نہرو کے نظریات اور عمل میں کوئی تضاد نہیں...کرشن پرتاپ سنگھ
جواہر لال نہرو نے جمہوریت، سماجی مساوات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی فلاح کو ہندوستان کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق آزادی صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ غریبی،ناانصافی اور تقسیم کے خاتمے کا نام ہے

پنڈت جواہر لال نہرو کو اس دنیا سے گئے 62 سال ہونے کو ہیں لیکن جدید ہندوستان اور اس کی جمہوریت کے ان کے انمول ورثے کے دشمنوں (جو بدقسمتی سے ملک کی اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں) کی جانب سے ان کے خلاف چلائی جا رہی مذموم مہم اب تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
البتہ، یہ مہم نہ اب تک کامیاب ہو سکی ہے اور نہ آئندہ اس کے کامیاب ہونے کی کوئی توقع نظر آتی ہے۔ الٹا اس کے نتیجے میں ملک کے عوام، خاص طور پر نوجوانوں میں، نہرو کو نئے سرے سے پڑھنے، جاننے اور سمجھنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے۔ یہ بات ایک کارٹونسٹ کے اس کارٹون میں بھی جھلکتی ہے، جس میں اس نے نہرو کو یہ کہتے ہوئے دکھایا ہے کہ ’’اب مجھے لوگوں سے پہلے سے زیادہ محبت ملنے لگی ہے اور اس کے لیے میں نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
اس ’زیادہ محبت‘ کی ایک بڑی وجہ نہرو کے نظریات میں ہے تو دوسری ان کی شخصیت میں۔ پہلے ان کی شخصیت کی بات کریں تو انہوں نے جنگ آزادی کے دنوں میں ہی نہیں (جب انہوں نے اپنی زندگی کے 9 برس سے زیادہ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے جیلوں میں گزارے) بلکہ آزادی کے بعد بھی (جب وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز تھے اور ’جدید ہندوستان کے معمار‘ کہلانے لگے تھے) اپنی شخصیت کو شفاف بنائے رکھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کبھی خود کو اتنے ’بلند‘ مقام پر بٹھانے کی غلطی نہیں کی کہ وہ ’ہر طرح کی تنقید سے بالاتر‘ ہو جائیں۔
اسی لیے ملک کے موجودہ برسرِ اقتدار لوگ، جو ان کی مذمت میں ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں، اور ان کے حامیوں کے لیے آج بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر ان دنوں اپوزیشن تو اپوزیشن، انڈین نیشنل کانگریس کے اندر بھی نہرو کے ناقدین کی کمی نہیں تھی، مگر اس کے باوجود ان کے لیے احترام بھی کم نہیں تھا۔ وہ بھی اس وقت، جب ان کے کئی ناقدین موقع ملتے ہی سخت مخالف کا روپ اختیار کر لیتے تھے۔
یہ نہرو ہی کا ظرف تھا کہ ایک کارٹونسٹ کے کارٹونوں کے مجموعے کی رونمائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان پر تنقید کرنے میں کسی رعایت سے کام نہ لے — ’ڈونٹ اسپیئر می، مسٹر کارٹونسٹ۔‘
دوسری وجہ ان کے دو ٹوک نظریات ہیں، جن میں اتنا بھی ابہام نہیں ملتا کہ ان کے ناقدین اس میں پناہ لینے کی کوئی جگہ ڈھونڈ سکیں۔ دراصل، وہ اپنی کتابوں، تقاریر اور خطابات وغیرہ میں کہیں بھی ایسی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ کوئی فریب یا دکھاوا اختیار کر کے انہیں کمزور ثابت کر سکے۔ انہوں نے یہ گنجائش اس وقت بھی نہیں چھوڑی، جب ناقدین کی نظر میں وہ ’اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کی مجبوری‘ سے گزر رہے تھے۔
اسی لیے 14 اگست 1947 کی نصف شب، آزادی سے قبل، اس وقت کے وائسرائے لاج (موجودہ راشٹرپتی بھون) میں ان کی تاریخی تقریر ’ٹرسٹ ود ڈیسٹنی‘ کو بیسویں صدی کی بہترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان کے وہ خطابات بھی کم اہم نہیں مانے جاتے، جو انہوں نے اس وقت کیے جب آزادی کے بعد کی کچھ تلخ حقیقتوں سے روبرو ہو کر ملک کی خوشی اور جوش میں کچھ کمی آنے لگی تھی۔
مثال کے طور پر، 1954 کے یوم آزادی پر لال قلعہ سے ملک کے عوام کو آئینہ دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ’’ہم ابھی آزادی کے راستے پر ہیں، یہ نہ سمجھئے کہ منزل مکمل ہو گئی… ہمیں اس ملک کے ایک ایک انسان کو آزاد کرنا ہے… اگر ملک میں کہیں غریبی ہے تو (ماننا ہوگا کہ) وہاں تک آزادی نہیں پہنچی۔ اسی طرح اگر ہم آپسی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں، ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہیں، ہمارے درمیان دیواریں کھڑی ہیں، ہم مل جل کر نہیں رہتے، تو ہم پوری طرح آزاد نہیں ہیں… ہندوستان کے کسی گاؤں میں اگر کسی ہندوستانی کو، خواہ وہ کسی بھی ذات کا ہو، کھانے پینے، رہنے سہنے یا زندگی گزارنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، تو وہ گاؤں بھی آزاد نہیں، بلکہ پسماندہ ہے۔‘‘
اس کے چار سال بعد 1958 کے یومِ آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے وہ مزید حقیقت پسندانہ انداز میں بولے تھے، ’’میں یہاں آپ کے سامنے کسی ایک جماعت کی طرف سے کھڑا نہیں ہوں۔ میں ایک مسافر کی طرح، آپ کے ہم سفر کی حیثیت سے کھڑا ہوں۔ اس ملک کے کروڑوں لوگوں سے اور آپ سے… یہ درخواست کرنے کہ ذرا ہم اپنے دل میں جھانکیں، خود کو اور دوسروں کو سمجھائیں کہ اس وقت (آزادی کے گیارہ برس بعد) لوگ آپس میں جھگڑے فساد کرتے ہیں، ایک دوسرے کو مارتے ہیں اور ایک دوسرے کی املاک کو جلاتے ہیں، تو ہمارا فرض کیا ہے، ہماری ذمہ داری کیا ہے؟… کوئی بھی پالیسی ہو، ہم اس میں اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہم مل کر، امن کے ساتھ، عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے کام کریں… ورنہ ہماری ساری طاقت ایک دوسرے کے خلاف ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری رائے میں اختلاف ہے تو ہم ایک دوسرے کو سمجھائیں، ایک دوسرے کو اپنائیں۔ اس ملک میں اس کے سوا کوئی راستہ نہیں، کوئی اور طریقہ نہیں۔‘‘
اس کے دو سال بعد 1960 میں انہوں نے لال قلعہ سے کہا تھا، ’’یومِ آزادی کا جشن کوئی تماشا نہیں ہے۔ یہ ایک بار پھر عہد کرنے، پھر سے اپنے دل میں جھانکنے کا دن ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کیا یا نہیں۔ آزادی کی جدوجہد ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اس کا کبھی اختتام نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ہمیشہ محنت کرنی پڑتی ہے، قربانی دینی پڑتی ہے، تب جا کر آزادی برقرار رہتی ہے۔ جب کوئی ملک یا قوم کمزور پڑ جاتی ہے، بنیادی باتیں بھول کر چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں الجھ جاتی ہے، تبھی اس کی آزادی پھسلنے لگتی ہے۔‘‘
انہوں نے سوال کیا تھا، ’’آزادی کس کے لیے آئی؟ کیا چند لوگوں کے لیے آئی؟ کیا جواہر لال کے لیے آئی کہ آپ نے اسے چند دنوں کے لیے وزیر اعظم بنا دیا؟ جواہر لال آئیں گے اور جائیں گے، دوسرے لوگ بھی… لیکن ہندوستان تو قائم رہنے والا ہے، وہ آتا جاتا نہیں… تو پھر آزادی سب کے لیے ہونی چاہیے، ان 40 کروڑ ہندوستانیوں، عورتوں اور بچوں کے لیے، جو اس آزادی کے حصہ دار اور وارث ہیں۔ جب سب کو اس کا پورا فائدہ ملے گا، تبھی آزادی مکمل ہوگی۔‘‘
اس سے ایک دہائی پہلے، مارچ 1950 میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر وزرائے اعلیٰ کو لکھے ایک خط میں انہوں نے کہا تھا، ’’ہم میں سے بعض لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں سے ملک کے تئیں وفاداری ثابت کرنے اور پاکستان نواز رجحانات کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے رجحانات یقیناً غلط ہیں اور ان کی مذمت ہونی چاہیے… لیکن میرا ماننا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں سے بار بار وفاداری ثابت کرنے پر غیر ضروری زور دینا غلط ہے۔ وفاداری حکم یا خوف سے پیدا نہیں ہوتی۔ یہ وقت کے ساتھ فطری انداز میں پیدا ہوتی ہے، پھر آہستہ آہستہ ایک محرک جذبہ بن جاتی ہے اور انسان محسوس کرتا ہے کہ اسی میں اس کی بھلائی ہے۔ ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جن میں لوگوں کے اندر ایسے جذبات پیدا ہو سکیں۔ کسی بھی حالت میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے یا ان پر دباؤ ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘
’بھارت ماتا‘ (جن کے دشمنوں نے بعد کے ادوار میں ان کے نعروں کو لے کر بھی کم تنازعات پیدا نہیں کیے) کے بارے میں نہرو نے 1920 میں ہی کہا تھا کہ ہم سب بھارت ماتا کا ایک ایک حصہ ہیں اور ہم سے مل کر ہی بھارت ماتا بنتی ہے۔ جب بھی ہم بھارت ماتا کی جے بولتے ہیں تو دراصل اپنی ہی جے بول رہے ہوتے ہیں۔ جس دن ہماری غریبی دور ہو جائے گی، ہمارے جسم پر کپڑا ہوگا، ہمارے بچوں کو بہترین تعلیم ملے گی، ہم سب خوشحال ہوں گے، اسی دن بھارت ماتا کی حقیقی جے ہوگی۔ اگر ہم، جو انگریزی راج میں ظلم، غریبی اور بھوک کا سامنا کرتے ہوئے آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں، موجود ہی نہ ہوں، تو اس دھرتی کو بھارت ماتا کون کہے گا؟
ادھر ’جن گن من‘ اور ’وندے ماترم‘ کے درمیان بے وجہ کے ’مقابلے‘ میں بھی انہیں گھسیٹنے کی کوشش کرنے والوں کی بے بسی یہ ہے کہ انہوں نے 15 جون 1948 کو اس موضوع پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ ودھان چندر رائے کے خط کے جواب میں صاف لفظوں میں لکھا تھا، ’’قومی ترانہ فتح اور اس سے حاصل ہونے والے اطمینان کی علامت ہونا چاہیے، نہ کہ ماضی کی جدوجہد کی۔ قومی ترانہ بنیادی طور پر موسیقی ہے، محض الفاظ نہیں… وندے ماترم ہماری آزادی کی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے اور اسی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ لیکن قومی ترانہ ان چیزوں سے الگ نوعیت رکھتا ہے جن کی نمائندگی وندے ماترم کرتا ہے… قومی ترانے کی موسیقی ایسی ہونی چاہیے جو جوش پیدا کرے اور جسے پوری دنیا میں مؤثر انداز میں بجایا جا سکے۔ اس لحاظ سے ’جن گن من‘ میں ایک مثالی موسیقیت اور آہنگ پایا جاتا ہے۔‘‘
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ 9 اپریل 1950 کو نئی دہلی میں انڈین کاؤنسل فار کلچرل ریلیشنز کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ’’جب لوگ بھوکے ہوں اور مر رہے ہوں، تو ثقافت کے بارے میں، بلکہ خدا کے بارے میں بھی بات کرنا بے وقوفی ہے۔ کسی بھی دوسرے موضوع پر بات کرنے سے پہلے عام انسانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ آج کا انسان تکلیف، بھوک اور عدم مساوات کو برداشت کرنے کی کیفیت میں نہیں ہے، خاص طور پر جب صاف نظر آتا ہو کہ بوجھ برابر نہیں اٹھایا جا رہا۔ کچھ گنے چنے لوگ منافع کماتے ہیں اور باقی بے شمار لوگ صرف بوجھ اٹھاتے ہیں۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
