کیا ہندوستان میں آئین کی ضمانتیں محض کاغذ پر رہ گئی ہیں؟...آکار پٹیل
دہلی ہائی کورٹ میں جنتر منتر پر احتجاج کے معاملے نے پُرامن اجتماع کے آئینی حق پر بحث چھیڑ دی ہے۔ آکار پٹیل اس مضمون میں کہتے ہیں کہ اجازت اور پابندیوں نے اس بنیادی حق کو عملاً محدود کر دیا ہے

حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک قابلِ غور مکالمہ ہوا۔ حکومت سے پوچھا گیا کہ احتجاج کے مقام کے طور پر جنتر منتر کے استعمال کو ہی ختم کرنے پر غور کیوں نہیں کیا جا رہا؟ عدالت نے کہا، ’’آپ اسے بند کیوں نہیں کر دیتے؟ ہماری نظر میں شہر میں یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ حکومت کا فیصلہ ہے۔ شہر کو بلاوجہ یرغمال کیوں بنایا جائے؟‘‘
عدالت نے یہ تبصرہ آل انڈیا دلت کرسچن رائٹس پروٹیکشن کمیٹی کی اس عرضی کی سماعت کے دوران کیا، جس میں دہلی پولیس کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت سے متعلق اس کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ گروپ کے وکیل نے اس کے بعد سوال کیا کہ کیا مرکز کا موقف یہ ہے کہ دہلی میں کوئی احتجاج نہیں ہو سکتا؟ اس پر جواب دیا گیا، ’’یہ پولیس کو طے کرنا ہے۔‘‘ وکیل نے کہا، ’’ٹھیک ہے، انہیں یہ کہنے دیجیے کہ دہلی میں جمہوری اور پُرامن احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہم اسے قبول کر لیں گے۔‘‘
عدالت کا موقف یہ تھا کہ مظاہرین کی وجہ سے ’’شہر کو یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘‘ حکومت کا حتمی جواب کیا تھا، یہ واضح نہیں ہو سکا، لیکن ہندوستان میں تقریباً تمام حکومتیں ماضی میں بھی احتجاج کو ایک ایسی زحمت سمجھتی رہی ہیں جو ’بہتر حکمرانی‘ کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اس کا کچھ گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو متعدد بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت ہر شہری کو آزادیٔ اظہار و خیال، پُرامن اور غیر مسلح طور پر جمع ہونے، انجمنیں یا یونینیں قائم کرنے، ہندوستان کی حدود میں آزادانہ نقل و حرکت، ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور بسنے، اور کسی پیشے، کاروبار یا تجارت کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟
کیا ہندوستانی شہریوں کو واقعی پُرامن اور غیر مسلح طور پر جمع ہونے کا حق حاصل ہے؟ نہیں۔ ہمارے پاس پُرامن اجتماع کے لیے مقامی پولیس سے اجازت لینے کا حق ضرور ہے۔ پولیس کے پاس اس اجازت کو منظور کرنے، مسترد کرنے یا کوئی جواب نہ دینے کا اختیار ہے۔ دلت مسیحی تنظیم کو عدالت کا دروازہ اسی لیے کھٹکھٹانا پڑا کہ پولیس نے اس کی درخواست پر فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یعنی حقیقی اختیار شہری کے پاس نہیں بلکہ پولیس کے پاس چلا جاتا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں یہ عام منظر ہے کہ چھوٹے چھوٹے گروہ، بعض اوقات صرف 5 یا 6 افراد پر مشتمل، پلے کارڈ اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے کاروباری اداروں، سرکاری دفاتر یا دیگر مقامات کے باہر پُرامن احتجاج کرتے ہیں۔ سیاسی ریلیاں بھی عام ہیں۔ ہندوستان میں ایسا اجتماع یا تو ہونے ہی نہیں دیا جائے گا یا اسے منتشر کر دیا جائے گا۔
ہندوستان میں احتجاج کو عملاً ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ جہاں احتجاج کی اجازت دی جاتی ہے، وہاں بھی عموماً تحریری اجازت کے بعد صرف ان مقامات پر مظاہرہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے جنہیں احتجاج کے لیے ’مخصوص علاقے‘ قرار دیا گیا ہے۔ بعض لوگ ان مخصوص مقامات کو بھی ایک زحمت سمجھتے ہیں۔ دہلی کا جنتر منتر بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ دونوں جانب سے گھری ہوئی ایک جگہ، جہاں احتجاج کے لیے خیمے اور اسٹال لگے نظر آتے ہیں۔ بعض احتجاج تو مہینوں تک جاری رہتے ہیں، مگر ان کی آواز شاید ہی کسی تک پہنچتی ہے۔
بنگلورو میں ٹاؤن ہال اور فریڈم پارک، ممبئی میں آزاد میدان جیسے مقامات احتجاج کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں، جہاں اجازت ملنے کے بعد مخصوص اوقات میں مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ پُرامن اجتماع کے حق کا حقیقی نفاذ نہیں ہے۔ یہ دراصل آئین کی جانب سے دیے گئے ایک بنیادی حق سے انکار ہے۔ ہمیں اس حق کو بھی اسی طرح دوبارہ حاصل کرنا ہوگا جس طرح اپنے دوسرے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اظہار رائے کی آزادی بھی متعدد قوانین اور پابندیوں سے مشروط کر دی گئی ہے، یہاں تک کہ یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس بحث کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ ہندوستان میں بغاوت، ہتکِ عزت اور توہینِ عدالت جیسے قوانین کے ذریعے آزادیٔ اظہار کو محدود کیا گیا ہے۔ جن قوانین سے ہم نے ان میں سے بعض کو ورثے میں لیا، ان کی مادرِ وطن برطانیہ میں اب ان میں سے کچھ قوانین موجود نہیں رہے۔
ہندوستان میں اختلافِ رائے کے لیے بھی کوئی حقیقی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ اکثریتی ہندوتوا کے نظریے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو ’ملک دشمن‘ قرار دینے کا رجحان بڑھا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں آزادیٔ اظہار مکمل طور پر محفوظ ہے تو اسے کشمیر کے لوگوں سے آزادیٔ اظہار کے تجربے کے بارے میں بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔
انجمنیں اور تنظیمیں قائم کرنا بھی ہندوستان میں آسان نہیں۔ ان کی رجسٹریشن مسترد کی جا سکتی ہے یا پہلے سے موجود رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔ سول سوسائٹی، خصوصاً پیشہ ورانہ طور پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ریاست کس طرح ان کے لیے اپنے اس بنیادی حق کو استعمال کرنا مشکل بناتی ہے۔
ہم نے کاروبار کے حق کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورت حال دیکھی ہے۔ قصابوں کے کاروبار پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اس کے اثرات ریستورانوں تک بھی پہنچے۔ یوں ہمارے بہت سے بنیادی حقوق وقت کے ساتھ جامد اور بے اثر ہوتے چلے گئے ہیں۔ ریاست کو انہیں محدود رکھنے میں گہری دلچسپی ہے اور ہم ان حقوق کا مطالبہ کرنے اور انہیں عملی طور پر استعمال کرنے میں اتنے مضبوط ثابت نہیں ہوئے۔
آرٹیکل 19 کے تحت دیے گئے حقوق کے ساتھ ایک اہم شرط بھی درج ہے۔ اس کے مطابق ریاست ان حقوق کے استعمال پر ’’معقول پابندیاں‘‘ عائد کرنے کے لیے قانون بنا سکتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا عائد کی جانے والی پابندیاں واقعی معقول ہیں؟ میرا جواب ہے: نہیں۔ اپنے بنیادی حقوق کو دوبارہ حاصل کرنا ہی آئین کی حقیقی قدر کو سمجھنے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے کا واحد راستہ ہے۔ ہمیں اپنے حقوق کو پُرامن طریقے سے دوبارہ حاصل کرنا ہوگا، انفرادی سطح پر بھی اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی۔
ہندوستان کی سول سوسائٹی دیگر جمہوریتوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔ یہ زندہ اور متحرک ضرور ہے، مزاحمت بھی کرتی ہے اور بہادر بھی ہے، لیکن اس کا دائرہ محدود ہے۔ ہندوستان کو اپنے معاشرے کے اس حصے کے لیے زیادہ وسیع جگہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو نہ حکومت ہے اور نہ کاروباری کارپوریشن۔ یہی سول سوسائٹی ہے۔
سول سوسائٹی میں رسمی اور غیر رسمی تنظیمیں، گروہ اور افراد سب شامل ہیں، اور ان سب کی اجتماعی سرگرمیوں سے وہ سماجی جگہ وجود میں آتی ہے جہاں شہری اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ ان گروہوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے مناسب جگہ دی جانی چاہیے۔ انہیں ایک ’زحمت‘ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے اقتدار میں موجود افراد اور ریاستی اختیار رکھنے والے ادارے اکثر انہیں اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔
حکومتیں احتجاج نہیں چاہتیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی ہندوستانی عوام کسی مسئلے پر بڑے پیمانے پر متحرک ہوئے ہیں، حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج ہو، این آر سی کے خلاف تحریک ہو یا امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے خلاف طلبہ کا احتجاج، عوامی دباؤ نے حکومتوں کو اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پُرامن اجتماع کا ہمارا حق ہم سے چھین نہ لیا جائے۔ احتجاج جمہوریت کے لیے کوئی زحمت نہیں، بلکہ جمہوریت کی زندگی کی علامت ہے۔ حکومت سے اختلاف کرنا، اپنی شکایت بیان کرنا، اجتماعی طور پر آواز اٹھانا اور پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنا شہریوں کے وہ حقوق ہیں جن کے بغیر آئین محض ایک کتاب بن کر رہ جاتا ہے۔
اگر ’شہر کو یرغمال بنائے جانے‘ کے نام پر ہر احتجاج کو محدود کر دیا جائے تو سوال صرف جنتر منتر کا نہیں رہے گا؛ سوال یہ ہوگا کہ جمہوریت میں شہریوں کے پاس اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کا راستہ آخر بچے گا کیا؟ اسی لیے پُرامن اجتماع کے حق کا تحفظ صرف مظاہرین کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہ حق ہمیں کسی حکومت نے عطا نہیں کیا۔ یہ ہندوستان کے آئین نے ہمیں دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پُرامن، جمہوری اور آئینی طریقے سے استعمال کرنے کا حق برقرار رکھیں۔
