سچی مزاحمت ’ستیاگرہ‘ سے پیدا ہوتی ہے... میناکشی نٹراجن

آج راجیہ سبھا کا انتخاب کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخاب جیسا ہو گیا ہے۔ تو کیا تعجب! ایس آئی آر نے پورے ملک کو کوآپریٹو انتخابات جیسا بنا دیا تو کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

گزشتہ دنوں راجیہ سبھا کا نامزدگی پرچہ مسترد ہونے کے بعد خود احتسابی کا موقع ملا۔ کوئی بھی مزاحمت صرف بیرونی نہیں ہو سکتی۔ وہ بہت سے اندرونی سوالات پوچھتی ہے۔ مزاحمت حقیقت کی تلاش کرنے والی نہ ہو، تو وہ یا تو محض سنسنی خیز ڈراما بن کر رہ جاتی ہے یا پھر ردعمل۔ حقیقت کی تلاش کی جستجو کے بغیر پیدا ہونے والا ردعمل محض تشدد ہے۔ یہ تشدد حق کی آواز نہیں اٹھا سکتا۔

اگرچہ انتخابات کے عمل اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر اب کوئی شک نہیں رہا، وہ یقینی طور پر اقتدار کے قدم چومتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن ان سب سے الگ کچھ سوالات میرے ذہن میں آئے۔ ان سوالات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا نوٹس لیے بغیر کسی مزاحمت کا آغاز نہیں ہو سکتا۔ راجیہ سبھا کا پرچہ مسترد ہونے سے سب سکتے میں آ گئے۔ جمہوریت پر حاوی ہوتی آمریت اور اجارہ داری کا پردہ فاش ہوا۔ لیکن یہ پہلی بار تو نہیں ہوا۔ آخر دبے پاؤں گزشتہ 2 دہائیوں سے قبضہ، غلبہ اور اجارہ داری جمہوریت کی ہر جگہ پر اپنے پاؤں پسار ہی رہی تھی، تب کسی نے توجہ نہیں دی۔ اسے سیاسی اسمارٹنس کے طور پر منایا گیا۔ اس عمل میں چھوٹ جانے والے لوگوں کو ’باؤڑم‘ قرار دیا گیا۔


مدھیہ پردیش ہی کی بات کریں تو زرعی پیداوار منڈی کے انتخابات کب سے بند ہو گئے۔ ہم نے کچھ زیادہ نہیں کہا... اور اس ’ہم‘ میں ’میں خود کو بھی‘ شامل کرتی ہوں، کیونکہ پوری انتظامیہ مجھ سے الگ کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ ’ہم‘ دراصل ’میں‘ اور ایسے ہی دیگر لوگوں کا اجتماعی شعور ہے۔ منڈی کوئی کمتر جگہ نہیں۔ راجیہ سبھا کے مقابلے میں کوئی ثانوی نظام نہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کسان کی پیداوار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ملک کی راجدھانی کی وزارتِ تجارت تک تو اس کی آواز پہنچتی ہی نہیں، کم از کم منڈی تک تو پہنچا کرتی تھی۔ آج بھی سماجی اقتدار کے نظام میں تاجروں اور آڑھتیوں کے مقابلے میں کسان کی آواز بہت کمزور ہے۔ منڈی میں نمائندگی اسے بلندی عطا کرتی تھی۔ ادھر انتخابات بند ہوئے، ادھر امدادی قیمت پر خرید میں مزید گراوٹ آئی۔ کسان کو حق کے بجائے کچھ راحت کی رقم کا انعام دے کر خاموش کیا جانے لگا۔ کسان کے لیے ہمدردی کی رقم، زرعی کریڈٹ اسکیم، قرض معافی، بھاؤ انتر کی مہربانی کے کئی نام۔ ان میں حق گم ہو گیا۔ کسی نے نمائندگی کے حق کو ’مس‘ نہیں کیا۔ مہربانی کی سنہری قید کے بارے میں جمہوریت دب گئی۔ کسان پر گولی بھی چلی، تب بھی زرعی پیداوار منڈی کے انتخابات مطالبے کے بیانیے میں شامل نہیں ہو سکے۔ آج جب امریکہ سے ڈیل ہوگی، تب کسان کی کہیں آواز نہیں بچے گی۔

یہی صورت حال کوآپریٹو سوسائٹیوں کی ہوئی۔ اس کے انتخابی عمل میں کوئی تعاون باقی ہی نہیں رہا۔ ووٹروں اور امیدواروں، سب کی فہرست حکومت طے کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ حکمران جماعت کے حساب سے طے کرتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ انتخابات کتنے ضروری ہیں۔ سماج کے سب سے نچلے درجے پر بسنے والے لوگوں کے راشن، بیج اور کھاد کی دستیابی ان کمیٹیوں سے طے ہوتی ہے۔ ایسے میں جب طاقتور طبقے اس پر اپنا قبضہ جما لیتے ہیں، تو استحصال کی نئی عبارت لکھتے ہیں۔ کئی بار اس سب سے کمزور شخص کو ہی کھاد اور بیج نہیں ملتا۔ گاؤں کے بااثر لوگوں میں تقسیم کے بعد کچھ بچتا ہے تو وہ انہیں ملتا ہے۔ پھر وہ کہاں آواز اٹھائیں؟ کوئی ایسا نظام نہیں جہاں وہ فیصلہ کن بن سکیں۔ عوامی تقسیم کے نظام کی کالابازاری، استحصال، لوٹ کھسوٹ کو چیلنج کر سکیں۔


ان کمیٹیوں میں سماج کے سب سے زیادہ دبے کچلے طبقے کے لیے نشستیں محفوظ ہونے کے باوجود اصل آواز نہیں مل سکی۔ صرف طاقتور لوگوں کے مہرے قابض ہوتے گئے۔ ہماری سیاسی بیداری کو اس سے ٹھیس نہیں پہنچی۔ ہمیں نہیں لگا کہ یہ جعلی عمل جمہوریت کو کھوکھلا کر رہا ہے، بلکہ ہم نے اسے تعاون کی خامی مان لیا۔ آخر انسان کی فطرت ہی تعاون کرنے والی نہیں۔ یہ سرمایہ داری نے ہمیں جچا دیا۔ اس دوران منتخب نہری کمیٹیاں تحلیل ہو گئیں۔ وہاں زمین کے مالک حاوی ہو گئے۔ ہمیں اچھا نہیں لگا، لیکن خاص مخالفت بھی نہیں کی۔ پھر پنچایت انتخابات کی بھی یہی حالت ہو گئی۔ گرام سبھا کے حقوق جاتے رہے۔ ہمیں لگا کہ موافق حکومت بننے پر کچھ کریں گے۔ انتخابات کے امیدوار کی اہلیت طے ہونے لگی، ہمیں یہ جمہوریت مخالف نہیں لگا۔ زیادہ تر ریاستیں اپنی مرضی کے مطابق انتخابات کراتی ہیں یا نہیں کراتیں۔ تب بہت فرق نہیں پڑا۔

آج راجیہ سبھا کا انتخاب کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخاب جیسا ہو گیا ہے۔ تو کیا تعجب! ایس آئی آر نے پورے ملک کو کوآپریٹو انتخابات جیسا بنا دیا تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ راجیہ سبھا تو ارکان اسمبلی کی نمائندہ مجلس ہے۔ ان سے کئی گنا زیادہ کمزور، دبے کچلے طبقے کی منتخب اور غیر منتخب مجلسیں موجود ہیں۔ کوآپریٹو سوسائٹی، گرام سبھا، پنچایت، منڈی، نہری کمیٹی میں ان کی آواز کا ہونا، ملک کی روح کو آواز دینا ہے۔ اسے دبا دیا گیا۔ نامناسب ضرور محسوس ہوا، لیکن کیا یہ ناانصافی جیسا لگا؟ یہ سوال ذہن میں ہے۔


ایک پہلو اور ہے۔ جو تیسرے امیدوار منتخب قرار دیے گئے، وہ جس برادری سے آتے ہیں، ہزاروں سال تک نظام کے حاکموں نے محض پیدائش کی بنیاد پر انہیں مسترد کیا ہے۔ مندر، اسکول، ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی قطار، شمشان گھاٹ تک، سب جگہ انہیں مسترد کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے میری پیدائش تو مسترد کرنے والی برادری میں ہوئی۔ اگرچہ عورت جنیو نہیں پہنتی اور نہ ہی دِوج ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میرے پاس جتنے خصوصی حقوق کے جنیو ہیں، وہ سماج کی عدم مساوات کی ہی علامت ہیں۔ تو اس موقع پر میرے برادری سے متعلق ذاتی اعمال کا حساب چکتا ہوا۔ آئین اسی عدم مساوات کو نیست و نابود کرنے کا ذریعہ، نقشہ ہے۔ وہی مجھے اور بلامقابلہ منتخب ہونے والے کو یہ حق دیتا ہے کہ برابری سے لڑ سکیں۔ میدان ہموار ہو۔ لیکن جیسا کہ بابا صاحب نے کہا تھا کہ معاشی اور سماجی عدم مساوات سیاسی مساوات کو نگل جائے گی۔ انتخابات میں بڑھتے اخراجات، غیر شفافیت اسی کا نتیجہ ہیں۔ یہ یاد رہے کہ طاقتور کا نمائندہ ہونے سے انصاف اور بااختیار بنانا نہیں ہوتا۔ طاقتور کو چیلنج کرنے سے ہوتا ہے۔ جب مزاحمت کی مشق کرنے لگتے ہیں، تو وہ اندر سے بے چین کرنے والے سوالات پوچھتی ہے۔ ان کا سامنا کرنا ہی ستیہ گرہ ہے۔ تب ہمہ جہت لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔