لیفٹ کے لیے فیصلہ کن لمحہ: ابھی یا پھر کبھی نہیں!...دیپانکر بھٹاچاریہ

بی جے پی کی انتخابی برتری کے باوجود حکومت متعدد بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ لیفٹ کا احیا ہندوستانی جمہوریت کے تحفظ اور عوامی حقوق کی جدوجہد کے لیے ناگزیر ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

دیپانکر بھٹاچاریہ

google_preferred_badge

آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے مودی دور میں بی جے پی کی ’ناقابلِ شکست‘ ہونے کی شبیہ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس تاثر کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہو۔ اس کے ساتھ ہی مختلف سیاسی قوتوں کے بارے میں تعزیتی بیانیے بھی گھڑے جا رہے ہیں۔ کہیں اسے تمل ناڈو میں دراوڑ سیاست کے خاتمے کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، کہیں علاقائی جماعتوں اور پورے ’’انڈیا‘‘ اتحاد کے لیے نوحہ سمجھا جا رہا ہے، اور کہیں اسے لیفٹ کی طویل اور قابلِ فخر سیاسی روایت کے اختتام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم بی جے پی کی ’ناقابلِ شکست‘ ہونے کی یہ شبیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جزوی طور پر ٹوٹ چکی تھی، جب پارٹی اپنے بل بوتے پر واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس کی نشستوں کی تعداد 240 پر رک گئی، جو سادہ اکثریت سے 33 کم تھی۔ مودی حکومت کی تیسری مدتِ اقتدار دراصل جنتا دل یونائیٹڈ اور تیلگو دیشم پارٹی جیسے علاقائی اتحادیوں کی حمایت کے باعث ہی ممکن ہو سکی۔ لیکن اس جھٹکے کے بعد حکمراں جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی، جس میں انتظامی اور انتخابی سطح پر باریک بینی سے کی جانے والی سماجی انجینئرنگ اور طاقتور انتخابی مشینری کا امتزاج شامل ہے۔ مہاراشٹر، ہریانہ، دہلی، بہار، آسام اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں یہی طرزِ عمل دیکھنے کو ملا۔

اگرچہ 2024 کے بعد آر ایس ایس اور بی جے پی کی انتخابی حکمتِ عملی کا کوئی مؤثر جواب اپوزیشن کی جانب سے سامنے نہیں آ سکا، لیکن اپوزیشن کے سیاسی خاتمے سے متعلق بیانیوں کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر علاقائی جماعتوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا دور ختم ہو رہا ہے۔ لیکن تمل ناڈو کے نتائج اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد کو شکست ضرور ہوئی، مگر اس کی جگہ نہ بی جے پی لے سکی اور نہ ہی اس کی اتحادی اے آئی اے ڈی ایم کے۔ اس کے برعکس ایک نئی علاقائی جماعت ’’ٹی وی کے‘‘ نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور ریاستی سیاست میں ایک نئی قوت کے طور پر ابھری۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ بی جے پی اگرچہ ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اقتدار کا حصہ ہے، لیکن ان میں سے کئی مقامات پر وہ اب بھی علاقائی جماعتوں کے تعاون سے حکومت چلا رہی ہے۔

اسی طرح اگر ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس کی شکست کو علاقائی سیاست کے زوال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو کیرالا میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی شکست کو لیفٹ کے سیاسی حاشیے پر چلے جانے کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ 1977 کے بعد سے لیفٹ کم از کم ایک ریاست میں اقتدار میں ضرور رہا۔ مغربی بنگال میں لیفٹ محاذ نے مسلسل 34 برس حکومت کی، تریپورہ میں 25 برس اور کیرالا میں حالیہ دور میں دس برس تک اقتدار سنبھالا۔ لیکن کیرالا کی سیاست کی ایک مخصوص روایت رہی ہے، جہاں عموماً ہر پانچ سال بعد حکومت تبدیل ہو جاتی ہے۔ 2021 اس روایت سے ایک استثنا تھا، جب ایل ڈی ایف دوبارہ اقتدار میں آیا۔


اسی لیے کیرالا میں ایل ڈی ایف کی شکست کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں تھی۔ صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ چونکہ اس وقت کسی ریاست میں لیفٹ قیادت والی حکومت موجود نہیں، لہٰذا لیفٹ غیر متعلق یا فرسودہ ہو چکا ہے، سیاسی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہندوستان میں کمیونسٹ تحریک کا کردار محض اقتدار تک محدود نہیں رہا۔ یہ ملک میں پہلی بڑی غیر کانگریسی سیاسی قوت تھی، لیکن 1977 تک اسے بنیادی طور پر عوامی تحریکوں پر مبنی ایک مضبوط اپوزیشن دھارا ہی سمجھا جاتا رہا۔

البتہ انتخابی نقطۂ نظر سے لیفٹ جماعتوں کے لیے اصل تشویش اقتدار سے محرومی نہیں بلکہ ان ریاستوں میں ووٹ شیئر کا کم ہونا ہے، جہاں کبھی ان کا مضبوط عوامی اثر و رسوخ ہوا کرتا تھا۔ اس سلسلے میں مغربی بنگال کی صورتِ حال سب سے زیادہ فکر انگیز ہے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والے لیفٹ محاذ کا ووٹ شیئر 2011 میں 41 فیصد سے زیادہ تھا، جو حالیہ انتخابات میں کم ہو کر تقریباً 5 فیصد رہ گیا۔ 

34 برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد 2011 میں لیفٹ محاذ کی شکست کو کسی حد تک سمجھا جا سکتا تھا۔ اس دور میں صنعتی ترقی کے نام پر زمین کے حصول کی پالیسی نے دیہی علاقوں میں لیفٹ جماعتوں کے روایتی حمایتی طبقے میں ناراضی پیدا کی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اور تشویش ناک حقیقت بی جے پی کا غیر معمولی عروج ہے۔ 2016 میں جس پارٹی کا ووٹ شیئر صرف 10 فیصد تھا اور اسمبلی میں محض تین نشستیں تھیں، وہ 2026 تک تقریباً 46 فیصد ووٹ اور 208 نشستوں تک پہنچ گئی۔

صرف ایک دہائی میں بی جے پی مغربی بنگال کی سیاست کے حاشیے سے نکل کر مرکز میں آ گئی۔ اگرچہ انتخابی نتائج پر مختلف سوالات اور تنازعات بھی موجود ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ریاست میں فرقہ وارانہ سیاست اور سماجی تقسیم پر مبنی نظریات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف لیفٹ حلقوں بلکہ تمام جمہوری اور ترقی پسند طبقات کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔


مصنف کے مطابق کولکاتا میں نئی حکومت کے قیام کے بعد کے ابتدائی دنوں میں ایسے اقدامات سامنے آئے جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نئی حکمران قوت اپنے نظریاتی ایجنڈے کو تیزی سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول مویشیوں کے ذبیحے پر پابندی، ریہڑی والوں اور ریلوے ہاکروں کے خلاف کارروائیاں، سیاسی مخالفین پر دباؤ اور مختلف سماجی اقدامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ سب مغربی بنگال کی اس تاریخی شناخت سے متصادم ہے جو رواداری، فکری آزادی اور متنوع ثقافت پر مبنی رہی ہے۔

مصنف اس صورتحال کا تاریخی تناظر میں بھی جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے بنگال پر قبضے نے ایک نئے سیاسی اور معاشی نظام کی بنیاد رکھی تھی، اسی طرح موجودہ تبدیلی بھی ایک بڑے معاشی اور سیاسی عمل کی علامت ہو سکتی ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ چھوٹے کاروبار، مقامی روزگار اور عوامی وسائل پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑی کارپوریٹ طاقتوں کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیے مغربی بنگال ایک طویل عرصے سے ایک اہم سیاسی ہدف تھا۔ ریاست میں کامیابی کے بعد شمال مشرقی خطے سے لے کر مشرقی ہندوستان تک ایک وسیع سیاسی تسلسل قائم ہو گیا ہے۔ اسی پس منظر میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک قوم، ایک پارٹی‘‘ کے تصور کو مزید آگے بڑھانے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں، جبکہ حلقہ بندیوں اور ’’ایک قوم، ایک انتخاب‘‘ جیسے منصوبوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم مصنف کا کہنا ہے کہ اگر معیشت، طرزِ حکمرانی اور خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو حکومت کو متعدد سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں حکومت اختلافِ رائے کو مزید سختی سے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ مزدوروں کے احتجاج، طلبہ کے مطالبات اور عوامی ناراضی کے مختلف مظاہر کو اسی زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔

(مضمون نگار دیپانکار بھٹاچارایہ سی پی آئی-ایم ایل کے جنرل سکریٹری ہیں)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔