پنجاب: گرندر سنگھ ڈھلوں ہونے کا مطلب... ہرجندر

بی جے پی ایک ایسی ریاست میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اسے پہلے سے ہی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں ڈھلوں کی بڑھی ہوئی عوامی سرگرمیاں مزید اہم ہو جاتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>گرندر سنگھ ڈھلوں، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

ہرجندر

ایک ایسی ریاست میں جہاں مذہب اور سیاست کا رشتہ طویل عرصہ سے گڈمڈ رہا ہے، گرندر سنگھ ڈھلوں سے متعلق حالیہ واقعات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بااثر رادھا سوامی ستسنگ بیاس کے روحانی سربراہ، جنہیں ان کے پیروکار صرف ’بابا‘ کے نام سے جانتے ہیں، پنجاب کے سیاسی منظرنامہ پر اس انداز میں نمودار ہو رہے ہیں جیسا پہلے کبھی کسی ڈیرہ چیف کے ساتھ نہیں ہوا۔

ان قیاس آرائیوں کی فوری وجہ ڈھلوں کا جیل جا کر شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے سینئر لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھیا سے ملاقات کرنا تھا، جو آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملہ میں قانونی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان پر منشیات سے متعلق الزامات بھی عائد ہیں۔ ملاقات کے بعد (یکم فروری کو) ڈھلوں نے اعلانیہ طور پر مجیٹھیا کو بے قصور قرار دیا۔ قانونی طور پر یہ اندازہ درست تھا یا نہیں، یہ الگ بحث ہے۔ لیکن سیاسی طور پر گرم ماحول والے پنجاب میں، ریاست کے سب سے بڑے ڈیرے کے سربراہ کا ایسا بیان ایک واضح سیاسی اشارہ تھا، جسے عموماً برسراقتدار عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔


ڈھلوں کی سیاسی سرگرمی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ 10 فروری کو وہ فیروزپور میں پنجاب کے گورنر گلاب چند کٹاریا کی جانب سے منشیات مخالف بیداری کے لیے منعقدہ پیدل مارچ میں شریک ہوئے۔ اسٹیج پر ایس اے ڈی صدر سکھبیر سنگھ بادل اور پنجاب بی جے پی کے قائم مقام سربراہ اشونی شرما بھی موجود تھے۔ منظر حیران کن تھا۔ ایک روحانی رہنما، عآپ کے خلاف متحد اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر نظر آ رہے تھے۔

تقریب کے دوران بند کمرے میں ہونے والی ملاقات نے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔ سیاسی حلقوں میں افواہ تھی کہ ڈھلوں عآپ اور کانگریس کو ٹکر دینے کے مقصد سے ایس اے ڈی-بی جے پی کے ممکنہ اتحاد کو دوبارہ کھڑا کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ بعض مبصرین نے ان کے کردار کو ایک ’پُل‘ سے تشبیہ دی، جس کے ذریعے وہ منشیات سے نجات جیسے سماجی مسائل پر پارٹیوں کے درمیان تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اس کے پیچھے ایک سیاسی مقصد موجود ہے۔ کچھ لوگوں نے یہاں تک کہا کہ بی جے پی، جو اب بھی پنجاب کے مشکل سیاسی ماحول میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ڈھلوں کو وزیر اعلیٰ کے ممکنہ چہرے کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔ اگرچہ ایسی کسی منصوبہ بندی کا کوئی آفیشیل اشارہ نہیں ملا، لیکن ڈیرہ سربراہ کے حوالے سے بیانیے میں ڈرامائی تبدیلی نے ان قیاس آرائیوں کو کچھ نہ کچھ جواز ضرور دیا ہے۔


ڈیرہ بیاس میں سیاسی شخصیات کی آمد کوئی نئی بات نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت حالیہ برسوں میں وہاں حاضری دے چکے ہیں۔ ایسے دورے پنجاب کی طویل سیاسی روایت کا حصہ رہے ہیں، جہاں پارٹیاں انتخابات سے قبل مذہبی اور روحانی اداروں سے وابستگی ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن جو بات نئی ہے، وہ کرداروں کا واضح الٹ پھیر ہے۔ روایتاً سیاستداں آشیرواد لینے جاتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی کسی ڈیرہ چیف نے اس قدر سرگرمی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہو۔

امرتسر کے سیاسی مبصر جگروپ سنگھ سیکھوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی پنجاب میں ایک لازمی کھلاڑی بننے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ ان کے مطابق پارٹی موجودہ سیاسی مساوات کو توڑنے اور ایک ایسی ریاست میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اسے پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں ڈھلوں کی بڑھتی ہوئی عوامی سرگرمیاں اور بھی اہم ہو جاتی ہیں۔ رادھا سوامی ستسنگ بیاس بلاشبہ پنجاب کا سب سے بااثر ڈیرہ ہے، جس کے ہندوستان اور بیرون ملک لاکھوں پیروکار ہیں۔ اس کا وسیع نیٹورک اور منظم ڈھانچہ اسے غیر معمولی سماجی اہمیت دیتا ہے۔ تاہم، ڈیروں کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھنے کے باوجود اس بات کا کوئی قابل اعتماد تحقیقی ثبوت نہیں کہ کسی ڈیرے کی حمایت براہ راست انتخابی نتائج کو بدل دیتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں ان کا آشیرواد لینے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں، لیکن ووٹنگ پیٹرن پر حقیقی اثر عموماً بیانیے کی حد تک ہی محدود رہتا ہے۔


ڈھلوں کی ذاتی عوامی شبیہ بھی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ ان کا نام رین بیکسی اسکینڈل سے متعلق کارروائی میں سامنے آیا تھا، جس میں کمپنی کے سابق پروموٹر مالویندر اور شیوندر سنگھ شامل تھے۔ مالویندر سنگھ نے عدالت میں الزام لگایا تھا کہ رین بیکسی میں حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ ڈھلوں اور ان کے خاندان کو دیا گیا۔ 2019 میں دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے سے متعلق ڈھلوں، ان کے اہل خانہ اور درجنوں دیگر اداروں کے خلاف ’گارنشی آرڈر‘ جاری کیے تھے، جس کے تحت کسی تیسرے فریق کو قرض کی ادائیگی براہ راست قرض خواہ کو کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ابتدا میں ڈھلوں خاندان نے حلف نامہ داخل کر کے کہا کہ ان پر سنگھ برادران کی کمپنیوں کا کوئی بقایہ نہیں۔ اُسی سال بعد میں ڈھلوں نے 2006 کے کچھ مالی لین دین کا اعتراف کیا۔ تاہم انہوں نے مبینہ واجبات کی مقدار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مکمل اور شفاف حساب پیش نہیں کیا گیا۔ اس واقعہ نے ڈیرہ چیف کی کم نمایاں عوامی شبیہ کو متاثر کیا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رین بیکسی تنازعہ کے بعد کے برسوں میں ڈھلوں کی قومی لیڈران سے بڑھتی قربت شاید حکمت عملی کا حصہ رہی ہو۔ یہ اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط رکھنے یا مشکل وقت میں خود کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو سکتا تھا۔ اگرچہ ایسے دعوے قیاس پر مبنی ہیں، لیکن وہ موجودہ وسیع تر بیانیے سے مطابقت رکھتے ہیں۔


ایک اہم اور کسی حد تک غیر متوقع تنظیمی فیصلے میں، جسدیپ سنگھ گل کو 2 ستمبر 2024 کو ڈھلوں کا جانشیں مقرر کیا گیا تھا۔ گل کی پروفائل مختلف ہے۔ وہ آئی آئی ٹی، ایم آئی ٹی و کیمبرج جیسے معروف اداروں سے تعلیم یافتہ ہیں اور رین بیکسی میں سینئر عہدے کا کارپوریٹ تجربہ رکھتے ہیں۔ ڈھلوں کے اس اقدام کو قیادت کو ادارہ جاتی شکل دینے اور ممکنہ طور پر ڈیرے کو آئندہ چیلنجوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ اس پس منظر میں ڈھلوں کی حالیہ سیاسی سرگرمیاں مزید معنی خیز معلوم ہوتی ہیں۔ کیا وہ بتدریج روحانی قیادت کو سیاسی کردار میں تبدیل کر رہے ہیں؟ یا ان کی سرگرمیاں محض سماجی مسائل پر اخلاقی مداخلت کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں؟

پنجاب کی سیاسی تاریخ مذہبی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے عوامی مباحثے پر اثر انداز ہونے کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ تاہم، اتنے بڑے ڈیرہ چیف کا براہ راست اور واضح سیاسی موقف شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، پنجاب کے ڈیروں میں خیر سگالی حاصل کرنے کی دوڑ مزید تیز ہوگی۔ عآپ کی حکومت، ایس اے ڈی کی دوبارہ ابھرنے کی کوششیں اور بی جے پی کی اپنی جگہ بنانے کی بے چینی... یہ سب مل کر ریاست میں سیاسی ہلچل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔