’میری فیملی کو لگاتار بری طرح پریشان کیا جا رہا ہے‘، محمد دیپک کی کہانی خود ان کی زبانی

رشمی سہگل کے ساتھ بات چیت کے دوران محمد دیپک نے اپنے بارے میں کچھ اہم باتیں بتائیں۔ آئیے محمد دیپک کی ہی زبانی جانتے ہیں ان کی کہانی۔

<div class="paragraphs"><p>محمد دیپک / ویڈیو گریب</p></div>
i

یہ 26 جنوری 2026 کا واقعہ ہے۔ 42 سالہ جم مالک اور فٹنس ٹرینر دیپک کمار کے پڑوسی، بزرگ وکیل احمد کو بجرنگ دل کے کچھ کارکنان پریشان کر رہے تھے۔ 71 سالہ وکیل احمد ’بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سینٹر‘ کے مالک ہیں۔ آر ایس ایس کارکنان چاہتے تھے کہ احمد اپنی دکان کے سائن بورڈ سے ’بابا‘ کا لفظ ہٹا دیں، جسے وہ ہندو لفظ سمجھتے تھے۔ دیپک بیچ بچاؤ کے لیے آگے آئے تو دھمکیاں دینے والے ہجوم نے ان کا نام پوچھا۔ بے ساختہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘ اس واقعہ کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور دیپک اچانک سرخیوں میں آ گئے۔ اس کے بعد نفرت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایف آئی آر، دکان خالی کرنے کے نوٹس، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور سوشل میڈیا پر گالیاں۔ ان کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ جولائی میں دیپک جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہروں کی حمایت میں دہلی گئے۔ اگست میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی، لیکن دیپک کو یہ راحت زیادہ دن تک نہیں ملی۔ اکتوبر کے آغاز میں دیپک نے اجین میں ایک مسجد کے جزوی انہدام کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ کی، جو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک مقامی کاروباری نے ان پر گالی گلوچ کرنے، مار پیٹ اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کر دیے۔ یکم اکتوبر کو دیپک کو گرفتار کر لیا گیا۔ 2 اکتوبر کو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس طرح ہندو کٹر پسند ہجوم سے اپنے مسلم پڑوسی کا دفاع کرنے سے لے کر خود ملزم بننے تک کا ان کا 9 ماہ کا اتار چڑھاؤ بھرا سفر ایک بار پھر قومی سطح پر موضوع بحث بن گیا۔ رشمی سہگل کے ساتھ بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے بارے میں کچھ اہم باتیں بتائیں۔ آئیے محمد دیپک کی ہی زبانی جانتے ہیں ان کی کہانی۔

—————————

میں اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں رہتا ہوں، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران لوگوں کی سوچ بہت تنگ نظر اور ذات پرست ہوتی گئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں حکومت نے مسلمانوں کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈا پھیلایا ہے کہ ہمارے معاشرے میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ میری پیدائش کوٹ دوار میں ہوئی اور میں 42 سال سے یہیں رہ رہا ہوں۔ میں گڑھوالی نہیں ہوں۔ یہاں سب مجھے جانتے ہیں۔ میں ایک کامیاب جم چلاتا تھا، جس کے 200 سے زیادہ ممبر تھے اور میں 40 ہزار روپے سے زیادہ ماہانہ کرایہ بھی ادا کرتا تھا۔ لیکن 26 جنوری کے واقعہ نے سب کچھ بدل دیا۔ اپنی غلطی چھپانے کے لیے ہندو رکشا سمیتی اور بجرنگ دل کے لوگوں نے مجھے بدنام کرنا اور میرے خلاف طرح طرح کی بے بنیاد باتیں پھیلانا شروع کر دیں۔


مجھے اور میرے خاندان کو فون پر انتہائی گندے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بات یہیں تک محدود نہیں تھی۔ گھر سے باہر نکلتا تو کچھ دکاندار، جنہیں میں پہلے سے جانتا تھا، طرح طرح کے توہین آمیز تبصرے کرتے۔ اس نفرت انگیز پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے جم کے ممبروں کی تعداد گھٹنے لگی اور محض 20 رہ گئی۔ گزارا مشکل ہو گیا۔ میری بیوی گھر پر بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگی اور میری 70 سالہ ماں اب چائے کی دکان چلاتی ہیں۔ بیٹی کو اسکول سے لینے جاؤں یا ماں کو لنچ باکس دینے، تو کچھ دکاندار بھدے تبصرے کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ’کٹوا کی اولاد‘ یا ’محمد کی اولاد‘۔

انہی میں سے ایک سنجیو ٹونک ہے، جسے سب ببلو کے نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ یکم اکتوبر کو حسب معمول میں اپنی ماں کے لیے لنچ باکس لے کر جا رہا تھا کہ ببلو مجھے گالیاں دینے لگا۔ میں رک کر اس سے بولا ’’بھائی، ایسی باتیں مت کرو۔ اس سے میرے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔‘‘ ببلو نے فوراً بجرنگ دل کے ضلعی صدر راج گورو نوٹیال کو فون کر دیا، جو 60 دیگر لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ بحث ہوئی اور دوپہر تقریباً 3 بجے مجھے پولیس لاک اپ میں ڈال دیا گیا۔ سنجیو ٹونک نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ میں نے اسے گالیاں دیں، دھمکیاں دیں اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی۔


وہ پورا گروہ پولیس اسٹیشن پہنچ گیا اور اگلے 4 گھنٹے تک وہیں ڈٹا رہا۔ لوگ نعرے لگاتے رہے اور مجھ پر چیختے رہے۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش تک نہیں کی۔ میری پریشان ماں مجھ سے ملنے آئیں، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ میرے خلاف درج ایف آئی آر میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ (2)351 (مجرمانہ دھمکی) اور دفعہ 352 (امن عامہ میں خلل ڈالنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنا) کے تحت الزامات لگائے گئے۔ بعد میں پولیس نے دفعہ 196 (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور دفعہ 115 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) بھی شامل کر دیں۔ میری ماں نے ایک وکیل سے رابطہ کیا اور اگلے دن شام 7 بجے مجھے رہا کر دیا گیا۔ ایس ڈی ایم نے خبردار کیا کہ ’’اگلی بار اگر تم نے کچھ گڑبڑ کی تو سیدھے پاؤڑی جیل بھیج دیں گے۔‘‘

اس واقعہ کے بعد سے میرا فیس بک اکاؤنٹ ایک بار پھر بلاک ہے۔ یہ میرے لیے پریشانی کی بات ہے، کیونکہ میرے 13 لاکھ (1.3 ملین) فالوورز ہیں اور انہی کی بدولت اشتہارات کے ذریعے میں ہر ماہ 12 ہزار روپے تک کما لیتا ہوں۔ اس سے میری مالی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔


پولیس کو ان دائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ کیوں کھڑا ہونا چاہیے؟ ہمارے ملک میں بے شمار لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تو ان دائیں بازو والوں کی ایک انگلی تک نہیں اٹھتی۔ اس کے بجائے، یہ ہندوتوا کے حامی نوجوان خود کو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ٹھیکے دار سمجھنے لگے ہیں۔ وکیل احمد کی دکان پر موجود ویڈیو اور گواہوں سے واضح تھا کہ یوم جمہوریہ پر ہونے والے حملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ میں تو صرف ایک ایسے بزرگ کی مدد کے لیے آگے آیا تھا، جو بجرنگ دل کے کارکنوں کو اپنی دکان بند کرنے کی دھمکی دیتے دیکھ کر خوف سے کانپ رہے تھے، لیکن اس کے باوجود میرے ہی خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ وکیل احمد کو پہلے ہی دو بار دل کا دورہ پڑ چکا تھا اور وہ تیسرے، جان لیوا دورے کے اندیشے سے خوف زدہ تھے۔

جب میں نے ایف آئی آر منسوخ کرانے اور مقامی پولیس افسران اور دائیں بازو کے ہجوم کے خلاف کارروائی کے لیے نینی تال ہائی کورٹ سے مدد مانگی تو مارچ میں جسٹس راکیش تھپلیال نے میری عرضی خارج کر دی۔ ان کے مطابق، میں جاری تحقیقات کو متاثر کرنے کے لیے بلاوجہ ’دباؤ بنانے کے حربے‘ اپنا رہا تھا۔ مجھے اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے یا بیان دینے سے بھی روک دیا گیا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ میں اس معاملے کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔


میں زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے ملک بھر کے لوگوں سے بہت محبت اور عزت ملی، لیکن اپنی ہی ریاست میں رہنے والے لوگوں سے نہیں۔ دہلی کے کئی وکیلوں نے میری حالت جاننے کے بعد میری مالی مدد بھی کی ہے، جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ میں نے سپریم کورٹ سے راحت کی اپیل کی تھی۔ میرے معاملے کی پیروی معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کی۔ 31 اگست کو میرے خلاف جاری فوجداری کارروائی پر روک لگا دی گئی اور مجھے عبوری راحت دی گئی۔ عدالت نے مجھ پر عائد سوشل میڈیا کی پابندیاں ہٹانے کا حکم بھی دیا۔

مسلم طبقہ میرے ساتھ ہے، لیکن ان کی تعداد کم ہے اور وہ کھل کر سامنے آنے سے ڈرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے خود مجھ سے رابطہ کیا اور میں ان سے ملاقات کے لیے دہلی بھی گیا۔ انہوں نے کوٹ دوار آنے کا وعدہ کیا ہے؛ امید ہے کہ وہ جلد آئیں گے۔ افسوس کی بات ہے کہ ریاست میں کانگریس کے کارکن میرے حق میں کھل کر نہیں بولتے۔ شاید انہیں ہندو ووٹ بینک کھونے کا ڈر ہے۔ سنجے سنگھ جیسے چند سیاست داں میری حمایت میں سامنے آئے ہیں۔


نفرت انگیز حملوں کا سامنا میرے خاندان والوں کو بھی کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اتنے خوف زدہ ہو گئے کہ انہیں لگا شاید مجھے اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے معافی مانگ لینی چاہیے۔ لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اگر مستقبل میں مجھے کوئی اور بھی ایسی صورت حال میں نظر آیا تو میں اس کی مدد کرنے سے ذرا بھی نہیں جھجکوں گا۔ میں ہندو ہوں، لیکن میرے لیے انسانیت زیادہ اہم ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں وکیل احمد کی مدد کر سکا۔ ملک بھر کے لوگوں سے ملنے والی محبت اور عزت پر بھی مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کچھ غلط کیا۔ میرا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔