مسجد تنازعہ: ریس کورس روڈ پر وراثت کی کیا بساط... ہرجندر
حکومت کے بھروسہ کی حقیقی کسوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ کتنا کچھ مٹا سکتی ہے، کسوٹی یہ ہے کہ وہ کتنا کچھ محفوظ رکھ سکتی ہے۔

وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے محض چند منٹ کی پیدل مسافت پر واقع 100 سال سے بھی زیادہ قدیم ایک مسجد کو 19 اکتوبر کو 6 دن کے اندر خالی کرنے کا نوٹس تھما دیا گیا۔ 7 اکتوبر کو ہی وہاں پانی اور بجلی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی۔ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او) نے ریس کورس مسجد کو ’غیر مجاز‘ قرار دے دیا۔ اس کی دلیل ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ جس جگہ پر 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لوگ عبادت کے لیے آتے رہے ہیں، اسے اب غیر قانونی تعمیر قرار دے دیا گیا ہے۔
حالاں کہ سرکاری دستاویزات ایک الگ ہی کہانی بیان کرتی ہیں۔ جمعیۃ علمائے ہند کے وفد کی جانب سے محمد حکیم الدین قاسمی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو کو ایک میمورنڈم سونپا ہے۔ اس میں مسجد کے تاریخی ہونے کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ یہ مسجد نئی دہلی میونسپل کونسل کی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ اس کا ذکر 1977 کے دہلی گزٹ میں بھی ملتا ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت کی ترمیم شدہ ورثے کی فہرست میں بھی مسجد درج ہے۔ جمعیۃ نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تنازعے کا قانونی تصفیہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ خبروں کے مطابق رجیجو نے ’ہر ممکن کوشش‘ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
’دی ہندوستان گزٹ‘ کی ایک رپورٹ میں مسجد کے امام محمد ہارون نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ گزشتہ 6 ماہ سے دہلی وقف بورڈ کے سامنے یہ معاملہ اٹھا رہے تھے، لیکن ان کی کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ بورڈ نے صرف این ڈی ایم سی کو خط لکھ کر بند کی گئی بنیادی سہولتوں کا مسئلہ اٹھایا۔ پینے کا پانی بھی ختم ہو چکا ہے۔ مسجد تک پہنچنے کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ہارون نے خود ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے ان کی عرضی مسترد کر دی، کیونکہ ان کے پاس وقف بورڈ کی اجازت نہیں تھی۔ وہ 2021 کے ایک سروے کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ اس سروے میں مسجد کو نہ تو غیر مجاز قرار دیا گیا تھا اور نہ ہی اسے تجاوزات کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔
ریس کورس کا سو سال پرانا میدان، جس کے نام پر اس سڑک کا نام رکھا گیا تھا، پہلے ہی منہدم کیا جا چکا ہے۔ اس کے لیے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ 7، ریس کورس روڈ سے قربت کو وجہ بتایا گیا۔ اب اس سڑک کا نام لوک کلیان مارگ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لٹینس دہلی کے اس انتہائی محفوظ علاقے کو خالی کرانا، عوامی تحفظ اور دفاع سے متعلق دیرینہ خدشات کا حل ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کے لیے 467 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا نیا رہائشی کمپلیکس تقریباً تیار ہے۔ اس میں وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) اور پارلیمنٹ تک جانے کے لیے زیر زمین سرنگ بھی بنائی گئی ہے۔ اس کے بعد 7، ریس کورس روڈ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ یعنی جس علاقے کو خالی کرایا جا رہا ہے، وہاں جلد ہی کوئی رہنے والا بھی نہیں ہوگا۔
یہ سب سنٹرل وسٹا کی ازسرنو ترقی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے تحت نئی دہلی کی قومی انتظامی راہداری کی صورت بدلنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ قومی راجدھانی میں نئے دفاتر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جس شاندار تجدید کا وعدہ کیا گیا تھا، اس کے نام پر بڑے پیمانے پر انہدام اور پرانی شناخت مٹانے کا کام ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں درخت کاٹے گئے ہیں۔ مانوس عمارتوں اور مقامات کی شکل بدل دی گئی، ان کے نام تبدیل کر دیے گئے یا انہیں ہٹا دیا گیا۔
135 سال پرانی سنٹرل سکریٹریٹ لائبریری کو بھی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسے محض 2 کمروں تک محدود کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس میں 8.5 لاکھ سے زیادہ کتابوں کا تاریخی ذخیرہ موجود ہے۔ اتنے بڑے ذخیرے کے لیے 2 کمرے ناکافی ہیں۔ سنٹرل وسٹا منصوبے کے افتتاح کے موقع پر نریندر مودی نے اسے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کی علامتوں سے آزادی کی سمت اٹھایا گیا قدم قرار دیا تھا۔ کسی جمہوریہ کو اپنی نوآبادیاتی وراثت پر ازسرنو غور کرنے کا پورا حق ہے، لیکن مسجد نوآبادیاتی حکمرانی کی علامت نہیں ہے۔
مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے یہ منصوبہ ازسرنو ترقی سے زیادہ ہندوتوا کا منصوبہ نظر آتا ہے۔ اس سوچ میں مسجد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکومت کی سنٹرل وسٹا ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’’اس تبدیلی کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس بات کو یقینی بنانے پر پوری توجہ دی گئی ہے کہ موجودہ عمارتوں کی ورثے سے متعلق حیثیت محفوظ رہے اور ان کے آس پاس نئے منصوبے تعمیر کیے جائیں۔‘‘ سننے میں یہ بات اچھی لگتی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دہلی کے اپنے گزٹ میں ورثے کے مقام کے طور پر درج ایک عمارت کو اب غیر مجاز قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کی زد میں صرف مسجد نہیں آئی ہے۔ آس پاس کی بھائی رام کیمپ، مسجد کیمپ اور ڈی آئی ڈی کیمپ بستیوں میں رہنے والے 700 سے زیادہ خاندانوں کو بھی بے دخلی کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کئی خاندان دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔ بعض کا اس جگہ سے تعلق تقریباً ایک صدی پرانا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ان خاندانوں کو ہٹا کر تقریباً 45 کلومیٹر دور ساودا گھیورا کی بازآبادکاری کالونی میں بسانے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ ان خاندانوں میں باورچی، ڈرائیور، ریہڑی پٹری والے اور گھریلو ملازمین شامل ہیں۔ یہی لوگ لٹینس دہلی کی روزمرہ زندگی کو رواں رکھتے ہیں۔ اب انہیں ان کے کام کی جگہوں سے دور بھیجا جا رہا ہے۔ ان کے بچوں کے اسکول بھی پیچھے چھوٹ جائیں گے۔ اس کے لیے سیکورٹی کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کو چلانے والے اس پورے سماجی نظام سے آخر خطرہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟
مسجد کے مستقبل سے متعلق تشویش کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ اتر پردیش اور دہلی میں مسلم طبقوں کی عبادت گاہوں اور مذہبی ڈھانچوں کو راتوں رات منہدم کیے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں سہارنپور کلکٹریٹ احاطے کی وہ مسجد بھی شامل ہے، جسے علی الصباح گرا دیا گیا تھا۔ صبح سویرے بلڈوزر چلانے کا یہ سلسلہ اب لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ آخر شہر کس کا ہے؟
وی وی آئی پی سیکورٹی کی ہر نئی تہہ عام شہریوں کو شہر سے مزید دور کرتی جاتی ہے۔ راستوں کے ہر نئے حصے کو بند کیے جانے کے ساتھ عام لوگوں کی سڑکوں، سرسبز میدانوں اور پارکوں تک رسائی کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں شہر کی بھاگ دوڑ سے کچھ راحت مل سکتی ہے۔ قومی راجدھانی ان لوگوں کی ذاتی جاگیر نہیں ہے جو یہاں حکومت کرتے ہیں۔ اس کی سڑکیں اور کھلی عوامی جگہیں عوام کی امانت ہیں۔ انہیں عوام کے مفاد میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
سنٹرل وسٹا منصوبے کا پیغام سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کا طرز تعمیر، اس کی علامتیں اور اس بارے میں کیے گئے فیصلے کہ کیا باقی رہے گا اور کیا مٹا دیا جائے گا، ایک ہی تہذیبی نقطۂ نظر کو سامنے لاتے ہیں۔ لیکن ہندوستان کی شناخت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس کی راجدھانی بھی ایسی ہی ہونی چاہیے۔ جمہوریہ کی راجدھانی کا مرکز اتنا وسیع اور فراخ دل ہونا چاہیے کہ اس میں مسجد، مندر، گرجا گھر، گردوارہ اور ان کے آس پاس رہنے والے غریبوں کے لیے بھی جگہ ہو۔
دہلی کئی بار آباد ہوئی ہے اور کئی بار اجڑی ہے۔ اپنے پیش روؤں کی وراثت مٹانے کی کوشش کرنے والے حکمراں تاریخ میں اس بات کے لیے کم یاد کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کیا تعمیر کروایا۔ انہیں اس بات کے لیے زیادہ یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کیا منہدم کر دیا۔ اس شہر کے پتھر ان تمام سلطنتوں سے زیادہ پائیدار ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے کبھی اس پر اپنا حق جتایا تھا۔ حکومت کے اعتماد کی اصل کسوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ کتنا کچھ مٹا سکتی ہے، بلکہ کسوٹی یہ ہے کہ وہ کتنا کچھ محفوظ رکھ سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
