ساتویں صدی: عالمی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ...ایف اے مجیب

ساتویں صدی سیاسی و اخلاقی بحران کا دور تھی، جس کے دوران حضرت محمدؐ کی بعثت نے توحید، عدل اور مساوات پر مبنی ایک آفاقی پیغام پیش کیا، جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر انسانیت کو نئی فکری اور عملی سمت عطا کی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ایف اے مجیب

انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت تک لے جاتا ہے کہ ہدایتِ الٰہی کا سلسلہ کسی ایک خطے، قوم یا زمانے تک محدود نہیں رہا۔ اسلامی تصور کے مطابق یہ رہنمائی حضرت آدمؑ سے شروع ہوئی اور مختلف ادوار میں مختلف اقوام کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ ہر دور میں انسانیت کو اس کی فکری سطح اور سماجی حالات کے مطابق پیغام دیا گیا۔ اسی تسلسل کی آخری اور مکمل کڑی ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی صورت میں ظاہر ہوئی—ایک ایسا عالمی لمحہ جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا اور انسانی فکر و عمل کو نئی سمت عطا کی۔

ساتویں صدی کا آغاز ایک شدید سیاسی اور فکری بحران کے ساتھ ہوا۔ مغرب میں بازنطینی سلطنت اور مشرق میں ساسانی سلطنت صدیوں سے برسرِ پیکار تھیں۔ 602ء سے 628ء تک جاری رہنے والی طویل جنگوں نے دونوں طاقتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ خزانے خالی ہو چکے تھے، عوام بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور مذہبی اختلافات نے معاشروں کو تقسیم کر رکھا تھا۔ سیاسی طاقتیں بظاہر وسیع تھیں، مگر ان کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہو چکی تھیں۔ مذہبی پیشوائیت عام انسان سے دور ہو گئی تھی اور حکمران طبقہ عوامی مسائل سے بے نیاز دکھائی دیتا تھا۔ انسان علم میں ترقی کر رہا تھا—یونانی فلسفہ محفوظ تھا، رومی قانون منظم شکل میں موجود تھا، ایرانی نظمِ حکومت مستحکم تھا—مگر اخلاقی اور روحانی بحران شدت اختیار کر چکا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا جغرافیائی طور پر قریب آ رہی تھی۔ تجارتی راستے کھل رہے تھے، افکار کا تبادلہ بڑھ رہا تھا اور تحریری ثقافت مضبوط ہو رہی تھی۔ گویا انسانیت ایک ابتدائی “عالمی گاؤں” کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ ایسے میں ایک ایسے پیغام کی ضرورت تھی جو مقامی یا نسلی نہ ہو بلکہ آفاقی ہو، جو صرف عبادات تک محدود نہ رہے بلکہ انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کو ہم آہنگ کرے۔

اسی عالمی منظرنامے میں جزیرۂ عرب کی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع یہ خطہ بین الاقوامی تجارت کا اہم راستہ تھا۔ مکہ نہ صرف معاشی بلکہ مذہبی مرکز بھی تھا۔ خانۂ کعبہ کی وجہ سے مختلف قبائل یہاں جمع ہوتے، حج و زیارت کرتے اور تجارتی میلوں میں شریک ہوتے تھے۔ سیاسی طور پر عرب قبائلی نظام کے تحت منقسم تھا۔ کوئی مرکزی حکومت نہ تھی، قبائلی عصبیت غالب تھی اور معمولی تنازعات نسل در نسل جنگوں میں بدل جاتے تھے۔ معاشی طور پر دولت چند ہاتھوں میں مرتکز تھی، سود خوری عام تھی اور کمزور طبقات بے سہارا تھے۔ سماجی طور پر عورتوں اور غلاموں کے حقوق محدود تھے اور طاقت ہی حق کا معیار سمجھی جاتی تھی۔


مگر اسی بظاہر منتشر اور غیر منظم خطے میں ایک ایسا امکان پوشیدہ تھا جو عالمی تاریخ کو بدل سکتا تھا۔ بڑی سلطنتوں کے زیرِ اثر نہ ہونے کی وجہ سے عرب ایک آزاد فکری زمین فراہم کرتا تھا جہاں ایک نیا نظام جنم لے سکتا تھا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔ آپؐ نے اعلان کیا کہ انسان کا خالق ایک ہے، اسی کی عبادت کی جائے اور اسی کے سامنے جواب دہی کا یقین رکھا جائے۔ توحید کا یہ پیغام محض ایک مذہبی عقیدہ نہ تھا بلکہ ایک انقلابی نظریہ تھا جس نے انسان کو ہر قسم کی نسلی، قبائلی اور طبقاتی برتری سے آزاد کرنے کا اعلان کیا۔

آپؐ کے پیغام نے اقتدارِ اعلیٰ کو انسانوں کے ہاتھ سے نکال کر خدا کے حوالے کیا، اور یوں طاقت کے منبع کو اخلاقی ذمہ داری سے مشروط کر دیا۔ عدل و انصاف کو بنیادی قدر قرار دیا گیا، کمزوروں، یتیموں، عورتوں اور غلاموں کے حقوق کی حفاظت کو دینی فریضہ بنایا گیا۔ انسانی مساوات کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا کسی گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں، برتری کا معیار صرف تقویٰ اور کردار ہے۔ قیامت اور جواب دہی کا تصور پیش کر کے ہر فرد کو اس کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ قبائل کی تقسیم کے بجائے ایمان کی بنیاد پر متحدہ امت کا تصور دیا گیا۔

یہ پیغام کسی خاص قوم کے لیے محدود نہ تھا۔ قرآن کا اندازِ خطاب پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے۔ اس میں عقائد، اخلاقیات، معیشت، معاشرت اور سیاست کے جامع اصول بیان کیے گئے۔ اہم بات یہ تھی کہ اس کتاب کے محفوظ رہنے کا وعدہ کیا گیا اور اسے تحریری صورت میں محفوظ کر لیا گیا—ایک ایسے دور میں جب تحریری ثقافت مستحکم ہو چکی تھی اور پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنا ممکن تھا۔ یوں پہلی بار ہدایت کا سرچشمہ ایک محفوظ اور مستند متن کی صورت میں انسانی تاریخ کے سامنے آیا۔

622ء کی ہجرت کے بعد مدینہ میں ایک عملی ریاستی ماڈل قائم ہوا۔ قبائلی تعصبات کی جگہ شہری وحدت نے لی۔ ایک تحریری معاہدہ تشکیل پایا جس نے مختلف مذہبی گروہوں کو مشترکہ سیاسی نظام میں جوڑا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ایمان، اخلاق اور سیاست کو ہم آہنگ کیا گیا۔ معاشی میدان میں سود کی ممانعت اور زکوٰۃ کے نظام نے دولت کی گردش کو یقینی بنایا۔ عورتوں کو وراثت اور نکاح میں رضامندی کا حق ملا۔ غلاموں کی آزادی کی ترغیب دی گئی۔ قیادت کو اخلاقی ذمہ داری سے مشروط کیا گیا اور حکمران کو جواب دہ بنایا گیا۔


یہ سب کچھ محض چند دہائیوں میں وقوع پذیر ہوا۔ 632ء کے بعد یہ پیغام عرب کی سرحدوں سے نکل کر دنیا کے وسیع علاقوں تک پہنچا۔ کمزور ہو چکی سلطنتوں کے علاقوں میں ایک نیا نظام ابھرا۔ مگر یہ توسیع صرف سیاسی نہ تھی بلکہ ایک فکری اور اخلاقی انقلاب تھا۔ آنے والی صدیوں میں اسی پیغام نے علم و تحقیق کو فروغ دیا۔ بغداد، دمشق اور قرطبہ جیسے شہر علمی مراکز بنے۔ فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات میں نمایاں خدمات انجام دی گئیں۔ مگر اس سب کی بنیاد وہی اخلاقی تصور تھا جو ساتویں صدی میں پیش کیا گیا تھا—کہ علم امانت ہے، اقتدار ذمہ داری ہے اور انسان خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔

اگر انسانی تاریخ کے تسلسل کو دیکھا جائے تو ساتویں صدی وہ مرحلہ تھی جہاں مقامی اور وقتی ہدایات کی جگہ ایک مکمل اور عالمگیر ہدایت پیش کی جا سکتی تھی۔ دنیا جڑ رہی تھی، رابطے بڑھ رہے تھے اور انسانیت کو ایک ایسے اخلاقی و فکری نظام کی ضرورت تھی جو وقت اور جغرافیے کی حدود سے بالا تر ہو۔ حضرت محمد ﷺ کی بعثت اسی تاریخی ضرورت کا جواب تھی۔ نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا اور ہدایت کا سرچشمہ ایک محفوظ کتاب اور ایک واضح اسوہ کی صورت میں ہمیشہ کے لیے مہیا کر دیا گیا۔

یوں ساتویں صدی عیسوی محض ایک تاریخی باب نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک عالمی موڑ ہے۔ اس صدی میں سیاسی طاقتیں کمزور ہو رہی تھیں، معاشی ڈھانچے بدل رہے تھے اور انسان فکری طور پر نئے سوالات اٹھا رہا تھا۔ اسی لمحے ایک ایسا پیغام سامنے آیا جس نے روحانیت کو اخلاق سے، اخلاق کو قانون سے اور قانون کو معاشرے سے جوڑ دیا۔ تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ تلوار سے نہیں بلکہ فکر اور کردار سے جنم لیتے ہیں۔ ساتویں صدی میں پیش ہونے والا یہ پیغام آج بھی اسی طرح زندہ ہے—ایک ایسی ابدی اور عالمگیر رہنمائی کے طور پر جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتی ہے اور انسان کو انسان سے قریب لاتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔