منموہن کی نظر میں دنیا… ڈاکٹر اینجیلا مرکیل
’جمہوریت دباؤ میں ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم ان معاملوں پر سمجھوتہ نہ کریں جنھیں جمہوری نظام کے لیے ضروری مانتے ہیں۔ اسی پر منحصر کرے گا کہ کیا ہم آزادی سے جی پائیں گے۔‘

آج ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اعزاز میں دیے گئے میرے خطاب میں لوگوں کی کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ آخر، وہ 2004 میں ہندوستان کے وزیر اعظم بنے اور 2014 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اور میں اینجیلا مرکیل، جرمنی کی ایک سابق چانسلر ہوں، جسے فعال سیاست چھوڑے 4 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود، جب منموہن سنگھ ٹرسٹ کی جانب سے اُپیندر سنگھ نے مجھے دعوت دی، تو اسے قبول کرنا مجھے کیوں اچھا لگا؟
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ منموہن سنگھ کے ساتھ میرے 10 سالہ تجربات شاندار رہے۔ وہ ایک غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ پہلی ملاقات میں ہی مجھے اس کا احساس ہو گیا تھا۔ ان میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت تھی، چاہے ان کے انداز یا گفتگو سے یہ بات فوری طور پر ظاہر نہ بھی ہو۔ وہ مجھ سے 20 سال بڑے تھے۔ ہماری پہلی ملاقات اپریل 2006 میں جرمنی میں ہینوور میسے کے افتتاح کے موقع پر ہوئی تھی، جو اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا صنعتی میلہ تھا، جس میں ہندوستان کو شراکت دار ملک کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
منموہن سنگھ کی جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان کی بیدار اور متجسس نگاہ تھی، جس میں تجربہ اور معصومیت کا حسین امتزاج جھلکتا تھا۔ وہ پرسکون، سنجیدہ اور نرم مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پُرعزم بھی تھے۔ ہندوستان کے پہلے ایسے وزیر اعظم کے طور پر، جو ہندو نہیں تھے بلکہ سکھ اقلیت سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے ایک ایسے ملک کی نمائندگی کی جو اپنی مذہبی، نسلی اور جغرافیائی تنوع میں وحدت تلاش کرتا ہے۔ انہوں نے یہ سب کچھ بغیر کچھ کہے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا۔ ان کی شخصیت میں ایک فطری وقار تھا، لیکن وہ کسی کو خوفزدہ نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے مجھے بلا جھجک سوال کرنے اور کھل کر بات کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے بغیر کسی شکایت کے، لیکن پوری مضبوطی کے ساتھ اُن اعتراضات کی نشاندہی کی، جو ہندوستان جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کو جرمنی سمیت دیگر ترقی یافتہ صنعتی ممالک سے ہیں۔ اس کے بعد میں نے ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے حالات اور چیلنجز کو زیادہ قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ منموہن سنگھ کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے دنیا کو دیکھنے کے میرے زاویے کو مزید واضح اور گہرا کیا۔
چانسلری میں میری میز پر ایک گلوب رکھا رہتا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا جب میں نے گلوب اور نقشے کے فرق پر غور کرنا شروع کیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میرا دنیا کو دیکھنے کا انداز، دیگر یورپیوں کی طرح، یوروپ مرکزیت کا حامل تھا۔ گلوب میں دنیا کے ہر مقام سے مرکز تک فاصلہ یکساں ہوتا ہے، لیکن نقشے میں ایک مرکز اور کچھ کنارے ہوتے ہیں، اور یہ مرکز منمانے طریقے سے طے کیا جاتا ہے۔ میں ایسے نقشوں کے ساتھ بڑی ہوئی جن میں یورپ کو ہمیشہ مرکز دکھایا جاتا تھا، حالانکہ وہ دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا براعظم ہے۔ بہت بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یورپ دنیا کا مرکز نہیں ہے، جبکہ منموہن سنگھ کے لیے یہ حقیقت بچپن سے واضح تھی۔
منموہن سنگھ کے دور وزارت عظمیٰ میں دنیا میں زبردست تبدیلیاں آئیں۔ عالمی اقتصادی اور سیاسی اہمیت جی-7 سے ہٹ کر برکس جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کے گروپ کی طرف منتقل ہونے لگی۔ حالیہ برسوں میں کئی ایسی باتیں بھی بدل گئیں جو کبھی ناقابل تغیر سمجھی جاتی تھیں۔ مثلاً یورپ میں روس-یوکرین جنگ نے علاقائی سالمیت کے اصول کو نقصان پہنچایا، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کو بھی مجروح کیا۔
کثیرالجہتی نظام دباؤ میں ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ عالمی ادارۂ صحت، عالمی تجارتی تنظیم اور پیرس موسمیاتی معاہدے جیسی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے یا انہیں کمزور کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعاون کی پرانی روایت کی جگہ طاقت کی سیاست نے لے لی ہے۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے بھی نئی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، جہاں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی صلاحیت موجود ہے، جس کا جمہوریت اور آزادی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ ہمیں اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ نظام میں کون سے اصول اپنانے چاہئیں تاکہ مختلف سماجی گروہوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم رہے، اور کیا جمہوری اصولوں سے وابستگی آج بھی اتنی ہی معنی خیز ہے؟ ان سوالات کا منموہن سنگھ سے کیا تعلق ہے؟
میرا ماننا ہے کہ ان کا کام ہمیں نئی سمت دکھا سکتا ہے۔ 19 جولائی 2005 کو امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’کسی بھی جمہوریت کی اصل کسوٹی یہ نہیں کہ آئین میں کیا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ عملی طور پر کیسے کام کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات، آزاد عدلیہ، بے خوف صحافت، اقلیتوں کا تحفظ اور مضبوط سول سوسائٹی جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ باتیں آج پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں، کیونکہ جمہوریت دباؤ میں ہے، خاص طور پر جرمنی میں۔ ہمیں ان اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے جو جمہوری نظام کے لیے ضروری ہیں۔
اہم ممالک کو کثیرالجہتی تعاون کے لیے دوبارہ پرعزم ہونا ہوگا، جیسا کہ منموہن سنگھ نے اپنے کئی خطابات میں زور دیا۔ انہوں نے ستمبر 2013 میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری ہی عالمی مفاد میں ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہندوستان اور جرمنی دونوں پیرس موسمیاتی معاہدہ کے ساتھ ’مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں‘ کے اصول پر متفق ہیں۔
عالمگیریت کے چیلنجز، خاص طور پر 2008 کے مالی بحران کے بعد، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسائل کا حل تعاون میں ہے، تصادم میں نہیں۔ آج جب تحفظ پسندانہ پالیسیاں عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہیں، منموہن سنگھ کی تنبیہات اور بھی اہم ہو گئی ہیں۔
آخر میں، اگر ٹیکنالوجی دنیا کو بدل رہی ہے، تو اس پر بھی عالمی سطح پر قواعد و ضوابط ضروری ہیں، چاہے وہ ڈاٹا کی حفاظت ہو، سوشل میڈیا کی ذمہ داری ہو یا اے آئی کا استعمال۔ بدلتی ہوئی دنیا کے تناظر میں، میرا یقین ہے کہ منموہن سنگھ کے نظریات اور ان کی سیاسی خدمات آج بھی رہنمائی اور تحریک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
(26 فروری 2026 کو نئی دہلی میں ’پہلے منموہن سنگھ یادگاری خطبہ‘ میں جرمنی کی سابق چانسلر اینجیلا مرکیل کے ذریعہ دیے گئے خطاب کے مرتب شدہ اقتباسات)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔