قرض معافی کے چکرویوہ میں الجھا مہاراشٹر کا کسان... جے دیپ ہاردیکر
جب تک ایندھن اور کھاد کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور زرعی پیداوار کی قیمت ٹھہری ہوئی ہے، تب تک قرض کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

مہاراشٹر کا کسان یہ سب پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔ ریاستی حکومت قرض معافی اسکیم کا اعلان کرتی ہے اور اسے بڑی راحت قرار دے کر خوب تشہیر کرتی ہے۔ پھر الجھا دینے والی شرائط سامنے آتی ہیں، اور اس کے بعد ایسی ڈیجیٹل رسمی کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں جو کسانوں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ اس بار بھی کچھ الگ نہیں ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے اس ماہ کے آغاز میں بڑے دھوم دھام سے اعلان کردہ ’پنیہ شلوک اہلیا دیوی ہولکر شیتکاری قرض مکت یوجنا‘ کی اہلیتی شرائط نے کسانوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ یہ اسکیم بہت تاخیر سے آئی ہے، جس کے باعث خریف سیزن کی بوائی شروع ہونے کے باوجود بینکوں سے نیا فصلی قرض ملنے کے امکانات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ کسان تنظیمیں اس اسکیم کے خلاف متحرک ہو گئی ہیں، جسے وہ راحت سے زیادہ ایک ’اسٹنٹ‘ قرار دے رہی ہیں۔ مخالفت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اب شرائط کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی وجہ سے اس اسکیم کے نفاذ میں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر کی یہ نئی قرض معافی اسکیم نومبر 2025 میں قائم کی گئی ایک کمیٹی کی سفارشات کا نتیجہ ہے، جسے یہ تجویز دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ کسانوں کو ان کے بقایہ قرض سے کس طرح نجات دلائی جائے۔
2017 کے بعد سے مہاراشٹر میں یہ چوتھی قرض معافی ہے، جو بذات خود اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ 3 کوششوں کے باوجود ریاست کے کسان قرض کے جال سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ تجربہ کار کسان لیڈر وجے جاوندھیا نے ہفتہ وار ہندی اخبار ’سنڈے نوجیون‘ کو بتایا کہ ’’یہ قرض معافی پروپیگنڈہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اصل مسئلہ کسانوں کی انتہائی کم اور مسلسل گرتی ہوئی آمدنی ہے، چاہے وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا کتنا ہی بڑا دعویٰ کیوں نہ کیا ہو۔ جاوندھیا کہتے ہیں کہ ’’جب تک مرکزی حکومت کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) بڑھانے کا وعدہ پورا نہیں کرتی، قرض کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔‘‘ ان کا سوال ہے کہ جب ایندھن اور کھاد کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور زرعی پیداوار کی قیمتیں جمود کا شکار ہیں، تو کسان کیسے بچے گا؟
فوری تشویش یہ ہے کہ اگر اسکیم میں تاخیر ہوتی ہے تو کیا بقایہ قرض والے کسانوں کو نیا فصلی قرض مل سکے گا؟ اگر انہیں بینک سے قرض نہیں ملا تو ان کے پاس ساہوکاروں کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا، جو ان سے منمانی اور بھاری شرح سود وصول کریں گے۔ یاوتمال کے جالکا گاؤں کے ایک کپاس کسان نتن کھڑسے کہتے ہیں کہ ’’بینکوں کے پاس اب بھی ضوابط کے بارے میں وضاحت نہیں ہے، کیونکہ اہلیت کی بے شمار شرائط ہیں۔ ہماری تشویش یہ ہے کہ جب تک پرانا قرض ادا نہیں ہوتا، ہمیں آنے والے سیزن کے لیے نیا قرض نہیں ملے گا۔‘‘ یہ نئی قرض معافی اسکیم فی کسان قلیل مدتی فصلی قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ روپے تک کی معافی کا انتظام کرتی ہے۔ اس کے لیے اہل ہونے کے لیے قرض یکم اپریل 2019 سے 31 مارچ 2025 کے درمیان جاری کیا گیا ہو، جو 30 ستمبر 2025 کو بقایہ ہو اور 31 مارچ 2026 تک ادا نہ کیا گیا ہو۔ یہ معافی کسان کی زمین کے رقبے سے قطع نظر، اصل رقم اور سود کی مجموعی بقایہ رقم پر نافذ ہوگی۔ حکومت نے اس میں ازسر نو تشکیل دیے گئے فصلی قرضوں کو بھی شامل کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کئی کسان پہلے بھی قرض کی تنظیم نو کے عمل سے گزرنے کے بعد دوبارہ نادہندہ ہو گئے تھے۔
سب سے زیادہ متنازعہ شق ان کسانوں سے متعلق ہے جو پہلے ہی 2019 کی ’مہاتما جیوتی راؤ پھولے شیتکاری قرض مکت یوجنا‘ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ گزشتہ قرض معافی سے فائدہ اٹھانے والے کسانوں کو اس بار مکمل فائدہ نہیں مل سکے گا۔ حکومتی تجویز کے مطابق ایسے کسانوں کو دوبارہ 2 لاکھ روپے تک کی مکمل معافی نہیں ملے گی۔ وہ صرف 50 ہزار روپے تک کی راحت کے حقدار ہوں گے۔ ظاہر ہے حکومت ایک ہی قرض دار کو بار بار مکمل معافی دینے سے بچ رہی ہے، لیکن اس کے باعث ودربھ اور مراٹھواڑہ جیسے صرف بارش پر منحصر علاقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملوں، آبپاشی کی کمی اور کم آمدنی کے ساتھ مہنگی لاگت کی دوہری مار کے باعث فصلیں بار بار تباہ ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ راحت کے باوجود کسان دوبارہ قرض کے دلدل میں دھنس گئے ہیں۔
اسکیم میں ایک اور بڑی حد مقرر کی گئی ہے۔ جن کسانوں کا بقایہ قرض 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، انہیں براہ راست مکمل فائدہ نہیں ملے گا۔ ون ٹائم سیٹلمنٹ (او ٹی ایس) سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں پہلے 2 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی رقم اپنی جیب سے ادا کرنی ہوگی، جس کے بعد حکومت 2 لاکھ روپے کا بوجھ اٹھائے گی۔ یہی اصول 50 ہزار روپے کی رعایت کے اہل افراد پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ سرکاری مدد حاصل کرنے سے پہلے انہیں اس رقم سے زیادہ کا تمام بقایہ خود ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ شرائط کے مطابق ایسے سیٹلمنٹ کی آخری تاریخ 31 مارچ 2027 ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ اسکیم سب سے زیادہ مقروض کسانوں کو کوئی راحت نہیں دے گی۔ اگر کسی کسان پر فرض کریں 3 سے 4 لاکھ روپے کا قرض ہے تو اسے راحت حاصل کرنے کے لیے پہلے ایک بڑا حصہ ادا کرنے کا انتظام کرنا ہوگا۔ بیشتر کسان ایسا کرنے میں ناکام رہیں گے اور اس نئی اسکیم کے تحت فائدہ حاصل کرنے کے نااہل ہو جائیں گے۔
او ٹی ایس کا یہ تصور عجیب ہے۔ کیرالہ نے 2007 سے 2010 کے دوران اسے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں نافذ کیا تھا۔ اس نے بینکوں کے ساتھ ہر معاملے کی بنیاد پر کم رقم میں تصفیہ کرنے کے لیے ایک کسان کمیشن تشکیل دی تھی، بالکل اسی طرح جیسے بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے این پی اے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مہاراشٹر نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
اس دوران ریاست کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور 11 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جانے والے قرض کے خدشات کے درمیان ریاستی حکومت نے 22 جون کو مقننہ سے 97,706 کروڑ روپے کے ضمنی مطالبات کی منظوری طلب کی۔ بجٹ پیش ہونے کے صرف چند ماہ بعد، مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن یہ مطالبہ پیش کیا گیا۔ اجیت پوار کے انتقال کے بعد سے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے والے فڑنویس نے ایوان کو بتایا کہ ان ضمنی مطالبات میں سے 20,552 کروڑ روپے زرعی قرض معافی اسکیم کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اس اسکیم سے 36 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 56 لاکھ کسان مستفید ہوں گے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے، یہ مکمل قرض معافی نہیں بلکہ متعدد شرائط سے مشروط ایک قرضی راحت اسکیم ہے۔ اس میں عادی نادہندگان کے مقابلے ایماندار قرض داروں کو انعام دینے کے لیے ایک ترغیبی ڈھانچہ بھی بنایا گیا ہے۔ جن کسانوں نے 23-2022 اور 25-2024 کے درمیان کم از کم 2 زرعی برسوں میں قرض ادا کیا تھا، انہیں 50 ہزار روپے تک کی ترغیبی رقم ملے گی۔ چھوٹے قرض دار، جن کا قرض 50 ہزار روپے سے کم تھا، انہیں کم از کم 5000 روپے کی ترغیبی رقم کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
یہ اسکیم قومی، نجی، علاقائی دیہی، ضلع مرکزی کوآپریٹو بینکوں اور بعض دیگر کوآپریٹو قرض اداروں کے قرضوں کا احاطہ کرتی ہے۔ لیکن اس سے فائدہ حاصل کرنا ڈیجیٹل تصدیق کی ایک نئی پیچیدہ سطح سے منسلک ہے۔ لازمی توثیق کے علاوہ ’ایگری اسٹیک‘ کسان ڈاٹا بیس پر رجسٹریشن بھی لازمی ہے۔ اس اسکیم کو مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے نافذ کیا جانا ہے، جو ایک اور وجہ ہے کہ کسانوں کو اس سے باہر رہ جانے کا خوف لاحق ہے، اور ان کا یہ خوف تجربے پر مبنی ہے۔
2017، 2019 اور 2022 کے قرض معافی پروگرام ڈیجیٹل تصدیقی عمل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو گئے تھے۔ سرکاری تجویز کے اندر خاموشی سے ایک ’سہکار اسٹیک‘ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کا اعلان شدہ مقصد کسانوں کے ریکارڈ، کریڈٹ ہسٹری اور کوآپریٹو اداروں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل ڈھانچے میں یکجا کرنا ہے۔ اس کا طویل مدتی مقصد مہاراشٹر میں زرعی قرض اور کوآپریٹو نظم و نسق کے لیے ایک بڑا ڈیٹا بیس تیار کرنا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات اس حکومت کے منہ سے زیب نہیں دیتی جس نے 2024 کے اسمبلی انتخابات سے عین پہلے ’لاڈکی بہن یوجنا‘ کے تحت خواتین کو بغیر کسی شرط کے ماہانہ 2 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا اور انہیں رقم دی، لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی اسکیم کی ازسرِ نو تشکیل کر کے ایک کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو فہرست سے خارج کر دیا۔
