک سوین
ٹرمپ کی حکمت عملی کا ایک ممکنہ پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب اسرائیل سے مدد لینے پر مجبور ہو جائے۔ اتحادی کو عدم تحفظ کی کیفیت میں سفارتی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا انتہائی خطرناک داؤ ثابت ہو سکتا ہے

بحیرۂ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی سرگرمیوں میں تیزی، آبنائے باب المندب کے گرد بڑھتا دباؤ اور سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ صورت حال محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور باب نہیں، بلکہ یہ اس وسیع تر تنازعے کے پھیلنے کا اشارہ بھی ہے جو پورے مغربی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس بدلتی صورت حال میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
جنگ کے ابتدائی مہینوں میں حوثی براہِ راست تصادم سے بڑی حد تک دور رہے تھے، جبکہ حزب اللہ اور عراق میں موجود ایران نواز گروہ میدان میں سرگرم ہو گئے تھے۔ تاہم اب یہ صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ حوثیوں نے یمن کے مغربی ساحل کے کئی اہم علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور باب المندب کے اطراف اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ یہ آبنائے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور معمول کے حالات میں دنیا کی بڑی مقدار میں سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔
حوثیوں کی سرگرمیوں نے سعودی عرب کے لیے خطرات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ ریاض، ینبع اور ملک کے دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اس صورت حال کی سنگینی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمد کے راستے پہلے ہی علاقائی کشیدگی کی زد میں ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے اپنی مشرقی تیل کی تنصیبات سے خام تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر انحصار بڑھایا تھا۔ یہ راستہ سعودی تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ لیکن اب یہ راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔ پائپ لائن پر حملوں کے واقعات اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے سعودی تیل کی ترسیل کے دونوں اہم راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یوں سعودی عرب کو ایک ہی وقت میں اپنے مشرقی اور مغربی راستوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود اس کا سب سے اہم تاریخی سکیورٹی پارٹنر امریکہ براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے انٹیلی جنس تعاون تو جاری ہے، لیکن ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ دوسری طرف عمان کے ذریعے حوثیوں سے رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کی اطلاعات نے ریاض میں مزید بے چینی پیدا کی ہے۔
سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہ امریکی ہتھیاروں کا ایک بڑا خریدار ہے اور کئی دہائیوں سے اس کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ بحران کے وقت یہ سکیورٹی شراکت داری عملی طور پر کس حد تک قابلِ اعتماد ثابت ہوگی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے یہ خدشہ نیا نہیں ہے۔ 2019 میں ابقیق کے سعودی تیل مراکز پر ڈرون حملوں کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ نے براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا تھا۔ اس واقعے نے ریاض کو اپنی علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کی طرف بڑھنے پر مجبور کیا۔ بعد میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی بھی اسی وسیع تر کوشش کا حصہ بنی کہ خطے میں کشیدگی کم کی جائے۔
موجودہ بحران میں بھی سعودی عرب کے سامنے یہی سوال ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کس پر انحصار کرے۔ ایک طرف ایران اور اس کے اتحادیوں سے خطرات ہیں اور دوسری طرف یمن سے حوثیوں کی کارروائیاں۔ امریکہ براہِ راست جنگ میں اترنے سے گریزاں ہے، جبکہ سعودی دفاعی نظام پر مسلسل حملوں سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیل ایک ممکنہ سکیورٹی شراکت دار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسرائیل کے پاس جدید انٹیلی جنس نظام، فضائی دفاع اور میزائل شکن صلاحیتیں موجود ہیں، جن کی سعودی عرب کو ایسی صورت حال میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر ریاض حوثیوں کے خلاف اسرائیل سے کسی قسم کی فوجی یا انٹیلی جنس مدد لینے پر مجبور ہوتا ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اسے اپنے اس مؤقف کے حق میں استعمال کر سکتے ہیں کہ خطے کی سلامتی میں اسرائیل کا کردار ناگزیر ہے۔
لیکن سعودی عرب کے لیے اسرائیل سے براہِ راست مدد لینا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ فلسطین کا مسئلہ اب بھی عرب دنیا کے سیاسی اور عوامی شعور میں انتہائی حساس حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ کھلے سکیورٹی تعاون سے سعودی عرب کو اپنے دیگر علاقائی تعلقات، بالخصوص ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ شراکت داری، کے حوالے سے بھی سیاسی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسی کا ایک اور پہلو امریکی داخلی سیاست سے متعلق ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی امریکی عوام میں سیاسی طور پر حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے میں جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے داخلی سیاسی قیمت کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن ایک طرف اپنے اتحادیوں کو مکمل طور پر تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا، لیکن دوسری طرف خود بھی ایک نئے براہِ راست محاذ میں الجھنے سے گریز کر رہا ہے۔
ایران بھی اس صورت حال میں خاموش نہیں بیٹھا۔ پاکستان اور قطر کے ذریعے سفارتی رابطوں کے راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن تہران کی جانب سے یہ واضح پیغامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ کسی نئے امریکی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتائج صرف ایران اور امریکہ تک محدود رہنے کے بجائے پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔
یہاں حوثیوں کے کردار کو بھی صرف ایران کی ایک ذیلی طاقت کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کی اپنی نظریاتی وابستگیاں، مقامی سیاسی بنیاد اور الگ اسٹریٹجک ترجیحات ہیں۔ تاہم ان کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے ایران کی علاقائی سودے بازی کی صلاحیت ضرور مضبوط ہوتی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے دفاعی وسائل پر مسلسل دباؤ کی اطلاعات نے بھی اس تشویش کو بڑھایا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں اسے بیرونی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
محمد بن سلمان کے لیے اس بحران کی معاشی قیمت بھی بہت اہم ہے۔ سعودی عرب کا وژن 2030 سیاسی استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری اور تیل کی قابلِ اعتماد برآمد پر انحصار کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ مفاہمت، یمن میں اپنی فوجی مداخلت کو محدود کرنا اور سکیورٹی نظام کو ازسرنو منظم کرنا اسی کوشش کا حصہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کو ایک ایسی علاقائی جنگ سے بچایا جائے جو اس کے معاشی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے باوجود ریاض خود کو ایک مشکل صورت حال میں گھرا ہوا دیکھ رہا ہے۔ خلیج میں ایران کا دباؤ، یمن سے حوثیوں کا خطرہ اور واشنگٹن کی براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز—یہ تینوں عوامل سعودی عرب کے لیے سکیورٹی کے ایک پیچیدہ مسئلے کو جنم دے رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں اسرائیل سے مدد لینے کا امکان سعودی عرب کے لیے ایک انتہائی حساس انتخاب بن سکتا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ تعاون علاقائی سطح پر اپنی سکیورٹی اہمیت ثابت کرنے کا موقع ہوگا، جبکہ سعودی عرب کے لیے یہ ایک ایسے توازن کو متاثر کر سکتا ہے جسے ریاض کئی برسوں سے احتیاط کے ساتھ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی کا نتیجہ بالآخر سعودی عرب کو اسرائیل کے قریب جانے پر مجبور کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مغربی ایشیا کے طاقت کے توازن، ایران کے ساتھ تعلقات اور عرب دنیا کی علاقائی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کانفلکٹ ریسرچ کے پروفیسر ہیں)
