حیاتیاتی تنوع کو خطرہ، منصفانہ معاشی نظام ناگزیر...مدیحہ فصیح

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان لاکھوں انواع کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بقاء کے لیے فوری عالمی سرمایہ کاری اشد ضروری ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

اقوام متحدہ نے حیاتیاتی تنوع کے زوال کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ارمینیا میں اگلے ہفتے منعقدہ (سی او پی 17) بائیو ڈائیورسٹی کانفرنس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تنزلی اور کثیر جہتی بحرانوں کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد اقسام کو ناپیدگی کا خطرہ لاحق ہے۔ حکومتیں حفاظتی اقدامات کے مقابلے میں ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی صنعتوں پر کہیں زیادہ مالی وسائل خرچ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے، انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ سبز توانائی کی طرف منتقلی کریں اور نقصان دہ مالی اعانت کو بند کر کے بہتر اور پائیدار حل کی طرف راغب ہوں۔ ساتھ ہی اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، نجی شعبے اور پسماندہ طبقات کو مل کر اجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں۔

ارمینیا کے شہر یریوان میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی بائیو ڈائیورسٹی کانفرنس سے قبل 'لیڈرز سمٹ' سے خطاب کرتے ہوئے گوٹیرس نے دنیا کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی اور واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، حد سے زیادہ چرواہی، اور کیمیائی کھادوں و کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال آلودگی، حیاتاتی تنوع کے نقصان اور موسمیاتی تباہی کا ایک ایسا تین گنا سیاروی بحران پیدا کر چکا ہے جس کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد انواع (اسپیشیز) کی بقا کو ناپیدگی کا شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

گوٹیرس نے نوعِ انسانی کے ان افعال پر تنقید کرتے ہوئے ایک فکر انگیز استعارہ پیش کیا ـ "ہم جو کھانا کھاتے ہیں، جو پانی پیتے ہیں، اور جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں – یہ سب حیاتاتی تنوع کے تحائف ہیں... لیکن ہر روز، نوعِ انسانی حیات کے درخت کی ایک اور شاخ اپنے ہی ہاتھوں سے کاٹ رہی ہے۔" انہوں نے اپنے خطاب میں مندرجہ ذیل نکات کا احاطہ کیا۔

1۔ سنگین معاشی تضاد: دنیا بائیو ڈائیورسٹی کی حفاظت پر خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کے مقابلے میں 30 ڈالر اس کی تباہی پر لٹا رہی ہے۔

عالمی سطح پر معاشی ترجیحات میں ایک خوفناک اور مجرمانہ تضاد سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے شائع کردہ حقائق کے مطابق، اس وقت عالمی معیشت میں قدرت کے تحفظ اور اس کی بحالی پر خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کے مقابلے میں 30 ڈالر ایسی تباہ کن سرگرمیوں پر بہائے جا رہے ہیں جو قدرتی ماحول کو نگل رہی ہیں۔ نقصان دہ صنعتوں میں سرمایاکاری کا حال یہ ہے کہ سال 2023 کے دوران، تقریباً 7.3 کھرب ڈالر زہریلے اور ماحولیات دشمن شعبوں میں بہائے گئے—جن میں فوسل فیول، تباہ کن زرعی کاروبار، اور آلودگی پھیلانے والی بھاری صنعتیں شامل ہیں۔ اس کے برعکس، عالمی سطح پر بائیو ڈائیورسٹی کی بہتری کے لیے دستیاب مالی وسائل کنمنگ-مانٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک کے طے شدہ 200 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کے نصف سے بھی کم ہیں۔


گوٹیرس نے حکومتوں سے اصلاح کا زوردار مطالبہ کیا اور کہا "تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم غلط جگہوں پر پیسہ بہا رہے ہیں... میں دنیا بھر کی حکومتوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ ان تباہ کن رعایتوں کو یکسر ختم کریں اور ان بچتوں کو عوام اور سیارے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔"

2۔ ہدف سےدوری: موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک زمین کا صرف 26 فیصد اور سمندروں کا 12 فیصد حصہ ہی محفوظ ہو سکے گا، جو 30 فیصد والے عالمی ہدف سے بہت کم ہے۔

اگرچہ کنمنگ-مانٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک کی منظوری کے بعد کچھ اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں—مثلاً تقریباً 90 فیصد ممالک نے اپنے قومی حیاتاتی اہداف مقرر کیے ہیں، نصف سے زیادہ نے ملکی روڈ میپ تیار کیے ہیں، اور 2022 سے اب تک13 لاکھ مربع کلومیٹر زمین اور 60 لاکھ مربع کلومیٹر سمندر کو باقاعدہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے—تاہم یہ اقدامات ہدف کے مقابلے میں انتہائی غیر متوازن اور سست ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے موجودہ وعدے پورے کر بھی لیں، تب بھی 2030 تک صرف 26 فیصد زمینی اور 12 فیصد سمندری ماحولیاتی نظاموں کی ہی حفاظت کی جا سکے گی، جو کہ 2030 تک دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندر کو محفوظ بنانے کے ہدف سے کہیں کم ہے۔

گوٹیرس نے واضح کیا کہ حیاتاتی تنوع کے نقصان کو جنگ و تنازعات، غذائی غیر یقینی، بیماریوں کے نئے خطرات اور موسمیاتی تبدیلی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان میں سے کسی بھی ایک بحران کا حل تمام بحرانوں کو یکجا حل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے یریوان ڈیکلریشن کا خیرمقدم کیا اور زیرو ویسٹ و سرکلر معیشت، پائیدار و تجدیدی زراعت، شفاف نگرانی اور ماحولیاتی قوانین کے سخت نفاذ پر زور دیا۔

3۔ سستا اور ممکن حل: ماحول کو بچانے کے لیے سالانہ 571 ارب ڈالر درکار ہیں، جو مجموعی عالمی جی ڈی پی کا محض 0.5 فیصد ہے۔

ماحولیاتی زوال کو روکنے اور قدرت کو بحال کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور معاشی طور پر ممکن العمل پلان موجود ہے۔ 2030 تک بائیو ڈائیورسٹی، موسمیاتی اقدامات اور زمین کی بحالی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے 'نیچر بیسڈ سلوشنز'میں سالانہ 571 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی رقم معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ مجموعی عالمی پیداوار (جی ڈی پی) کے محض 0.5 فیصد کے برابر ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومتیں یہ رقم تنہا فراہم نہیں کر سکتیں؛ اسی لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہو گا۔ اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام کیلی فنڈ جیسی پالیسیوں کے ذریعے وہ تجارتی کمپنیاں جو قدرت کے جینیاتی وسائل سے منافع کماتی ہیں، تحفظِ قدرت کے لیے مالی حصہ دینے کی پابند بنائی جا رہی ہیں۔


4۔ بحرانوں کا تسلسل: بائیو ڈائیورسٹی کی تباہی کا براہِ راست تعلق جنگ و تنازعات، غذائی غیر یقینی، اور بیماریوں کے نئے خطرات سے ہے۔

منصفانہ معاشی نظام سے تبدیلی ممکن

پاکیزہ اور تجدید پذیر توانائی کے شعبے کی زبردست کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو معاشی نظام میں تیز ترین تبدیلی ممکن ہے۔ سال 2010 کے بعد سے شمسی توانائی کی پیدواری لاگت میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے اور کلین انرجی میں سرمایہ کاری فوسل فیول کے مقابلے میں دگنی ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ سال کے دوران تجدید پذیر توانائی نے زمین کو اتنے کاربن اخراج سے بچایا جو امریکہ، یورپی یونین اور جاپان کے مجموعی اخراج کے برابر تھا۔

توانائی کے شعبے کی اس کامیابی کے باوجود، اس کے ثمرات دنیا بھر میں منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔ کثیر قرضوں کے بوجھ، محدود عوامی بجٹ اور غیر منصفانہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک اپنے عوام کی معاشی ترقی اور قدرت کے تحفظ دونوں پر ایک ساتھ سرمایاکاری کرنے سے قاصر ہیں۔

ماحولیاتی تباہی کا سب سے سنگین بوجھ اکثر ان مظلوم اور کمزور طبقوں پر پڑتا ہے جن کا اس بحران میں کوئی قصور نہیں ہوتا، مگر ماحولیاتی حل کی حقیقی قوت بھی انہی گروہوں سے جنم لیتی ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ نے نوجوانوں، سول سوسائٹی، خواتین، اور مقامی برادریوں کی مکمل شمولیت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل طور پر انتونیو گوٹیرس کی مدتِ ملازمت میں اب صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں، اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ موسمیاتی بحران، آلودگی اور بائیو ڈائیورسٹی کے نقصان کو روکنا ان کے دورِ اقتدار کا سب سے اہم ترین مشن رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔