موجودہ بحران ’ایندھن کی قلت‘ سے بہت بڑا ہے... ہرجندر

جب مہنگائی مرکزی معاشی فکر بنتی جا رہی ہے تو حکومت نے شماریاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیمانہ بدلنے سے بڑھتی قیمتوں اور ضروری اشیا کی گھٹتی دستیابی سے پریشان عوام کی تکلیف کم نہیں ہونے والی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر (اے آئی)</p></div>
i
user

ہرجندر

google_preferred_badge

ایل پی جی بحران کی کہانی اب پرانی ہو چکی ہے۔ بڑے شہروں میں رسوئی گیس کے سلنڈر اب بھی مل رہے ہیں، اگرچہ اس کے لیے ڈسٹریبیوشن سنٹرز کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف چھوٹے شہروں اور قصبوں میں ایل پی جی ڈپو کے باہر لمبی قطاریں اب ایک عام منظر بن چکی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات اس کے دور رس نتائج ہیں جو اب سامنے آ رہے ہیں۔ پورے ملک میں لوگ اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔ کاروباری حلقے بھی اس کے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں اور پالیسی ساز اس کوشش میں مصروف ہیں کہ سپلائی کا بحران معاشی آفت میں تبدیل نہ ہو جائے۔

بحران کے ابتدائی آثار مارچ میں ظاہر ہونے لگے تھے۔ ایل پی جی اور ایندھن کی قلت کا اثر خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں پر پڑنے لگا۔ صنعتی اداروں کے مطابق ممبئی کے بعض علاقوں میں تقریباً 20 فیصد ہوٹل اور ریستوران یا تو بند ہو گئے یا انہوں نے اپنے کام میں بڑی حد تک کمی کر دی۔ گجرات کے صنعتی مرکز موربی میں تقریباً 170 کارخانوں کے بند ہونے کی خبریں آئیں، جس سے تقریباً ایک لاکھ مزدور متاثر ہوئے۔


کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے بہت سے چھوٹے تاجروں کے لیے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایل پی جی چھوڑ کر بجلی سے چلنے والے کھانا پکانے کے آلات اپنانا شروع کر دیے۔ انڈکشن اور اِنفراریڈ کک ٹاپ کی فروخت میں زبردست اضافہ درج کیا گیا۔ پورے ملک میں جہاں پہلے ایسے تقریباً 2,000 کُک ٹاپ فروخت ہوتے تھے، ان کی تعداد تیزی سے بڑھ کر دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ ’حل‘ اپنے ساتھ ایک نئی مشکل بھی لے آیا۔ بجلی کی طلب میں تیز اضافے اور بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی کمی کے باعث اب کئی شہروں اور نیم شہری علاقوں میں معمول کی لوڈ شیڈنگ کے علاوہ طویل بجلی کٹوتیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ گیس سے بجلی کی طرف یہ منتقلی محض دباؤ کو ایک بحران زدہ نظام سے دوسرے بحران زدہ نظام کی طرف منتقل کر گئی۔

اس درمیان حکومت ہند نے ضروری اشیا ایکٹ، 1955 کی دفعات کا سہارا لیا، جس کے تحت حکام کو ترجیحی شعبوں کے لیے ایندھن گیس کی سپلائی موڑنے کا اختیار دیا گیا۔ یہ مداخلت کتنی مؤثر ثابت ہوگی، ابھی واضح نہیں ہے۔ قلت اب باورچی خانوں اور کارخانوں سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ مئی کے وسط میں پونے سے یہ خبریں آئیں کہ کئی پٹرول پمپوں نے ایندھن کی راشن بندی شروع کر دی ہے۔ ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیل کمپنیوں کی جانب سے نافذ کی گئی سخت راشن بندی نے آندھرا پردیش کو کس طرح متاثر کیا۔ وہاں طویل فاصلے تک چلنے والے ٹرکوں اور بین الریاستی بسوں کو ایک وقت میں صرف 200 لیٹر ایندھن خریدنے کی اجازت دی گئی۔ مجبوراً انہوں نے پڑوسی ریاستوں میں ایندھن بھروانا شروع کر دیا، جس سے تاخیر ہوئی اور ساتھ ہی آندھرا پردیش کو ایندھن ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نقصان ہوا۔


اتر پردیش کے مہاراج گنج سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپلوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں پٹرول پمپ پر لگی طویل قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں ایک پولیس گاڑی کے لاؤڈ اسپیکر سے بار بار اعلان کیا جا رہا تھا کہ ہر گاہک کو صرف 5 لیٹر ڈیزل دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی یقین دہانیوں کے باوجود ایسی خبریں ایندھن کی دستیابی کی حقیقت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔

ہندوستان اپنی خام تیل کی تقریباً 88 فیصد ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور قدرتی گیس کا بھی بڑا حصہ بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل کی لاپروا جنگ نے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز سے ہونے والی بحری نقل و حمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہندوستان کے خام تیل کا بڑا حصہ اور قدرتی گیس کی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ صورتحال کو مزید سنگین بناتی ہے ہندوستان کی محدود اسٹریٹجک ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت۔ ملک کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) میں صرف 5.33 ملین ٹن خام تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ ذخیرہ تقریباً 3.37 ملین ٹن بتایا گیا ہے، جو مجموعی صلاحیت کا تقریباً 64 فیصد ہے۔ حتیٰ کہ اگر ذخیرہ 100 فیصد بھرا ہوا ہو تب بھی یہ ملک کی ضروریات کو تقریباً دو ہفتوں تک ہی پورا کر سکتا ہے۔


اس کے اثرات صرف نقل و حمل اور رسوئی گیس تک محدود نہیں ہیں۔ مغربی اتر پردیش کے ایک کسان لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر مانسون کمزور رہتا ہے تو آبپاشی کے لیے ڈیزل کی طلب میں بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔ خریف سیزن کے دوران ڈیزل کی کسی بھی قسم کی راشن بندی کا براہ راست اثر زرعی پیداوار پر پڑے گا۔ پہلے ہی بڑھتے ہوئے خرچ سے نبرد آزما لاکھوں کسانوں کے لیے آنے والے مہینے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے تین ماہ بعد اب خام تیل کی کمی تقریباً ہر چیز کی کمی میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ پٹرولیم صرف ایندھن نہیں، بلکہ جدید پیداوار کی بنیاد ہے۔ گھریلو استعمال کی اشیا، پلاسٹک کے تھیلے، پلاسٹک کے ڈھکن، کریٹ، مصنوعی کپڑے، پیکیجنگ کا سامان، جوتا اور فرنیچر کی صنعت میں استعمال ہونے والے چپکانے والے مادے، مشینوں کے لیے صنعتی لوبریکنٹس، رنگ اور صفائی کے عمل میں استعمال ہونے والے سالوینٹس... یہ سب پٹرولیم مصنوعات پر منحصر ہیں۔ بوتل بند پانی تیار کرنے والی کمپنیوں نے قیمتیں بڑھانے کی وارننگ دی ہے۔ کنڈوم بنانے والی کمپنیاں بھی ایسے ہی اشارے دے رہی ہیں۔ جیسے جیسے قلت بڑھے گی، تقریباً ہر صنعتی شعبے کو بڑھتے ہوئے خرچ کا سامنا کرنا پڑے گا۔


شاید سب سے بڑا خطرہ زرعی شعبے کے سامنے ہے۔ خریف کی بوائی کا موسم قریب آنے کے ساتھ کھاد کی دستیابی ایک بڑی تشویش بن گئی ہے۔ ہندوستان کھاد کی تیاری کے لیے درکار فاسفیٹ، پوٹاش اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے۔ ان سپلائیوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ یا تو آبنائے ہرمز سے آتا ہے یا اس سے منسلک راستوں سے گزرتا ہے۔ زراعت کا کام کیلنڈر کے مطابق چلتا ہے اور اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ فصلوں کو ایک خاص مرحلے پر کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاخیر سے پہنچنے والی سپلائی کی تلافی بعد میں نہیں کی جا سکتی۔ اگر کھاد دیر سے پہنچتی ہے تو پیداوار میں کمی لازمی ہوگی۔ اگر اس کی قیمت کسانوں کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہے تو کسان اس کا کم استعمال کریں گے اور نتیجہ وہی ہوگا... پیداوار میں گراوٹ۔

سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے ڈاکٹر سنیلم کہتے ہیں کہ پانی کے بعد کھاد کسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر قلت طویل عرصے تک برقرار رہی تو وسیع پیمانے پر بے چینی، حتیٰ کہ کھاد کے فسادات بھی بھڑک سکتے ہیں۔ گزشتہ ربیع سیزن میں، جب خلیجی خطے میں کوئی جنگ نہیں تھی، تب بھی کئی علاقوں کے کسانوں کو کھاد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں مبینہ طور پر غیر رسمی ذرائع سے زیادہ قیمتوں پر خریداری کرنی پڑی تھی۔ یہ بحران اب کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے متبادل کے طور پر فروغ دیے جانے والے نینو یوریا اور نینو ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ) کو کسانوں کے درمیان بہت کم قبولیت ملی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعات روایتی کھادوں کا مناسب متبادل نہیں بن سکتیں۔


تشویش صرف کھاد تک محدود نہیں ہے۔ جراثیم کش ادویات، پھپھوندی کش ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات میں استعمال ہونے والے اہم کیمیائی مادوں کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ہر رکاوٹ خرچ بڑھاتی ہے اور زرعی پیداوار کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ فی الحال ہندوستان کے پاس غذائی اجناس کا کافی ذخیرہ موجود ہو سکتا ہے، لیکن مستقبل میں پیداوار میں کمی یقیناً غذائی تحفظ کو متاثر کرے گی اور دیہی بحران کو مزید گہرا کرے گی۔

وسیع تر معاشی منظرنامہ بھی اتنا ہی تشویش ناک ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک بلاگ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا کہ دنیا ایسے وقت میں اس تنازعہ کے کثیر جہتی اثرات کا سامنا کر رہی ہے جب کئی معیشتوں میں اضافی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ نتیجہ واضح اور تشویش ناک تھا... زیادہ قیمتیں اور سست معاشی نمو۔ ہندوستان پہلے ہی سپلائی کے شعبے میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والے افراط زر کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا کا بحران ان چیلنجوں میں ایک نئی اور طاقتور سطح کا اضافہ کر سکتا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی سی آر آئی ایس آئی ایل پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اس کے اثرات صرف توانائی کی منڈیوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ نقل و حمل کے خرچ میں اضافہ غذائی افراط زر اور بنیادی مہنگائی دونوں کو بڑھائے گا، جس سے تقریباً ہر خاندان متاثر ہوگا۔


عین اسی وقت جب مہنگائی مرکزی معاشی تشویش بنتی جا رہی ہے، حکومت نے اس کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے شماریاتی ڈھانچے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ پیمانہ بدل دینے سے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ضروری اشیا کی گھٹتی ہوئی دستیابی سے نبرد آزما عام شہریوں کا بوجھ کم نہیں ہونے والا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔