درگا پوجا میں سیاست اور کارپوریٹ مداخلت
بنگال میں درگا پوجا پر بی جے پی کی سیاست، گجراتی ایونٹ کمپنی کے مہنگے ٹھیکے، اڈانی گروپ کی برانڈنگ اور ہندی مذہبی سرگرمیوں کے بڑھتے اثرات نے بنگالی ثقافت اور زبان کی شناخت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں

کولکاتا ہی نہیں، بلکہ پورا مغربی بنگال ایک گہرے ثقافتی صدمے سے گزر رہا ہے۔ اقتدار کے نشے میں چور ریاست کی نئی بی جے پی حکومت اس سال درگا پوجا کے انعقاد کو لے کر غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بین الاقوامی طرز کے پیدل چلنے والے راستوں سے متاثر ہوکر مصروف فلائی اوور کو رنگ برنگے رنگوں سے سجانے سے لے کر 1864 میں قائم ہونے والے تاریخی کرکٹ اسٹیڈیم ایڈن گارڈنز میں ایک چمک دمک سے بھرپور تقریب پر 180 کروڑ روپے خرچ کرنے تک، ریاست نے اس بار ایک ایسا جشن دیکھا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اس تقریب کے انعقاد کے لیے گجرات کی کمپنی ’گوبناناز‘ کو مبینہ طور پر تقریباً 180 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ اس رقم کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس کی تردید بھی نہیں کی گئی۔ 10 اکتوبر کو ہونے والی اس تقریب کے بعد سے یہ رقم مسلسل خبروں میں ہے، تاہم حکومت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
مقامی ایونٹ مینیجرز اور فن کاروں کو نظرانداز کیے جانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنے والے ریاست کے وزیر خزانہ سواپن داس گپتا نے اس کا الزام مقامی کمپنیوں پر ہی ڈال دیا۔ ایک نجی تقریب میں ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ مغربی بنگال کی کمپنیاں اس سے سبق سیکھیں گی اور اگلے سال بڑے کردار کے لیے خود کو تیار کریں گی۔‘‘ لیکن داس گپتا یہ بتانا بھول گئے کہ سرکاری ٹینڈر کی سخت شرائط نے مقامی کمپنیوں کے لیے بولی لگانا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔
حکومت کی جانب سے جاری درخواستِ پیش کش (آر ایف پی) میں ایک کروڑ روپے کی خطیر ضمانتی رقم اور تین فیصد پرفارمنس سکیورٹی جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔ زیادہ تر مقامی کمپنیوں کے لیے یہ شرائط پوری کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم شرط یہ تھی کہ بولی لگانے والی کمپنی کا گزشتہ دس برس کے دوران اوسط سالانہ کاروبار کم از کم 50 کروڑ روپے ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ سرکاری منصوبوں کے تحت 20 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت والے قومی یا بین الاقوامی پروگرام منعقد کرنے کا تجربہ بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ان شرائط نے مقامی کمپنیوں کے امکانات تقریباً ختم کر دیے۔
ٹھیکہ گجرات کی کمپنی کو ملا، جس کی توقع پہلے ہی کی جا رہی تھی۔ تاہم جس انداز میں رقم خرچ کی گئی، اس نے کئی سوال کھڑے کر دیے۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مدعو کیا تھا، جس سے اس بے تحاشا خرچ کی وجوہات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن معروف گلوکاروں کی پرفارمنس، چمک دار لیزر شو اور ڈرون کے تماشے نے روایتی بنگالیوں کے ایک بڑے طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ اس تہوار کی روح سمجھے جانے والے مقدس دھونوچی رقص کو ایک بھونڈے اور نامناسب رقص کی پیروڈی میں تبدیل کر دیا گیا۔
اس دوڑ میں پیچھے نہ رہتے ہوئے اڈانی گروپ نے بھی آٹھ منتخب درگا پوجا پنڈالوں کو انعامات دینے کے ذریعے اپنی برانڈنگ شروع کر دی۔ ریاست بھر میں منعقد ہونے والی تقریباً 40 ہزار عوامی درگا پوجاؤں میں سے آٹھ پنڈالوں کو انعامات کے لیے منتخب کیا گیا۔ مجسمہ سازوں کو دس دس لاکھ روپے اور منتظمین کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے دیے گئے۔ گروپ نے منتخب پنڈالوں میں آسانی سے درشن کرنے کے لیے ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر ایک لاکھ افراد کی رجسٹریشن بھی کی۔ اس انتظام کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو خصوصی مہمانوں کے طور پر مدعو کیا گیا۔
اڈانی گروپ کے مشیر سنجے تھڈے نے کہا، ’’ہم کولکاتا کی درگا پوجا کی شان و شوکت کو بین الاقوامی اور قومی نمائندوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، تاکہ یہ دنیا کے معروف ترین تہواروں میں شامل ہو سکے۔‘‘ لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ کولکاتا کی درگا پوجا کو 2021 میں یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا؟ یہ ایک سوچی سمجھی تشہیری مہم تھی، جس کے ذریعے تہوار کی مقبولیت کو کارپوریٹ برانڈنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اڈانی گروپ نے اس روایتی بستی کمارٹولی کی حالت بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی لی ہے، جہاں نسل در نسل کاریگر درگا کی مورتیاں تیار کرتے آئے ہیں۔
اس سال بیرونی اثرات صرف کاروباری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کا اظہار کھل کر سامنے آیا۔ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے جاری کیے گئے تقریباً ہر دوسرے پوجا پوسٹر میں بنگالی زبان اور مذہبی علامتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ دکھائی دی۔ ماں درگا کو ان کی مقدس دس بھجاؤں والی شکل کے بجائے آٹھ، نو، گیارہ یا بارہ بازوؤں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے سرکاری اعلانات اور ایک اشتہار میں بھی غیر بنگالی مداخلت کے واضح آثار نظر آئے۔ میونسپل کارپوریشن کے اشتہارات میں ہندی لفظ ’سوچھتا‘ استعمال کیا گیا، جس کا ہندی میں مطلب صفائی ہے، لیکن بنگالی میں اس کے معنی شفافیت کے ہوتے ہیں۔
ابلاغی امور کے ماہر شری راج مترا نے کہا، ’’میں اس گڑبڑ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمے کے سافٹ ویئر پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور لسانی مہارت کی کمی کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ بنگالیوں کا ایک طبقہ بھی ان بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھوں بنگالی زبان کو نقصان پہنچانے میں شریک بن گیا ہے۔‘‘
پرسار بھارتی کے سابق چیف ایگزیکٹیو افسر اور حکومتِ ہند کی وزارتِ ثقافت کے سابق سکریٹری جواہر سرکار نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ بنگالیوں کو یہ نہ سکھائے کہ ماں درگا کا استقبال کیسے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جن لوگوں نے یہ غلطیاں کی ہیں، انہیں شاید معلوم نہیں کہ بنگالی اور ہندی کی جملوں کی ساخت اور باریکیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘‘
زمینی صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال غیر سبزی خور کھانوں کے اسٹال بھی کم لگائے گئے ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے کہ ماں درگا کی تصویر پس منظر میں لگا کر گوشت یا دیگر غیر سبزی خور کھانوں کی تشہیر نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی قوم پرستانہ اور مذہبی موضوعات کا چلن تیزی سے بڑھا ہے۔ جاگراتے اور ’شیرے والی‘ ماتا کے مذہبی پروگراموں نے بھی نمایاں جگہ بنا لی ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کے درمیان اپنے اپنے علاقوں کی درگا پوجا کمیٹیوں پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی دوڑ جاری ہے۔ ہندی بھجنوں اور ہنومان چالیسا کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ہندو تنظیم نے علیم الدین اسٹریٹ پر واقع مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے دفتر کے باہر 24 گھنٹے تک چنڈی پاٹھ کرنے کے لیے جگہ پر قبضہ کر لیا۔
جب بائیں بازو کے رہنماؤں نے دیکھا کہ ان کے 60 سال پرانے روایتی کتابی اسٹال پر ایک ہندوتوا تنظیم نے قبضہ کر لیا ہے تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
ثقافتی پروگراموں کے مقامی اسپانسرز، جو عموماً بلڈر ہوتے ہیں، اس سال کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ نئے حکمرانوں کے ساتھ لین دین اور کمیشن کی شرائط طے کرنے میں مصروف ہیں۔ بلڈروں کا کہنا ہے کہ اقتدار کا کوئی واضح ڈھانچہ نہ ہونے کے باعث مختلف سطحوں کے رہنما اپنی طاقت دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔
اس صورت حال کا ایک اور نقصان بنگالی زبان میں نئے گانوں کے البم جاری کرنے کی روایت کو پہنچا ہے۔ اس شعبے سے طویل عرصے سے وابستہ افراد افسوس ظاہر کر رہے ہیں کہ نوراتری، گربا کے پروگراموں اور ہندی بھکتی گیتوں نے روایتی بنگالی ثقافت کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ بلاشبہ، مغربی بنگال کے لیے یہ ایک بالکل نیا اور اجنبی تجربہ ہے، جہاں درگا پوجا محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ بنگالی زبان، فن، موسیقی، اجتماعی زندگی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
