منشیات کے خلاف کیرالہ کا ’آپریشن طوفان‘، ڈرگ مافیا کے خاتمے کی جامع حکمت عملی

کیرالہ میں منشیات کے پھیلاؤ، بڑھتے جرائم اور نوجوانوں میں نشے کی لت کے درمیان شروع کیا گیا ’آپریشن طوفان‘ صرف کریک ڈاؤن نہیں بلکہ ڈرگ مافیا کے خلاف مربوط اور طویل مدتی حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے

<div class="paragraphs"><p>کیرالہ کا آپریشن طوفان</p></div>
i
user

امل چندرا

یکم جون کو کیرالہ کی جانب سے ’آپریشن طوفان: دی نارکو ہنٹ‘ کا آغاز اس بات کا اعتراف ہے کہ ریاست کو درپیش منشیات کا مسئلہ اب محض نظم و نسق کا ایک ضمنی معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے جنگی پیمانے پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی ہفتوں بعد وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے اس مہم کا اعلان کیا۔ یہ نئی حکومت کی پہلی کاوشوں میں سے ایک ہے اور اس عزم کا اظہار بھی کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے، جو اپریل میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران عوامی مباحثے کا ایک اہم موضوع رہا تھا۔

آپریشن طوفان کے پہلے ہی دن 100 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، 137 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ایم ڈی ایم اے (جسے عام طور پر ‘ایکسٹسی‘ کہا جاتا ہے) سمیت بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔ صرف تین دن کے اندر یہ اعداد و شمار بڑھ کر 340 مقدمات اور 368 گرفتاریوں تک پہنچ گئے۔ اس کارروائی کی اہمیت صرف اس کے بڑے پیمانے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ اس نے ایک ایسے مسئلے کی سنگینی کو بے نقاب کیا ہے جو برسوں سے مسلسل گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس اعتبار سے آپریشن طوفان ایک خوش آئند قدم ہے، اگرچہ یہ بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔

کئی دہائیوں تک کیرالہ کو ملک کی سب سے زیادہ سماجی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار کیا جاتا رہا۔ بلند شرح خواندگی، صحتِ عامہ کے بہتر نتائج اور نسبتاً متحرک شہری ثقافت نے یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ ریاست منشیات کے استعمال سے جڑی سماجی برائیوں کے مقابلے میں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ مضبوط ثابت ہوگی۔

تاہم وقت کے ساتھ سامنے آنے والے شواہد نے اس تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ مصنوعی منشیات، خصوصاً ایم ڈی ایم اے، میتھ ایمفیٹامین اور دیگر ڈیزائنر ڈرگز کے پھیلاؤ نے اس چیلنج کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ روایتی منشیات کے برعکس یہ مادّے انتہائی منظم سپلائی چینز کے ذریعے گردش کرتے ہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، بھاری منافع پیدا کرتے ہیں اور اکثر نوجوان نسل کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں یہ مسئلہ صرف ضبطیوں اور گرفتاریوں کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسکولوں، کالجوں، محلوں اور خاندانوں تک اس کی بڑھتی ہوئی رسائی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔


اعداد و شمار صورت حال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کیرالہ میں منشیات سے متعلق جرائم میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف 2024 میں نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت 27 ہزار سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے، جس کے بعد ریاست اس حوالے سے ملک کی سرفہرست ریاستوں میں شامل ہو گئی اور فی کس آبادی کے اعتبار سے منشیات سے متعلق جرائم کی بلند ترین شرح رکھنے والی ریاستوں میں شمار ہونے لگی۔

2020 سے 2024 کے درمیان این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی مجموعی تعداد 87 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو منشیات کے نیٹ ورک کے تیزی سے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس رجحان میں کمی کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔ اگست 2025 تک صرف محکمہ ایکسائز نے 8,622 مقدمات درج کیے اور 8,500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا، جو گزشتہ برسوں کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

شہری سطح پر بھی تشویش کم نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، ذاتی استعمال کے لیے منشیات رکھنے کے 5,191 مقدمات کے ساتھ کوچی، ممبئی کے بعد ہندوستان کا دوسرا بڑا شہر تھا جہاں اس نوعیت کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے۔ آبادی کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹا شہر ہونے کے باوجود کوچی میں جرائم کی شرح فی ایک لاکھ آبادی پر 245 مقدمات رہی، جو ممبئی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کیرالہ میں منشیات کا مسئلہ کمیونٹیوں اور شہری مراکز میں اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ اس کے لیے مسلسل اور مؤثر پالیسی توجہ ناگزیر ہو گئی ہے۔

اتنی ہی تشویشناک بات منشیات کی بدلتی ہوئی نوعیت بھی ہے۔ ماضی میں منشیات سے متعلق کارروائیوں میں زیادہ تر گانجا نمایاں رہتا تھا لیکن آج مصنوعی منشیات، خصوصاً ایم ڈی ایم اے، نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں۔ ضبط کی جانے والی منشیات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سائیکوٹروپک مادّوں کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ گانجا اب بھی عام ہے لیکن مصنوعی منشیات کی تیز رفتار گردش ایک زیادہ خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ انہیں چھپانا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور تقسیم کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، جبکہ ان سے حاصل ہونے والا منافع بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔


حالیہ برسوں میں بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطی کے واقعات بھی تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ حکام نے ایم ڈی ایم اے کی ایسی کھیپیں پکڑی ہیں جن کا وزن سینکڑوں گرام سے لے کر ایک کلوگرام سے بھی زیادہ تھا اور ان کا تعلق اکثر بین الریاستی یا بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس سے پایا گیا۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال ضلع ترواننت پورم میں ایک بڑی کارروائی کے دوران پولیس نے 1.2 کلوگرام سے زیادہ ایم ڈی ایم اے برآمد کی، جس کی مالیت کئی کروڑ روپے بتائی گئی۔ ریاست بھر میں ہونے والی اسی نوعیت کی دیگر کارروائیوں نے ایسے پیچیدہ سپلائی نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے جو کیرالہ کو پڑوسی ریاستوں اور بیرونِ ملک موجود ذرائع سے جوڑتے ہیں۔

موجودہ بحران کو ماضی کے منشیات کے مسائل سے جو چیز الگ کرتی ہے، وہ صرف منشیات کی بڑھتی ہوئی مقدار نہیں بلکہ اسمگلنگ کے طریقوں میں آنے والی تبدیلی بھی ہے۔ منشیات فروش نیٹ ورک اب کورئیر سروسز، خفیہ پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کا بڑھ چڑھ کر استعمال کر رہے ہیں اور چھوٹی مگر مشکل سے پکڑی جانے والی کھیپوں کے ذریعے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کو درمیانی رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ہاسٹل، کرائے کی رہائش گاہیں اور تعلیمی مراکز تقسیم کے اہم مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ پولیس کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ریاست کے 1,057 اسکول منشیات کے نیٹ ورکس کے ہدف پر ہیں۔

اس کے سماجی اثرات بھی اب واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ نوعمر افراد اور نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اسکول و کالج اس حوالے سے زیادہ حساس مقامات بنتے جا رہے ہیں۔ حکام اور ماہرین تعلیم کے مطابق تعلیمی اداروں کے اندر اور اطراف میں منشیات کی برآمدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مختلف سرویز سے اشارہ ملتا ہے کہ نوجوان کم عمری میں ہی منشیات آزمانا شروع کر رہے ہیں۔


اس پس منظر میں آپریشن طوفان کو محض ایک مہم کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل اصلاحی اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کیرالہ اس سے قبل بھی منشیات مخالف مہمات چلا چکا ہے۔ جنوری 2024 میں شروع کی گئی ’ڈی ہنٹ‘ جیسی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں گرفتاریاں اور بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطی عمل میں آئی تھی۔ 2025 میں بھی پولیس اور محکمہ ایکسائز نے منشیات مخالف مہمات کے دوران تقریباً 19 ہزار ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے باوجود مقدمات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ نفاذِ قانون کی کوششیں وسیع پیمانے پر کی گئیں، لیکن وہ اکثر ردِعمل پر مبنی رہیں، کسی جامع اور پائیدار حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بن سکیں۔

اس مہم کا اعلان کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا نے کہا تھا کہ مقصد صرف منشیات استعمال کرنے والوں یا چھوٹے درجے کے فروخت کنندگان کو گرفتار کرنا نہیں، بلکہ طلبہ، پولیس، محکمہ صحت اور محکمہ ایکسائز کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے ’’ڈرگ مافیا کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کرنا‘‘ ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ منشیات کی سرگرمیوں سے وابستہ تمام افراد کو نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا اور سپلائی چین کو توڑنے کے لیے بین الریاستی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ بعد ازاں سینئر پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ کارروائیاں کیرالہ سے باہر تک پھیلائی جائیں گی اور اس مقصد کے لیے پڑوسی ریاستوں کی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعاون کیا جائے گا۔

آپریشن طوفان کی اصل اہمیت اس حقیقت کے اعتراف میں ہے کہ منتشر اور الگ الگ کارروائیاں منظم منشیات نیٹ ورکس کو شکست نہیں دے سکتیں۔ منشیات کی اسمگلنگ ایسے مربوط نظام کے تحت چلتی ہے جس میں سپلائرز، سرمایہ فراہم کرنے والے، لاجسٹک شراکت دار اور ڈیجیٹل و مالیاتی لین دین کو چھپانے والے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس آپریشن کی کامیابی کا انحصار صرف گرفتاریوں کی تعداد پر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ مالیاتی بہاؤ کا سراغ لگانے، اسمگلنگ کے راستوں کی نشاندہی کرنے، بین الریاستی انٹیلی جنس کے تبادلے کو مضبوط بنانے اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دیرپا کامیابی کے لیے مسلسل اور حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگرچہ منشیات فروشوں کو سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن منشیات کے استعمال میں مبتلا افراد کو اکثر علاج، مشاورت اور دوبارہ سماجی دھارے میں شامل کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکولوں، کالجوں، مقامی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس روک تھام کی پہلی صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔


اسی طرح منشیات کے کاروبار کا ڈیجیٹل پہلو بھی بے حد اہم ہو چکا ہے۔ منشیات فروش بڑھتی ہوئی تعداد میں سوشل میڈیا اور خفیہ پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کے باعث سائبر تحقیقات کی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ بالآخر کامیابی کا پیمانہ صرف گرفتاریاں اور ضبطیاں نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ نشے کی شرح میں کمی، بحالی کے بہتر نتائج اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی کمزوری کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

یو ڈی ایف حکومت نے اپنی ابتدائی حکومتی ترجیحات میں منشیات کے مسئلے کو مرکزی حیثیت دی ہے، جو ایک وسیع تر سیاسی پیغام بھی دیتا ہے۔ آپریشن طوفان اگرچہ تاخیر سے شروع ہوا لیکن یہ اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے کی ایک اہم اور ضروری کوشش ہے۔ اس کی حتمی کامیابی کا انحصار صرف سرخیوں میں جگہ بنانے والی چھاپہ مار کارروائیوں پر نہیں، بلکہ مسلسل سیاسی عزم، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ایسے شواہد پر مبنی پالیسی اقدامات پر ہوگا جو اس سماجی ماحول کو محدود کریں جہاں منشیات کے نیٹ ورکس پنپتے ہیں۔

(مضمون نگار امَل چندرا ایک مصنف، پالیسی تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔