رام لیلا میدان پھر بنا سیاسی مزاحمت کا مرکز، اس بار بی جے پی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن
انا ہزارے کی تحریک کے دوران بی جے پی نے جس رام لیلا میدان سے سیاسی حمایت حاصل کی تھی، 12 سال بعد وہیں اپوزیشن نے بی جے پی حکومت کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا

وقت نے ایک چکر مکمل کر لیا ہے۔ کھلاڑی بدل گئے ہیں، لیکن میدان وہی ہے۔ دہلی کا تاریخی رام لیلا میدان، جو کبھی بدعنوانی کے خلاف اس تحریک کا مرکز بنا تھا جس نے 2014 میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے زوال کی راہ ہموار کی تھی، اتوار کو ایک بالکل مختلف سیاسی منظرنامہ کا گواہ بنا۔
یہ وہی میدان ہے جہاں کبھی کانگریس حکومت کے خلاف عوامی تحریک نے زور پکڑا تھا اور بی جے پی نے پس پردہ انا ہزارے کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ لیکن اب اسی مقام پر کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں بی جے پی حکومت کے خلاف متحد ہو کر میدان میں اتریں۔ انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی نے گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے سیاسی منظرنامہ میں آنے والی تبدیلیوں کو نمایاں کر دیا۔
تاریخی رام لیلا میدان میں 21 اپوزیشن جماعتوں کا ایک ساتھ جمع ہونا اس بات کی علامت تھا کہ ملک کی سیاست کس قدر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس اجتماع کی ایک اہم بات یہ بھی رہی کہ سول سوسائٹی کے نمائندے اور سماجی کارکن بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ان میں کئی ایسے چہرے شامل تھے جو 2010 کے بعد یو پی اے حکومت کے خلاف بدعنوانی مخالف تحریک میں پیش پیش رہے تھے۔
سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی (ایم ایل) اور طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کی شرکت بھی خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ ان دونوں بائیں بازو کی جماعتوں نے انا ہزارے کی تحریک کی حمایت کی تھی۔ اس بار سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی اور سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے ریلی سے خطاب کیا۔
ایم اے بے بی نے کہا کہ مودی جھوٹ کے بادشاہ ہیں۔ وہ خواتین اور کسانوں سمیت ہر طبقے سے جھوٹ بولتے ہیں۔ اس ملک میں ان کی فسطائیت کامیاب نہیں ہوگی۔ ووٹ چوری ختم کرنے، جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہمیں متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔
2014 سے 2026 کے درمیان ہندوستانی سیاست میں تقریباً 180 ڈگری کی تبدیلی آئی ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست معمول بنتی چلی گئی، نسبتاً آزاد میڈیا نے خود کو حکمراں طبقے کے سامنے سرنگوں کر دیا اور بڑے سرمایہ داروں کے مفادات سے جڑی سرمایہ داری ہندوستانی معیشت کی نمایاں خصوصیت بن گئی۔
کانگریس بھی اس عرصے میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی سے گزری ہے۔ کبھی وہ ایک ایسی حکمراں جماعت تھی جسے بدعنوانی کے خلاف ملک گیر تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن آج وہ بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کی جدوجہد کی قیادت کرنے والی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی ہے۔
کانگریس، جو کبھی ایک طاقتور بدعنوانی مخالف تحریک کے دباؤ میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور تھی، آج وسیع تر اپوزیشن اتحاد کے ساتھ بی جے پی کو سیاسی چیلنج دے رہی ہے۔ تاہم سیاسی تبدیلی اور جواب دہی کا سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اتوار کی عظیم الشان ریلی میں اس مطالبے کی شدت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔
اس سیاسی تبدیلی کو راہل گاندھی سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھ سکتا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران انہیں مسلسل سیاسی حملوں، سوشل میڈیا پر مذاق اور میڈیا کے ایک بڑے حصے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عظیم الشان ریلی کے آخری مرحلے میں جب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تو پورا میدان نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔ شور اور نعروں کے درمیان راہل نے عوام اور انڈیا اتحاد کے سامنے اپنی سیاسی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے مودی حکومت کے خلاف اس عوامی تحریک کو ’شیو کی بارات‘ قرار دیتے ہوئے عوام کی آواز کے تحفظ کی جدوجہد کو ایک نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ہر شہری کی آواز بلند ہونی چاہیے، ان کے لیے یہی سب سے اہم بات ہے۔
راہل گاندھی نے اس اجتماع کو محض سیاسی جماعتوں کی طاقت کے مظاہرے کے بجائے عوامی بے چینی اور تشویش کے اجتماعی اظہار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق نوجوانوں، کسانوں اور مزدوروں کی آواز جمہوریت اور آئین کے تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سیاسی رہنماؤں کی تقریروں سے الگ، میدان میں موجود لوگوں کے ایک طبقے میں راہل کا پیغام اثر کرتا دکھائی دیا۔ ہریانہ سے آئے کئی کسانوں نے کہا کہ راہل گاندھی برسوں سے حکومت کی پالیسیوں کے ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کررہے تھے، لیکن لوگوں نے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
مظاہرین کے ایک گروپ نے کہا کہ راہل گاندھی ہمیں برسوں سے خبردار کر رہے تھے، لیکن ہم نے ان کی باتوں کو نظر انداز کیا۔ اب ہمیں اس کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بجلی کے شدید بحران کا بھی ذکر کیا۔
چھتیس گڑھ سے آئی آدیواسی خواتین کے ایک گروپ نے راہل گاندھی کی سیاست کو سب کو ساتھ لے کر چلنے اور لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، جب کہ بی جے پی نے لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کی ہے۔ ہم تقسیم نہیں ہو سکتے۔
رام لیلا میدان کی علامتی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ بارہ برس قبل اسی میدان سے ایک ایسی سیاسی تحریک نے جنم لیا تھا جس نے کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اتوار کو یہی میدان بی جے پی کی سیاسی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے متحد اپوزیشن کا مرکز بن گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
