اقوامِ متحدہ: بلند عزم و منشور، محدود اختیارات... سید قمر عباس قنبر نقوی

عالمی امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، حقیقی امن وہ ہے جہاں انسان کی جان، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق محفوظ ہوں۔

اقوام متحدہ، تصویر آئی اے این ایس
i

اقوامِ متحدہ کا قیام انسان دوستی، امنِ عالم، بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے تحفظ کے بلند مقاصد کے تحت عمل میں آیا۔ دوسری جنگ عظیم (1939ء تا 1945ء) کی ہولناک تباہ کاریوں اور کروڑوں انسانوں کی ہلاکتوں نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ عالمی امن و سلامتی کے قیام اور انسانیت کو جنگ، نفرت اور تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی ادارے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی احساس اور عزم کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1945ء کو اقوامِ متحدہ کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ اس کے منشور پر ابتدا میں دستخط کرنے والے ممالک کی تعداد 51 تھی۔ اس بنیادی دستاویز کو ’منشورِ اقوامِ متحدہ‘ (یو این چارٹر) کہا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ: تعارف اور اغراض و مقاصد

اقوامِ متحدہ دنیا کے آزاد و خود مختار ممالک کا ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنا، ممالک کے درمیان تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرنا، انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ اسے دنیا کے ممالک کی ایک مشترکہ عالمی اسمبلی یا مجلس بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے باہمی مذاکرات کے ذریعے عالمی مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اس کا صدر دفتر نیویارک، امریکہ میں ہے اور اس وقت اس کے رکن ممالک کی تعداد 193 ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے لیے اس کے منشور کو قبول کرنا ضروری ہے۔ کسی نئے ملک کی رکنیت کے لیے سلامتی کونسل کی سفارش اور جنرل اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس ادارے کے انتظامی سربراہ کو سکریٹری جنرل کہا جاتا ہے۔


اقوامِ متحدہ کے اہم مقاصد میں عالمی امن کا قیام، جنگوں کی روک تھام، نسل، رنگ، زبان اور مذہب کے امتیاز کے بغیر انسانی حقوق کا احترام، غربت و جہالت کا خاتمہ، معیاری تعلیم کا فروغ، صحتِ عامہ کی بہتری، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔ ان مقاصد کی تکمیل کے ذریعے دنیا کو مزید محفوظ، منصفانہ اور پُرامن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی نمایاں خدمات

اپنے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط سفر میں اقوامِ متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں نے متعدد شعبوں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں۔

  1. عالمی امن اور سلامتی: اقوامِ متحدہ نے مختلف تنازعات کے حل، جنگ بندی کی کوششوں، امن مشنز اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے عالمی امن کے قیام میں کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ دنیا آج بھی جنگوں اور مسلح تنازعات سے دو چار ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون اور مذاکرات کے لیے اس ادارے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔

  2. بیماریوں کے خلاف جدوجہد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں سے چیچک جیسی مہلک بیماری کا دنیا سے خاتمہ ممکن ہوا۔ پولیو کے خاتمے کے لیے بھی کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر مہم جاری ہے، جس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔

  3. مہاجرین اور متاثرین کی مدد: اقوامِ متحدہ کے ادارے جنگوں، قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں سے متاثرہ افراد کو خوراک، رہائش، طبی سہولتوں، تعلیم اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  4. تعلیم، سائنس اور ثقافتی ورثے کا تحفظ: یونیسکو (یونیسکو) کے ذریعے تعلیم کے فروغ، سائنسی تعاون اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کوششیں کی جاتی ہیں۔

  5. عالمی ترقی اور فلاح و بہبود: اقوامِ متحدہ اور اس کے مختلف ادارے غربت میں کمی، غذائی تحفظ، خواتین اور بچوں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں۔


یہ خدمات اس بات کی دلیل ہیں کہ بین الاقوامی تعاون سے انسانیت کو درپیش بہت سے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کامیابیوں کے باوجود عالمی سطح پر جاری جنگیں، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناہمواریاں اس ادارے کے سامنے بڑے چیلنج ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے نظام سے وابستہ اہم ادارے

اقوامِ متحدہ کے نظام میں متعدد خصوصی ادارے، فنڈز اور پروگرام شامل ہیں، جو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعض خصوصی ادارے خود مختار بین الاقوامی تنظیمیں ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے ساتھ باضابطہ تعاون کے تحت کام کرتی ہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا تعلق بھی اقوامِ متحدہ کے نظام سے خصوصی معاہداتی انتظامات کے ذریعے قائم ہے۔


سلامتی کونسل، اختیارات اور ویٹو پاور

سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے 6 بنیادی اداروں میں سے ایک اہم ہے، بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری اسی کے سپرد ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اس کے فیصلوں کی قانونی حیثیت اور اثرات عام طور پر جنرل اسمبلی کی سفارشات سے مختلف ہیں۔ سلامتی کونسل مخصوص حالات میں معاشی پابندیاں عائد کرنے اور فوجی کارروائی کی اجازت دینے جیسے اقدامات بھی کر سکتی ہے۔ سلامتی کونسل کے کل 15 ارکان ہیں، جن میں 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔ 5 مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ہیں۔ ان ممالک کو خصوصی اختیار حاصل ہے، جسے ’ویٹو پاور‘ کہا جاتا ہے۔ ویٹو پاور کا مطلب یہ ہے  کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے کوئی ایک بھی کسی قرارداد کے خلاف ویٹو استعمال کرے تو وہ قرارداد منظور نہیں ہو سکتی۔

سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان کو جنرل اسمبلی 2 سال کی مدت کے لیے منتخب کرتی ہے۔ ان غیر مستقل رکن کے انتخاب میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ملک کی خدمات اور جغرافیائی توازن کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انتخاب کے لیے جنرل اسمبلی میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کے 2 تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ہندوستان اب تک 8 مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہو چکا ہے۔ اس کی رکنیت کے مختلف ادوار میں بین الاقوامی امن، سلامتی اور عالمی مسائل سے متعلق مباحث میں ہندوستان نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ ایک بنیادی سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا عالمی امن اور انسانی حقوق جیسے آفاقی مقاصد کے تحفظ کا اختیار چند طاقتور ممالک کے خصوصی مفادات اور فیصلوں سے مشروط ہونا چاہیے؟ یہی سوال اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔


اقوامِ متحدہ کی کامیابیاں اور محدودات

اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے نے دنیا بھر میں انسانی وقار، آزادی، مساوات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم اصول متعین کیے۔ اس کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ فلسطین، بالخصوص غزہ، اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے حالات اس سلسلے میں عالمی ضمیر کے سامنے اہم سوالات رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں شہریوں کی ہلاکتیں، جبری نقل مکانی، بنیادی سہولتوں کی تباہی اور انسانی بحران اس امر کے متقاضی ہیں کہ عالمی ادارے محض مذمت اور قراردادوں تک محدود نہ رہیں بلکہ متاثرین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی یقینی بنائیں۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال، بڑی طاقتوں کے باہمی مفادات اور بین الاقوامی قوانین کے نفاذ میں عدم یکسانیت نے متعدد مواقع پر مؤثر کارروائی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ نتیجتاً، بعض سنگین تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی عملی صلاحیت اور مؤثریت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جب کوئی طاقتور ملک اپنے مفادات کی خاطر کسی نسبتاً کمزور ملک پر حملہ کرے، اس کی خودمختاری کو پامال کرے، شہری آبادی کو نشانہ بنایا جائے یا معصوم اور اسکولی بچوں تک کے بنیادی حقوق چھین لیے جائیں، تو عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں اقوامِ متحدہ کی اخلاقی حیثیت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب اس کے اصولوں کا اطلاق تمام ممالک پر یکساں ہو۔

تاہم، اس ادارے کی محدودات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ کوئی ایسی عالمی حکومت نہیں جس کے پاس ہر ملک پر براہِ راست حکمرانی کا اختیار ہو۔ اس کی کارروائی رکن ممالک کے تعاون، قانونی طریقۂ کار، سلامتی کونسل کے فیصلوں اور دستیاب وسائل سے متاثر ہوتی ہے۔ اس کے پاس اپنی مستقل قومی فوج بھی نہیں؛ امن مشنز کے لیے اسے رکن ممالک کے فراہم کردہ اہلکاروں اور وسائل پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو اس کے بلند عزم اور محدود اختیارات کے درمیان نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف منشور دنیا کو امن، انصاف اور انسانی حقوق کا پیغام دیتا ہے، دوسری طرف عملی اقدامات اکثر سیاسی مفادات اور طاقت کے توازن کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات،  ویٹو پاور کے استعمال پر مناسب حدود اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف غیر جانب دارانہ کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ عالمی امن کا خواب اسی وقت حقیقت سے قریب ہو سکتا ہے جب طاقتور اور کمزور، دونوں کے لیے قانون اور انصاف کے پیمانے یکساں ہوں۔


24 اکتوبر کو یومِ اقوامِ متحدہ کے ساتھ عالمی یومِ انسدادِ پولیو بھی منایا جاتا ہے۔ جو صحتِ عامہ اور انسانیت کی خدمت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی یومِ انسدادِ پولیو کا آغاز روٹری انٹرنیشنل نے کیا۔ یہ دن پولیو کے خلاف عالمی جدوجہد اور اس بیماری کی ویکسین کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والے امریکی طبی محقق ڈاکٹر جوناس سالک کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جوناس سالک 28 اکتوبر 1914ء کو پیدا ہوئے تھے اور 23 جون 1995ء کو وفات پا گئے۔ لہٰذا، ان کی خدمات کے اعتراف میں یومِ انسدادِ پولیو ان کے یومِ ولادت (24 اکتوبر) پر منایا جاتا ہے۔ پولیو ایک خطرناک متعدی بیماری ہے، جو بالخصوص بچوں کو عمر بھر کی جسمانی معذوری سے دو چار کر سکتی ہے۔ اس کے خلاف عالمی مہم میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن اس بیماری کا مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ اس مقصد کے لیے ویکسین کی بروقت خوراک، مسلسل نگرانی، عوامی تعاون اور صحت کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ عوام میں پولیو کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کریں، ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کریں، پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور ہر بچے تک حفاظتی ویکسین پہنچانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ پولیو ویکسین کے چند قطرے بچوں کو ایک خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ صحت مند انسان ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے، اور صحت مند معاشرے عالمی امن و ترقی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ نقطۂ اتصال ہے جو یومِ اقوامِ متحدہ اور عالمی یومِ انسدادِ پولیو کو ایک مشترکہ انسانی مقصد سے جوڑتا ہے۔


اقوامِ متحدہ کا قیام انسانیت کو جنگ، تباہی اور ظلم سے محفوظ رکھنے کے ایک عظیم خواب کی تعبیر تھا۔ اس ادارے نے عالمی تعاون، انسانی حقوق، صحت، تعلیم اور ترقی کے میدانوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں، لیکن فلسطین و غزہ اور دنیا کے دیگر بحرانوں میں اس کی محدود مؤثریت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا بلند منشور اور عظیم مقاصد اس وقت تک کافی ہیں جب تک ان کے نفاذ کے لیے مؤثر اختیارات اور سیاسی عزم موجود نہ ہوں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ ادارہ بنے۔ کیونکہ عالمی امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، حقیقی امن وہ ہے جہاں انسان کی جان، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق محفوظ ہوں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔