جمہوریت کے طرز عمل کی زبان مسخ ہو چکی... اشوک واجپئی

شہریوں کے حقوق ہر طرف سے محدود کیے جا رہے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کو مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔ انتخابات کی غیر جانبداری بری طرح مشتبہ ہو گئی ہے۔ عدلیہ بلا جھجک اقتدار کے حق میں جھک رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i
user

اشوک واجپئی

گزشتہ ہفتہ نئی دہلی کے ’ماتا سندری مہاودیالیہ‘ میں ’زبان-اُتسو‘ کے تحت ’جمہوریت کی زبان اور زبان کی جمہوریت‘ موضوع پر ایک مذاکرہ تھا، جس میں پروشوتم اگروال اور پریہ درشن کے علاوہ میں نے حصہ لیا۔ پہلی بات جو ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ ہماری جمہوریت کئی زبانوں میں بولتی، فعال اور تخلیقی جمہوریت ہے۔ یہ لسانی کثرت صدیوں پر مشتمل ہندوستانی روایت، ہندوستانی ثقافت اور وسیع عوامی زندگی کے مطابق ہے۔

ہندوستان کی ناگزیر اور ناقابل تسخیر لسانی کثرت کو اپنے اندر سموئے ہوئی جمہوریت نے اپنی تشکیل کے آغاز ہی سے اس کثرت کو تسلیم کیا اور آئین کے نافذ ہونے کے 6 سال کے اندر لسانی بنیاد پر ریاستوں کی ازسر نو تشکیل کی۔ جس لسانی کثرت پر ہندوستانی جمہوریت قائم ہے، وہ اس جمہوریت کو مضبوط اور مستند بناتی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت نہ تو کسی ایک زبان میں ممکن ہے، نہ کسی ایک زبان کی اس پر اجارہ داری ہو سکتی ہے۔


یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری آزادی کی جدوجہد ہندوستان کی تمام زبانوں اور بولیوں میں لڑی گئی تھی اور وہ جدوجہد صرف آزادی کے لیے نہیں، جمہوریت کے لیے بھی تھی۔ ہم نے آزادی حاصل کرنے کے صرف 3 برس بعد جمہوریت قائم کر لی۔ ہم اپنی ہزاروں برس کی تاریخ میں پہلی بار غیر معمولی طور پر گزشتہ 76 برسوں سے جمہوریت میں رہ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر ہماری جمہوریت کی دو زبانیں ہیں: قدر کی زبان اور عمل کی زبان۔ اس کے بنیادی اقدار وہی ہیں جو آئین کے ہیں، یعنی آزادی، مساوات، انصاف اور اخوت۔ ان اقدار کو ہندوستانی فکر اور روایت سے آیا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری آزادی کی جدوجہد کے بھی یہی اقدار تھے۔ جمہوریت کے طرز عمل کی زبان میں تمام شہریوں کو یکساں بنیادی حقوق، تمام بالغوں کو حق رائے دہی، آزاد اور منصفانہ انتخابات، پارلیمنٹ اور اسمبلیاں، اقتدار اور اپوزیشن، بحث مباحثہ و مکالمہ، آزاد عدلیہ اور الیکشن کمیشن، دیگر آئینی ادارے، اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو خصوصی سہولتیں، ریزرویشن وغیرہ، اختلاف-مزاحمت-اظہار وغیرہ کا احترام، تعلیم-علم-سائنس کا فروغ، آزاد میڈیا، آزاد ادب و فنون، قانون کی حکمرانی وغیرہ شامل رہے ہیں۔ طرز عمل کی زبان، قدر کی زبان کو مجسم، مستند، دھندلا وغیرہ کرتی رہی ہے۔ دونوں زبانوں کے درمیان کبھی کبھار تناؤ، فاصلہ اور تضاد بھی رہے ہیں۔


آج کے وقت میں قدر کی زبان کا، اس کے تصورات کا حکمراں سیاسی طاقتیں دم تو بھرتی ہیں اور ان کے تئیں اپنی وابستگی کا عوامی اعلان بھی کرتی ہیں، لیکن عمل اس کے بالکل برعکس کرتی ہیں۔ قول و فعل میں جو فرق فطری طور پر ہوتا آیا ہے، وہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ لگتا ہے قول کے بالکل برعکس فعل ہو رہا ہے۔ یہ خلیج، یہ منافقت ہماری جمہوریت کی تاریخ میں اس سے پہلے اتنی وسیع کبھی نہیں رہی۔

اس وقت جمہوریت کے طرز عمل کی زبان وسیع پیمانے پر آلودہ، مسخ شدہ، بدصورت اور اقدار سے منحرف ہو گئی ہے۔ شہریوں کے حقوق ہر طرف سے محدود کیے جا رہے ہیں۔ کثرت کو اکثریت میں بدل کر اقلیتوں کو ان کے حقوق و سہولتوں میں محدود کیا جا رہا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کو مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔ انتخابات کی غیر جانبداری بری طرح مشتبہ ہو گئی ہے۔ عدلیہ بلا جھجک اقتدار کے حق میں جھک رہی ہے۔


میڈیا کا بڑا وسائل سے مالامال حصہ اقتدار پرست دم ہلانے والی تابع داری میں ملوث ہے، اقلیتوں کو دوئم درجے کا شہری بنانے اور جمہوریت کے لیے غیر ضروری قرار دینے کی مہم چل رہی ہے، علم کے بجائے جہالت کا اعلیٰ سطحوں سے تمجید کی جا رہی ہے۔ علم کے اداروں میں آزاد جستجو اور سوال اٹھانے کو روکا جا رہا ہے۔ آئینی ادارے منصوبہ بند طریقے سے کمزور اور بے اثر ہو گئے ہیں، عوامی مکالمے میں جھوٹ، نفرت، تشدد، بدتمیزی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ہندوستان کے 2 فیصد لوگوں کے ہاتھ میں اس کی کل دولت کا 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت، بے روزگاری، بے کاری مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

ہندی ہندوستان کی راج بھاشا تو نہیں بنی، لیکن موجودہ جمہوریت اسے بدتمیزی، جھگڑوں، فریبوں، جھوٹ اور نفرت سے لیس، توہین آمیز اور تشدد کی راج بھاشا ضرور بنا رہی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ حکمراں، سیاست دان، مذہبی رہنما، اداکار، کھلاڑی اور مجرم بہت نمایاں ہیں اور جمہوریت غائب ہے۔ جہاں تک محض زبان کا سوال ہے، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ زبان انسان کی سب سے انقلابی ایجاد ہے۔ وہ اپنے آغاز، ارتقا اور پھیلاؤ میں جمہوری رہی ہے۔ اسے کسی دیوتا، مسیحا، گرو نے نہیں بلکہ انسان کی اجتماعیت نے تخلیق کیا ہے۔ ہر زبان میں اکثر کچھ بولیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ صرف ہندی میں ہی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق 46 بولیاں ہیں۔


کئی ہندوستانی زبانوں نے آئین کے نافذ ہونے کے بعد اس کی فہرست میں جگہ پانے کے لیے جدوجہد کی ہے اور وہ کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ جمہوریت کے مضبوط اور خوشحال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے شہری علم سے مالامال ہوں۔ اس لیے زبانوں میں علم کی پیداوار اہم ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں ہماری جمہوریت کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں علم، فکر، تفکر کے میدان میں انگریزی کا غلبہ ہے۔ ہندی گویا فکر یا علم کی زبان بن ہی نہیں پائی ہے۔ کئی ہندوستانی زبانوں میں بھی یہی حال ہے۔

پھر بھی، زبانوں میں بڑھتی جمہوریت کا ایک نتیجہ یقیناً یہ ہے کہ صدیوں سے تخلیقی اظہار سے محروم دلتوں، عورتوں اور قبائلیوں نے ادبی سطح پر بے خوفی اور جرأت کے ساتھ اظہار کرنا اور اپنی جائز جگہ پانا شروع کیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہندی بغیر اپنا غلبہ قائم کرنے کی کوشش کیے کئی نئی صورتیں اختیار کرے گی جنہیں، بنگلہ-ہندی، کنڑ-ہندی، ملیالم-ہندی، آسامیہ-ہندی کہا جائے گا۔ کئی ہندوستانی زبانیں ہندی میں باہم گونجیں گی۔ یہ ریاست سے نہیں سماجی کوشش سے ہوگا، اگر ہوگا۔


کچرے کی جگہ

گزشتہ ہفتہ اشوک یونیورسٹی نے امت چودھری کی پہل پر 2 دن کا بہت دلچسپ اور فکر انگیز سیمینار کیا جس کا موضوع تھا ’ڈوئنگ دی ڈرٹ آن ٹریجڈی‘۔ اس میں سامع کی حیثیت سے حصہ لیتے ہوئے یہ خیال آیا کہ ہماری زندگی میں بہت سا کچرا جمع ہو کر آس پاس بکھرا رہتا ہے۔ ایک بڑی صفائی مہم چلی، لیکن کچرا کم ہونے کی بجائے بڑھتا گیا ہے۔ اس کا ایک بڑا اور کسی حد تک فیصلہ کن حصہ ہمارے دماغوں میں بھی روز بھرا جاتا ہے۔ گودی میڈیا زیادہ تر کچرا میڈیا بھی ہے۔

ادب میں اس کا اپنا کچرا بھی کافی ہوتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس کچرے سے (جو سماجی، بازاری، مذہبی، سیاسی وغیرہ ایک ساتھ ہے) ادب کیسے نمٹے یا نمٹ رہا ہے۔ حقیقت کا کچرا ادب میں نہ جائے، یہ ممکن نہیں ہے جبکہ حقیقت (اپنی پوری پیچیدگی میں) ادب کا ہدف ہوتی ہے۔ صفائی یا پاکیزگی کے کسی اصرار سے کچرے کو ادب سے جھاڑ کر باہر پھینکنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن کچرے کو حساب میں لینے کا مطلب ادب کو ہی کچرا گھر بنا دینا نہیں ہو سکتا۔ بہت کچرا ہے، رات دن پھیلایا جا رہا، بدبودار کچرا ہے، لیکن اس سے بچ کر زندگی بھی تو ہے... سرگرم، متحرک، احساسات و تجربات سے لبریز زندگی۔ اسے نہ کچرے میں سمیٹا جا سکتا ہے، نہ کچرے سے دبایا جا سکتا ہے۔


ہماری عوامی زبان میں بھی بہت گندگی گھس گئی ہے۔ ہر زمانے میں گندگی رہی ہے۔ لیکن لگتا ہے ان دنوں وہ بہت بڑھ گئی یا کہ کوشش کر کے بڑھا دی گئی ہے۔ ادب کے پاس یہ اختیار نہیں ہو سکتا کہ وہ کچرا اور گندگی کو تو نظر میں رکھے، انہیں جگہ دے اور ان طاقتوں کی شناخت کرنے سے (کسی بزدلی میں) بچے یا انہیں غیر نشان زد چھوڑ دے، جو بیشتر کچرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ایسا کرنا غیر اخلاقی ہی ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔