پائیدار ترقی اہداف نوجوانوں پر منحصر

اقوام متحدہ کے مطابق تنازعات، قرضوں کا بوجھ اور موسمیاتی بحران پائیدار ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں، 2030 اہداف مالیاتی اصلاحات، فنڈز ، قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی شمولیت پر منحصر ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ اور یوتھ فورم نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں حائل عالمی رکاوٹوں کا احاطہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جغرافیائی سیاسی تنازعات، قرضوں کے بوجھ اور موسمیاتی بحران نے غریب ممالک کی معاشی ترقی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے 2030 کے ایجنڈے کی تکمیل خطرے میں نظر آتی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور سالانہ 4کھرب ڈالر کے مالیاتی خسارے کو پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، رپورٹ میں قابل تجدید توانائی میں ریکارڈ سرمایہ کاری کو ایک مثبت اشارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں، نوجوان نسل کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے اور ان کی اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ مجموعی جائزہ دنیا کو درپیش سنگین چیلنجز اور ان کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کی تکمیل کے لیے طے شدہ 2030 کی ڈیڈ لائن اب سر پر ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اس وقت ایک کٹھن موڑ پر کھڑی ہے۔ جغرافیائی سیاسی تنازعات، موسمیاتی تباہی اور ترقیاتی مالیاتی وسائل کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح نے اس سفر کو نہ صرف سست کر دیا ہے بلکہ کئی شعبوں میں اب تک حاصل کردہ کامیابیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے، پائیدار ترقی کے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے محض بیانات نہیں، بلکہ انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مالیاتی دلدل سے نکلنا دشوار

ترقی پذیر ممالک اس وقت ایک ایسی مالیاتی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جہاں سے نکلنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ایک چوتھائی ترقی پذیر ممالک میں فی کس آمدنی اب بھی عالمی وبا سے پہلے (2019) کی سطح سے بھی کم ہے، جو کہ معاشی پسماندگی کی ایک خطرناک علامت ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے 3.4 ارب لوگ ایسے ممالک میں آباد ہیں جہاں حکومتیں اپنے شہریوں کی تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے بجٹ کا بڑا حصہ 'قرضوں کے سود' کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ریاستیں اپنے مستقبل یعنی انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے ماضی کے قرضوں کا بوجھ ڈھونے لگیں، تو یہ ترجیحات مستقبل کی نسلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔


گرین اینرجی میں ریکارڈ سرمایہ کاری

مایوسی کے ان بادلوں میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت امید کی ایک مضبوط کرن بن کر ابھری ہے۔ شدید معاشی دباؤ کے باوجود، سال 2024 میں گرین اینرجی (سبز توانائی ) میں 2.2کھرب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی، جو کہ معدنی ایندھن (فوسل فیول) کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ ایک بڑی عالمی کامیابی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ دنیا اب بتدریج ماحول دوست ایندھن کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ تاہم، اس کامیابی کا تضاد یہ ہے کہ جہاں سبز توانائی میں کھربوں ڈالر آ رہے ہیں، وہاں مجموعی ترقیاتی اہداف کے لیے اب بھی 4کھرب ڈالر کا سالانہ مالیاتی خسارہ موجود ہے جو اس پیش رفت کو محدود کر سکتا ہے۔

تنازعات اور معاشی عدم استحکام

مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے پائیدار ترقی کی راہ میں نئی دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ اس تنازع نے نہ صرف ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، بلکہ عالمی تجارت اور نقل و حمل کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس نازک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے مالیاتی ڈھانچے میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مالیاتی فرق کو کم کرنے کے لیے ہمیں کثیرالفریقی ترقیاتی بینکوں کو مزید موثر بنانا ہوگا، قرض کے نظام کو منصفانہ بنانا ہوگا (بشمول کریڈٹ ریٹنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی) اور عالمی مالیاتی ڈھانچے کو اس طرح تبدیل کرنا ہوگا کہ وہ موجودہ عالمی معیشت کا حقیقی عکاس بن سکے۔‘‘

جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے غریب ترین ممالک کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی بھی ایک چیلنج بن گئی ہے۔

نوجوانوں کا المیہ، ’سیویلا عہد‘ کی اہمیت

دنیا کی 1.2ارب نوجوان آبادی اس وقت جن حالات سے گزر رہی ہے، وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ ڈی ایم یو این فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکر جے وون چوئی کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہر 4.4سیکنڈ میں ایک نوجوان غذائی قلت، تشدد، قدرتی آفات یا قابلِ علاج بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک کا پیغام انتہائی اہم ہے کہ نوجوانوں کو صرف 'مستقبل کی امید' قرار دے کر انتظار نہیں کرایا جا سکتا۔ انہیں آج کے فیصلوں، پالیسی سازی اور قیادت میں شامل کرنا ہوگا کیونکہ وہ محض بحرانوں کا شکار نہیں بلکہ ڈیجیٹل تقسیم اور معاشی غیر یقینی کے باوجود جدید حل پیش کرنے والے کلیدی محرک ہیں۔


ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سالانہ 4کھرب ڈالر کے بڑے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ’سیویلا عہد‘ کو واحد عملی اور ناگزیر راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ عہد محض سرمایہ کاری میں اضافے کا نام نہیں، بلکہ یہ عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات، ترقی پذیر ممالک کو عالمی فورمز پر معقول نمائندگی دینے اور مستقبل کے معاشی دھچکوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ جب تک عالمی مالیاتی ڈھانچہ منصفانہ اور نمائندہ نہیں ہوگا، پائیدار ترقی کا خواب ایک سراب ہی رہے گا۔

سیاسی اختلافات بھولنا ضروری

سال 2030 کا ایجنڈا محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اربوں انسانی زندگیوں کی بقا کا عہد ہے۔ اگرچہ سبز توانائی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور نوجوانوں کا عزم حوصلہ پیدا کرتا ہے، لیکن مالیاتی عدم مساوات اور بڑھتے ہوئے جنگی تنازعات اس خواب کی تعبیر میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ایک فیصلہ کن انتخاب کرے۔ عالمی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر جاگنا ہوگا، ورنہ 2030 کا خواب ایک ادھورا اور ٹوٹا ہوا وعدہ بن کر تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔