یوم قدس صہیونی حکومت پر دباؤ کی علامت

قدس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ مقدس سر زمین انبیاء کی جائے سکونت اور ان کی بعثت کی جگہ، مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اعظمؐ کے آسمانی معراج کی جانب عروج پانے کی جگہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>یوم قدس، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

یوم قدس، تصویر آئی اے این ایس

user

نواب علی اختر

عالم اسلام کے لیے قدس شریف آج اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے جس کا دفاع ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے کیونکہ ایک غیر قوم فلسطین کی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد اس مقدس مقام کو بھی ہڑپنے پر آمادہ ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جس کی وجہ سے اکثر محافظین قدس کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یہاں تک کہ معصوم بچوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں بھاری ہتھیاروں سے شہید کر دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ 70 سالوں سے متواتر جاری ہے مگر انسانی حقوق کے خود ساختہ ٹھیکیدار مظلوم قوم کی حمایت اور ظالموں کی مخالفت کے لیے ہمت نہیں کر پا رہے ہیں شاید اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا معاملہ ہے جس کے بارے میں عام ہے کہ یہ قوم (عرب ممالک) اپنے مسلکی تنازعہ سے اوپر اٹھ کر قومی مسائل پر کسی طرح متحد ہونے والی نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر قابض اسرائیلی فورسز نے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور انہیں پرامن طریقے سے عبادت کرنے سے بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دو سال قبل بھی رمضان المبارک میں اسرائیل نے غزہ پر بمباری کرکے کئی فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا اور یہ عید کے بالکل قریب کے دن تھے، جس کی وجہ سے خاص طور پر فلسطینیوں اور عمومی طور پر پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کی عید متاثر ہوئی تھی۔ فلسطینیوں پر اس وقت اتنا تشدد ہوا تھا کہ کسی کو عید کی مبارک دیتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ فلسطینیوں پر تشدد کیا جا رہا ہے اور وہاں کتنے ہمارے بھائی شہید ہوگئے، ہم عید کی خوشیاں کیسے منائیں؟


عالم اسلام کے لیے فلسطین اور قبلہ اول اس معنی میں اہم موضوع ہے کہ 1948 میں ایک ملت کو اس کی اپنی سر زمین سے ہٹا دیا گیا اور اس مظلوم قوم کو دوسرے علاقوں میں رفیوجی کی طرح پناہ گزین ہونے پر مجبور کر دیا گیا وہیں باہر سے لائے گئے افراد کو جگہ دی جانے لگی جو انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی تھی اور اس طرح مسلمانوں کا قبلہ اول رجیم کے قبضہ میں پہنچ گیا جو مسلمانوں کی حیثیت کا سوال ہے۔ اپنی زمین اور اپنے مقدسات کے حصول کے لیے فلسطینی عوام آج بھی جدوجہد کر رہے ہیں جس میں اب تک ہزاروں بے قصور افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ارض مقدس پر عبادت گزاروں اور نہتے محافظین بیت المقدس پر بندوقوں، راکٹوں اور آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کرکے انہیں اپنی زمین سے دور رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

ارض فلسطین پر قابض قوم کی شروع میں کوشش تھی کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ کو عربوں اور اسرائیل کے درمیان ایک قومی تنازعے میں تبدیل کر دیا جائے لیکن دنیائے اسلام کے ایک عظیم دینی مرجع ہونے کے لحاظ سے بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کے موقف کے اعلان کے بعد اسرائیل کے ساتھ نیم جان مبارزے میں تازہ روح پھونک دی گئی اور اس کے باعث دوسری ہر چیز سے بڑھ کر فلسطین کی جنگ اسلامی مقاومت میں تبدیل ہو گئی اور فلسطین کے عوام نے دیگر گروہوں سے رابطہ منقطع کر لیا جو اس بات کی تائید ہے۔ یوم قدس مختلف زاویوں سے اہمیت کی حامل ہے، منجملہ یہ کہ اس سے غاصب اسرائیلی حکومت کے ناجائز وجود کی عالمی سطح پر مخالفت ہوتی ہے۔ یہی یوم قدس صہیونی حکومت پر دباو کی علامت ہے۔


 اب ایک بار پھر قابض فورسیز نے ماہ مقدس میں فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا ہے، انہیں پہلے تو مسجد سے نکالا اور اب سڑکوں پر بھی ان پر تشدد کر رہے ہیں اور مزاحمت کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں مسلمان ملکوں کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون ایک اہم اور بنیادی ہدف ہونا چاہئے اور یہ ہدف دسترس سے باہر بھی نہیں ہے۔ اس ہم آہنگی اور تعاون کا مرکز مسئلہ فلسطین، یعنی پورے ملک فلسطین اور قدس شریف کو ہونا چاہئے۔ یہ وہی حقیقت ہے جس نے حضرت امام خمینی کے قلب نورانی میں یہ بات ڈالی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے یعنی جمعة الوداع کو’یوم القدس‘ قرار دیا جائے۔ القدس صرف ایک اسلامی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی اور انسانی مسئلہ ہے جو آزادی کے لیے ایک پیمانہ بن گیا ہے۔

قدس شریف وحی کی حامل اور اسلامی نگاہ میں مسجد الاقصی کی وجہ سے غیر معمولی قدر و قیمت کی حامل ہے۔ قدس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ مقدس سر زمین انبیاء کی جائے سکونت اور ان کی بعثت کی جگہ، مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اعظمؐ کے آسمانی معراج کی جانب عروج پانے کی جگہ ہے۔ قبة الصخرة اور مسجد الاقصی دو مقدس مقامات اس شہر میں ہیں۔ بیت المقدس یہودیوں اورعیسائیوں کے لیے بھی دینی اور مذہبی لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مقدس شہر قدس کوعمر بن عاص بن وائل نے صدر اسلام میں فتح کیا تھا اور صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں اس کو صلیبیوں کے چنگل سے آزاد کروایا تھا، سلیمان قانونی نے سولہویں صدی میں اس کی دیواریں تعمیر کی تھیں، یہ شہر مسلمانوں کے نزدیک خاص اہمیت کا حامل ہے۔


1947 میں جب سے قدس شریف پر صہیونیوں نے قبضہ کیا ہے اس کو اسرائیل کا دائمی پائے تخت اعلان کر دیا گیا۔ تمام نظریں قدس پر جمی ہوئی ہیں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے دل اس پر ٹکے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے یہودی اس کوشش میں ہیں کہ اپنے لیے ایک تاریخ بنائیں اور انہوں نے اپنی پوری کوشش اس کو یہودی بنانے پر مرکوز کر رکھی ہے اور ان کا دعوی ہے کہ دیوار ندبہ ان کی ہے، قدس کو اس کے مقام اور مرتبے کے پیش نظر دنیا کو بہت اہم اور حساس شہر قرار دیا جانا چاہیے، اس طرح کہ اس وقت وہ اسرائیل اور مسلمانوں اور خاص کر قدس کے رہنے والوں کے درمیان تنازعے کی بنیاد بن چکا ہے۔ اس شہر کی اصلی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ یہ تین آسمانی ادیان، اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے اتصال کا مرکز ہے۔

قدس کو صرف یہودی بنانا اور اس میں یہودیوں کے رہائشی شہر تعمیر کرنا اور اسلامی اور وحی کے آثار کو مٹانے کی سیاست اس حکومت کی وسعت طلبی اور نسل پرستی کی سیاستوں کے ساتھ کہ جن پر اس وقت عمل ہو رہا ہے وہ بالکل اس شہر کی ماہیت اور اس مقدس شہر کے واقعی مفہوم کے ساتھ متضاد اور متعارض ہے۔ حقیقت میں مسجد الاقصی کے نیچے سے سرنگ بنانا اور فلسطینی علاقوں میں شہروں کی تعمیر کے پیچھے صہیونیوں کے دو بڑے مقاصد ہیں ایک فلسطینیوں کو نکالنا اور دوسرا اسلامی آثار کو مکمل طور پر مٹانا تاکہ یہ حکومت اس مقدس شہر کو جو فلسطینیوں کا ہے، اپنے قبضے میں رکھ سکے۔ خاص کر گزشتہ دو دہائیوں میں صہیونیوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ قدس شریف کو یہودی شہر میں تبدیل کر دیا جائے۔


اسلامی ممالک کے آپس کے تعلقات اچھے ہوں تو اسرائیل کی جرات نہیں ہوگی کہ کسی اسلامی ملک کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے۔ مگر افسوس کہ عالم اسلام کے رہنماؤں کو فقط ذاتی مفادات عزیز ہیں جن کی وجہ سے وہ امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات سے نظریں چرا رہے ہیں۔ حالانکہ عرب ممالک میں موجودہ وقت میں کچھ تبدیلیاں نظر آرہی ہیں جو مستقبل کے لیے نیک شگون کہی جاسکتی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں پر زور ڈالیں کہ وہ باقی ماندہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیں اور فلسطینیوں کو اپنی حکومت بنانے اور اپنے ملک کو آزادانہ طور پر ترقی دینے کے قابل ہوسکیں۔ یوں کم از کم وہ اسرائیل کی آئے روز کی جارحیت سے تو محفوظ ہو جائیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔