دوستی، تزویراتی شراکت داری اور خودمختاری کا دکھاوا... اشوک سوین
امریکہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور چین حکمت عملی کی کمزوریوں نے ہندوستان کی تزویراتی خودمختاری کو متاثر کیا۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی نے تزویراتی لچک کمزور کی اور چین کو فائدہ پہنچایا

ڈونالڈ ٹرمپ کو 13 سے 15 مئی کے اپنے بیجنگ دورے سے جیسی امیدیں رہی ہوں گی، حقیقت میں ویسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ امریکہ کے حق میں کوئی بڑی ڈیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، بلکہ اس کے برعکس امریکہ اور چین کے تعلقات میں سفارتی عدم توازن کھل کر سامنے آ گیا۔
وائٹ ہاؤس نے تجارت، سلامتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے نتائج والی ملاقات کا تصور کیا تھا لیکن ایران کے ساتھ جاری جنگ نے سربراہ ملاقات کے وقت اور مقصد، دونوں کو بدل دیا۔ ٹرمپ، ایلون مسک (ٹیسلا)، ٹم کک (ایپل) اور جینسن ہوانگ (این ویڈیا) جیسے سرکردہ کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد لے کر بیجنگ پہنچے لیکن وہ جغرافیائی سیاسی دباؤ، گھریلو سیاسی مسائل اور چین کی بڑھتی ضرورت جیسے عوامل میں گھرے ہوئے تھے۔
ملاقات میں انہیں کوئی ایسی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی انہیں امید تھی، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم بات سامنے آئی۔ لوگوں کو یہ اندازہ ہو گیا کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ چین کے ساتھ کسی کھلے تصادم کے لیے بالکل تیار نہیں۔ نئی دہلی میں نریندر مودی کی خارجہ پالیسی سے وابستہ حلقوں کے لیے یہ تشویش کی بات ہونی چاہیے۔
ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے مودی کی خارجہ پالیسی اس بنیادی سوچ پر قائم رہی ہے کہ چین کے مقابلے میں امریکہ، ہندوستان کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر دیکھے گا اور یہ بات وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی میں بھی جھلکے گی۔ اسی سوچ نے ہندوستان کے سفارتی رویے، علاقائی تال میل اور دفاعی اشتراک کو شکل دی۔ لیکن ٹرمپ اور شی کی ملاقات نے ظاہر کر دیا کہ مودی حکومت کی یہ سوچ انتہائی کمزور بنیادوں پر قائم تھی۔
ٹرمپ اس امید کے ساتھ بیجنگ گئے تھے کہ شی جن پنگ، تہران پر چین کے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ایران تنازع کے سفارتی حل میں مدد کریں گے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے اور توانائی کے بازار میں استحکام پیدا کرنے کے معاملے میں۔ چین نے بظاہر استحکام کی حمایت کی، لیکن اس نے کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا۔ امریکہ کو اس کے اپنے پیدا کردہ بحران سے نکالنے میں بیجنگ کی کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آئی۔
ایران کے معاملے پر محدود حمایت ملنے کے باوجود ٹرمپ، شی جن پنگ کے تئیں غیر معمولی طور پر نرم رویہ اختیار کیے رہے۔ اس اشارے کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ ذاتی سطح پر گرمجوشی، شی کو امریکہ آنے کی دعوت اور کھلے عام یہ کہنا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس شی جن پنگ نے اس موقع کو تائیوان کے مسئلے پر ایک "سرخ لکیر" کھینچنے کے لیے استعمال کیا اور ٹرمپ کو یاد دلایا کہ چین کے لیے اس معاملے پر کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔
اس سربراہ ملاقات سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکہ، چین کے ساتھ تزویراتی تصادم کے لیے تیار ہے۔ لین دین کو ترجیح دینے والی ٹرمپ انتظامیہ، چین کے ساتھ ہر ممکن تال میل پیدا کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی۔ ہندوستان کے نقطۂ نظر سے یہ بات اہم ہے، کیونکہ مودی نے گزشتہ 12 برس میں عالمی سفارت کاری کو بالکل مختلف انداز میں سمجھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دی۔
مودی نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان کے تزویراتی مستقبل کو واشنگٹن کی چین سے متعلق تشویشات کے ساتھ ضرورت سے زیادہ جوڑ دیا۔ کواڈ (کواڈری لیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ) ہندوستان کے ’انڈو پیسیفک‘ نظریے کا مرکزی ستون بن گیا۔ دفاعی معاہدوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ خفیہ معلومات کے اشتراک میں گہرائی آئی۔ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ وسیع ہوا۔ 2016 میں ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ ایل ای ایم او اے (لاجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ) پر دستخط کیے تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کی فوجی لاجسٹکس سہولتوں کو استعمال کر سکیں۔
یہ محض ایک تکنیکی انتظام نہیں بلکہ ایک سفارتی داؤ تھا۔ مودی حکومت کا ماننا تھا کہ چین کے مقابلے میں امریکہ ایک مضبوط تزویراتی شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔ اس سے بھی اہم بات شاید یہ تھی کہ حکومت کو یقین تھا کہ امریکہ کے ساتھ اس کی کھلی قربت کا اثر یہ ہوگا کہ اگر کبھی بیجنگ کے ساتھ کھلا تصادم ہوا تو واشنگٹن اس کا قابل اعتماد ساتھی بنے گا لیکن یہ سوچ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی اصول کو نظر انداز کرتی ہے، یعنی امریکہ کسی بھی ملک کی مدد اپنے مفادات کی بنیاد پر کرتا ہے، نہ کہ اپنے شراکت داروں کے تزویراتی خوابوں کی بنیاد پر۔
چینی فوج نے 2020 میں جب ایل اے سی (لائن آف ایکچول کنٹرول) پر زمینی صورت حال بدلی تو امریکہ ہندوستان کی مدد کے لیے سامنے نہیں آیا۔ گلوان واقعے کے بعد بھی، جب ہندوستان دباؤ میں تھا، امریکہ کھل کر ہندوستان کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔ اس نے صرف سفارتی ہمدردی، خفیہ معلومات میں تعاون اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت کی پیشکش کی لیکن ہمدردی، عملی وابستگی کا متبادل نہیں ہوتی۔
ہندوستان نہ جاپان ہے اور نہ جنوبی کوریا۔ وہ امریکہ کا کوئی معاہداتی اتحادی ملک نہیں ہے۔ مودی کے تزویراتی نظام نے یا تو اس فرق کو سمجھنے میں غلطی کی، یا پھر جان بوجھ کر اسے نظر انداز کیا لیکن ٹرمپ اور شی جن پنگ کی سربراہ ملاقات نے اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔
ٹرمپ بنیادی طور پر لین دین کی ذہنیت رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے بیانات یا پالیسی فیصلوں میں نظریاتی ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ ان کی سوچ میں ادارہ جاتی اصولوں کے مقابلے میں ذاتی انداز، فطری رجحانات اور شخصی تعلقات کو زیادہ اہمیت حاصل رہتی ہے۔ موجودہ حالات میں انہیں چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں فائدہ نظر آ رہا ہے، اسی لیے تائیوان سے متعلق خدشات کم اہم ہو گئے ہیں، علاقائی شراکت داروں کو اپنے خطرات خود سنبھالنے ہوں گے اور ٹیرف کی لڑائی بھی پس منظر میں چلی گئی ہے۔
ہندوستان کو کبھی بھی چین کے لیے ایسی حکمت عملی نہیں بنانی چاہیے تھی جو کسی امریکی صدر کے غیر متوقع رویے پر منحصر ہو۔ مسئلہ صرف ٹرمپ کو صحیح طریقے سے نہ سمجھ پانے کا نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ تزویراتی خودمختاری کے بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود مودی حکومت کی خارجہ پالیسی نے ہندوستان کی تزویراتی لچک کو محدود کر دیا ہے۔
ہندوستان کو ہمیشہ اپنی تزویراتی خودمختاری پر فخر رہا ہے۔ ایک وقت میں اسے "غیر وابستگی" کہا جاتا تھا۔ اس کا مطلب نہ غیر جانبداری تھا اور نہ ہی تذبذب، بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ہندوستان کے پاس ایک واضح پالیسی سمت موجود ہے اور وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنے لیے سفارتی گنجائش برقرار رکھے گا۔ مودی نے اس اصول کو ایک نئی شکل دی، لیکن واشنگٹن کی طرف ضرورت سے زیادہ جھکاؤ نے اسے اندر سے کمزور کر دیا۔
اس کے علاوہ، ہندوستان کی چین پالیسی میں تسلسل کی کمی بھی رہی ہے۔ مودی نے ووہان اور ممالاپورم میں شی جن پنگ کے ساتھ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری اپنائی، جس سے اعلیٰ قیادت کے درمیان براہ راست بات چیت پر ان کے اعتماد کا اظہار ہوا۔ اس کے باوجود 2020 کی فوجی کشیدگی کو روکا نہیں جا سکا۔ سرحدی تناؤ بڑھتا گیا اور چین کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی جاری رہی۔ چین نے ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں اپنی اقتصادی اور سفارتی رسائی کو مزید مضبوط کیا، جبکہ ہندوستان نے اپنے پڑوسیوں کو دور کر کے ایک طرح سے ’سیلف گول‘ کیا، جس کا فائدہ چین کو ملا۔
ان ناکامیوں کے بعد اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کے بجائے، نئی دہلی نے واشنگٹن کے ذریعے بیرونی توازن پیدا کرنے پر مزید زور دیا۔ تزویراتی لحاظ سے یہ ایک غیر دانشمندانہ قدم تھا، کیونکہ کوئی بھی سنجیدہ طاقت اپنی خارجہ پالیسی کے توازن کی ذمہ داری کسی دوسری بڑی طاقت پر نہیں ڈال سکتی، خاص طور پر ایسی طاقت پر جس کی ترجیحات عالمی سطح پر پھیلی ہوئی اور غیر مستحکم ہوں۔
چین کے معاملے میں ہندوستان کے چیلنج بنیادی، جغرافیائی اور مستقل نوعیت کے ہیں، جبکہ امریکہ کی عالمی طاقت سے جڑی ترجیحات تزویراتی اور بدلتی رہنے والی ہیں۔ امریکہ اور ہندوستان ایک ہی کشتی کے مسافر نہیں ہیں۔ واشنگٹن ضرورت پڑنے پر بیجنگ کے ساتھ تزویراتی ہم آہنگی پر بات چیت کر سکتا ہے، لیکن ہندوستان اپنی جغرافیائی حقیقت سے الگ نہیں ہو سکتا۔
ہندوستان کے لیے اس میں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے کہ امریکہ کبھی بھی اپنی چین پالیسی کو ہندوستان کے سلامتی سے متعلق خدشات کا پابند نہیں بنائے گا۔ امریکہ اب بھی ہندوستان کو ہتھیار فراہم کر سکتا ہے، تعاون کر سکتا ہے اور زبانی حمایت بھی دے سکتا ہے، لیکن اگر بیجنگ کے ساتھ وسیع تر ہم آہنگی امریکہ کے مفادات کو پورا کرتی ہے تو واشنگٹن کے فیصلے ہندوستانی خدشات کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔ مودی کی خارجہ پالیسی نے اکثر تزویراتی اشتراک کو سفارتی مساوات سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ اس غلط فہمی کی قیمت اب چکانی پڑ رہی ہے۔
ہندوستان کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کمزور ہوئے ہیں، اور چین نے اعتماد کے اس فقدان سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ہندوستان درآمد شدہ دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ملک کے اندر فوجی جدیدکاری کی رفتار کمزور ہے اور اس میں جان پہچان والوں کو فائدہ پہنچانے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی اقتصادی مسابقت بھی کمزور ہے، اور بیرون ملک بڑے دعوے اندرونی بنیادی کمزوریوں کی تلافی نہیں کر سکتے۔
چین کے مقابلے کے لیے ایک قابل بھروسہ حکمت عملی ہندوستان کی اپنی اقتصادی طاقت، تکنیکی صلاحیت، دفاعی پیداوار، سرحدی بنیادی ڈھانچے، علاقائی شراکت داریوں اور سفارتی ساکھ پر مبنی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے یورپ، جنوب مشرقی ایشیا، خلیجی ممالک اور خود بیجنگ سمیت مختلف عالمی طاقت مراکز کے ساتھ عملی روابط بھی ضروری ہیں۔
"تزویراتی خودمختاری" کا مطلب کبھی بھی کسی ایک فریق کا ساتھ نہ دینا نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل مطلب ہمیشہ اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو محفوظ رکھنا تھا۔ لیکن موجودہ خارجہ پالیسی، جو زیادہ تر ظاہری تاثر پر قائم ہے، اس صلاحیت کو کمزور کر چکی ہے۔ بہرحال، ٹرمپ کے بیجنگ دورے کو ایک تنبیہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
(اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
