ہندوتوا کے اہم مراکز میں لوٹ کھسوٹ کا کھیل...رشمی سہگل
ایودھیا، کاشی، اجین، ورنداون، کیدارناتھ اور بدری ناتھ سمیت کئی اہم ہندو مذہبی مراکز میں زمینوں کے سودوں، ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ بدعنوانیوں پر رشمی سہگل کا تجزیہ

ہندوستان کے قدیم مندروں کے اطراف واقع وسیع اراضی پر ’ازسرِ نو ترقی‘ (ری ڈیولپمنٹ) کے نام پر ایک ایسا کھیل جاری ہے جس کے ذریعے ان زمینوں پر قبضے اور ان کے تجارتی استعمال کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ سیاسی مفادات سے وابستہ افراد پر الزام ہے کہ وہ ان قیمتی اراضی کو من مانی قیمتوں پر انہی ٹرسٹوں کے حوالے کر رہے ہیں جو ان مندروں کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ کاشی وشوناتھ (وارانسی)، رام جنم بھومی (ایودھیا)، مہاکالیشور (اجین) اور بانکے بہاری (ورنداون) جیسے مذہبی مراکز میں سامنے آنے والے تنازعات محض چند الزامات تک محدود نہیں بلکہ ان کے دائرے میں زمینوں کے سودے، مالی بے ضابطگیاں، تجارتی مفادات اور ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے شامل ہیں۔
اپوزیشن جماعتیں، متعدد مذہبی رہنما، سماجی کارکن، حتیٰ کہ ہندوتوا کے اپنے حلقوں کے بعض افراد بھی بااثر سیاسی شخصیات، مندر ٹرسٹوں اور سرکاری اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے عوامی عقیدت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق زمینوں کی سٹے بازی، غیر شفاف مالی لین دین، مذہبی مقامات کی تیزی سے بڑھتی تجارتی حیثیت اور بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں اب ان اہم مذہبی مراکز کی پہچان بنتی جا رہی ہیں۔
سب سے سنگین الزامات ایودھیا میں رام مندر کا انتظام سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ پر لگے ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق چندے کی رقم میں تقریباً 200 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل رقم پانچ ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس رقم کا بڑا حصہ بااثر سیاسی شخصیات تک پہنچا، جن کے نام اب تک منظرعام پر نہیں آئے۔
یہ منصوبہ ابتدا ہی سے تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ رامانندی روایت کے قدیم اور بااثر ادارے نرموہی اکھاڑا نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) پر الزام لگایا تھا کہ 1990 کی دہائی سے عقیدت مندوں سے حاصل ہونے والے تقریباً 1,400 کروڑ روپے مندر کی تعمیر کے بجائے تنظیمی عمارتوں کی تعمیر اور اپنے رہنماؤں کے سیاسی قد کو مضبوط بنانے پر خرچ کیے گئے۔
یہ بھی معروف ہے کہ ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان نظریاتی اختلافات موجود تھے۔ 13 جون 2026 کو یوگی آدتیہ ناتھ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا۔ اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی کہ رام مندر کے تعمیراتی انچارج گوپال راؤ سونے اور چاندی کی سلاخوں سے بھرے تھیلے لے کر ٹرین کے ذریعے فرار ہو گئے۔ بعد میں انہیں بنگلورو میں آر ایس ایس کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بھتیجے سومیش آنند ایودھیا سے کرناٹک تک سونے اور چاندی کے یہ تھیلے لے کر گئے تھے۔
ادھر عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ایس آئی ٹی کو گیارہ مشتبہ زمینی سودوں سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کیے۔ یہ ٹیم اب رام مندر کی مختلف تقریبات پر ہونے والے اخراجات کی بھی جانچ کر رہی ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں منعقد ہونے والی پران پرتشٹھا تقریب پر خرچ ہونے والے 113 کروڑ روپے اور نومبر 2025 کی دھوجا روہن تقریب پر خرچ ہونے والے 10.12 کروڑ روپے شامل ہیں۔
جیوتی مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کا کہنا ہے کہ اب تک صرف نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے بقول اصل ذمہ دار بااثر افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت نے وارانسی، ورنداون اور مرزاپور جیسے مذہبی مقامات کی اصل شناخت ختم کرکے انہیں سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق کاشی وشوناتھ کاریڈور کی توسیع کے دوران متعدد قدیم مذہبی عمارتیں منہدم کر دی گئیں اور منصوبے کا رقبہ تین ہزار مربع فٹ سے بڑھا کر پانچ لاکھ مربع فٹ تک پہنچا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے بجائے تجارتی مفادات کو ترجیح دی، جس سے صدیوں سے ان مذہبی مراکز سے وابستہ خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔
اسی طرز کے اقدامات اجین میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں، جہاں 2028 کے سنگھستھ مہاکمبھ کے پیش نظر مہاکالیشور مندر کے اطراف بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے زمینوں کے حصول کا عمل تیز کیا گیا، دکانیں اور مکانات گرائے گئے اور دو سو سال پرانی ایک مسجد بھی مسمار کر دی گئی تاکہ پارکنگ اور مہاکال لوک کاریڈور کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے سنگھستھ کمبھ کی تیاری کے لیے 2,378 ہیکٹر زمین حاصل کرنے کا اعلان کیا، مگر کسان تنظیموں اور آر ایس ایس سے وابستہ بھارتیہ کسان سنگھ کی شدید مخالفت کے بعد 17 نومبر 2025 کو حکومت کو اپنی یہ نوٹیفکیشن واپس لینا پڑی۔
اسی دوران وزیر اعلیٰ موہن یادو اور بی جے پی کے رکن اسمبلی چنتامنی مالویہ کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔ مالویہ پر الزام لگا کہ انہوں نے مہاکال مندر کے قریب تقریباً 45 ہزار مربع فٹ زمین خرید کر وہاں پانچ ستارہ ہوٹل بنانے کی تیاری کی، جس پر لوک آیکت، اقتصادی جرائم ونگ اور ہائی کورٹ میں شکایات درج کرائی گئیں۔ جواب میں مالویہ نے الزام لگایا کہ موہن یادو کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کے خاندان اور ان سے وابستہ کمپنیوں نے دو برس میں کم از کم 137 پلاٹ، یعنی 168 ایکڑ سے زیادہ زمین خریدی۔
بھوپال کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق 1,200 کروڑ روپے کے مہاکال لوک کاریڈور اور مزید 400 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈ میں مبینہ طور پر 35 فیصد کمیشن ہی تقریباً 350 کروڑ روپے بنتا ہے۔ ان کے مطابق تعمیراتی معیار بھی انتہائی خراب رہا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ برس ایک شدید بارش میں مندر احاطے میں نصب مجسمے اور دیواری آرائشیں منہدم ہو گئیں۔
کاریڈور منصوبوں کا سلسلہ اب ورنداون کے بانکے بہاری مندر تک بھی پہنچ چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے مندر کے فنڈ سے 500 کروڑ روپے استعمال کرکے بانکے بہاری کاریڈور کی تعمیر اور زمین کے حصول کی اجازت دے دی، جبکہ ریاستی حکومت پہلے ہی 762 کروڑ روپے مختص کر چکی ہے۔
سرکاری اہلکار تین سو سے زائد جائیدادوں کا سروے کر رہے ہیں اور تقریباً ایک سو دکانداروں سمیت متاثرہ افراد سے معاوضے پر مذاکرات جاری ہیں۔ بانکے بہاری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر نیرج گوتم کا کہنا ہے کہ وارانسی کی طرح یہاں بھی اصل ثقافتی شناخت ختم ہو جائے گی اور برج کی صدیوں پرانی تہذیب کو شدید نقصان پہنچے گا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ زائرین کی سہولت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے، لیکن مقامی آبادی کو اندیشہ ہے کہ اس سے ورنداون کی روحانی اور ثقافتی شناخت ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوگی۔ کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں بھی حالیہ برسوں کے دوران ایسی ہی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں ماحولیات سے حساس پہاڑی علاقوں میں کثیر منزلہ کنکریٹ کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔
کیدارناتھ میں 2023 کے دوران مندر کے گربھ گرہ کی دیواروں پر چڑھائی گئی تقریباً 100 کروڑ روپے مالیت کی سونے کی پرت غائب ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جبکہ سوامی اویمکتیشورانند اور مقامی پجاریوں نے دعویٰ کیا کہ 228 کلوگرام تک سونا لاپتا ہے۔ جولائی 2026 کے پہلے ہفتے میں بدری ناتھ مندر کے چندے میں بھی مبینہ بے ضابطگی سامنے آئی، جس کے بعد ایک ملازم کو معطل کر دیا گیا اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ رقم کروڑوں روپے تک ہو سکتی ہے۔
ورنداون میں آشرموں اور مندروں کے لیے مختص سیکڑوں ایکڑ زمین پر تجارتی عمارتیں اور لگژری ہوٹل تعمیر کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ سب کچھ متھرا-ورنداون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی موجودگی میں ہوتا رہا، مگر اس نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔
متھرا کے شری کرشن جنم بھومی مندر سے متعلق بھی سنت دنیش ’پھلاہاری‘ مہاراج نے ایودھیا کی طرز پر بڑے مالی گھپلے کا الزام لگاتے ہوئے سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک کے اہم ہندو مذہبی مراکز میں جاری ترقیاتی منصوبوں، زمینوں کے حصول، مالی معاملات اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق بڑھتے تنازعات اس سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ آیا مذہبی عقیدت اور عوامی اعتماد کو ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی مفادات کی نذر تو نہیں کیا جا رہا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
