توحید کی انفرادیت اور اس کی امتیازی خصوصیات...ایف اے مجیب

توحید صرف خدا کی وحدانیت کا اقرار نہیں، بلکہ انسانی فکر و عمل کے لیے ایک جامع اصول ہے۔ یہ عبادت کو خالص، اختیار کو ذمہ دار، اخلاق کو بامعنی اور انسانی تعلقات کو انصاف و مساوات کی بنیاد فراہم کرتی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

توحید کا دنیا کے مذہبی و فکری تصورات میں ایک بنیادی اور منفرد مقام ہے۔ اس کی اصل خصوصیت صرف یہ نہیں کہ خدا ایک ہے، بلکہ یہ ہے کہ خدا کی یکتائی کو تسلیم کرنے کے بعد کائنات، انسان، عبادت، اقتدار اور اخلاق کے بارے میں انسان کا نقطۂ نظر بھی ایک خاص سمت اختیار کرتا ہے۔ توحید خدا کے تصور کو تمام شریکوں اور ہم مرتبہ ہستیوں سے پاک کرتی ہے اور انسان کو یہ سمجھنے کی دعوت دیتی ہے کہ خالق اور مخلوق، مطلق اختیار اور محدود اختیار، نیز عبادت اور عام انسانی تعلقات کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے۔

توحید کی پہلی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خدا کی وحدانیت غیر منقسم ہے۔ کائنات میں بے شمار مخلوقات، مختلف قوتیں اور لاتعداد مظاہر موجود ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی خدا کی ذات یا اختیار میں شریک نہیں۔ خدا کسی کا محتاج نہیں اور نہ اس کی خدائی کسی دوسرے وجود کی مدد، منظوری یا شراکت کی محتاج ہے۔ اس تصور میں خدا اور کائنات کے درمیان واضح فرق قائم رہتا ہے: کائنات مخلوق ہے اور خدا خالق؛ مخلوقات محدود ہیں اور خدا کا اقتدار ان کی حدود کا پابند نہیں۔ یہی امتیاز توحید کو ان تصورات سے الگ کرتا ہے جن میں الوہیت کو متعدد ہستیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یا مخلوق کو خدا کی خدائی میں شریک سمجھا جاتا ہے۔

توحید کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ عبادت اور بندگی کا مرکز متعین کرتی ہے۔ انسان فطری طور پر کسی نہ کسی طاقت، شخصیت، نظریے یا مقصد سے غیر معمولی وابستگی پیدا کر لیتا ہے۔ کبھی دولت اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتی ہے، کبھی اقتدار اور شہرت اس کے فیصلوں پر غالب آ جاتے ہیں اور کبھی کوئی شخصیت اس کے لیے حق و باطل کا آخری معیار بن جاتی ہے۔ توحید انسان کو یاد دلاتی ہے کہ احترام، محبت، تعاون اور جائز اطاعت اپنی جگہ، لیکن عبادت اور مطلق بندگی صرف خدا کا حق ہے۔ اس طرح توحید انسان کو ہر اس وابستگی سے خبردار کرتی ہے جو اسے اپنی آزادی، ضمیر اور اخلاقی ذمہ داری سے محروم کر دے۔

اس کی تیسری خصوصیت انسانی اختیار کی حدود کو واضح کرنا ہے۔ توحید ایک طرف خدا کی حاکمیت تسلیم کرتی ہے اور دوسری طرف انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت دیتی ہے۔ انسان کو سوچنے، انتخاب کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیت حاصل ہے، لیکن یہ صلاحیت اسے مطلق اختیار کا مالک نہیں بناتی۔ وہ اپنی خواہش کو قانونِ حق، اپنے مفاد کو انصاف اور اپنی طاقت کو دوسروں کے حقوق سے بالاتر نہیں کر سکتا۔ خدا کی حاکمیت کا اعتراف انسان کو یہ اصول دیتا ہے کہ کسی مخلوق کا حکم، کسی معاشرتی رواج یا کسی ذاتی مفاد کو حق و باطل کا آخری معیار نہیں بنایا جا سکتا۔


توحید کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو اپنے نفس کی بالادستی سے نجات پانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ انسان دوسروں کے دباؤ سے تو کبھی آزاد ہوجاتا ہے، لیکن اپنی خواہشات، حرص، غصے، تعصب اور غرور کا غلام بن سکتا ہے۔ توحید کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی خواہش کو خدا کا حکم نہ بنائے۔ جب ذاتی فائدے اور انصاف میں ٹکراؤ ہو، جب غصہ معافی کی گنجائش ختم کرنے لگے، یا جب طاقت کمزور کا حق چھیننے کا موقع فراہم کرے، تو انسان اپنے نفس کے بجائے اصولِ حق کو ترجیح دے۔ اس طرح خدا کی بندگی انسان کو خواہشات کی غلامی سے نکال کر اخلاقی خود اختیاری کی طرف لے جاتی ہے۔

توحید کی ایک اور امتیازی خصوصیت جواب دہی کا تصور ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی کو محض دنیاوی کامیابی، سماجی شہرت یا قانونی گرفت سے بچنے تک محدود کردے تو اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی انہی حدود میں سمٹ سکتی ہے۔ لیکن خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کے اعمال کی اہمیت صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ دیانت، امانت، انصاف اور حقوق کی ادائیگی اس کے لیے باطنی ذمہ داری بھی بن جاتی ہے۔ یہی احساس انسان کو اس وقت بھی درست عمل کی ترغیب دیتا ہے جب غلط کام سے فائدہ حاصل کرنے کا امکان ہو اور پکڑے جانے کا اندیشہ نہ ہو۔

توحید کی انفرادیت اس بات میں بھی ہے کہ وہ زندگی کو دو متضاد اخلاقی نظاموں میں تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ عبادت میں خدا کی بندگی اور معاملات میں ذاتی مفاد کی بالادستی، زبان سے خدا کی عظمت کا اقرار اور عمل میں ظلم و تکبر، یا مذہبی وابستگی کے ساتھ بددیانتی—یہ سب عقیدے اور عمل کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتے ہیں۔ توحید کا مکمل عملی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی عبادت، تجارت، خاندانی زندگی، سماجی رویے اور اجتماعی فیصلے ایک ہی بنیادی اخلاقی معیار سے رہنمائی حاصل کریں۔ تاہم انسان سے غلطی ہوسکتی ہے؛ کسی کوتاہی کی بنیاد پر اس کے پورے عقیدے کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنے کے بجائے اس کے عمل اور اصلاح کی ضرورت کو الگ سمجھنا چاہیے۔

انسانی مساوات بھی توحید کے اہم نتائج میں سے ہے۔ جب تمام انسان ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں تو کوئی شخص محض نسل، رنگ، زبان، دولت یا منصب کی بنیاد پر خدا کے اختیار میں شریک یا دوسروں کا مطلق حاکم نہیں بن جاتا۔ انسانوں کے درمیان صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کا فرق ہوسکتا ہے، مگر یہ فرق کسی کو ظلم یا استحصال کا حق نہیں دیتا۔ اس طرح توحید انسانی تعلقات میں احترام اور انصاف کی ایک ایسی بنیاد فراہم کرتی ہے جو طاقت اور برتری کے دعووں کو اخلاقی حدود میں رکھتی ہے۔


توحید کی اصل انفرادیت اس لیے صرف تعداد کے سوال میں نہیں کہ خدا ایک ہے، بلکہ اس اصول کی جامعیت میں ہے کہ خدا کی یکتائی کے ساتھ کسی دوسرے وجود کو اس کی خدائی میں شریک نہیں کیا جاسکتا، کسی مخلوق کو مطلق اختیار نہیں دیا جاسکتا اور اپنی خواہش کو حق کا آخری معیار نہیں بنایا جاسکتا۔ یہی تصور عبادت کو خالص، انسانی اختیار کو ذمہ دار، اخلاق کو بامعنی اور زندگی کو ایک مربوط سمت عطا کرتا ہے۔ توحید کا امتیاز اسی وقت پوری طرح نمایاں ہوتا ہے جب خدا کی یکتائی کا اقرار انسان کے فکر و عمل میں بھی اپنی جھلک دکھانے لگے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔