یہ محض ایک نوجوان کی موت کا معاملہ نہیں... ہارون ریشی
جموں خطہ میں گئو رکشا کے نام پر کیا جانے والا تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چاروں ملزمین بار بار جرم کرتے رہے ہیں۔ وہ تنہا کام نہیں کر رہے ہیں۔ انھیں حمایت، تحفظ، معاشی مدد اور حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔

رام بن میں چناب کی تیز بہاؤ والی معاون ندی سے تنویر احمد چوپن کی لاش نکالنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے چلائی جا رہی تلاش مہم 22 اپریل تک بے نتیجہ رہی۔ 18 سالہ چوپن 12 اپریل کو لاپتہ ہو گیا تھا۔ وہ ’گئو رکشکوں‘ کے ایک گروہ کے حملہ سے بچنے کی کوشش میں بشلاری میں طغیانی مارتے نالے میں کود گیا تھا۔ اس دوپہر وہ جموں سے جموں-سری نگر ہائی وے کے راستے منی ٹرک میں ایک گائے اور 2 بچھڑوں کو لے کر گھر جا رہا تھا۔ وہ مویشیوں کی اسمگلنگ نہیں کر رہا تھا بلکہ دودھ دینے والے جانوروں کو رام بن کے پوگل علاقہ واقع اپنے گاؤں منڈکھال لے جا رہا تھا، جہاں نسلوں سے مویشی پروری لوگوں کی روزی کا ذریعہ رہی ہے۔
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے جموں میں اپنے آبائی مقام پر ڈیری فارمنگ کے لیے جانوروں کو قانونی طور پر خریدا تھا۔ اس علاقہ میں مسلم گوجر اور بکروال برادریوں کے لیے روزگار کا بنیادی ذریعہ ڈیری فارمنگ ہے، اور چوپن بھی اسی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ عینی شاہدین نے تصدیق کی کہ چوپن پر حملہ کرنے والے لوگ 2 گاڑیوں میں سوار تھے۔ انہوں نے چوپن کی گاڑی کو روکا، اسے گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور اس پر حملہ کر دیا۔ جان بچانے کے لیے چوپن نے مگرکوٹ کے پاس ندی میں چھلانگ لگا دی، لیکن اس کے بعد سے اسے کسی نے نہیں دیکھا۔
روزانہ مختلف ایجنسیوں کے لوگ چوپن کی لاش تلاش کرتے رہے۔ مقامی لوگ ندی کے کنارے جمع ہوتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں باری باری شفٹ بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن ایک شخص اس جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتا- تنویر کے والد، عبدالسلام چوپن۔ وہ خصوصی پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے تکلیف بھری آواز میں ’سنڈے نوجیون‘ سے کہا کہ ’’اگر یہ کوئی حادثہ ہوتا، تو شاید میں خود کو سنبھال لیتا۔ لیکن میرے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے۔ اس کا پیچھا کیا گیا، اس پر حملہ کیا گیا اور اسے اتنی بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اس نے حملہ آوروں کے ہاتھوں پڑنے کے بجائے طغیانی مارتی ندی میں کودنا بہتر سمجھا۔‘‘ عبدالسلام کہتے ہیں کہ ’’اسی دن سے میں ٹوٹا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ میں یہاں صبح سویرے آتا ہوں اور دیر رات کو مایوس لوٹتا ہوں۔ گھر پر بیوی اور 4 بیٹیاں پچھلے 10 دنوں سے مسلسل رو رہی ہیں۔ ہر گھنٹے وہ فون کرتی ہیں اور وہی ایک سوال پوچھتی ہیں- کیا وہ ملا؟‘‘ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا ’سنڈے نوجیون‘ سے کہتے ہیں کہ ’’تلاش اب بھی جاری ہے۔ پانی کا تیز بہاؤ، ساتھ ہی ندی میں گہرے گڈھے اور کھوہیں، آپریشن کو مشکل بنا رہے ہیں، لیکن لاش کو ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں۔‘‘
اس واقعہ سے پورے جموں و کشمیر میں شدید غصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسے ’قتل جیسا‘ بتایا اور خبردار کیا کہ ’جنگل راج برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘ واقعہ کے فوراً بعد علاقہ میں احتجاج شروع ہو گئے۔ مظاہرین نے جموں-سری نگر نیشنل ہائی وے (این ایچ-44) کو جام کر دیا، جس سے ٹریفک مکمل طور پر رک گیا اور حکام کو مجبوراً کارروائی کرنی پڑی۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر 4 ملزمان دگ وجے سنگھ، کیول سنگھ، سرجیت سنگھ اور سندیپ سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ سبھی رام بن ضلع کے رہنے والے ہیں۔ معاملے کی جانچ کے لیے بانیہال کے سب ڈویژنل پولیس افسر کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔
تاہم، حکام نے اس بارے میں زیادہ معلومات دینے سے گریز کیا ہے۔ ایس ایس پی گپتا نے ’سنڈے نوجیون‘ کو بتایا کہ ’’اس سطح پر جانچ کی تفصیل عوامی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ پھر بھی، میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جانچ جاری ہے اور متعلقہ ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں۔‘‘ کیا تنویر نے جموں سے رام بن تک مویشیوں کو لے جانے کی اجازت نہیں لی تھی، جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا؟ جواب میں ایس ایس پی نے کہا کہ ’’یہ معاملہ اب بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔ ہم ابھی مجاز اتھارٹی، یعنی جموں کے ضلع مجسٹریٹ سے اس کی تصدیق کر رہے ہیں، اور ان کے جواب کا انتظار ہے۔‘‘
جموں علاقے میں ’کاؤ ویجلنٹزم‘ (گئو رکشا کے نام پر تشدد) کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں اس علاقہ میں ایسے حملے مسلسل بڑھے ہیں۔ اپریل 2017 میں ریاسی میں مویشیوں کی اسمگلنگ کے شبہ میں گئو رکشکوں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر ایک مسلم خاندان پر حملہ کیا تھا جس میں ایک بزرگ اور ایک 9 سالہ بچی بھی شامل تھی۔ 2 سال بعد بھدرواہ میں گئو رکشکوں نے 50 سال کے نعیم احمد شاہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ایک دیگر کو زخمی کر دیا۔ اس وقت وہ کھیتی کے لیے خریدے گئے بیل لے جا رہے تھے۔ 2021 میں راجوری کے تھنا منڈی میں 24 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا، جب وہ ایک بھینس کے ساتھ اپنے گھر لوٹ رہا تھا۔
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے سابق قومی صدر ایڈووکیٹ فیروز خان ان لوگوں میں شامل ہیں جو تنویر کے خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ رام بن اور آس پاس کے علاقوں میں گئو رکشکوں کو سیاسی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ گئو رکشا کا سلسلہ یہاں کئی سال سے چل رہا ہے۔ نیشنل ہائی وے پر سرگرم ان گروہوں کے خلاف مسلسل شکایات ملتی رہی ہیں۔ چاروں ملزمان جانے پہچانے عادی مجرم ہیں۔ وہ اکیلے کام نہیں کر رہے ہیں- انہیں حمایت، تحفظ، مالی مدد اور حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔‘‘ خان نے یہ بھی کہا کہ ’’پولیس کے ذریعے گرفتار کلیدی ملزم سرجیت سنگھ یووا راجپوت سبھا کا ضلع صدر ہے۔ حملہ آوروں کے ذریعہ استعمال کی گئی گاڑیوں میں سے ایک اس کنسٹرکشن کمپنی کی تھی جو فی الحال اس علاقے میں سرنگ بنا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملہ میں شامل تمام لوگوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘‘
ایڈووکیٹ فیروز خان نے دعویٰ کیا کہ ’’اس واقعے کے بعد ہمیں ایسی ویڈیوز ملیں، جن میں یہ لوگ مختلف جگہوں پر دہشت پھیلاتے نظر آ رہے ہیں- وہ خانہ بدوش لوگوں کو پیٹ رہے تھے اور انہیں مارنے سے پہلے ان کے کپڑے بھی اتار رہے تھے۔ ہم نے یہ ویڈیوز ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کو دکھائے ہیں۔‘‘ خان نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس معاملے پر لوگوں کے درمیان ہونے والی بحث کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انتظامیہ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ اس مسئلے پر، خاص طور پر سوشل میڈیا پر، کوئی بات نہ کی جائے۔ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، انہیں بلایا جا رہا ہے اور ان پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ مجھے خود کورٹ کمپلیکس میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا، جب میں متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے رام بن میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک جانے والی ایک پرامن ریلی میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ حالات کو دبانے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
تلاش جاری ہے، لیکن تنویر کے خاندان کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ کئی لوگوں کے لیے، اب یہ صرف ایک نوجوان کی موت کا معاملہ نہیں رہ گیا ہے، بلکہ یہ تشدد کے اس سلسلے کا سامنا کرنے کی بات ہے جو برسوں سے بے روک ٹوک جاری ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔