اسلام کی ترویج کا مؤثر ترین مبلغ اخلاقِ مرسلِ اعظم
حضرت رسول اکرم کے حسنِ اخلاق کا عالم یہ تھا کہ آپؐ اذیت پہنچانے والوں کے ساتھ بھی رحمت و شفقت سے پیش آتے۔ آپؐ کی سیرتِ مبارکہ میں ایسے بے شمار واقعات اِس امر کے گواہ ہیں۔

اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے محبوب ترین نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس تمام انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے فضائل و کمالات کا مجموعہ ہے۔ آپؐ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے رشد و ہدایت، محبت و رحمت، عدل و انصاف اور حسنِ اخلاق کا کامل مجسمہ ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا بلند اور بے مثال اخلاق اسلام کی ترویج و تبلیغ کا سب سے مؤثر ذریعہ رہا۔ آپؐ کو شدید اذیتیں پہنچانے والے بہت سے لوگوں نے بھی آپؐ کے حسنِ سلوک، عفو و درگزر اور عملی اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام سے قربت اختیار کی۔ آپؐ نے دینِ حق کی دعوت محض تقریر سے نہیں بلکہ عملی کردار سے پیش کی۔
اخلاق و کردار:
حضرت رسول اکرم کے حسنِ اخلاق کا عالم یہ تھا کہ آپؐ اذیت پہنچانے والوں کے ساتھ بھی رحمت و شفقت سے پیش آتے۔ آپؐ کی سیرتِ مبارکہ میں ایسے بے شمار واقعات اِس امر کے گواہ ہیں کہ آپؐ نے جاہل و جنگجو عربوں کے دل طاقت سے نہیں، محبت سے جیتے۔
تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک خاتون راستے میں لکڑیاں اٹھا رہی تھی اور بار بار گرنے کی وجہ سے پریشان ہو رہی تھی۔ رسولِ اکرمؐ نے اس کی مدد فرمائی اور اس کی لکڑیاں اس کے گھر تک پہنچائیں۔ خاتون نے اجرت دینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں آپؐ کو نصیحت کرتی ہوں کہ ہمارے شہر میں ایک نوجوان ایک نیا دین لے کر آیا ہے، وہ لات و منات کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، تم اس کے قریب نہ جانا۔ آپؐ نے مسکرا کر فرمایا کہ میں وہی نوجوان ہوں۔
خاتون نے حیرت سے پوچھا کہ آپ نے میرے ساتھ جو ہمدردی کی، یہ آپ کا ذاتی عمل ہے یا آپ کا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ میرے کردار اور تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ عمل دینِ حق کی پکار ہےـ
فتحِ مکہ اور عفو و درگزر
فتحِ مکہ کے موقع پر وہی لوگ آپؐ کے سامنے موجود تھے جنہوں نے آپؐ کو اور آپؐ کے اصحابؓ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، آپؐ کے خلاف سازشیں کیں اور مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ اس موقع پر رسولِ اکرمؐ نے انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار فرمایا۔
آپؐ نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تمہیں مجھ سے کیا توقع ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کروں گا؟ انہوں نے عرض کیا: آپ کریم ابنِ کریم ہیں، ہم آپ سے ہمدردی کی ہی توقع رکھتے ہیں۔ رسولِ رحمتؐ نے ان تمام کو معافی عطا فرمائی۔ یہی وہ کردار تھا جس نے دشمنوں کے دل بدل دیے۔ تلوار کسی جسم کو مغلوب کر سکتی ہے، مگر اخلاق دلوں کو فتح کرتے ہیں۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ صرف سرکارِ مرسلِ اعظمؐ کے فضائل و مناقب سن کر یا بیان کر کے فخر و افتخار محسوس نہیں کریں گے، بلکہ حتی المقدور کوشش کریں گے کہ ہماری زندگی میں بھی آپؐ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی جھلک نظر آئے۔ اگر ہماری گفتار اور کردار سیرتِ مصطفیٰؐ سے خالی ہوں تو ہمارا دعوائے محبت اور اتباع کا نعرہ کھوکھلا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہ پڑے کہ ہم دینِ اسلام کے پیروکار ہیں، بلکہ ہمارا کردار خود گواہی دے کہ ہم اسلام کے ماننے والے، توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والے اور تعلیماتِ محمدیؐ کے پیروکار ہیں۔
ماہِ ربیع الاول، خصوصاََ ایامِ ولادت سرکارِ دو عالم حضرت رحمت للعالمینؐ کی سیرت و تعلیمات سے تجدیدِ عہد کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان ایام میں جلسوں، سیمیناروں، کانفرنسوں، ورکشاپس، تربیتی پروگراموں اور محافلِ میلاد کا انعقاد یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن ان تمام سرگرمیوں کا اصل مقصد سیرتِ نبویؐ کو زندگی میں نافذ کرنا ہونا چاہیے۔
ہمیں مقصدِ نبوت، اہمیتِ نبوت، فلسفۂ نبوت اور ختمِ نبوت کے ساتھ ساتھ سرکارِ خاتم النبیینؐ کے طریقۂ تبلیغ، طریقۂ معاشرت، معاملات، تجارت، عائلی زندگی، عدل و انصاف، عفو و درگزر اور حقوقِ انسانی کو بھی عام کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم پہلے خود ان تعلیمات پر عمل کریں اور پھر دنیا کے سامنے انہیں پیش کریں، کیونکہ عمل کی دعوت، الفاظ کی دعوت سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
اگر ہم معاشرے میں حضرت خاتم النبیینؐ رسولِ اکرمؐ کا صحیح تعارف کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو کوئی بھی صاحب ضمیر انسان آپؐ کی سیرت و تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں تعلیمات رسولِ رحمتؐ کو عام کرنے کے بے شمار ذرائع ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ ضرورت صرف اخلاص، حکمت، حسنِ اخلاق اور سیرتِ مصطفیٰؐ سے حقیقی وابستگی کی ہے۔
یاد رکھیے! حضرت مرسلِ اعظمؐ کی سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو سسکتی ہوئی انسانیت اور کراہتی ہوئی بشریت کے لیے حیاتِ نو کا پیغام ہے۔ آپؐ کی رحمت، آپؐ کا عدل، آپؐ کا صبر، آپؐ کا عفو، آپؐ کی شجاعت اور سب سے بڑھ کر آپؐ کا حسنِ اخلاق دنیا ئے انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اگر ہم اپنی قولی و عملی زندگی میں نبیِ اکرمؐ کے اخلاق و کردار کو اپنا لیں تو یہی اسلام کی سب سے مؤثر تبلیغ ہوگی۔ ہمارا کردار ہی ہماری دعوت بن جائے گا اور ہماری زندگی ہی سیرتِ مصطفیٰؐ کا عملی تعارف پیش کرے گی۔
پروردگارِ عالم! ہمیں نبیِ اکرمؐ کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرما، ہمیں تعلیماتِ رسولِ رحمتؐ کا سچا امین اور حقیقی پیروکار بنا، اور ہمیں اپنے عمل کے ذریعے دینِ اسلام کی خدمت کرنے کی سعادت عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
