بھجن کیرتن کا شور اور غائب ہوتے ووٹرز... رشمی سہگل
جس بدری ناتھ میں شنکھ کی آواز بھی ممنوع ہے، وہاں ’بھجن جیمنگ‘ اور ڈی جے کے شور سے کوئی کیسے خوش ہوگا؟

کیا ہندوستانی فوج کی جانب سے بدری ناتھ میں ’بھجن جیمنگ‘ سیشن منعقد کرنا مناسب تھا؟ مقامی پجاری ہوں، شہری ہوں یا مرلی منوہر جوشی جیسے بی جے پی کے سینئر لیڈر، سبھی اس 2 روزہ ’ثقافتی جشن‘ (20-19 ستمبر) سے ناخوش ہیں۔ ہندو مذہب کے مقدس ترین تیرتھ استھانوں میں سے ایک کے اتنے قریب ڈی جے کی تیز موسیقی، تیز اسٹیج لائٹنگ اور رقاصوں کا رقص کرنا کس حد تک درست تھا؟ بیشتر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ بدری ناتھ کے اس پرسکون و روحانی ماحول کو، جہاں شنکھ کی آواز بھی ممنوع ہے، اس طرح خراب نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
ابتدا میں تو ضلع انتظامیہ نے مقامی افسران کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ سامنے آنے کے بعد کہ اس میں چمولی کے ضلع مجسٹریٹ گورو کمار اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، دونوں ہی شامل تھے، ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے۔ گڑھوال اسکاؤٹس کے کمانڈنگ افسر کرنل شانتی نو کمار کو تحریری طور پر سرزنش کرنی پڑی کہ ’’مقدس تیرتھ پر اتنی بڑی بھیڑ اور اتنی تیز آواز کا استعمال تیرتھ استھان کے وقار کے خلاف ہے، اور اس سے شری بدری ناتھ دھام میں روزانہ ہونے والی پوجا ارچنا پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایسے انعقاد سے مذہبی علما میں ناراضگی ہے اور اس نے مقامی انتظامیہ کی شبیہ پر بھی اثر ڈالا ہے... یقینی بنائیں کہ مستقبل میں ایسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو۔‘‘
دفاع میں فوج نے کہا کہ یہ فیسٹیول ’آپریشن سدبھاؤنا‘ کے تحت لوگوں سے جڑنے کی اس کی پہل کا حصہ تھا اور ضلع انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ سوال ہے کہ حال ہی میں دہلی میں جب خود وزیر اعظم بھجن گاتے نظر آئے تھے تو اس بات پر حیرانی کیوں کہ اس پروگرام کی صدارت وزیر اعلیٰ نے کی؟
آئی ایف ایس افسر، وہسل بلوؤر اور میگسیسے ایوارڈ سے سرفراز سنجیو چترویدی سے جڑے معاملات میں ایک کے بعد ایک جج خود کو الگ کیوں کرتے رہے ہیں؟ دہرادون میں جاری بحثوں پر یقین کریں تو اس کی ایک وجہ پی ایم او، وزیر اعظم کی صدارت والی کابینہ اپائنٹمنٹس کمیٹی، سابق وزیر صحت جے پی نڈا، مرکزی انتظامی ٹریبونل (کیٹ) کے چیئرمین، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر ہڈا، حکومت کے 3 سابق سکریٹری اور سی بی آئی و آئی بی کے افسران ہیں، جن کے خلاف چترویدی نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔
گزشتہ 13 برسوں میں سپریم کورٹ کے 2 اور اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے 4 ججوں، کیٹ کے 9 ججوں (جن میں کیٹ کے ایک سابق چیئرمین بھی شامل ہیں) اور 2 ضلع ججوں نے خود کو ان معاملات سے الگ کیا ہے۔ بغیر کوئی وجہ بتائے خود کو الگ کرنے والے پہلے جج 2013 میں رنجن گوگوئی (سپریم کورٹ) تھے۔ کیٹ دہلی بنچ کے جوڈیشیل ممبر جسٹس راج ویر سنگھ ورما حال ہی میں ایسا کرنے والے 17ویں جج بنے ہیں۔
چترویدی نے پہلا مقدمہ 2013 میں درج کرایا تھا۔ ہریانہ کیڈر کے افسر کی حیثیت سے انہوں نے ان بے ضابطگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جن میں حکومت کے سینئر افسران شامل تھے۔ تب سے اب تک وہ بدعنوانی سے متعلق 200 تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک معاملہ نئی دہلی کے ’آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘ (ایمس) سے متعلق تھا، جہاں چترویدی ’چیف ویجیلنس آفیسر‘ تھے۔ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت حاصل معلومات سے پتہ چلا کہ 23 اگست 2014 کو وزیر اعظم مودی نے اس وقت کے وزیر صحت ہرش وردھن کو بلا کر چترویدی کو ہٹانے کے بارے میں بات کی تھی۔ چترویدی نے مودی کو ایک تفصیلی نوٹ بھیجا، جس میں ان کی جانب سے بے نقاب کیے گئے بدعنوانی کے تمام معاملات کی تفصیل تھی۔ اس پر کوئی کارروائی تو نہیں ہوئی، الٹا چترویدی کو تبادلے کا نوٹس تھما دیا گیا۔
اتراکھنڈ کیڈر میں آنے کے چند ہی دن بعد منسیاری ایکو ٹورزم گھوٹالے کا پردہ فاش بھی انہوں نے ہی کیا، جس میں ماحولیاتی اعتبار سے حساس خالیہ ریزرو فاریسٹ کے اندر 10 وی آئی پی ہٹ اور ایک ہاسٹل غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔ مسوری اور رائے پور فاریسٹ رینج میں، جن پر رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز کی نظر رہتی ہے، جنگل کی حد بتانے والے 12,321 ستونوں میں سے 7,375 غائب تھے، جبکہ ڈویژنل فاریسٹ افسران کی جائیداد تیزی سے بڑھتی گئی۔ کیا اس کہانی کا یہ ’ڈیوڈ‘ کبھی ’گولیاتھ‘ کو شکست دے پائے گا؟ ایسا تب تک نہیں ہوگا جب تک جج خود کو مقدمے سے الگ کرنا بند نہیں کریں گے۔
کوئی سبق نہیں سیکھا گیا
کیا ہم 2013 میں کیدارناتھ میں اچانک آئے سیلاب کو بھول گئے، جس نے کئی پن بجلی منصوبوں کو تباہ کر دیا تھا اور سینکڑوں کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا؟ اور 26 اگست 2026 کی بات کریں، جب نیپال میں اچانک آئے سیلاب نے تریشول ندی پر بنے 12 پن بجلی منصوبوں کو تباہ کر دیا؟
ہمالیہ میں بے تحاشا ’ترقی‘ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی مکمل معلومات ہونے اور ہر طرح کے سائنسی حلقوں کی جانب سے انتباہ کے باوجود، مرکزی حکومت اتراکھنڈ-ہماچل سرحد پر کشاؤ میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکز کا دعویٰ ہے کہ یمنا کی معاون ندی ’ٹونس‘ پر بننے والا یہ ڈیم، جو ان دونوں ریاستوں کی سرحد پر بہتی ہے، 34-2033 تک دہلی کی پانی کی سپلائی میں اضافی 60 ایم جی ڈی کا اضافہ کرے گا۔ ڈیم کی تجویز پہلی بار 86 سال پہلے پیش کی گئی تھی، لیکن تب سے اس علاقے کا ماحول بہت بدل چکا ہے۔ زلزلے کے لحاظ سے حساس علاقے میں 232 میٹر اونچا گریویٹی ڈیم بنانا مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس سے 20 گاؤں کے 5,000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہوں گے اور ہزاروں ایکڑ زرخیز زرعی زمین برباد ہو جائے گی۔ دیہاتی ڈیم کی اونچائی کم کرنے اور اس کی جگہ کو زرخیز ’کوانوا‘ علاقے سے کہیں اور منتقل کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
کشاؤ ڈیم متاثرہ سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ منّا رانا نے کہا کہ ’’ہم نے دھامی سے ملاقات کرکے بتایا کہ ڈیم بننے والی جگہ کی زمین مضبوط چٹان والی نہیں ہے۔ کئی جگہوں پر زمین پہلے ہی دھنس چکی ہے۔ افسوس ہے کہ حکومت نے ہماری وارننگ پر توجہ نہیں دی۔‘‘
بجلی کی سپلائی پر ایل نینو کا اثر
اتراکھنڈ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی سی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر پی سی۔ دھیانی کے مطابق، ایل نینو کے باعث پورے ریاست میں آبی سطح نیچے چلی گئی ہے۔ دریاؤں میں بہاؤ کم ہونے سے بجلی کی پیداوار (پیک اوقات کے دوران) گزشتہ سال کے 1094 میگاواٹ سے گھٹ کر اس سال 912 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ ریاست کو 53 ملین یونٹ بجلی درکار ہے، لیکن فی الحال صرف 48 ملین یونٹ ہی سپلائی ہو پا رہی ہے۔ مرکزی یونٹ سے ہونے والی سپلائی پر بھی اثر پڑا ہے کیونکہ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے ٹہری گڑھوال ہائیڈرو پروجیکٹ بند ہے۔
بھاری صنعتیں 15 گھنٹے سے زیادہ بجلی کی کٹوتی کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہائیڈرو پاور سے کم بجلی پیدا ہونے اور شام کے وقت سولر پاور سے بجلی کی پیداوار گھٹنے کی بھرپائی کے لیے جب جنریٹر سے زیادہ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، تب تھرمل پاور پلانٹ بھی اپنی پوری صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، کیونکہ کوئلے کا اسٹاک تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ نتیجتاً ریاست کے بڑے حصے اندھیرے میں ہیں اور وہاں دن میں 3 گھنٹے سے بھی کم بجلی مل رہی ہے۔
تو اپنے آپ ہٹ گئے نام؟
ریاست میں ہوئے ایس آئی آر میں ’نااہل‘ قرار دیے جا چکے 95,000 ووٹرز میں سے کئی لوگ اس جدوجہد میں الجھے دکھائی دیے کہ حتمی ووٹر لسٹ (3 اکتوبر کو جاری ہونے والی) میں نام شامل کرا سکیں۔ ایس آئی آر کے عمل کے دوران ’فارم 7‘ کی تقریباً 1.73 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 95,000 سے زیادہ، یعنی نصف سے زیادہ کو ’نااہل‘ قرار دے دیا گیا۔ ریاست کے چیف الیکٹورل افسر بی وی آر سی پرشوتم نے بتایا کہ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کی جانب سے ووٹرز کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد مسودہ فہرست خود بخود (آٹو جنریٹ) تیار ہو گئی تھی۔ اتراکھنڈ کانگریس کی انچارج کماری شیلجا نے سوال اٹھایا کہ جب 42,030 ’فارم 7‘ درخواستیں اے ای آر او سے اور 22,443 ای آر او سے متعلق تھیں تو یہ خود بخود کیسے جنریٹ ہو سکتی ہیں۔
سی ای او دفتر نے واضح کیا کہ ’نااہل‘ قرار دیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ انہیں صرف ضروری دستاویزات کے ساتھ وقت پر ’فارم 6‘ جمع کرنا تھا۔
