شیاما پرساد مکھرجی: بے لوث محب وطن یا ریڑھ کی ہڈی سے محروم معاون؟... شمس الاسلام
مکھرجی کی حب الوطنی سے متعلق ہندوتوادی دعووں کی حقیقت کا پتہ سنگھ اور ہندو مہاسبھا کے محفوظ دستاویزات میں موجود اُس دور کے ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں اپنی پارٹی کی فتح کا جشن مناتے ہوئے دہلی واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’آج شیاما پرساد مکھرجی کی روح کو ضرور سکون ملا ہوگا۔‘‘ مودی انہیں ’ایک سیاست داں، مفکر اور محب وطن‘ قرار دیتے رہے ہیں، جنہوں نے ’اپنی زندگی قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے وقف کر دی۔‘
ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی (1953-1901) سنگھ/بی جے پی خیمہ کے لیے ہندوتوا کی ایک بڑی علامت ہیں۔ مکھرجی نے ہی آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ اور سب سے بڑے نظریہ ساز ایم ایس گولولکر کے مشورے پر 1951 میں بی جے پی کی پیش رو پارٹی ’بھارتیہ جن سنگھ‘ (بی جے ایس) کی بنیاد رکھی تھی اور آر ایس ایس کی سیاسی شاخ کے پہلے صدر بنے تھے۔
مکھرجی کی حب الوطنی سے متعلق ہندوتوادی دعووں کی حقیقت کا پتہ سنگھ اور ہندو مہاسبھا کے محفوظ دستاویزات میں موجود اُس دور کے ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے۔ دستاویزات بتاتے ہیں کہ انہیں ’بے لوث حب الوطن‘ قرار دینے کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے۔ مکھرجی کبھی آزادی کی لڑائی میں شامل نہیں رہے۔ وہ نہ صرف اس سے دور رہے بلکہ اس کے ساتھ غداری بھی کی۔ انہوں نے تحریکِ آزادی کو کچلنے اور اس میں فرقہ وارانہ شگاف ڈالنے کے لیے برطانوی سامراج اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔
آزادی سے قبل مکھرجی ایک طرح سے ونایک دامودر ساورکر کی قیادت والی ہندو مہاسبھا کے اہم لیڈر تھے۔ 1942 میں کانگریس نے ’بھارت چھوڑو تحریک‘ شروع کی تو انگریزوں نے دہشت کا راج قائم کر دیا۔ کانگریس پر پابندی لگا دی گئی، اس کی صوبائی حکومتیں برطرف کر دی گئیں، پورے ملک کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا اور برطانوی و مقامی حکمرانوں کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ مارے جانے والوں میں سے کئی کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے ترنگا لہرانے یا اسے اپنے پاس رکھنے کی جرأت کی تھی۔
ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس جیسی ہندو قوم پرست تنظیموں اور مسلم لیگ (جو 1940 ہی سے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کر رہی تھی) نے نہ صرف ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کا بائیکاٹ کیا بلکہ برطانوی حکومت کی جابرانہ مہم میں اس کا ساتھ دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ ساورکر کی قیادت میں ہندو قوم پرستوں نے محمد علی جناح کی قیادت والی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اتحادی حکومتیں بھی چلائیں۔ 1942 میں کانپور میں ہندو مہاسبھا کے 24ویں اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران ’ویر‘ ساورکر اس اتحاد کا خوشی خوشی ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں:
’’عملی سیاست میں مہاسبھا جانتی ہے کہ ہمیں معقول سمجھوتوں کے ذریعے ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ غور کیجیے کہ حال ہی میں سندھ میں، سندھ ہندو سبھا نے دعوت پر لیگ کے ساتھ اتحادی حکومت چلانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بنگال کا معاملہ سب کے علم میں ہے۔ شدت پسند لیگی، جنہیں کانگریس اپنی تمام تر نرمی کے باوجود مطمئن نہ کر سکی، ہندو مہاسبھا کے رابطے میں آتے ہی کافی حد تک معقول اور مصالحت پسند ہو گئے۔ فضل الحق کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اور ہمارے معزز مہاسبھا رہنما ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی ہنرمند قیادت میں قائم اتحادی حکومت نے تقریباً ایک سال تک دونوں برادریوں کے مفاد میں کامیابی کے ساتھ کام کیا۔‘‘ (وی ڈی ساورکر، سمگر ساورکر وانگ مئے، ہندو مہاسبھا، پونے، 1963، صفحات 480-479)
بعد میں اس اتحادی انتظام کو شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا، جو اب پاکستان میں ہے) تک بھی وسعت دی گئی۔ مکھرجی نائب وزیر اعظم تھے (اس وقت وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم کہا جاتا تھا) اور انہوں نے وزارت داخلہ اپنے پاس رکھی، جس کے ذریعے ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کو کچلنے کا کام کیا گیا۔ ہندو مہاسبھا کی ہدایت پر مکھرجی نے 26 جولائی 1942 کو لکھے گئے خط میں برطانوی حکمرانوں کو تعاون کا یقین دلایا۔ اپنی خود نوشت میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’اب میں اُس صورت حال کا ذکر کرنا چاہوں گا جو کانگریس کی کسی بڑی تحریک کے نتیجے میں صوبے میں پیدا ہو سکتی ہے۔ جنگ کے دوران جو بھی عوامی جذبات کو بھڑکانے کا منصوبہ بناتا ہے، جس سے داخلی بے چینی یا عدم تحفظ پیدا ہو، تو اس وقت کام کر رہی کسی بھی حکومت کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘‘ (شیاما پرساد مکھرجی، ڈائری کے اقتباسات، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، صفحات 114، 179)
یقین کرنے کے لیے بنگال کے گورنر کو لکھا گیا ان کا وہ خط ہی کافی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ فضل الحق کی قیادت والی حکومت نے اپنے اتحادی ہندو مہاسبھا کے ساتھ مل کر تحریک کو کچلنے کی مضبوط منصوبہ بندی کی تھی:
’’سوال یہ ہے کہ بنگال میں اس تحریک (بھارت چھوڑو تحریک) کا سامنا کیسے کیا جائے؟ صوبے کا انتظام اس طرح چلایا جانا چاہیے کہ تمام کوششوں کے باوجود کانگریس کی یہ تحریک صوبے میں جڑ نہ پکڑ سکے۔ ہمارے لیے، خاص طور پر ذمہ دار وزراء کے لیے، یہ واضح کرنا ممکن ہونا چاہیے کہ جس آزادی کے لیے کانگریس نے یہ تحریک شروع کی ہے، وہ پہلے ہی عوام کے نمائندوں کے پاس موجود ہے۔ بعض شعبوں میں ہنگامی حالات کے دوران یہ محدود ہو سکتی ہے۔ ہندوستانیوں کو انگریزوں پر اعتماد کرنا ہوگا... برطانیہ کی بھلائی کے لیے نہیں، یا انگریزوں کو ہونے والے کسی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ خود صوبے کی سلامتی اور آزادی برقرار رکھنے کے لیے۔‘‘ (اے جی نورانی، دی آر ایس ایس اینڈ دی بی جے پی: اے ڈویژن آف لیبر لیفٹ ورڈ بکس، صفحات 57-56 سے)
یہاں غیر ملکی اقتدار کی شرمناک مدح سرائی کی گئی تھی! اب آر سی مجومدار کے الفاظ پر بھی غور کیجیے، جنہیں ہندوتوا بریگیڈ ایک حقیقی ’ہندوستانی‘ مورخ مانتی ہے:
’’شیام پرساد نے کانگریس کے زیر اہتمام عوامی تحریک پر گفتگو کرتے ہوئے اپنا خط ختم کیا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ تحریک عوامی جذبات کو بھڑکا کر داخلی انتشار پیدا کرے گی اور جنگ کے دوران داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ ساتھ ہی ان کی رائے تھی کہ اقتدار میں موجود کسی بھی حکومت کو اسے دبانا ہی ہوگا۔‘‘ (آر سی مجومدار، ہسٹری آف ماڈرن بنگال، جلد 2، جی بھاردواج اینڈ کمپنی، کلکتہ، صفحہ 350)
’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے ساتھ غداری پر مبنی ہندو مہاسبھا کے فیصلے کا اثر آر ایس ایس پر بھی پڑا۔ اس وقت کے سربراہ گولولکر نے اعتراف کیا کہ ’’1942 میں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک زبردست جذبہ تھا۔ اس وقت سنگھ نے براہ راست کچھ بھی نہ کرنے کا عزم کیا تھا۔ تاہم سنگھ کے رضاکاروں کے ذہنوں میں بے چینی برقرار رہی۔ سنگھ غیر فعال لوگوں کی تنظیم ہے، ہمارے بہت سے رضاکار ایسی باتیں کرتے تھے۔‘‘ (شری گرو جی سمگر درشن (ہندی میں گولولکر کی مکمل تحریریں)، جلد 4، بھارتیہ وچار سادھنا، ناگپور، بلا تاریخ، صفحہ 40)
تقسیم سے قبل کے سنگھ لٹریچر میں کہیں بھی ایسے کسی کام کا ذکر نہیں ملتا جو اس نے ’بالواسطہ‘ طور پر ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے لیے کیا ہو۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مکھرجی کی ہندو مہاسبھا نے دوسری عالمی جنگ میں برطانوی حکمرانوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سبھاش چندر بوس یعنی ’نیتا جی‘ انگریزوں کو ملک سے نکالنے کے لیے ایک فوجی مہم کے تحت ’آزاد ہند فوج‘ کو منظم کر رہے تھے۔ ہندو مہاسبھا اپنے برطانوی آقاؤں کی مدد کے لیے کس حد تک تیار تھی، یہ مہاسبھا کے صدر کی حیثیت سے ساورکر کی جانب سے جاری کیے گئے درج ذیل حکم سے واضح ہوتا ہے:
’’جہاں تک ہندوستان کے دفاع کا سوال ہے، ہندوؤں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ ہندوستانی حکومت کی جنگی کوششوں میں شامل ہونا چاہیے (بشرطیکہ وہ ہندو مفادات کے موافق ہوں) اور اس مقصد کے لیے فوج، بحریہ و فضائیہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھرتی ہونا چاہیے... لہٰذا ہندو مہاسبھا کے ارکان کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ہندوؤں کو، خصوصاً بنگال اور آسام کے صوبوں میں، بیدار کرنا چاہیے۔‘‘ (وی ڈی ساورکر، سمگر ساورکر وانگ مئے: ہندو راشٹر درشن، جلد 6، مہاراشٹر پرانتک ہندو سبھا، پونا، 1963، صفحہ 460)
اگر ہم اپنے وزیر اعظم اور ہندوتوا بریگیڈ کی دی ہوئی تعریفوں کو تسلیم کر لیں، تو ایک ’دیش بھکت‘ اور ’نِسوارتھ مجاہدِ آزادی‘ کو انگریزوں کا آلۂ کار، جناح کی قیادت والی مسلم لیگ کا معاون اور ’بھارت چھوڑو تحریک‘ میں حصہ لینے والوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ ساز ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے جامع، جمہوری اور سیکولر اقدار کے لیے نوآبادیاتی حکمرانوں سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں، وہ یقیناً احمق رہے ہوں گے!
