لکھنؤ: پہلی ہی بارش میں ڈوب گیا ’راشٹر پریرنا استھل‘، ریور فرنٹ بھی زیر آب، ’فلڈ پلین‘ کی حد بندی پر اٹھے سوال...ناگیندر
’پریرنا استھل‘ کا ڈوبنا اس انتظامی سوجھ بوجھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے، جس میں دریا کے کنارے ترقیاتی کاموں کو محض زمین کی دستیابی کا معاملہ سمجھ لیا جاتا ہے، دریا کی فطرت کو نہیں۔

لکھنؤ میں اس بار گومتی کی طغیانی نے جس طرح ایک ہی جھٹکے میں حکومت، سَنگھ اور بی جے پی کے اہم منصوبے ’راشٹر پریرنا استھل‘ کو زیر آب کر دیا، اس سے انتظامی حلقوں میں خاصی بے چینی ہے۔ تقریباً 230 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے ’راشٹر پریرنا استھل‘ کا افتتاح خود وزیر اعظم نریندر مودی نے 25 دسمبر 2025 کو کیا تھا۔ احاطے میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی اور پنڈت دین دیال اپادھیائے کے 65 فٹ بلند کانسہ کے مجسمے نصب ہیں۔ یہاں ’کَمل‘ کی شکل کا ایک وسیع جدید میوزیم بھی ہے۔

27 ستمبر کو ایک دن کی شدید بارش میں ہی پورے احاطے میں پانی بھر جانے سے اس کے نکاسئ آب کے نظام پر سوال اٹھ رہے تھے کہ اب گومتی ندی کی طغیانی کی زد میں آنے کے بعد دکھاوے کی ترقی کی اندھی دوڑ میں بنیادی شرائط کو نظر انداز کیے جانے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ گومتی ندی میں طغیانی کے باعث ’راشٹر پریرنا استھل‘ کا پارک علاقہ اور میوزیم، ریور فرنٹ کا گارڈن ٹریک، بیٹھنے کی جگہ اور پارک مکمل طور پر زیر آب ہیں۔ حفاظتی نقطۂ نظر سے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یہاں ٹکٹوں کی بکنگ اور داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ طغیانی کا اثر ہنومت دھام، لیٹے ہنومان جی مندر، گُلالا گھاٹ میں واقع کرکٹ اکیڈمی اور بخشی کا تالاب-فیض اللہ گنج علاقے کے گاؤں میں بھی سنگین طور پر نظر آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو بی کے ٹی اور آس پاس کے گاؤں کا جائزہ لیا ہے۔

حال ہی میں تعمیر کیے گئے ’راشٹر پریرنا استھل‘ کا ڈوب جانا محض ایک قدرتی آفت کی کہانی نہیں، بلکہ یہ شہری ترقی کے منصوبوں، دریا کے ساتھ ان کے تعلق اور برسوں سے زیر بحث انتظامی تیاریوں کی آزمائش کا معاملہ بھی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے ’پریرنا استھل‘ کا ڈوب جانا انتظامی نظام کی اس سوجھ بوجھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے، جس میں ندی کے کنارے ترقیاتی کاموں کو محض زمین کی دستیابی کا معاملہ سمجھ لیا جاتا ہے، ندی کی فطرت کا نہیں۔ ندی اور ماحولیات کے ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’سیلاب کو روکنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، لیکن سیلاب کے راستے میں شہر کھڑا کر دینا کہاں کی دانش مندی ہے؟ اسے تو روکا جا سکتا ہے۔‘ اس بار سیلاب نے فیض اللہ گنج سے لے کر بخشی کا تالاب اور اِٹونجا تک اپنا دامن پھیلا لیا ہے۔ جس آسانی سے یہ علاقے پانی میں ڈوبے ہیں، اس نے ایک بار پھر یہ پرانا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا لکھنؤ کے دل میں گومتی کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بچی ہے؟

رپورٹ بتا رہی ہے کہ فیض اللہ گنج، بخشی کا تالاب اور آس پاس کے علاقوں میں 200 سے زیادہ گھر ڈوب گئے ہیں اور لوگوں کے پاس کشتی کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں بچا ہے۔ لوگ پینے کے پانی اور ادویات کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے، اور انتظامیہ بھی اس کو لے کر فکرمند ہے، کہ اس بار لکھنؤ میں بارش رکنے کے کئی دن بعد تک گومتی کی سطح آب بڑھتی رہی۔ محکمہ آبپاشی اب کہہ رہا ہے کہ سیتاپور، لکھیم پور کھیری اور دیگر بالائی کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی بارش کا پانی کئی دن بعد لکھنؤ پہنچا، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑی۔ لیکن سیلاب اور ندیوں کی فطرت کا مطالعہ کرنے والے راکیش ماتھر سوال کرتے ہیں کہ ’جب معلوم ہے کہ گومتی ایک بڑے کیچمنٹ علاقے سے پانی لے کر آتی ہے، تو کیا لکھنؤ کا سیلاب سے نمٹنے کا منصوبہ پورے دریائی علاقے کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا جانا چاہیے تھا؟‘ اس بار پانی صرف جھگی بستیوں یا ندی کے بالکل کنارے آباد گاؤں تک محدود نہیں رہا، یعنی گومتی نے شہر کے ان حصوں تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے جنہیں عام طور پر ندی سے محفوظ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس تناظر میں ’راشٹر پریرنا استھل‘ کا ڈوب جانا بے ترتیب ترقی کی تازہ ترین علامت بن گیا ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ دریا کے کنارے اتنے بڑے اور مستقل عوامی احاطے کی تعمیر سے پہلے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا جانا چاہیے تھا کہ وہاں سیلاب کی بلند ترین سطح کیا ہے اور ڈیزائن کے لحاظ سے آئندہ 100 سال میں آنے والے ممکنہ سیلاب کے مقابلے میں اس احاطے کو کتنا محفوظ سمجھا جانا چاہیے۔ یہ سوال اس لیے اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ گومتی کے ’فلڈ پلین‘ کی سائنسی حد بندی پہلے ہی کئی برسوں سے تنازعہ اور عدالتی کارروائی کا موضوع ہے۔ خبروں میں جولائی 2026 میں این جی ٹی کی رپورٹ کا ذکر ہے کہ گومتی کے فلڈ پلین کی حد بندی سے متعلق معاملہ 2023 سے اس کے سامنے زیر التوا ہے اور اس نے دریائی علاقے میں ضابطوں کے خلاف تعمیرات نہ کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گومتی کے کنارے پشتے کی جامع منصوبہ بندی کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے پمپنگ اسٹیشنوں کی ممکنہ جگہیں تلاش کرنے کو کہا ہے۔ لیکن ماہرین سوال کر رہے ہیں کہ اگر پشتے، پمپنگ اسٹیشن اور سیلاب سے بچاؤ کی ضرورت آج نظر آ رہی ہے تو گزشتہ برسوں میں اس کی جامع منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
