پھاگن میں رمضان، رمضان میں پھاگن… کرشن پرتاپ سنگھ

تعریف کی بات ہے کہ ملکی باشندے اب بھی تفریق پر آمادہ حکومتی رویے کے باوجود ’تو مناؤ عید اور ہم منائی ہولی، نہ تو ہم سے بولا نہ ہم تونہہ سے بولی‘ کے نسخہ پر عمل نہیں کرتے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

کرشن پرتاپ سنگھ

کوئی اسے پھاگن میں رمضان کہے یا رمضان میں پھاگن، گزشتہ 2 برسوں کی طرح اس بار بھی ہولی اور عید کے درمیان صرف چند دنوں کا ہی فاصلہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہولی پھاگن کے مہینے کے اختتام پر منائی جاتی ہے، جبکہ عید رمضان کے مہینے میں۔ ماہرین کے مطابق 1961 کے بعد 2024 میں پہلی بار ہولی رمضان کے مہینے میں منائی گئی، جبکہ 2025 میں دوسری بار ایسا ہو رہا ہے۔ اب اس سال کے بعد ایسا نایاب اتفاق 31 برس بعد 2057 میں ہوگا، جب پھاگن اور رمضان یا ہولی اور عید دونوں ایک دوسرے کے آس پاس پھر آ پڑیں گے۔

ان تہواروں کے اس نایاب اتفاق کی خوشی اس حقیقت کے آئینہ میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ اس ملک میں ہزاروں برسوں سے ساتھ رہتے آئے ہولی اور عید منانے والے ہندو مسلم برادریوں نے (اپنے اپنے درمیان کے شرپسندوں کی تمام تر شرارتوں کے باوجود) وقت کے ساتھ ایسی سمجھداری پیدا کر لی ہے، جو نہ اسے بدشگونی بننے دیتی ہے اور نہ بدشگونی بنا سکنے والی بدگمانیوں اور اندیشوں کو ہوا دینے دیتی ہے۔ اسی لیے اس کی تاریخ ہم آہنگی اور میل جول کی ہے، نہ کہ آج کل پھیلائے جا رہے اس ’عدم اعتماد‘ کی، جس کا بڑا حصہ ایک بڑے فتنہ پرور رجحان کے ذریعے گھڑا گیا اور بے بنیاد خوف کے ہاتھوں لوگوں کے ذہن و دماغ میں بھوت کی طرح بٹھا دیا گیا ہے۔


یہ تاریخ ایسی اس لیے ہے کہ جب یہ بنی، تب سیاسی فائدے کے لیے ’ہندو-مسلمان‘ کرنے، دوسرے فرقہ کے بارے میں زہر آلود باتیں کہنے، نفرت انگیز تقاریر دینے اور ناپسندیدہ عبادت گاہوں کے سامنے گاجے باجے کے ساتھ ہنگامہ کرنے کے نہیں، بلکہ اپنے مذہب کی روایات اور عقائد کی شائستگی کے ساتھ پاسداری کرنے کے دن تھے۔ انہی دنوں کی بنیاد پر آج ہم جانتے ہیں کہ عید اور ہولی دونوں ہی گلے ملنے کے تہوار ہیں اور ان کے اتفاق کو لے کر پیدا کیے جا رہے اندیشے (جنہیں کئی حکومتیں اور ان کے زیر اثر انتظامیہ ’ہر صورت حال سے نمٹنے‘ کی تیاریوں کے اپنے دعوؤں سے بڑھا رہے ہیں، اس طرح جیسے ان کے سامنے کسی ہنگامی حالت سے نمٹنے کی سخت آزمائش آ کھڑی ہوئی ہو) کچھ مکار ذہنوں کی ’دانشمندی‘ کی اولاد ہیں۔

کیا کیجیے گا، ان مکار ذہنوں کو گلے ملنے سے زیادہ گلے کاٹنے کا موسم زیادہ راس آتا ہے۔ ورنہ تو ہولی یہ اعلان کرتی آئی ہے کہ ’جو بیگانہ ہو گیا ہو، اسے بھی اپنا بنا لو‘ اور سب کو اپنا بنانے کا ارادہ ہو تو آخر کون پرایا رہ جاتا ہے یا دشمنی کے لائق بچتا ہے؟


دوسری طرف عید کے بارے میں شاعر قمر بدایونی نے کیا خوب شعر کہا ہے ’عید کا دن ہے، گلے آج تو مل لے ظالم/ رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے‘۔ اس رسم دنیا، موقع یا دستور کو اودھ میں اپنے اقتدار کے دوران اس کے نوابوں نے اور برے دنوں میں ان کی دلیر خاتون بیگم حضرت محل نے، 1857 میں لڑی گئی پہلی جنگ آزادی کی نازک گھڑی میں بھی خوب سینچا۔ پھر تو یہ تہوار مذہبی اور ثقافتی میل جول کی ایسی مثال بن گئے کہ کہا جانے لگا کہ جسے ہولی اور عید پر بھی اپنا ہندو یا مسلمان ہونا یاد رہ جائے، وہ سچ پوچھیں تو انھیں منانے کے لائق ہی نہیں ہے، اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔

اس پر ہولی اور عید کے اتفاق کی تو بات ہی الگ ہے، نواب واجد علی شاہ کے زمانے میں ایک سال ہولی ہی کے دن ماتم کا تہوار محرم پڑ گیا تو دونوں کو منانے والوں نے ایک دوسرے کے جذبات کے احترام کی ایسی مثال قائم کی جو آج تک بے مثال ہے۔ ہوا یہ کہ ہولی منانے والوں نے محرم کے ماتم کے پیش نظر ہولی نہ منانے کا فیصلہ کر لیا تو واجد علی شاہ نے کہا کہ اب دوسرے فریق کا فرض ہے کہ وہ بھی پہلے فریق کے جذبات کا اسی طرح احترام کرے۔ پھر انہوں نے خود رنگ کھیل کر ہولی منانے کی شروعات کی۔ نہ صرف شروعات کی، بلکہ پورے صوبے میں سب کے ہولی کھیلنے کا فرمان بھی جاری کیا۔


مغل بادشاہوں اکبر، جہانگیر اور شاہجہاں کے دور میں تو ہولی کو ’عیدِ گلابی‘ کا نام دے کر شاہی سطح پر عیدالفطر جیسی ہی خوشی کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ مغلوں کے زوال کے بعد انگریزوں کا راج آیا تو ان کی ’بانٹو اور راج کرو‘ کی پالیسی کے باوجود جب بھی پھاگن اور رمضان یا ہولی اور عید ایک ساتھ یا ایک دوسرے کے قریب آئے، خیر سگالی کے دشمنوں کی اکساہٹوں کے برعکس دونوں برادریوں کے لوگوں نے باہمی رضامندی سے رنگ کھیلنے، گلے ملنے اور جلوس نکالنے وغیرہ کا وقت طے کر کے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ میل جول کی روایت کو آگے بڑھایا، ہر ممکن کوشش کے ساتھ کہ کسی بھی صورت میں خوشی کے رنگ میں خلل نہ پڑے۔ نہ روزہ دار ضبط و سکون کا دامن چھوڑیں، نہ ہولی منانے والے رنگوں سے بچنے والوں پر زبردستی رنگ ڈالیں۔

ان کی یہ روایت اس وقت کی ہے، جب انگریز عموماً ان کے تہواروں کو بے رنگ اور بے نور کرنے کی کوئی بھی کوشش چھوڑتے نہیں تھے۔ البتہ، ایسے کئی مواقع پر برطانوی افسران (جو اگر خیر خواہ ہوتے تو جوش و خروش کے ساتھ ان تہواروں میں شریک بھی ہوتے تھے) عوامی طور پر رنگ کھیلنے کی جگہوں اور جلوسوں کے راستوں پر پولیس فورس کی تعیناتی کیا کرتے تھے۔ لیکن میل جول برقرار رکھنے میں بڑا کردار سماج کے بزرگوں کی جانب سے ایک دوسرے کے عقائد اور جذبات کے احترام کے لیے اٹھائے جانے والے خصوصی اقدامات ہی ادا کرتے تھے۔ دونوں سطحوں پر ہم آہنگی قائم رکھنے میں مقامی سطح پر قائم کی گئی امن کمیٹیوں کے ذریعے ڈالی اور پروان چڑھائی گئی مشترکہ ثقافتی روایات کا نمایاں کردار ہوتا تھا۔ امن کمیٹیاں دونوں برادریوں کے بااثر بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں کو شامل کر کے بنتی تھیں، جو کسی بھی تنازعہ کی صورت میں باہمی براہ راست مکالمے کے ذریعے اسے سلجھا لیتی تھیں۔ جمعہ اور ہولی ایک ساتھ پڑتے تو نماز اور جلوس کا وقت باہمی گفتگو سے طے کر لیا جاتا تھا۔


انگریزوں کا راج ختم ہوا، ملک آزاد ہوا اور اس کے 14 برس بعد 1961 میں ہولی اور عید پھر قریب آئیں تو بھی سماجی ہم آہنگی کی روایت کچھ اور مضبوط ہوئی تھی۔ اس وقت رمضان کا مہینہ 16 فروری سے شروع ہوا تھا اور ہولی 2 مارچ کو منائی گئی تھی۔ اس دوران کتنی گہری ہم آہنگی رہی تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے کے تاریخی دستاویزات اور اخباری رپورٹس میں ہولی یا عید پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا ایک بھی واقعہ درج نہیں ہے، جبکہ باہمی بھائی چارے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت تھی، جب ہولی اور عید سے قبل 3 سے 10 فروری کے درمیان ایک ذاتی تنازعہ کو لے کر مدھیہ پردیش کے جبل پور میں شدید فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔

اس فساد سے دل گرفتہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف اس ایک بلکہ ملک کی تمام ریاستی حکومتوں کو امن و قانون یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایات دی تھیں۔ انہوں نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولرزم برقرار رکھنے پر زور دیا اور جبل پور میں فساد نہ روک پانے پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کیلاش ناتھ کٹجو اور ان کی حکومت پر سخت تنقید کی اور اس بنیاد پر ’بخشش‘ دینا گوارا نہیں کیا کہ وہ انہی کی پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کا ملک گیر اثر ہوا۔


ان دنوں کے برعکس آج کے دور میں مشکل یہ ہے کہ ہم آہنگی کی پاسداری ’ہندو-مسلمان‘ کرنے والی حکومتوں کی ترجیحات میں ہی نہیں رہی ہے۔ وہ ایسے ہر اتفاق کو اپنی فرقہ وارانہ سیاست کے لیے استعمال کرنے کے چکر میں رہتی ہیں اور ان کے زیر تحفظ آگ بھڑکانے والے رہنما سچے جھوٹے اندیشوں کو ہوا دے کر باہمی عدم اعتماد پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

اتر پردیش کی بات کریں تو یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ایسے رہنماؤں پر قدغن لگانے کے بجائے ان کے لیے ڈھال کا کام کرتی ہے۔ اس کے لیے اس نے ایک خاص قسم کی اقتداری طرز اختیار کر لی ہے اور دعویٰ ہے کہ وہ طرز بہت مقبول ہے۔ اس طرز کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ 2024 اور 2025 میں ہولی و رمضان کا اتفاق ہوا تو وہ شرپسندوں کو مسجدوں پر رنگ یا گلال پھینک کر تنازعہ یا فساد کرانے سے روکنے اور امن و قانون برقرار رکھنے کے سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے صوبے کے مبینہ طور پر حساس اضلاع کی سینکڑوں مسجدوں کو ڈھانپنے کے راستے پر چل پڑی۔


یہ ماننے کی کئی وجوہات ہیں کہ اس کے پیچھے امن و امان قائم رکھنے کی فکر کم اور اپنی دھاک جمانے کی نیت زیادہ تھی۔ اس نیت کے اشارے اس نے 2017 میں اقتدار میں آتے ہی دینا شروع کر دیے تھے۔ اس کے اقتدار میں آنے سے پہلے مسجدیں صرف شاہجہاں پور میں ہی ڈھکی جاتی تھیں۔ وہ بھی ہولی اور عید یا پھاگن اور رمضان کے اتفاق کے موقع پر نہیں، بلکہ ’لاٹ صاحب‘ کے جلوس کے موقع پر، جو وہاں 1728 سے نکالا جاتا ہے۔

قابل ستائش ہے کہ ملک کے لوگ آج بھی امتیاز برتنے پر آمادہ رہنے والی حکومتوں کے آلودہ رویے کے باوجود ’تو مناؤ عید اور ہم منائی ہولی، نہ تو ہم سے بولا نہ ہم تونہہ سے بولی‘ کے ’نسخہ‘ پر عمل نہیں کرتے اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھ کر بدگمانی کے علمبرداروں کو غلط ثابت کرنے اور مایوس کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یقین ہے کہ اس بار بھی وہ ایسا ہی کریں گے۔