امریکہ-ایران معاہدہ: کئی سوالات اب بھی جواب طلب... شیلندر چوہان

اعتماد مسلسل نبھائے گئے وعدوں سے جنم لیتا ہے۔ اس لیے اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنے سیاسی بیانات اور عملی پالیسیوں کے درمیان کتنی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران امن معاہدہ، ویڈیو گریب</p></div>
i

بین الاقوامی سیاست میں جنگیں جتنی اہم ہوتی ہیں، ان سے بھی زیادہ اہم وہ لمحات ہوتے ہیں جب برسر پیکار فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر لوٹتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے ہونے والے معاہدے اور اس سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض دستخطوں کا تبادلہ نہیں، بلکہ ان امکانات کی دستاویز ہے جن میں تصادم کی جگہ مکالمے، پابندیوں کی جگہ تعاون اور فوجی دباؤ کی جگہ سفارت کاری کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس معاہدے کے حوالہ سے جوش و خروش اور شکوک و شبہات، دونوں یکساں طور پر موجود ہیں۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ 4 دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں، بالواسطہ تنازعات اور نظریاتی تصادم سے متاثر رہے ہیں۔ جوہری پروگرام، مغربی ایشیا میں اثر و رسوخ کی مسابقت، بحری سلامتی، علاقائی اتحادی ممالک کا کردار اور اقتصادی پابندیاں... ان تمام عوامل نے تعلقات کو پیچیدہ بنایا ہے۔ ایسے میں اگر دونوں فریق کسی مشترکہ دستاویز پر متفق ہوتے ہیں تو یہ اپنے آپ میں ایک اہم سفارتی واقعہ ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی معاہدے پر دستخط کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اسے پائیدار بنانا کہیں زیادہ دشوار۔


اس معاہدے کا پہلا اور سب سے اہم پیغام ہے تنازعہ کو محدود کرنا۔ ’ہر محاذ پر تصادم کے خاتمہ‘ کا جذبہ صرف فوجی کارروائیوں کو روکنے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دونوں فریق براہ راست اور بالواسطہ ٹکراؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مغربی ایشیا طویل عرصہ سے ایسے تنازعات کا خطہ رہا ہے جہاں جنگیں رسمی اعلان کے بجائے چھوٹے فوجی آپریشنوں، پراکسی گروہوں اور محدود حملوں کے ذریعہ جاری رہتی ہیں۔ اگر یہ معاہدہ واقعی اس رجحان پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

معاہدے کا دوسرا اہم عنصر ہے ایک دوسرے کے داخلی معاملات کا احترام۔ جدید بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر خود مختار ریاست اپنی سیاسی نظامت کا تعین خود کرے۔ عملی طور پر طاقتور ممالک اکثر سلامتی، انسانی حقوق، دہشت گردی یا علاقائی استحکام کے نام پر دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بھی یہی بداعتمادی بارہا سامنے آئی ہے۔ اگر یہ شق حقیقی پالیسی کا حصہ بنتی ہے تو دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاہم صرف اعلان سے اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ اعتماد مسلسل نبھائے گئے وعدوں سے جنم لیتا ہے۔ اس لیے اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنے سیاسی بیانات اور عملی پالیسیوں کے درمیان کتنی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔


معاہدے میں مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ پہلی نظر میں یہ عملی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ جوہری معائنوں، اقتصادی پابندیوں پر نظرثانی اور مالیاتی انتظامات جیسے معاملات پر فوری فیصلے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہی انتظام اگر غیر معینہ مدت تک توسیع کا ذریعہ بن جائے تو یہ معاہدے کو غیر مؤثر بھی بنا سکتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں عارضی انتظام مستقل ٹال مٹول میں بدل گیا اور اصل تنازعہ کبھی ختم نہیں ہو سکا۔

اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی اس معاہدے کا سب سے حساس پہلو ہے۔ جدید دور میں پابندیاں جنگ کے بغیر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔ ایران پر عائد مختلف اقتصادی پابندیوں نے اس کے بینکاری نظام، تیل کی برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور زر مبادلہ کی منڈی کو متاثر کیا ہے۔ اگر ان پابندیوں میں حقیقی راحت ملتی ہے تو ایران کی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ صنعت، روزگار، درآمدات و برآمدات اور بین الاقوامی تجارت میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ مستقل ہوگا یا شرائط سے مشروط رہے گا؟ اگر ہر اقتصادی رعایت مستقبل کے سیاسی جائزوں پر منحصر ہوگی تو سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کا اعتماد محدود رہ سکتا ہے۔ اقتصادی ترقی صرف سرمایہ سے نہیں، بلکہ پالیسی کے استحکام سے بھی آتی ہے۔


آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا اس معاہدے کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی توانائی کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جب بھی اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں اور بین الاقوامی منڈیاں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اس سمندری گزرگاہ کی سلامتی صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی تشویش کا موضوع ہے۔ اگر یہاں استحکام آتا ہے تو اس کا فائدہ ایشیا، یورپ اور دیگر توانائی درآمد کرنے والے ممالک تک پہنچے گا۔

معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ کا تصور بھی قابل ذکر ہے۔ کسی بھی طویل کشیدگی یا تنازعہ کے بعد اقتصادی بحالی سماجی استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔ بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، توانائی، تعلیم، صحت اور تکنیکی سرمایہ کاری میں اگر بڑے پیمانے پر وسائل صرف کیے جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی کم کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ اتنے بڑے مالیاتی انتظام کی شفافیت، ذرائع اور افادیت پر بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ فطری طور پر سامنے آئے گا۔


جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم اس معاہدے کا مرکزی عنصر ہے۔ عالمی عدم پھیلاؤ کا نظام اسی اصول پر قائم ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال پرامن مقاصد کے لیے ہو، نہ کہ فوجی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ صرف سیاسی اعلان کافی نہیں ہوتا۔ قابل اعتماد معائنہ جاتی نظام، تکنیکی توثیق، باقاعدہ رپورٹنگ اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہوتے ہیں۔ اگر ان انتظامات میں شفافیت نہیں ہوگی تو شکوک باقی رہیں گے اور یہی شکوک مستقبل کی کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ معاہدے کی ’کارکردگی پر مبنی‘ نوعیت خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتصادی فوائد اور پابندیوں سے نجات خودکار طور پر نہیں ملے گی بلکہ ہر مرحلے پر یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔ اصولی طور پر یہ نظام جوابدہی کو یقینی بناتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ طاقت کے توازن کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔ اگر جائزہ لینے کا اختیار بنیادی طور پر ایک ہی فریق کے پاس ہو تو دوسرا فریق اسے غیر مساوی انتظام سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی نگرانی کے نظام کی غیر جانب داری اس کی کامیابی کی پیشگی شرط ہے۔

منجمد کھاتوں اور پابندیوں کے تحت محدود مالی وسائل کی بحالی کا سوال بھی کم پیچیدہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی بینکاری نظام انتہائی حساس ہوتا ہے اور سیاسی خطرات کو فوراً مدنظر رکھتا ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ اندیشہ رہے کہ معمولی تنازعہ پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں تو وہ طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔ اس لیے حقیقی اقتصادی فائدہ صرف قانونی اعلان سے نہیں بلکہ قابل اعتماد نفاذ سے حاصل ہوگا۔


اس معاہدے کا ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی پہلو بھی ہے۔ مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ علاقائی ممالک کے درمیان مسابقت، توانائی کے وسائل کی اہمیت، سمندری راستوں کی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات اس خطے کو انتہائی حساس بناتے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی صرف ایک دوطرفہ واقعہ نہیں بلکہ پورے علاقائی منظرنامے کو متاثر کرنے والی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم اس معاہدے سے متعلق کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ اگر کسی فریق پر خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو حتمی فیصلہ کون کرے گا؟ کیا کوئی مشترکہ کمیشن قائم ہوگا؟ کیا کسی بین الاقوامی ادارے کو نگرانی کا کردار دیا جائے گا؟ اگر معائنہ کار ٹیموں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو ان کے حل کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟ مستقبل کے تنازعات کو روکنے کے لیے ان سوالات کے واضح جوابات ضروری ہیں۔ تاریخی تجربات اس سلسلے میں مفید رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے بین الاقوامی معاہدے ابتدائی جوش و خروش کے باوجود اس لیے ناکام ہوئے کہ ان کے نفاذ کے لیے ادارہ جاتی نظام کافی مضبوط نہیں تھا۔ دوسری جانب بعض معاہدے اس لیے کامیاب رہے کہ انہوں نے اعتماد سازی کے چھوٹے چھوٹے مراحل کو ترجیح دی۔ لہٰذا اس ایم او یو کی کامیابی بھی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا اسے محض ایک سیاسی اعلان بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے یا اسے ادارہ جاتی شکل دے کر مسلسل نافذ کیا جاتا ہے۔


جمہوری ممالک میں ایک اور چیلنج داخلی سیاست ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کی خارجہ پالیسی پر اندرونی سیاسی دباؤ اثر انداز ہوتا ہے۔ اقتدار کی تبدیلی، انتخابی وعدے، سلامتی سے متعلق واقعات یا عوامی رائے میں تبدیلی معاہدوں کی سمت بدل سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی طویل مدتی انتظام کو صرف موجودہ قیادت کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اسے ایسی ادارہ جاتی منظوری درکار ہوتی ہے جو سیاسی تبدیلی کے بعد بھی برقرار رہے۔ اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امن صرف معاہدوں سے آتا ہے؟ جواب ہے، نہیں۔ امن اس وقت آتا ہے جب معاہدے اعتماد پیدا کرتے ہیں، اعتماد تعاون میں بدلتا ہے اور تعاون مشترکہ مفادات کو جنم دیتا ہے۔ اگر اقتصادی ترقی، تجارت، توانائی کی سلامتی اور علاقائی استحکام دونوں فریقوں کے مشترکہ مفاد بن جائیں، تبھی تنازعہ کے امکانات فطری طور پر کم ہوں گے۔

آخرکار یہ معاہدہ نہ تو حتمی حل ہے اور نہ ہی اسے ناکام قرار دینے کی کوئی وجہ ہے۔ یہ ایک عبوری دستاویز ہے جس کا اصل امتحان آنے والے مہینوں اور برسوں میں ہوگا۔ اگر اس کی شقیں غیر جانب دار نگرانی، شفاف نفاذ اور مسلسل سیاسی مکالمے کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو یہ مغربی ایشیا میں استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے صرف اسٹریٹجک وقفہ، سیاسی تشہیر یا عارضی سہولت کے طور پر دیکھا گیا تو یہ بھی ان بے شمار معاہدوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کے دستخط تو تاریخ میں محفوظ ہیں، لیکن جن سے پائیدار امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکی۔


عالمی سیاست کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگ شروع کرنے میں کبھی کبھی چند گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ اعتماد کی بحالی میں برس نہیں بلکہ نسلیں صرف ہو جاتی ہیں۔ اس لیے امریکہ اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ صرف 2 ممالک کی سفارت کاری کی دستاویز نہیں، بلکہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا عالمی نظام تصادم کے بجائے تعاون کو منتخب کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔