جب دریا کا پانی کم پڑنے لگے...کے اے شاجی
کاویری تنازع اب صرف پانی کی تقسیم کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے دریا کا مسئلہ بن چکا ہے جس کی ماحولیات، موسمی نظام اور قدرتی برداشت کی صلاحیت تیزی سے بدل رہی ہے

طویل وقفے کے بعد کاویری ایک بار پھر جنوبی ہند کی سیاست کے مرکز میں ہے اور وہی تمام پہلو دوبارہ سامنے آ گئے ہیں جو ہر بار اس تنازعہ کا حصہ بنتے ہیں۔ کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات، کسانوں کے احتجاج، کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سامنے قانونی دلائل اور سیاسی بیانات جن میں دریا کو علاقائی وقار اور ناانصافی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم، جیسے ہی کشیدگی میں اضافہ ہوا، قدرت نے مداخلت کر دی۔ کیرالہ کے ضلع وائناڈ میں مسلسل کئی روز ہونے والی شدید مانسون کی بارشوں سے پڑوسی ریاست کرناٹک کے کبنی آبی ذخیرے میں پانی کی آمد غیر معمولی طور پر بڑھ گئی اور تمل ناڈو کی جانب مزید پانی چھوڑ دیا گیا۔ آبی ذخائر کی سطح بہتر ہوئی، سرکاری بیانات میں تلخی کم ہو گئی اور فوری تصادم ٹل گیا۔ لیکن یہ عارضی سکون اس لیے نہیں آیا کہ حکومتوں نے کوئی مستقل حل تلاش کر لیا، بلکہ اس لیے کہ بارش نے وقتی طور پر اس دریا کو نئی زندگی دے دی جو سب کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا تھا۔
جب بھی کاویری تنازعہ سر اٹھاتا ہے عوامی توجہ عدالتی احکامات، ٹریبونل کے فیصلوں اور سیاسی بیانات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں سوال یہی اٹھایا جاتا ہے کہ آیا کرناٹک پانی روک رہا ہے یا تمل ناڈو اپنے حصے سے زیادہ پانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس شور شرابے میں خود دریا کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
مصنف اور ناقد او کے جانی کہتے ہیں، ’’کاویری اب ویسا برتاؤ نہیں کر رہی جیسا 1892 اور 1924 کے نوآبادیاتی معاہدوں کے وقت کرتی تھی، یا حتیٰ کہ 2007 میں کاویری واٹر ڈسپیوٹس ٹریبونل کے حتمی فیصلے کے وقت کرتی تھی۔ یہ دریا ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی بگاڑ اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب ان تمام مفروضوں کو بدل رہی ہے جن پر قانونی معاہدے قائم تھے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ زیادہ پانی کا حق کس کا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں کیا یہ دریا دونوں ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی رہے گا؟‘‘
تقریباً 81 ہزار 155 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا کاویری کا طاس (بیسن) کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری تک وسیع ہے۔ اس کا تقریباً 42 فیصد حصہ کرناٹک، 54 فیصد تمل ناڈو، تقریباً 4 فیصد کیرالہ جبکہ ایک معمولی حصہ پڈوچیری میں واقع ہے۔
کوڈاگو کے جنگلاتی پہاڑی علاقے تلاکاویری سے تقریباً 1,340 میٹر کی بلندی پر جنم لینے والا یہ دریا تقریباً 800 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد خلیجِ بنگال میں جا گرتا ہے۔ اپنے سفر کے دوران اس میں ہیماوتی، ہارانگی، کبنی، لکشمن تیرتھا، شمشا، ارکاوتی، بھوانی، امراوتی اور نویال جیسے اہم معاون دریا شامل ہوتے ہیں۔
یہ پورا دریائی نظام تقریباً چار کروڑ افراد کی زندگی کا سہارا ہے، ہندوستان کے قدیم ترین زرعی علاقوں کو سیراب کرتا ہے اور ملک کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کئی بڑے شہروں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔ بہت کم دریائی نظام ایسے ہیں جن کی ماحولیاتی، معاشی اور سیاسی اہمیت اس قدر وسیع ہو۔
ان معاون دریاؤں میں کبنی اس تنازع کے باہمی ربط کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ وائناڈ کے گھنے سرسبز جنگلات سے نکلنے والا یہ دریا پانامارم اور مننتھاواڑی جیسی ندیوں سے پانی حاصل کرتا ہوا مشرق کی طرف کرناٹک میں داخل ہوتا ہے اور پھر تروماکودالو نرسی پورہ کے قریب کاویری سے جا ملتا ہے۔ اس کے آبی ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ کیرالہ میں واقع ہے، جہاں مغربی گھاٹ کے کئی علاقوں میں سالانہ بارش 3,000 ملی میٹر سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تاہم وائناڈ کی بارشیں پوری کہانی بیان نہیں کرتیں۔ کرناٹک میں کاویری کے وسیع تر آبی ذخیرے والے علاقوں میں اس بار مانسون کہیں زیادہ غیر یقینی ثابت ہوا۔ کوڈاگو، حسن اور بالائی طاس کے دیگر اضلاع میں جنوب مغربی مانسون کے ابتدائی ہفتوں کے دوران بارش بے قاعدہ رہی، جس کے باعث بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد کم رہی۔
کرناٹک نے بارہا کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ریاست شدید آبی قلت کے سال سے گزر رہی ہے اور بنگلورو، میسورو سمیت کئی شہروں کی پینے کے پانی کی ضروریات پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب تمل ناڈو کا کہنا تھا کہ اگر وقت پر پانی نہ ملا تو کاویری ڈیلٹا میں سمبا دھان کی فصل شدید متاثر ہوگی، کیونکہ وہاں کے کسان میٹور ڈیم سے بروقت پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اتھارٹی نے اہم فیصلے مؤخر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بہتر بارش سے بحران کم ہو جائے گا۔ بالآخر قدرت نے وقتی ریلیف تو فراہم کر دیا، مگر بنیادی کمزوریاں اپنی جگہ برقرار رہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جمع ہونے والے سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جزیرہ نما ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) مسلسل مشاہدہ کر رہا ہے کہ اب بارش کا انداز طویل خشک وقفوں اور ان کے درمیان انتہائی شدید بارشوں کے مختصر سلسلوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) بھی خبردار کر چکا ہے کہ بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت جنوبی ایشیا میں شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔
ماہر موسمیات ایس ابھیلاش کے مطابق، ’’مغربی گھاٹ، جو جنوبی ہندوستان کے لیے پانی کا بنیادی قدرتی ذخیرہ ہے، اب اس تبدیلی کو مسلسل محسوس کر رہا ہے۔ کئی مہینوں تک متوازن بارش ہونے کے بجائے اب اکثر ایسے موسلادھار واقعات پیش آتے ہیں جو اچانک سیلاب تو لے آتے ہیں، مگر خشک موسم میں دریاؤں کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔‘‘
یوں کاویری اب انتہاؤں کا دریا بنتا جا رہا ہے۔ مانسون کے بیشتر حصے میں آبی ذخائر خطرناک حد تک خالی رہتے ہیں، لیکن چند ہی دنوں کی شدید بارش انہیں لبریز کر دیتی ہے، جس کے بعد حکام کو بڑی مقدار میں پانی نیچے کی سمت چھوڑنا پڑتا ہے۔ مگر جیسے ہی یہ شدید بارشیں ختم ہوتی ہیں، پانی کی آمد بھی تیزی سے کم ہونے لگتی ہے کیونکہ بارش کا سلسلہ مستقل نہیں رہتا۔
تاہم اس بحران کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں ہے۔ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ وہ قدرتی مناظر بھی بتدریج کمزور ہوتے جا رہے ہیں جو خود اس دریا کو جنم دیتے ہیں۔ کوڈاگو اور وائناڈ کے جنگلات طویل عرصے تک قدرتی آبی ذخائر کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ گھنے جنگلات، نامیاتی مادے سے بھرپور مٹی اور دلدلی علاقے مانسون کا پانی جذب کر کے اسے آہستہ آہستہ ندی نالوں میں چھوڑتے تھے، جس سے بارش ختم ہونے کے بعد بھی دریا مستقل بہاؤ برقرار رکھتا تھا۔ زیرزمین پانی کے اس تدریجی اخراج کو بیس فلو کہا جاتا ہے، اور یہی عمل ماضی میں خشک موسم کے دوران کاویری کو زندہ رکھتا تھا۔
لیکن جنگلات کی مسلسل کٹائی اور ٹکڑوں میں تقسیم، باغات کی توسیع، سڑکوں کی تعمیر، پتھر کی کان کنی، سیاحتی ڈھانچے اور بے ہنگم ترقیاتی سرگرمیوں نے ان آبی ذخیرہ گاہوں کی قدرتی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔ آبی وسائل کے ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ مغربی گھاٹ اپنی اس قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث اسے کبھی ہندوستان کا عظیم قدرتی ’اسفنج‘ کہا جاتا تھا۔
اس کے اثرات پورے دریائی طاس میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ کوڈاگو میں حالیہ برسوں کے دوران بار بار لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آئے ہیں۔ وائناڈ بھی تباہ کن قدرتی آفات کا شکار رہا ہے، جنہوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ موسمیاتی شدت اور غیر پائیدار زمین کے استعمال نے پہاڑی ماحولیاتی نظام کو کس قدر کمزور بنا دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی علاقے، جو آج تباہ کن سیلاب پیدا کر رہے ہیں، خشک موسم میں دریا کے مستقل بہاؤ کو برقرار رکھنے کی اپنی قدرتی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں۔
کاویری طاس میں آنے والی تبدیلی اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب بارش سے آگے بڑھ کر انسانی ضروریات میں غیر معمولی اضافے کو دیکھا جائے۔ جب ریاست میسور اور مدراس پریذیڈنسی نے 1924 کا معاہدہ کیا تھا، اس وقت بنگلورو محض ایک انتظامی شہر تھا جس کی آبادی پانچ لاکھ سے بھی کم تھی۔ آج بنگلورو کا شہری علاقہ دنیا کے تیزی سے پھیلنے والے شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ شہر اپنی پینے کے پانی کی تقریباً پوری ضرورت ایک ایسے دریا سے پوری کرتا ہے جو اس سے تقریباً 100 کلومیٹر دور اور تقریباً 500 میٹر نیچے بہتا ہے۔ روزانہ 2,200 ملین لیٹر سے زیادہ کاویری کا پانی بلند سطح تک پمپ کیا جاتا ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے شہری آبی فراہمی کے نظاموں میں سے ایک ہے۔
اس کے باوجود یہ مقدار ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ شہر کی یومیہ ضرورت 3,000 ملین لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی علاقوں کو تیزی سے ختم ہوتے زیرزمین پانی اور نجی ٹینکر مافیا پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ 2024 کے شدید آبی بحران کے دوران خشک بورویل، خالی جھیلیں اور پانی کے ٹینکروں کے لیے طویل قطاریں اس مستقبل کی جھلک تھیں جس میں سکڑتے ہوئے دریا پر انحصار کرنے والے شہروں کو جینا پڑ سکتا ہے۔
بنگلورو اکیلا نہیں۔ میسورو، منڈیا اور جنوبی کرناٹک کے کئی ابھرتے ہوئے صنعتی شہر گزشتہ تین دہائیوں میں تیزی سے پھیلے ہیں۔ نئے صنعتی راہداریاں، تعلیمی ادارے، رہائشی ٹاؤن شپ اور ٹیکنالوجی پارکس سب نے کاویری پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پینے کے پانی کی فراہمی فطری طور پر ریاست کی اولین ترجیح بن چکی ہے اور کوئی بھی حکومت سیاسی طور پر اپنے شہروں کی ضروریات پر سمجھوتہ کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
اسی لیے ہر خشک سال کرناٹک کو ایک انتہائی مشکل صورت حال میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اگر تمل ناڈو کو زیادہ پانی چھوڑا جائے تو اندرونِ ریاست شدید عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر زیادہ پانی روک لیا جائے تو قانونی چارہ جوئی اور نچلے علاقوں سے سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر وزیر اعلیٰ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، آبی حقائق اور انتخابی سیاست کے درمیان پھنس جاتا ہے۔
زرعی شعبہ بھی اسی طرح بڑی تبدیلی سے گزرا ہے۔ کرناٹک نے کرشنا راجہ ساگر، کبنی، ہیماوتھی اور ہارانگی جیسے آبی ذخائر کے علاوہ متعدد لفٹ ایریگیشن منصوبوں کے ذریعے آبپاشی کے رقبے میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ وہ وسیع علاقے جو کبھی صرف بارش پر انحصار کرتے تھے، اب وہاں آبپاشی کے ذریعے دھان، گنا اور دیگر زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔
ریاست کا مستقل موقف رہا ہے کہ نوآبادیاتی دور کے معاہدوں نے، جو زیریں دھارے میں واقع مدراس پریذیڈنسی کے حق میں تھے، کرناٹک کو آبپاشی کی ترقی کا منصفانہ موقع نہیں دیا۔ سپریم کورٹ نے 2018 کے فیصلے میں اس دلیل کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے کرناٹک کے حصے میں معمولی اضافہ کیا اور بنگلورو کی بڑھتی ہوئی پینے کے پانی کی ضروریات کو بھی تسلیم کیا لیکن نظرثانی شدہ کوٹہ بھی کم بارش والے برسوں میں ناکافی ثابت ہوا، کیونکہ پانی کی طلب دریا کی فراہمی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔
تمل ناڈو کی مشکلات بھی کسی طور کم نہیں۔ کاویری ڈیلٹا ہندوستان کے قدیم ترین اور زرخیز ترین زرعی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جسے اکثر جنوبی ہند کا ’چاول کا کٹورا‘ کہا جاتا ہے۔ تنجاوور، ترووارور، ناگاپٹنم، مئیلا دوتھرئی اور آس پاس کے اضلاع پر مشتمل یہ ڈیلٹا لاکھوں کسانوں اور زرعی مزدوروں کا سہارا ہے۔
ہر سال میٹور ڈیم کا کھلنا صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ سمبا دھان کی کاشت کے موسم کا آغاز ہوتا ہے، جس پر دیہی معیشت کا انحصار ہے۔ پانی کی فراہمی میں ہر تاخیر سے پنیری کی منتقلی مؤخر ہوتی ہے، پیداوار کم ہوتی ہے اور کسان مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
غیر یقینی آبی فراہمی کے باعث کسانوں کو بارہا دوسری فصل چھوڑنے یا کاشت کا رقبہ کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث سمندر کا کھارا پانی ساحلی زیرزمین آبی ذخائر میں داخل ہو رہا ہے، جس سے زمین کی شوریدگی بڑھ رہی ہے اور ڈیلٹا کی زراعت کی طویل مدتی پائیداری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس لیے تمل ناڈو کے لیے کاویری صرف آبپاشی کا مسئلہ نہیں، بلکہ غذائی تحفظ، دیہی معیشت اور اس تہذیب کی بقا کا سوال ہے جو صدیوں سے اس دریا کے گرد پروان چڑھی ہے۔
کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن پی ٹی جان کہتے ہیں، ’’سادہ سیاسی بیانیے اس تنازعہ کی پیچیدگی کو بیان نہیں کر سکتے۔ کرناٹک صرف علاقائی ضد کی وجہ سے پانی نہیں روک رہا اور تمل ناڈو بھی محض سیاسی فائدے کے لیے پانی کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ دونوں ریاستیں حقیقی سماجی، معاشی اور ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔‘‘
جس پہلو پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے وہ پورے دریائی نظام میں کیرالہ کا خاموش کردار ہے۔ اگرچہ پانی کی تقسیم کے موجودہ انتظام میں کیرالہ کا حصہ نسبتاً کم ہے لیکن وائناڈ کے جنگلات دریا کو زندہ رکھنے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
برہماگیری کی پہاڑیوں سے نکلنے والی پانامارم، مننتھاواڑی اور دیگر ندیاں مل کر کبنی دریا تشکیل دیتی ہیں، جو بعد میں کرناٹک میں داخل ہوتا ہے۔ وائناڈ میں ہونے والی ہر شدید بارش کبنی ڈیم میں پانی کی سطح بڑھا دیتی ہے، جبکہ ان جنگلات میں بارش کی کمی زیریں علاقوں تک پانی کی آمد کو کم کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود کیرالہ سیاسی مباحثوں میں شاذ و نادر ہی نمایاں ہوتا ہے اور اکثر صرف ایک جغرافیائی حوالہ بن کر رہ جاتا ہے۔
حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ کاویری کا مستقبل مغربی گھاٹ کی ماحولیاتی صحت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے یہی پہاڑی علاقے خود شدید دباؤ میں ہیں۔ جنگلات کی تقسیم، قدرتی جنگلات کو باغات میں تبدیل کرنا، سڑکوں کا پھیلتا جال، سیاحتی ڈھانچے، کان کنی اور بے ہنگم تعمیرات نے آبی ذخیرہ گاہوں کے قدرتی نظام کو مسلسل متاثر کیا ہے۔
ایل نینو کے برسوں میں جزیرہ نما ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون اکثر کمزور پڑ جاتا ہے، جس سے آبی ذخائر میں پانی کی آمد گھٹ جاتی ہے اور ریاستوں کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب عالمی حدت مختصر دورانیے کی انتہائی شدید بارشوں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے۔ مانسون کے اس بدلتے ہوئے رویے نے پانی کی تقسیم کے ان معاہدوں کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں جو ماضی کی اوسط بارش اور بہاؤ کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔ بیسویں صدی کے آبی حقائق پر مبنی معاہدے اب اکیسویں صدی کی موسمیاتی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود سیاسی ردعمل تقریباً ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔ ہر خشک سال شاہراہوں کی بندش، مشتعل مظاہرے، بسوں میں توڑ پھوڑ اور علاقائی شناخت پر مبنی تقاریر کا باعث بنتا ہے۔ پانی سائنسی تعاون کے بجائے انتخابی سیاست کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں تصادم کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ زیرزمین پانی کی کمی، آبی ذخیرہ گاہوں کی بحالی، بارش کے پانی کے ذخیرے اور پانی کی طلب کو منظم کرنے جیسے اہم موضوعات پر صرف سرسری گفتگو ہوتی ہے۔ دریا کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے تقسیم کرنا ہے، نہ کہ ایک ایسے ماحولیاتی نظام کے طور پر جس کا تحفظ ضروری ہے۔
یہ طرزِ فکر اب زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ کاویری کا مستقبل عدالتی مقدمات سے زیادہ اس کے قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی پر منحصر ہوگا۔ کوڈاگو اور وائناڈ کے جنگلات کا تحفظ اتنا ہی اہم ہونا چاہیے جتنا نئے آبی ذخائر کی تعمیر۔ وہ دلدلی علاقے جو کبھی مانسون کا پانی محفوظ رکھتے تھے، انہیں دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ بنگلورو جیسے شہروں کو صاف شدہ استعمال شدہ پانی کے دوبارہ استعمال، بارش کے پانی کے مؤثر ذخیرے اور ترسیل کے دوران پانی کے ضیاع میں کمی پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔
کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں میں زراعت کو بتدریج ایسے آبپاشی نظام اور فصلی طریقوں کی طرف منتقل کرنا ہوگا جو پانی کی بدلتی ہوئی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہوں، لیکن کسانوں کی روزی روٹی بھی متاثر نہ ہو۔ اسی طرح ایک شفاف اور منصفانہ آبی قلت کی تقسیم کے فارمولے کی ضرورت ہے، جو دریائی طاس کی تمام ریاستوں کے مفادات کو تسلیم کرے اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
