’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کی تشکیل 6 سال سے نہیں ہوئی، اور اب ’دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی‘ کی تشکیل نو پر بھی کوئی پیش رفت نہیں!

’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کی تشکیل نہ ہونے سے فکر مند مسلم طبقہ کے سامنے اب ’دہلی حج کمیٹی‘ کا مسئلہ بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کمیٹی کی تشکیل بھی ہونی ہے، لیکن فی الحال اس کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

<div class="paragraphs"><p>حج، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/insharifain">@insharifain</a></p></div>
i

مرکز میں حکمراں طبقہ لاکھ ’سب کا ساتھ‘ کی باتیں کرے، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ مرکز ہی نہیں، بی جے پی حکمراں ریاستوں میں بھی اقلیتی طبقہ کی صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کئی اقلیتی ادارے اس طرح معذور کر دیے گئے ہیں کہ ان کی بہتری کا کوئی راستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ سب سے فکر انگیز معاملہ ’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کا ہے، جس کی 6 سالوں سے تشکیل ہی نہیں ہوئی ہے۔ یکے بعد دیگرے حج کے کئی سیزن گزر چکے ہیں اور اب ’حج 2027‘ کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔

’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کی تشکیل نہ ہونے سے فکر مند مسلم طبقہ کے سامنے اب ’دہلی حج کمیٹی‘ کا مسئلہ بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کمیٹی کی تشکیل بھی ہونی ہے، لیکن فی الحال اس کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ دہلی میں تو حج کمیٹی کے علاوہ کئی دوسرے اقلیتی ادارے بھی بغیر کمیٹی کے ایک طرح سے غیر فعال پڑے ہوئے ہیں۔ ان میں دہلی وقف بورڈ، دہلی اردو اکادمی اور غازی پور مرغا مچھلی منڈی قابل ذکر ہیں۔ پچھلے دنوں دہلی اقلیتی کمیشن کی تشکیل ضرور ہوئی، لیکن اس کا چیئرمین جین طبقہ کے ایک فرد کو بنایا گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب سب سے بڑے اقلیتی طبقہ، یعنی مسلمانوں میں سے کسی کو دہلی اقلیتی کمیشن کا چیئرمین نہیں بنایا گیا۔ حالانکہ کمیشن میں بطور رکن مسلم نام ضرور شامل ہیں۔


بہرحال، ’حج کمیٹی آف انڈیا‘ اور ’دہلی حج کمیٹی‘ کی تشکیل نو بہت ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر عازمین حج کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کی بات کریں تو 2020 کے بعد سے ہی اس کی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 سالوں میں سپریم کورٹ نے 3 مرتبہ مرکزی حکومت کو ہدایت جاری کر کمیٹی تشکیل دینے کو کہا، لیکن نتیجہ صفر رہا۔

ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں اُس وقت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے فریقین کی بحث سننے کے بعد اقلیتی امور کی وزارت کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے 3 ماہ کے اندر حج کمیٹی آف انڈیا کی مکمل تشکیل اور افسران کی تقرری کا حکم دیا تھا۔ مسلم طبقہ کو امید تھی کہ حکم کی تعمیل ہوگی، لیکن مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ اس معاملہ میں نہ ہی قانون کی نافرمانی کرنے والے افسران کی نشاندہی کی گئی، اور نہ ہی کسی ایماندارانہ کارروائی کی پیش رفت ہوئی۔


بتایا جاتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے مارچ 2024 میں مرکزی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ جب یہ حلف نامہ داخل کیا گیا تو وزارت نے پوری طرح ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا اور ایک طرح سے عدالت کو گمراہ کر دیا۔ حلف نامہ میں لوک سبھا کے اسپیکر کو خط لکھنے کا ذکر تھا، لیکن کوئی نام نہیں بھیجا گیا۔ اس وقت راجیہ سبھا کے چیئرمین کو بھی اسی طرح خط بھیجا گیا اور راجیہ سبھا چیئرمین نے بھی کوئی نام نہیں بھیجا۔ حلف نامہ داخل کرنے کے بعد وزارت اقلیتی امور نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا جس میں کمیٹی کا الیکشن کرانے کی اجازت مانگی، لیکن اس خط کا جواب بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ گویا کہ معاملہ ٹلتا رہا اور ایک طرح سے مرکزی حکومت نے اس ادارہ پر مستقل غیر قانونی قبضہ ہی کر لیا ہے۔ اب بھی وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ حج ایکٹ 2002 کے تحت کمیٹی تشکیل دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی ہے۔

’دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی‘ کی بات کریں تو آخری بار اس کی تشکیل 6 جنوری 2023 کو ہوئی تھی۔ انتخاب کے بعد کوثر جہاں کمیٹی کی چیئرپرسن بنائی گئی تھیں اور اراکین میں سابق رکن پارلیمنٹ گوتم گمبھیر، سابق اراکین اسمبلی عبدالرحمن اور حاجی یونس، کونسلر نازیہ دانش اور محمد سعد شامل تھے۔ آگے چل کر جب دہلی اسمبلی انتخاب ہوا تو عبدالرحمن کو شکست ملی، جبکہ حاجی یونس کو پارٹی نے ٹکٹ ہی نہیں دیا۔ اس طرح دونوں کی رکنیت ختم ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی انتخاب میں فتحیاب ہو کر آئے مسلم اراکین اسمبلی عمران حسین، امانت اللہ خان، آل محمد اقبال اور چودھری زبیر احمد میں سے کسی کو کمیٹی کا رکن بھی نہیں بنایا گیا۔ بعد ازاں گوتم گمبھیر کو بھی لوک سبھا انتخاب میں ٹکٹ نہیں دیا گیا، یعنی ان کی بھی رکنیت آگے چل کر ختم ہو گئی۔


رواں سال 5 جنوری کو چیئرپرسن کوثر جہاں کی سربراہی والی ’دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی‘ کی 3 سالہ مدت کار بھی ختم ہو گئی۔ حالانکہ دہلی حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن مجریہ 9 مارچ 2026 کے ذریعہ سابقہ حج کمیٹی کی مدت کار میں 6 ماہ توسیع کر دی، اور یہ توسیع شدہ مدت بھی 8 ستمبر کو ختم ہو گئی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کوثر جہاں نے حج دفتر میں عملہ کے اہلکاروں کے ساتھ وداعی میٹنگ بھی کر لی۔ یعنی اب دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی بھی اپنی تشکیل کا انتظار کر رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ انتظار کب ختم ہوتا ہے۔ انتظار تو ’حج کمیٹی آف انڈیا‘ کی تشکیل کا بھی ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔