بی جے پی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے گھپلے...رشمی سہگل

اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری قتل معاملے کی جانچ اور دشیَنت گوتم کی گورنر تقرری پر تنازع جاری ہے۔ ادھر وزیر ریکھا آریہ اور ان کے شوہر کے الزامات نے بی جے پی حکومت کو نئے سیاسی بحران میں ڈال دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

رشمی سہگل

بی جے پی کے سابق قومی جنرل سکریٹری اور پارٹی کے سابق ایس سی مورچہ کے صدر دشینت کمار گوتم نے 19 اکتوبر کو سکم کے 19ویں گورنر کی حیثیت سے حلف لیا۔ ان کی تقرری واپس لینے کے لیے صدر جمہوریہ سے اپیل کی گئی تھی، لیکن اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ گوتم ان بااثر شخصیات میں شمار ہوتے رہے ہیں جن پر ستمبر 2022 میں انکیتا بھنڈاری کو جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگا تھا۔

19 سالہ ریسپشنسٹ انکیتا 18 ستمبر کی رات ونانترا ریزورٹ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھی۔ کئی روز بعد اس کی لاش چِلّا بیراج سے برآمد ہوئی۔ اس معاملے کے مرکزی ملزم پلکت آریہ، جو ونانترا ریزورٹ کا مالک اور بی جے پی رہنما ونود آریہ کا بیٹا ہے، عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ تاہم، پلکت آریہ کے ساتھ تنازعات میں آئے دشینت گوتم کی کال ڈیٹیل سماجی تنظیموں کے مطالبے کے باوجود عام نہیں کی گئی۔

انکیتا کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اتراکھنڈ میں گزشتہ چار برس سے احتجاج جاری ہے۔ جنوری 2026 میں ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کردی تھی۔ انکیتا کے معمر والدین سونی دیوی اور وریندر سنگھ بھنڈاری نہ صرف اس خدشے سے پریشان ہیں کہ تحقیقات سرد خانے میں ڈال دی جائیں گی، بلکہ گوتم کو گورنر بنائے جانے سے بھی انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گوتم کو آئینی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔

سونی دیوی نے کہا، ’’جب ہم نے ان کی تقرری کی خبر سنی تو پوری رات سو نہیں سکے۔ ہم دہلی آئے۔ 14 اکتوبر کو جنتر منتر پر بیٹھے ہی تھے کہ پولیس ہمیں دھمکانے لگی۔ پولیس نے کہا کہ اگر ہم وہاں سے نہیں ہٹے تو قانون توڑنے کے جرم میں ڈیڑھ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ہم غریب لوگ ہیں اور اتنا بھاری جرمانہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لیے ہم انڈیا گیٹ چلے گئے۔ وہاں کئی سماجی کارکنوں کے علاوہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے سینئر رہنما بھی ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے۔‘‘


تاہم، سونی دیوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انکیتا کی موت کے بعد سے ہی دونوں والدین خفیہ ایجنسیوں کی سخت نگرانی میں ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے۔ انڈیا گیٹ پر والدین کے دھرنے، جہاں انہوں نے سی بی آئی جانچ کے نتائج عام نہ کیے جانے کی صورت میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تھی، نے دھامی حکومت کو بے چین کردیا۔ پودھی گڑھوال کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سرویش پنوَار اور مقامی خفیہ یونٹ کے سب انسپکٹر سردار سنگھ کو اس الزام میں معطل کردیا گیا کہ وہ انکیتا کے والدین کو نئی دہلی پہنچنے سے روکنے میں ناکام رہے۔

قائد حزب اختلاف کی ان سے ملاقات کے اگلے ہی روز دہلی پولیس انکیتا کے والدین کو دھرنے کی جگہ سے ہٹا کر لے گئی۔ اس کے بعد بی جے پی نے پودھی گڑھوال کے رکن پارلیمنٹ انل بلونی کے ساتھ انکیتا کے اہل خانہ کی سی بی آئی کے دو سینئر افسران سے ملاقات کی تصویر جاری کی۔ بلونی کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ بظاہر سی بی آئی کو اس تشہیری ملاقات کا اہتمام کرنے کی ہدایت دی گئی ہوگی۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں اب پانچ ماہ باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی مفادات کی خاطر کن بااثر شخصیات کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔

سونی دیوی اپنی لڑائی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ہار نہیں مانوں گی۔ حکومت زیادہ سے زیادہ ہمیں جان سے مار سکتی ہے۔ حکومت کے سفید جھوٹ کو تسلیم کرنے سے بہتر ہے کہ ہم مر جائیں۔‘‘ ان کے شوہر وریندر بھنڈاری بھی اسی عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی جلد از جلد جانچ مکمل کرے اور دشیَنت گوتم کے ساتھ آر ایس ایس کے ایک اور رہنما اجے کمار کے کال ریکارڈ بھی عام کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی تھی کہ تقرری کے خط پر دستخط کرنے سے پہلے گوتم کے ماضی کی جانچ کی جائے۔

گوتم کی تقرری کی خبر سے سکم میں بھی شدید ناراضگی پھیل گئی۔ سکم بار کونسل نے وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ انکیتا بھنڈاری معاملے کے مکمل طور پر حل ہونے اور نامزد گورنر کو تمام الزامات سے واضح طور پر بری قرار دیے جانے تک ان کی تقرری روک دی جائے۔


سکم کے سماجی کارکن اور سٹیزن ایکشن پارٹی کے رہنما بھارت بسنیٹ نے کہا کہ اتنے متنازعہ پس منظر کے حامل شخص کی تقرری سے ریاست کو شرمندگی محسوس ہورہی ہے۔ طلبہ تنظیمیں اور عام شہری روزانہ احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک گوتم کو گورنر کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا، تحریک جاری رہے گی۔

سوشلسٹ یونٹی سینٹر آف انڈیا (کمیونسٹ) کے رکن ڈاکٹر مکیش سیموال کا خیال ہے کہ گوتم کی تقرری کا واحد مقصد انہیں آئین کے آرٹیکل 361 کے تحت گورنروں کو حاصل مجرمانہ کارروائی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مرکز اور اتراکھنڈ کی حکومتوں کو ہر طرف سے تنقید کا سامنا ہے تو تمام احتجاج کو نظرانداز کرکے یہ تقرری کیوں کی گئی؟ گوتم کے پاس ایسی کون سی خفیہ معلومات ہیں؟ انہوں نے کہا کہ گوتم طویل عرصے سے آر ایس ایس کے وفادار کارکن رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ قانون کو اپنا کام کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا؟

سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ دلتوں کی ایک بااثر ذیلی برادری سے تعلق رکھنے والے اور طویل عرصے سے سنگھ اور بی جے پی کے لیے تنظیمی کام کرنے والے گوتم کو یہ ذمہ داری دے کر پارٹی اترپردیش میں اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر سکم کے نئے گورنر اپنا زیادہ وقت اترپردیش میں گزارتے دکھائی دیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

اتراکھنڈ میں شہری سماج، بائیں بازو کی جماعتیں اور کانگریس مسلسل ’’انکیتا کو انصاف دو‘‘ مہم کی قیادت کررہی ہیں۔ کانگریس رہنما سوریہ کانت دھسمانا نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے گوتم کو قانونی کارروائی سے تحفظ دے کر ریاست کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ اس سے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ کانگریس کی نائب صدر سجاتا پال کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں اداکارہ اُرملا سناؤر نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے پاس موجود اہم معلومات سی بی آئی کو فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سی بی آئی نے ان کا بیان درج کیا تو انہیں اس بات کا احساس ہوا۔


قارئین کو یاد ہوگا کہ دسمبر 2025 کے آخری ہفتے میں سناؤر نے ایک آڈیو کلپ جاری کیا تھا۔ اس میں ان کے شوہر اور بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سریش راٹھوڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ وننترا ریزورٹ میں آنے والا وی آئی پی مہمان کوئی اور نہیں بلکہ ’’گٹو‘‘ تھا۔ دشیَنت گوتم کو ان کے دوست اور قریبی لوگ اسی نام سے پکارتے ہیں۔

بی جے پی کا استدلال ہے کہ پلکت آریہ اور اس کے دونوں ساتھی جیل میں ہیں، تو اب متاثرہ خاندان کو مزید کیا چاہیے؟ لیکن خاندان کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے پورا سچ سامنے لانا چاہتا ہے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ سیاسی اثرورسوخ کے باعث گوتم کا نام جانچ سے باہر رکھا گیا۔ دوسری جانب گوتم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور انکیتا کے قتل میں ان کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کرچکے ہیں۔

اکتوبر کا مہینہ بی جے پی حکومت کے لیے کئی تنازعات لے کر آیا۔ 15 اکتوبر کو خواتین کو بااختیار بنانے اور بہبود اطفال کی وزیر ریکھا آریہ نے اپنے شوہر گِردھاری لال ساہو کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے شوہر پر مارپیٹ، قتل کی سازش، ذات کی بنیاد پر توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے اور دھوکہ دہی کے الزامات لگائے۔

جواب میں ساہو نے الزام عائد کیا کہ ان کی اہلیہ نے وزیر کے عہدے پر رہتے ہوئے 210 کروڑ روپے کی غیر قانونی جائیداد جمع کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ساہو نے کہا، ’’میں ہی انہیں اس مقام تک لے کر آیا۔ وہ سڑک کنارے کھڑی ایک عام خاتون تھیں۔ میری بس اتنی درخواست ہے کہ وہ میرے خلاف درج کرائی گئی بے بنیاد شکایت واپس لے لیں۔‘‘


کانگریس نے ریکھا آریہ کی غیر قانونی جائیداد کی فوری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ساہو روپوش ہوگئے ہیں۔ یہی وہ شخص ہیں جو ایک ویڈیو میں الموڑہ کے نوجوانوں سے یہ کہتے ہوئے نظر آئے تھے کہ انہیں مقامی لڑکیاں نہ ملنے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ بہار سے محض 20 سے 25 ہزار روپے میں ان کے لیے دلہن ’’خریدنے‘‘ میں مدد کرسکتے ہیں۔

ان تمام واقعات نے بی جے پی کی حکمرانی، سیاسی اثرورسوخ اور جواب دہی پر نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ کی انصاف کے لیے جدوجہد اور ریاستی حکومت سے وابستہ شخصیات کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کے درمیان بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا سیاسی وفاداری اور عہدے قانون کے یکساں اطلاق کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟