جنتر منتر سے آگے نکل چکی ہے نوجوانوں کی آواز!... ہرجندر

دہلی کے واقعات نے اگرچہ ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی آواز کو کچھ دیر کے لیے دبا دیا ہو، لیکن یہ تحریک پیر کو دہلی میں عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں شکل اختیار کر چکی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i
user

ہرجندر

پیر، 20 جولائی کو ملک کی راجدھانی دہلی ایک ایسی طلبا تحریک کا مرکز بن گئی، جس کی گونج نہ صرف پورے ملک میں بلکہ نیویارک، سان جوس اور لندن جیسے ان شہروں تک بھی سنائی دی، جہاں ہندوستانی تارکین وطن بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ اس دن دہلی میں پولیس کا بے مثال انتظام تھا۔ وسطی دہلی کی جانب آنے جانے والی کئی اہم سڑکوں پر بیریکیڈ لگا کر آمد و رفت روک دی گئی تھی۔ شام تقریباً 4 بجے جب پرامن مظاہرین کا ایک بڑا ہجوم آخرکار جنتر منتر پر پولیس کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے پارلیمنٹ مارگ کی جانب بڑھنے لگا، بیریکیڈ اور امتناعی احکامات بھی انہیں نہیں روک سکے، تو پولیس نے لاٹھی چارج، واٹر کینن، آنسو گیس، پیلیٹ گن اور دیگر طاقت کے استعمال کے ذریعے مظاہرین پر قہر برپا کر دیا۔

دہلی کے واقعات نے اگرچہ ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کی آواز کو کچھ دیر کے لیے دبا دیا ہو، لیکن یہ تحریک پیر کو دہلی میں عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں شکل اختیار کر چکی تھی۔ اتوار، 19 جولائی کی صبح، جب سونم وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی ہٹایا گیا تھا، اس کے اگلے ہی دن ممبئی کے شیواجی پارک میں سینکڑوں لوگ ان کی حمایت میں جمع ہو گئے۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے بھی اس میں شامل ہوئے۔


بنگلورو کے فریڈم پارک میں طلبا اور نوجوان پیشہ ور افراد کا بڑا ہجوم امڈ آیا۔ ان کا پیغام صرف ایک امتحان (نیٹ) یا ایک وزیر (دھرمیندر پردھان) تک محدود نہیں تھا۔ پوسٹ گریجویٹ طالبات اپوروا آر. نے کہا کہ ’’اگر آج طلبا خاموش رہے، تو کل ہر ادارہ اپنی ساکھ کھو دے گا۔‘‘ کولکاتا میں جادوپور یونیورسٹی نے مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اپنا پہلا بڑا طلبا مارچ نکالا۔ طلبا، اساتذہ اور محققین نے ایک ساتھ مارچ کرتے ہوئے پرامن مظاہرین پر پولیس کی کارروائی کی مذمت کی۔ پریسیڈنسی یونیورسٹی کے طلبا نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کی حمایت کی، جبکہ میڈیکل کالج کولکاتا کے تقریباً 50 طلبا نے اس وقت وانگچک کی بھوک ہڑتال کے 21ویں دن ان کی حمایت میں 12 گھنٹے کا روزہ رکھا۔

ان بڑے شہروں سے آگے بھی عدم اطمینان کی وہی تپش محسوس کی گئی۔ بھونیشور میں وزیر تعلیم کی رہائش گاہ کے باہر این ایس یو آئی کے گھیراؤ میں، لیہہ اور کرگل کی دعائیہ مجالس میں، پورنیا، سیکر، جے پور اور رانچی کی مشعل ریلیوں میں، لکھنؤ، چنڈی گڑھ، اندور، سرسا، جونپور، علی گڑھ، بھیوانی اور یمنا نگر کے مظاہروں میں یہی غصہ نظر آیا۔ یہاں تک کہ منی پور جیسی ریاست میں، جو پہلے ہی شدید نسلی تنازعہ سے نبرد آزما ہے، طلبا اور عام شہریوں نے بھی دہلی کے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔


سب سے دلچسپ تصویر ہماچل پردیش سے سامنے آئی۔ شملہ میں طلبا موسلا دھار بارش کے درمیان کئی کلومیٹر تک پیدل مارچ کرتے رہے۔ اسی دوران ہمیرپور، نادون اور برسر جیسے ان قصبوں میں بھی مظاہرے ہوئے، جو عام طور پر قومی سرخیوں کا حصہ نہیں بنتے۔ یہ تحریک اب قومی راجدھانی اور ریاستی صدر مقامات کی حدود پار کر کے چھوٹے شہروں اور اضلاع تک پہنچ چکی تھی، جہاں مسابقتی امتحانات سماجی ترقی اور بہتر مستقبل کا تقریباً واحد راستہ بن چکے ہیں۔

2 شہروں کا خاص طور پر ذکر ضروری ہے… کوٹا اور دہرادون۔ ہندوستان میں کوچنگ کی راجدھانی کوٹا میں راہل گاندھی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں کہیں زیادہ بھیڑ امڈ آئی۔ دہلی میں پولیس کارروائی کے بعد پیر کو طلبا بڑی تعداد میں دوبارہ سڑکوں پر اتر آئے۔ وہیں دہرادون میں طلبا تنظیموں نے مسلسل ہونے والے سوالیہ پرچے لیک کے واقعات کے لیے جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات نے ملک کے تعلیمی نظام پر لوگوں کے اعتماد کو پوری طرح متزلزل کر دیا ہے۔ اس لمحے کو غیر معمولی بنانے والی بات صرف اس کا وسیع پھیلاؤ نہیں، بلکہ اس کی نوعیت بھی ہے۔ یہ تحریک کسی ایک طلبا تنظیم یا کسی ایک سیاسی پارٹی کے پروگرام تک محدود نہیں رہی۔ ملک بھر میں طلبا کے ساتھ اساتذہ، والدین، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، کسان تنظیمیں، مزدور یونینیں اور خواتین کی تنظیمیں بھی شانہ بشانہ کھڑی نظر آئیں۔


اندور میں 101 سالہ مجاہد آزادی اور سابق رکن پارلیمنٹ پنڈت رام کرشن شرما خود طلبا کے تعلیمی اصلاحات سے متعلق مطالبات کی حمایت میں مظاہرے کی جگہ تک پہنچے۔ وہاں لگے پوسٹروں پر ان طلبا کے نام لکھے تھے، جنہوں نے بار بار ہونے والے پیپر لیک یا امتحانات سے متعلق دیگر ناکامیوں کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ موم بتی مارچ اور خاموش جلوسوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے غصے پر سوگ غالب آ گیا ہو۔ تحریک کے اتنے وسیع پھیلاؤ سے واضح ہے کہ اب ایسے عوامی احتجاجوں کو کسی صدر مقام کی ضرورت نہیں رہی۔ دہلی نے اس تحریک کو وسعت نہیں دی، بلاشبہ سوشل میڈیا نے اسے پھیلانے اور رفتار دینے کا کام کیا۔ لیکن صرف ٹیکنالوجی کسی معاشرے میں غصہ پیدا نہیں کر سکتی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم معلومات کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا سکتے ہیں، مگر دور دور بسے لوگوں کو متحد کرنے کا کام مشترکہ تجربے اور مشترکہ تکلیف نے کیا۔

دہلی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کا سرخیوں میں آنا فطری تھا، لیکن ملک بھر میں امنگوں اور تشویش کا یہ خاموش سنگم بھی کم اہم اشارہ نہیں دیتا۔ ہندوستان کا نوجوان اس نظام کے خلاف کھڑا ہو رہا ہے، جس نے اسے مایوس کیا ہے۔ اب صرف اہلیت موقع کی ضمانت نہیں رہی، بلکہ اہلیت کی پہچان بھی گویا لاٹری بن گئی ہے۔ برسوں کی سخت تیاری نظام کی ناکامیوں کے سبب ایک جھٹکے میں بے معنی ہو سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طلبا تحریکیں اکثر جمہوریت کے لیے ابتدائی انتباہ کا کام کرتی ہیں۔ اقتصادی اعداد و شمار یا انتخابی نتائج سے پہلے یونیورسٹیوں اور کیمپسوں میں ملک کی بدلتی ہوئی رائے عامہ کی سرگوشی سنائی دینے لگتی ہے۔


بہرحال، 20 جولائی کا پیغام انتہائی واضح اور گہرا ہے۔ ہندوستان کا نوجوان اس حکومت کو واضح انتباہ دے رہا ہے۔ اس نے بہت طویل عرصے تک انتظار کیا ہے کہ اس کی آواز سنی جائے۔ اب وہ تبدیلی کے لیے مزید انتظار کرنے کو تیار نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔