بازار کی معیشت کے لیے اجارہ داری بہت بڑا خطرہ... امل چندرا
2023 میں اڈانی گروپ کے ذریعہ شیئر بازار میں ہیرا پھیری اور آڈٹ میں دھوکہ دہی سے متعلق سامنے آئے ہنڈن برگ انکشافات کے بعد کچھ دیگر فکر انگیز تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

ایک زمانہ تھا جب ہندوستانی سرمایہ داری کو اقتصادی رواداری کی ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ 1991 کی تاریخی اصلاحات نے دہائیوں پرانے ’لائسنس-پرمٹ راج‘ کو ختم کر دیا اور ملک کو ایک زیادہ مسابقتی بازار کا یقین دلایا۔ لیکن اس کے 3 دہائیوں بعد آج ہندوستان کی اسی اقتصادی ترقی کے سفر پر ایک بڑا اور سنجیدہ سوال کھڑا ہو گیا ہے... کیا مٹھی بھر بڑے کاروباری گروہ ہمارے بازاروں، بنیادی ڈھانچے اور عوامی پالیسیوں پر ضرورت سے زیادہ کنٹرول حاصل کر چکے ہیں؟
یہ سمجھنے کے لیے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں کہ آج ہندوستانی معیشت کے سب سے اہم اور اسٹریٹجک شعبوں پر کن 2 کارپوریٹ دیو قامت اداروں کا غلبہ ہے۔ بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ٹیلی کام، ڈیجیٹل خدمات، ڈاٹا انفراسٹرکچر، پیٹروکیمیکلز، بجلی، لاجسٹکس، سبز توانائی، خوردہ تجارت سے لے کر میڈیا تک، ہر جگہ یہی 2 نام چھائے ہوئے ہیں۔ ہندوستانی تجارت کی تاریخ میں ان کی توسیع کی رفتار اور پیمانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ بہت سے لوگ انہیں ہندوستان کے ’قومی ہیرو‘ مانتے ہیں، جنہوں نے ہندوستان کو عالمی سطح پر مسابقتی بنایا۔ لیکن ان کے اس غیر متوقع عروج نے اقتصادی طاقت کے ایک ہی جگہ مرتکز ہونے، حقیقی مسابقت کے ختم ہونے اور نجی خزانے بھرنے میں سرکاری پالیسیوں کے کردار کو لے کر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
گٹھ جوڑ والی سرمایہ داری صرف محدود قانونی دائرے میں ہونے والی بدعنوانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی سیاسی معیشت کی تعریف کرتی ہے جہاں اقتدار تک رسائی ہی سب سے بڑا کاروباری فائدہ بن جاتی ہے۔ جہاں قوانین، لائسنسنگ، سرکاری مالی اعانت اور سرکاری کمپنیاں غیر متناسب طور پر اقتدار کے قریب لوگوں کے حق میں جھکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ تشویش اس بات کی نہیں کہ کامیاب کاروبار بڑے ہو رہے ہیں... کارکردگی کے ساتھ حجم کا بڑھنا فطری ہے۔ تشویش اس وقت شروع ہوتی ہے جب یہی وسیع حجم سرمایہ، سرکاری پالیسیوں اور ملک کے وسائل پر خصوصی اختیار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس سے بازار میں دوسروں کے لیے مقابلہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
گوتم اڈانی کا عروج آج اسی تشویش کی سب سے بڑی علامت بن چکا ہے۔ اڈانی گروپ نے جس تیزی سے بندرگاہوں سے لے کر ہوائی اڈوں، بجلی کی ترسیل، ڈاٹا سینٹروں، سبز توانائی، میڈیا، سیمنٹ اور دفاعی شعبے میں اپنے قدم جمائے ہیں، وہ حیرت انگیز ہے۔ ’اڈانی پورٹس‘ کے ذریعے ملک کی تقریباً ایک چوتھائی کارگو تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہ گروپ ملک کا سب سے بڑا نجی ہوائی اڈہ آپریٹر بن گیا۔ احمد آباد، لکھنؤ، منگلورو، جے پور، گوہاٹی، ترواننت پورم اور ممبئی جیسے ملک کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی ملکیت یا کنٹرول اسی گروپ کے پاس ہے۔ ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کا موجودہ چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہو یا زیر تعمیر نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ— دونوں پر اسی کا کنٹرول ہے۔
ہوائی اڈے اور بندرگاہیں صرف تجارتی اثاثے نہیں ہیں، بلکہ وہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کے اسٹریٹجک دروازے ہیں۔ جب قومی اہمیت کے ایسے اثاثے کسی ایک گروپ کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتے ہیں تو پالیسی سازی پر ان کے حد سے زیادہ اثر و رسوخ کے بارے میں سوال اٹھنا لازمی ہے۔ ناقدین نے خبردار بھی کیا ہے کہ یہ صورت حال ملک کے مالیاتی استحکام اور ان کروڑوں ہندوستانیوں کے لیے نہایت خطرناک ہے جن کی بچت کا انتظام یہی ادارے کرتے ہیں، لیکن ان انتباہات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ 2023 میں اڈانی گروپ کی جانب سے شیئر بازار میں ہیرا پھیری اور حسابی دھوکہ دہی سے متعلق ہنڈن برگ کے انکشافات کے بعد کئی دیگر تشویش ناک تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ ان میں ایل آئی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا جیسے سرکاری شعبے کے اداروں کی اڈانی سے وابستہ اثاثوں میں بھاری سرمایہ کاری بھی شامل تھی۔
دوسری طرف، مکیش امبانی کی قیادت والی ’ریلائنس انڈسٹریز‘ ارتکاز کی ایک دوسری شکل کی نمائندگی کرتی ہے۔ اڈانی کے انفراسٹرکچر پر مبنی ماڈل کے برعکس، ریلائنس نے پہلے پیٹروکیمیکلز میں غلبہ حاصل کیا اور پھر وہاں سے ٹیلی کام، ریٹیل، ڈیجیٹل کامرس اور میڈیا پلیٹ فارمز پر کنٹرول قائم کیا۔ جیو کے آغاز نے ہندوستان کے ٹیلی کام بازار کا نقشہ ہی بدل دیا۔ صارفین کو سستے ڈیٹا سے بے حد فائدہ ہوا اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز ہوئی، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ رہا کہ پورا ٹیلی کام شعبہ سکڑ کر صرف دو تین بڑے کھلاڑیوں تک محدود ہو گیا، جس سے بازار میں مسابقت کمزور پڑ گئی۔
ریلائنس کی خوردہ اور ڈیجیٹل توسیعی خواہشات بھی اسی طرح ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح وسیع حجم غیر منصفانہ فائدے کی صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔ نیٹ ورک صنعت میں حجم ہی طاقت ہوتا ہے۔ ایک پلیٹ فارم جتنے زیادہ صارفین کو اپنے ساتھ جوڑتا جاتا ہے، حریفوں کے لیے اسے چیلنج کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح بازار میں غلبے کا ایک ایسا ’’فیڈ بیک لوپ‘‘ وجود میں آتا ہے جس سے نمٹنے میں روایتی اجارہ داری مخالف قانونی ڈھانچے اکثر ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کہ اڈانی اور امبانی کامیاب کاروبار چلاتے ہیں یا نہیں۔ دونوں نے ہی غیر معمولی پیمانے پر بڑے منصوبوں کو عملی شکل دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا ادارہ جاتی ڈھانچہ حقیقی مسابقت کو فروغ دیتا ہے؟
ہندوستانی ماہرین معاشیات اور دانشور طویل عرصے سے اقتصادی طاقت کے حد سے زیادہ ارتکاز کے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے متنبہ کیا تھا: ’’گٹھ جوڑ والی سرمایہ داری ذاتی فائدے کے لیے عوامی عہدے کا غلط استعمال کرتی ہے۔‘‘ یہ انتباہ خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔
عوامی اثاثوں کی مالیاتی قدر میں تبدیلی اس منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ جیسے جیسے حکومت نجکاری اور بنیادی ڈھانچے کو لیز پر دینے کے عمل کو تیز کر رہی ہے، گہری رسائی رکھنے والے بڑے کارپوریٹ گروہوں کو اس سے غیر معمولی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ چھوٹی کمپنیاں اس پیمانے پر بولی لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس سے ارتکاز کی طرف ایک ساختی جھکاؤ پیدا ہوتا ہے، جہاں تزویراتی اثاثے بالآخر چند طاقتور کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔
بڑے کارپوریٹ گروہ اکثر زیادہ سازگار شرائط پر مالی وسائل حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، کیونکہ قرض دہندگان انہیں نظام کے لیے نہایت اہم یا سیاسی طور پر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس سے ان کے چھوٹے حریفوں کے مقابلے میں ان کی سرمایہ لاگت کم ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہی سستا سرمایہ ایک مسابقتی حفاظتی حصار بن جاتا ہے۔ جب اس میں سرکاری بینک اور انشورنس کمپنیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں تو خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ نقصان کی صورت میں اس کا بوجھ سماج پر ڈال دیا جاتا ہے، یعنی آخرکار عام عوام ہی اس کی قیمت چکاتے ہیں۔
یہ صورت حال صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ نے 1870 سے 1890 کی دہائی کے ’گلڈڈ ایج‘ کے دوران اسی نوعیت کے خدشات کا سامنا کیا تھا— تیز رفتار اقتصادی ترقی اور صنعتی انقلاب کا وہ دور جو ظاہری چمک دمک، شدید اقتصادی عدم مساوات اور سیاسی بدعنوانی سے عبارت تھا۔ اسی دور میں جان ڈی راکفیلر اور اینڈریو کارنیگی جیسے صنعتی دیو قامت افراد نے غیر معمولی دولت اور بازار پر غلبہ حاصل کیا تھا۔ اس کے جواب میں پالیسی اصلاحات کے طور پر اجارہ داری مخالف قانون لایا گیا۔ اس کا پیغام واضح تھا: سرمایہ داری کو مسابقت کی ضرورت ہے اور مسابقت کو حفاظتی حصار کی۔
موجودہ اجارہ دارانہ ماڈل کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ ہندوستان کو بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار تعمیر کے لیے ایسے بڑے گروہوں کی ضرورت ہے، بالکل اسی طرح جیسے بڑے پیمانے اور سرکاری سرپرستی نے چین کے صنعتی عروج کو رفتار دینے میں مدد کی تھی۔ لیکن مسابقت کے بغیر اتنا بڑا حجم اختراع کو ختم کر دیتا ہے اور پوری اقتصادی نظام کو اس قدر حساس بنا دیتا ہے کہ کسی ایک دیوقامت کھلاڑی کے زمین بوس ہونے سے پورا ملک قومی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
تشویش صرف اڈانی اور امبانی کے موجودہ غلبے کی نہیں ہے۔ اس سے بھی بڑی تشویش یہ ہے کہ جیسے جیسے اقتصادی طاقت کا یہ ارتکاز مزید گہرا ہوگا، کیا ہندوستان کے جمہوری ادارے اپنی شفافیت، ضابطہ جاتی آزادی اور غیر جانبداری کو محفوظ رکھ سکیں گے؟
(مضمون نگار امل چندرا پالیسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
