مظاہرین سے ہی مسائل حل کرنے کی توقع کیوں؟...اے جے پربل

آر ایس ایس کے صد سالہ سال میں بڑھتے احتجاجوں نے تنظیم کے دوہرے معیار، مالی شفافیت اور سیاسی کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ موہن بھاگوت نے مظاہرین سے حل کی توقع کی، مگر ان کے مسائل پر خاموش رہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے 20 اکتوبر 2026 کو دسہرہ کے موقع پر اپنی صد سالہ تقریبات کا اختتام کیا۔ سال بھر جاری رہنے والی ان تقریبات کے دوران تنظیم نے اپنی 2025-26 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 4.61 لاکھ گاؤں اور شہروں میں 10 کروڑ خاندانوں تک رسائی حاصل کی۔ اس موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور 100 روپے کا سکہ بھی جاری کیا گیا۔ بیرون ملک مقیم اپنے حامیوں سے رابطہ مضبوط کرنے کے لیے سنگھ سربراہ موہن بھاگوت خود امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا پہنچے، جہاں انہوں نے ہندوستانی تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے انسانی ہمدردی پر مبنی اور غیر فرقہ وارانہ ایجنڈے کو اجاگر کیا۔

بلاشبہ، ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط، خوش حال اور سیاسی طور پر بااثر ہونے کے باوجود، آر ایس ایس کے لیے اس کا صد سالہ سال پوری طرح خوش گوار نہیں رہا۔ جون میں جنریشن زی (نوجوان نسل) کے احتجاج اور انتخابی کمیشن کی مبینہ ملی بھگت سے بی جے پی کے ذریعے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف ملک گیر مظاہروں نے تنظیم کو حیرت میں ڈال دیا۔ اگست میں ممبئی میں بھاگوت احتجاج کرنے والے ان نوجوانوں کو ’ہمارے اپنے نوجوان‘ قرار دیتے ہوئے ان کی حب الوطنی کی تعریف کرتے نظر آئے، لیکن وجے دشمی کے خطاب میں وہی نوجوان ان کے نزدیک ’جذباتی‘، ’گمراہ‘ اور ’غیر ملکی طاقتوں کے بہکاوے میں آنے والے‘ بن گئے۔

’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، 2025 میں ہندوستان کے چوتھے سب سے طاقتور شخص قرار دیے جانے والے موہن بھاگوت کو بیرون ملک احتجاج اور ملک کے اندر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے آر ایس ایس کو نوٹس بھیج کر اس کی قانونی حیثیت واضح کرنے، رکنیت اور مالی اعانت کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا۔ وہیں، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سنگھ پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسے ’مسخروں کا جتھا‘ اور ’آئین مخالف، صرف مردوں پر مشتمل ایک فرقہ‘ قرار دیا۔

اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر کے طور پر نتن نوین کا انتخاب پارٹی کا اپنا فیصلہ تھا یا اس میں آر ایس ایس کی مرضی شامل تھی، لیکن بانکی پور اسمبلی حلقے میں بی جے پی کی شکست نے دونوں کو مایوس کیا۔ یہ حلقہ 1995 سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اسی دوران، وزیر اعظم نریندر مودی کے 75 سال کی عمر مکمل کرنے سے چھ دن پہلے موہن بھاگوت بھی 75 برس کے ہوگئے۔ اس موقع پر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب 75 سال کی عمر میں عہدہ چھوڑنے کو ہندو روایت کے تصورِ ’وان پرستھ‘ سے جوڑ کر پیش کیا جاتا رہا ہے، تو اب اس اصول کا کیا ہوگا؟ بھاگوت کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سے 75 سال کی عمر میں سبک دوشی کا مطالبہ نہیں کیا اور جب سنگھ ان سے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہے گا، وہ ایسا کر دیں گے۔


آر ایس ایس مسلسل خود کو ایک ثقافتی تنظیم ظاہر کرتا رہا ہے، گویا وہ ایک غیر رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا برسراقتدار جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی سالانہ رپورٹ میں تنظیمی ڈھانچے، علاقائی شناخت اور ارکان کی تعداد سے متعلق تفصیلات موجود نہیں ہوتیں۔ نہ عطیہ دینے والوں کا ذکر ملتا ہے اور نہ ہی آمدنی و اخراجات کے آڈٹ کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دیانت داری اور نظم و ضبط کا دعویٰ کرنے والی تنظیم نے خود شفافیت کے ان معیارات کو کیوں نہیں اپنایا جن کی وہ دوسروں سے توقع کرتی ہے؟

بھاگوت کا استدلال ہے کہ ہندو مذہب کے لیے کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ لیکن جب دوسرے تمام غیر سرکاری اداروں کو قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا پڑتی ہے، تو دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم ہونے کا دعویٰ کرنے والا آر ایس ایس ان سے استثنا کیسے مانگ سکتا ہے؟ یہ کہنا کہ سنگھ محض ’افراد کا ایک گروپ‘ ہے اور اسی لیے اسے اپنے مالی معاملات کی تفصیلات دینے کی ضرورت نہیں، قانونی جواز کے نام پر پیش کی جانے والی ایک عجیب دلیل معلوم ہوتی ہے۔

ایک طرف ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن معمولی یا بے بنیاد وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دی گئی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت کئی اداروں کو بیرون ملک سے چندہ لینے سے روک دیا گیا، وہیں آر ایس ایس مسلسل جانچ پڑتال سے بچتا رہا ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں کہ جب بھاگوت نے مظاہرین کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہنے کا مشورہ دیا تو انہیں تالیاں کم اور ہُوٹنگ زیادہ سننے کو ملی۔

آر ایس ایس پر وسیع تحقیق کے لیے معروف صحافی اور مصنف دھیریندر کے جھا اسے ایک نجی، آئین مخالف نیم فوجی تنظیم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، سنگھ اپنے کارکنوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دیتا ہے۔ بھاگوت خود بھی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر وہ تین دن کے اندر، ہندوستانی فوج سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ، ایک فوج کھڑی کر سکتے ہیں۔ سنگھ کے کارکن یکساں وردی پہنتے ہیں اور وجے دشمی کے موقع پر ہتھیاروں کی پوجا کرتے ہیں۔ جھا کا سوال ہے کہ ہندوستان کا کون سا قانون ایسی تنظیم کو رجسٹریشن سے استثنا دینے کی اجازت دیتا ہے؟


ایک ایسے وقت میں جب دہلی میں قومی پرچم لہرانے پر لوگوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں جیل بھیجنے کی نوبت آ رہی ہے، آر ایس ایس اپنے لاٹھی بردار کارکنوں کے ساتھ جلوس نکال رہا ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے ایک خط کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں سنگھ نے حکومت کو اپنے روٹ مارچ کے بارے میں ’اطلاع‘ دیتے ہوئے پولیس سے ’تعاون‘ طلب کیا تھا اور حکومت سے ’ضروری انتظامات‘ کرنے کو کہا تھا۔

کھرگے نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ جب لاکھوں افراد ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں کرناٹک کی سڑکوں پر مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پولیس کو اہلکاروں کی تعیناتی، نقل و حمل، کھانے، ٹریفک کے انتظام، سلامتی اور دیگر ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کرنا پڑتی ہیں۔ اس کے لیے منصوبہ بندی، افرادی قوت اور عوامی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا درخواست فارم پُر کیا جائے، ضروری تفصیلات فراہم کی جائیں اور باضابطہ اجازت کا انتظار کیا جائے۔ ان کا یہ طنز اس تضاد کو نمایاں کرتا ہے کہ ایک نجی تنظیم عوامی وسائل اور سرکاری خدمات سے فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے، لیکن عوام کو معلومات فراہم کرنے کے معاملے میں شفافیت سے گریز کرتی ہے۔

بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی نہیں ہونے والی۔ ان کے مطابق، احتجاج کی موجودہ لہر ’مغرب سے آنے والا ایک ایسا طوفان‘ ہے جو ہر طرح کے نظام، تہذیب، اچھی چیز اور ثقافتی و انسانی اقدار کے خلاف ہے اور انہیں تباہ، آلودہ اور برباد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے حسب معمول ان احتجاجوں کے پیچھے ’غیر ملکی ہاتھ‘ ہونے کا امکان ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کی خبروں پر نظر ڈالیں تو فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والے واقعات ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

احتجاج کے بارے میں بھاگوت کے خیالات میں کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ انہوں نے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری بھی مظاہرین ہی پر ڈال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد حل تلاش کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ معاشرے میں دشمنی بڑھانا یا تقسیم پیدا کرنا۔ تاہم، سنگھ سربراہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے دکھائی دیے کہ حکومت کی پالیسیوں اور سیاسی بیانات پر بھی معاشرتی تقسیم اور دشمنی کو بڑھانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔


شہریوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور طلبہ کے احتجاج کے اصل اسباب پر بھاگوت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ نہ ووٹ چوری کے الزامات کا ذکر کیا، نہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پر بات کی، نہ سی بی ایس ای امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا اور نہ ہی نیٹ امتحان میں گڑبڑی کے معاملے کو اہمیت دی۔ اس کے برعکس، انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک بغیر تصدیق شدہ معلومات پہنچنے کے نقصانات اور اس پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔ لیکن حکومت کے حامی مرکزی دھارے کے میڈیا کے اس کردار پر خاموش رہے جس پر مخالفین گمراہ کن اطلاعات پھیلانے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

بھاگوت کے خطاب کو بعض تجزیہ کاروں نے تنظیم کے اندر پائے جانے والے خوف کی علامت قرار دیا۔ مصنف اور تبصرہ نگار آشوتوش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ خطاب اس بات کی بہترین مثال ہے کہ پوری تنظیم کتنی خوف زدہ اور کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے 1975 کا حوالہ دیا، جب آر ایس ایس نے جے پرکاش نارائن اور اس وقت کی حزب اختلاف کی حمایت کی تھی اور فوج و پولیس سے سرکاری احکامات نہ ماننے کی اپیل کی تھی۔ 1977 میں وزیر اعظم بننے والے مرارجی دیسائی نے بھی کہا تھا کہ اندرا گاندھی کو اس وقت تک گھر میں نظر بند رکھا جائے گا جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیتیں۔ آشوتوش کا سوال تھا کہ کیا یہ بھی اقتدار کی تبدیلی کی مہم نہیں تھی؟

دھیریندر کے جھا کا خیال ہے کہ دوہرے معیار کے لیے معروف آر ایس ایس کے موجودہ رویے کے پیچھے خوف کارفرما ہو سکتا ہے۔ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ملنے والے جھٹکے کے بعد بھاگوت کے اس خطاب کو یاد کرتے ہیں جس میں انہوں نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کہی تھی۔ اس وقت بھاگوت نے کہا تھا کہ حزب اختلاف کا ایک اہم کردار ہوتا ہے اور وہ دشمن نہیں ہے۔ منی پور میں ڈیڑھ سال تک جاری تشدد پر خاموشی کے بعد انہوں نے وہاں کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی تھی، جہاں حالات اب بھی پوری طرح معمول پر نہیں آئے ہیں۔

جھا کے مطابق، اس سال کے خطاب میں اقتدار کی تبدیلی کا خوف نمایاں ہونے کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو سمجھ نہیں آ رہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے احتجاجوں سے کیسے نمٹا جائے۔ اقتدار کھونے کے خدشے سے پریشان ہو کر وہ ’غیر ملکی سازش‘ کے اس بیانیے کا سہارا لے رہے ہیں جسے پیش کرنا ان کے لیے نسبتاً آسان ہے۔


اصل سوال یہی ہے کہ اگر احتجاج کرنے والے شہری اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان مطالبات کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری کیوں نہیں؟ مظاہرین سے حل تلاش کرنے کی توقع رکھنے سے پہلے ان شکایات کو دور کرنا ضروری ہے جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر اترنے پر مجبور کیا۔ احتجاج کو غیر ملکی سازش قرار دینا یا نوجوانوں کو گمراہ بتانا ان بنیادی سوالات کا جواب نہیں ہو سکتا جن سے حکومت اور اس کی حمایت کرنے والی تنظیمیں مسلسل بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔