مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم کا بحران!

طلبا کی نئی نسل کو آزادانہ تحقیق و تجزیہ کی جگہ مصنوعی ذہانت پر منحصر ہونے سے بچانا اساتذہ کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

گزشتہ 2 برسوں کے دوران ہم نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی ہوئی محسوس کی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے کالج کے کلاس روم میں ہمارے کام کرنے کے طریقۂ کار کو پوری طرح بدل دیا ہے۔ طلبا کی جس نئی نسل کو ہم پڑھا رہے ہیں، جو ابھی ابھی اسکول کی دہلیز پار کرکے آئی ہے، اس نے اپنے ابتدائی برسوں ہی میں اے آئی کو دیکھا، جانا اور (ان میں سے بیشتر نے) اسے اس طرح اپنا لیا جیسے مچھلی کو پانی مل گیا ہو۔ اس پر ان کا انحصار غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔ یونیورسٹی کی زندگی کے ہر پہلو (پڑھانے، سیکھنے اور سوچنے) کو اس عہد ساز تبدیلی نے متاثر کیا ہے۔

اے آئی اور اس کے خطرات کے بارے میں عوامی بحث عام طور پر ماحولیات اور تجارت پر اس کے اثرات کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ اس بات پر کہ یہ ہمارے دماغ کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر اکثر تشویش ظاہر کی جاتی ہے، مثلاً تیزی سے بڑھتے ہوئے اے آئی ڈیٹا مراکز میں کولنٹ کے طور پر آبی وسائل کا بے دریغ استعمال۔ ہم کاپی رائٹ والے مواد کی بڑے پیمانے پر چوری کے بارے میں بھی خدشات سنتے ہیں، جس کی نشاندہی ان حالیہ رپورٹوں سے ہوتی ہے جن میں نایاب کتابیں خریدنے، انہیں اسکین کرنے اور اے آئی کی تربیت کے لیے ڈیٹا کے طور پر استعمال کرنے کے بعد تباہ کر دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔


عوام کی یہ تشویشات اے آئی کی سیکھنے کی صلاحیت اور بالآخر جسمانی محنت کی جگہ لے لینے سے متعلق خوف ناک منظرناموں تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی مثال ترقی پذیر ممالک کے ان فیکٹری مزدوروں کی بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویروں میں ملتی ہے، جنہیں اپنے ماتھے پر کیمرے باندھنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے، تاکہ اے آئی روبوٹس کو ان کے ہاتھوں کی حرکات کی نقل کرنے کی تربیت دی جا سکے۔ یہ اپنی ہی قبر میں کام کرنے جیسا لگتا ہے، اپنی طے شدہ رخصتی کے اندیشے سے دوچار ایک مزدور نے یہ تبصرہ کیا تھا۔ حال ہی میں سپر انٹیلی جنس کی انتہائی تیز رفتار ترقی کو لے کر قیامت جیسا خوف سامنے آیا ہے، جو عالمی سطح پر بہت جلد بے قابو ہو سکتی ہے، جیسا کہ اے آئی کے 3 بڑے سرکردہ افراد (آلٹ مین، اموڈی اور مسک) نے تسلیم کیا ہے۔

تاہم یونیورسٹیوں میں، جہاں انسانی دماغ کی نشوونما ہی بنیادی مقصد ہے، ہمارے سامنے ایک بالکل منفرد مسئلہ کھڑا ہے۔ یہاں ایک طرح کی ’ذہنی نوآبادیات‘ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، جو ہمارے بنیادی کام یعنی پڑھنے، لکھنے اور سوچنے کی بنیاد پر ہی براہ راست حملہ کرتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اے آئی نے خاموشی سے ہمارے اداروں میں دراندازی کی ہے اور ان تینوں سرگرمیوں کے طریقۂ کار کو بدل دیا ہے۔ کلاس روم کے اندر اور باہر ہم دیکھتے ہیں کہ طلبا اس اہم کام کی ذمہ داری اے آئی ٹولز کو سونپ رہے ہیں۔ یہ محض کوئی آسان راستہ اختیار کرنا نہیں ہے۔ ماہرین نے اسے ’ذہنی بوجھ ہلکا کرنے‘ کی صورت قرار دیا ہے، جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ طویل مدت میں یہ ہمارے دماغ کی حقیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔


ادب کے استاد ہونے کے ناطے ہم جانتے ہیں کہ خود پڑھنا اور سوچنا ایک انتہائی خوب صورت اور ساتھ ہی دماغ کھپانے والا عمل ہو سکتا ہے۔ اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ کسی بھی طالب علم کے لیے ادبی تخلیق (اس کی سطروں اور الفاظ کی انفرادیت) سے نبرد آزما ہونا اس کی سوچ کے پختہ ہونے کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اور مسلسل مشق کے ساتھ، اسے اپنے اردگرد کی دنیا اور اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی بصیرت حاصل ہوتی ہے، جس سے وہ متجسس اور تنقیدی شعور رکھنے والا شہری بنتا ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر اسے اس کسوٹی سے گزرنا ہی چاہیے، جہاں وہ ہر جملے پر اٹکتا ہے، اس کے معنی پر بحث کرتا ہے اور اپنے خیالات کو کاغذ پر اتارنے کے لیے ذاتی جدوجہد کرتا ہے۔ ہم اس ابتدائی کشمکش کو ایک ضروری اور خوش گوار مرحلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اے آئی کے دور میں ہم ایسا بہت کم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ بیشتر طلبا کلاؤڈ یا جیمنی سے یہ پوچھنے کا آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں: ’مجھے اس مضمون کا خلاصہ بتاؤ‘، ’میرے لیے اس مقالے کا خلاصہ تیار کرو‘ یا پھر وہ اسائنمنٹ کا سوال براہ راست اے آئی انجن میں ڈال دیتے ہیں۔ ادب کے اساتذہ کے طور پر، سچ کہیں تو یہ صورت حال تباہ کن ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اے آئی کبھی ’سوچتی‘ نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہ صرف نمونوں اور پیٹرن کو پراسیس کرتی ہے۔ وہ اپنے پاس موجود اربوں الفاظ اور جملوں کے خام مواد، یعنی دوسرے لوگوں کے سوچنے کے طریقوں کے ایک وسیع امتزاج کو لیتی ہے اور سب سے زیادہ ممکنہ نتیجے کا اندازہ لگا کر اسے پیش کر دیتی ہے۔ یہ اکثر پہلے سے طے شدہ راستے پر چلنے والا اور کم سے کم مزاحمت کے راستے سے حاصل کیا گیا نتیجہ ہوتا ہے، جو خیالات اور اظہار کی سطح پر کسی بھی حقیقی اور انفرادی دریافت کے امکان کو پوری طرح ختم کر دیتا ہے۔ یہ سوچنے کے کسی ذاتی انداز کے لیے بہت کم گنجائش چھوڑتا ہے، اس انوکھی سنک یا منفرد سوچ کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے جو کسی بھی یونیورسٹی کے کلاس روم کی اصل خوشی ہوتی ہے۔ سوچ کی ایسی صورتیں صبر، مشق، کتابوں میں غرق ہونے اور ساتھیوں اور اساتذہ کے ساتھ آمنے سامنے ہونے والی تمام خوش گوار اور الجھن بھری بحثوں سے جنم لیتی ہیں۔ ان میں سے ہر تجربہ ایک تہہ کی طرح ہمارے اندر آہستہ آہستہ جمع ہوتا ہے اور دنیا کے بارے میں ہمارے سوچنے کے زاویے کو نکھارتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی سے فوراً جواب حاصل کر لینے سے یہ ہرگز ممکن نہیں۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ جب طلبا اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں تو وہ اپنی ذاتی ’آواز‘ پروان چڑھنے کے امکان کو ختم کر دیتے ہیں۔ وہ منفرد آواز جو ان کی زندگی کے تمام تجربات، مطالعے، اتفاق و اختلاف اور پروان چڑھتے ہوئے نقطۂ نظر کے انوکھے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ انفرادی آواز ہمارے تدریسی طریقۂ کار کا اس قدر مرکزی حصہ ہے کہ ہمارا ایک بنیادی مقصد ہر طالب علم کو دوسرے سے حتی الامکان مختلف لکھنے کی ترغیب دینا ہوتا ہے، تاکہ ہر تحریر پر اس کے اپنے دستخط ہوں۔ جب بھی ہم کسی طالب علم کو صرف اس کی تحریر سے پہچاننے کے قابل ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہماری محنت کامیاب ہوئی۔ اے آئی نے اس امکان کا گلا گھونٹ دیا ہے۔

اے آئی سے متاثر تحریروں میں انفرادیت کی جگہ یکسانیت اور تنقیدی غوروفکر کی جگہ اندھی تقلید دکھائی دیتی ہے۔ ایسے کام میں ہمیں بظاہر درست اور منطقی طور پر مناسب تحریروں کا ایک ایسا انبار نظر آتا ہے جو انسانی شعور اور ارادے کی تقریباً ہر علامت سے مکمل طور پر خالی ہوتا ہے۔ اس طرح کی تحریروں میں اکثر ایک جیسے ہی حوالے ہوتے ہیں، واقعات اور کرداروں کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے انہی الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے، وہ ایک جیسے بے اثر نتائج پر پہنچتی ہیں اور اوپر سے آرائشی صفات کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے الگ الگ اور انفرادی دماغوں کے بجائے خیالات کی کوئی خفیہ اسمبلی لائن کام کر رہی ہو۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یہ تنقیدی سوچ اور تخیل کو پروان چڑھانے کے ہمارے رہنما مقصد کو ہی پٹری سے اتار دیتا ہے۔ اس طرح کی ذہنی نوآبادیات ایک بڑی اور ہنگامہ خیز تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ تعلیمی دنیا کے اندر اور باہر، دونوں جگہ ایک انتہائی تشویش ناک دور کی نشاندہی کرتی ہے۔


یونیورسٹیوں میں ہمارا کام اب انفرادی سوچ کی تیزی سے معدوم ہوتی ہوئی نوع کو بچانے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یونیورسٹی سے وابستہ ہر چیز—ہمارے پڑھانے کا طریقہ، ہمارے جانچنے کا طریقہ اور ہمارے طلبا کا علم سے جڑنے کا نقطۂ نظر—پر توجہ دینے اور اسے اے آئی کی طویل رسائی سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں طلبا کو یہ دکھانے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ اپنے بل بوتے پر سوچنا کتنا خوش گوار اور اطمینان بخش ہو سکتا ہے۔ یہ دکھانا ہوگا کہ مختصر راستے کے بجائے طویل راستہ کس طرح ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور ایک حساس، ہمیشہ متجسس اور اپنی ہر صلاحیت سے باخبر انسان کے طور پر ان کی نشوونما میں گہرائی سے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اے آئی کے فوری دستیاب جوابات کے سامنے یہ اکثر جالوت کے مقابلے میں داؤد کی جنگ جیسا محسوس ہوگا۔ ہمارے سامنے دراصل یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

(مضمون نگار لوینا ژانگیانی اور اکھل کاتیال بِٹس لا اسکول رائٹنگ سینٹر میں پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔