مسلمانوں کی تاریخ مٹانے کے منصوبہ کا عملی تجربہ گاہ بنا ’مدرسہ عزیزیہ‘... عتیق الرحمن

1910ء میں مدرسہ عزیزیہ کی عمارت بننی شروع ہوئی اور 1924ء میں مکمل ہوئی، اس اعتبار سے آئندہ سال 2024 میں صد سالہ جشن منائے جانے کی تیاری تھی مگر یہ جشن ایک سال پہلے ہی ماتم میں تبدیل ہو گیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ میر فیصل</p></div>

تصویر بشکریہ میر فیصل

user

عتیق الرحمٰن

رام نومی کے موقع پر جلوسوں اور شوبھا یاتراؤں کے دوران ’جئے شری رام‘، ’ہندو راشٹر بن کر رہے گا‘، ’بھارت کا بچہ بچہ بولے گا جئے شری رام-جئے شری رام‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے شرپسند عناصر نے صرف جذباتی یا اتفاقی طور پر نہیں بلکہ امسال بالکل ہی منصوبہ بند سازش کے تحت ملک کی چار ریاستوں بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور گجرات میں مسلمانوں پر حملے کیے۔ اس بار خاص طور پر اقلیتی طبقہ کے مذہبی و تجارتی اداروں اور مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے ایسا خطرناک تشدد برپا کیا گیا جس کی آگ میں صرف املاک ہی نہیں بلکہ بیش قیمتی و نایاب سرمایہ بھی جل کر خاک ہو گیا۔ بہار شریف میں واقع ’مدرسہ عزیزیہ‘ کے ساتھ تو جو کچھ ہوا اس پر جتنا آنسو بہایا جائے وہ کم ہے۔

بہار شریف میں ہاسپیٹل روڈ موڑ سے بابو منی رام کے اکھاڑہ تک رام نومی شوبھا یاترا نکالی گئی جس کی اجازت پولیس و ضلع انتظامیہ کے ذریعہ پہلے ضرور دی گئی تھی، لیکن شوبھا یاتراؤں میں شریک شرپسند عناصر مقررہ جگہ تک محدود نہیں رہے بلکہ خاص طور پر ان مسلم محلوں میں بھی اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہو گئے جہاں انہیں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں تھی۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ 30 مارچ کو رام نومی کا تہوار پورے ملک میں منایا گیا لیکن بہار شریف اور سہسرام شہر میں دوسرے دن، یعنی 31 مارچ کو بھی شوبھا یاترائیں نکالی گئیں جن میں عینی شاہدین کے مطابق بہار شریف شہر میں نکالی گئی شوبھا یاترا میں تقریباً 20 ہزار لوگ رام بھگت ہونے کے نام پر شریک تھے۔ تعداد کا معاملہ الگ موضوعِ بحث ہو سکتا ہے لیکن اس قدر جوشیلے اور اشتعال انگیز نعرے کے ساتھ جلوس میں شامل لوگ مشتعل ہو کر حملہ آور ہوئے کہ بیشتر محلوں کے مسلمان بازاروں اور دروازوں کو چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو گئے اور صبر و تحمل کا بے مثل مظاہرہ کیا۔ اس دوران شوبھا یاتراؤں میں شریک لوگ اشتعال انگیز نعرے کے ساتھ بجرنگ دل، وشوہندو پریشد، رام سینا اور ہندو سینا کے بینر پوسٹر بھی لہراتے رہے۔

<div class="paragraphs"><p>مدرسہ عزیزیہ کی نذرِ آتش لائبریری، تصویر بشکریہ میر فیصل</p></div>

مدرسہ عزیزیہ کی نذرِ آتش لائبریری، تصویر بشکریہ میر فیصل


پٹنہ کے ’خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری‘ کے بعد بہار شریف کے مدرسہ عزیزیہ میں واقع لائبریری کا نام اکثر لیا جاتا تھا اور اسے عالمی شہرت و مقبولیت حاصل تھی۔ اس کی تاریخی اہمیت اس لئے ہے کہ یہاں 18 الماریوں میں 4500 سے زائد نایاب کتابیں، مخطوطات اور مکتوبات تھے جو نالندہ کی فخریہ علامت تھے۔ ان نایاب و نادر کتابوں سے بھری اس لائبریری کو شرپسند عناصر نے نذر آتش کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ لائبریری خاک میں تبدیل ہو گئی۔ اس دوران اُن 6 الماریوں کو بھی جلا ڈالا گیا جن میں 100 برسوں میں اس مدرسہ سے فارغ ہوئے ہزاروں طلباء کی اسناد و دیگر دستاویز، اساتذہ و ملازمین کی پوری تفصیلات و دستاویز، مدرسہ کے الحاق اور اس کی منظوری وغیرہ کے تمام سرکاری ریکارڈ محفوظ تھے۔ ان 24 الماریوں میں رکھے بیش قیمتی سرمایہ کی دوسری کاپی کہیں محفوظ نہیں کی جا سکیں اور نہ ڈیجیٹائزیشن کیا جاسکا تھا۔ پورے بہار کے مسلمانوں کی شاندار تاریخ اس میں موجود تھی۔ پورے حالات کا جائزہ لینے پر بہت وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ شرپسند عناصر و فرقہ پرست قوتوں کی منصوبہ بند سازش کے تحت مدرسہ عزیزیہ کو تباہ کیا گیا تاکہ ایک شاندار تاریخ مٹ جائے۔

مدرسہ عزیزیہ بہار شریف شہر کے مرار پور محلہ میں واقع ہے جسے ایک بڑی دولت مند بی بی صغریٰ نے 1896ء میں ہی اپنی املاک وقف کئے جانے کے ساتھ قائم کر دیا تھا اور اسے اپنے شوہر عبدالعزیز کی یاد میں ان کے نام سے ہی منسوب کیا تھا۔ ابتدائی دور میں مدرسہ کا خاکہ اور ڈھانچہ بہت بڑا نہیں تھا، بس ایک نظام ضرور تھا جو بی بی صغریٰ کی وسیع النظری کا عکس تھا۔ بی بی صغریٰ کی خدمات و قربانیاں اس اعتبار سے بھی ناقابل فراموش ہیں کہ وہ بہت ہی وسیع النظر تھیں اور انہوں نے جب اپنی املاک ملت کے لیے وقف کی تو وقف نامہ کی شرط میں تعلیم کو خاص ترجیح دی بلکہ تعلیم کو مسلمانوں کے لئے پہلی ضرورت اور ترجیح بتاتے ہوئے بڑے پیمانے پر اپنی املاک کا استعمال مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کرنے کی نصیحت دی جس پر اس دور کے لوگوں نے عمل بھی کیا اور پہلے بہار شریف میں مدرسہ عزیزیہ، پھر صغریٰ اسکول و کالج، مظفرپور اور دربھنگہ میں صغریٰ اسکول اور ریاست کے دیگر مقامات میں بی بی صغریٰ کے نام سے بے شمار تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ میر فیصل</p></div>

تصویر بشکریہ میر فیصل


اس وقت مدرسہ عزیزیہ میں 500 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ 10 اساتذہ اور 2 غیر تدریسی ملازمین ہیں۔ 5 اساتذہ کو صغریٰ وقف اسٹیٹ سے تنخواہ ملتی ہے۔ یہاں اسلامی ماحول میں دینی و عصری علوم کا بہتر نظم ہے۔ 1910ء میں مدرسہ کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور 1924ء میں مکمل ہوئی۔ اس اعتبار سے آئندہ سال 2024 میں صد سالہ جشن منائے جانے کی تیاری تھی مگر یہ جشن ایک سال پہلے ہی ماتم میں تبدیل ہوگیا۔ مدرسہ عزیزیہ کو پورے بہار شریف میں مرکزی حیثیت حاصل تھی جہاں علم کا خزانہ موجود تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ذریعہ بار بار تاریخ مٹانے اور نئی تاریخ لکھنے کی جو بات کہی جا رہی ہے، اس کا عملی تجربہ کیا گیا اور بہار شریف کو تجربہ گاہ بنایا گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کا تجربہ گاہ سال 2002ء میں گجرات کو بنایا گیا۔ 3 ایکڑ رقبہ میں قائم مدرسہ عزیزیہ کا نذر آتش کیا جانا بالکل غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاریخ مٹانے کی فرقہ پرست قوتوں کی کوشش کا ایک بڑا حصہ یہاں کامیاب ہو گیا اور اب اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ رمضان کا موقع ہے اس لئے روایتی طور پر مدرسہ بند تھا، لیکن شرپسند عناصر نے گیٹ توڑ کر ایسی آگ زنی کی کہ مدرسہ خاک میں مل گیا۔ غور طلب ہے کہ انگریز کے دور اقتدار میں مدرسہ عزیزیہ کی نگرانی ایس ڈی او کے ذمہ تھی، آزادی کے بعد ضلع مجسٹریٹ اس مدرسہ کے صدر ہوتے رہے۔ ابھی چند برسوں قبل سے خانقاہ معظم کے سجادہ نشیں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ مدرسہ صغریٰ وقف اسٹیٹ کے ماتحت چلتا تھا۔ آئندہ سال 2024 میں اگر صد سالہ جشن منایا جائے گا تو مدرسہ عزیزیہ کچھ بولنے اور بتانے کے بجائے اپنے اوپر ہوئے ظلم و ستم پر آنسو بہا رہا ہوگا۔

(مضمون نگار بہار کے سینئر صحافی ہیں اور اس وقت روزنامہ ’پندار‘ سے منسلک ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔