نیپال کی تباہی سے ہماچل کے لیے سبق...ابھے شکلا
نیپال کی تباہی ہماچل پردیش کے لیے سنگین وارننگ ہے۔ پن بجلی، فور لین سڑکوں، سرنگوں، بے قابو سیاحت اور تعمیرات نے ہمالیہ کے نازک ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے، جس پر فوری نظرثانی ضروری ہے

اوٹو وان بسمارک کا مشہور قول ہے کہ احمق اپنی غلطیوں سے اور عقلمند دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ ہماچل پردیش کے پالیسی سازوں نے اب تک نہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور نہ اتراکھنڈ اور وائناد کے المناک تجربات سے۔ نیپال کی ہولناک تباہی سے اب ٹھوس سبق لینے کا وقت آ گیا ہے۔ بنیادی سبق بالکل واضح ہے: ہمالیہ ہماری من مانیوں سے تنگ آ چکا ہے۔ اب بس کیجیے!
ہماچل پردیش میں ’ترقی‘ کے نام پر بے لگام سرگرمیاں جاری ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف منصوبوں کے لیے 12 ہزار ہیکٹر قیمتی جنگلاتی زمین منتقل کی گئی، 174 پن بجلی منصوبوں کو منظوری دی گئی یا وہ شروع کیے گئے، 50 لاکھ درخت کاٹے گئے اور تعمیراتی ضوابط میں نرمی کرتے ہوئے 10 منزلہ عمارتوں کی اجازت دی گئی۔ ’شملہ ڈیولپمنٹ پلان 2041‘ کو منظوری دے کر شہر کے حساس گرین بیلٹ میں تعمیرات کی راہ ہموار کی گئی اور تاریخی و مرکزی علاقوں میں بھی کنکریٹ کی تعمیرات کی گنجائش پیدا کی گئی۔
ریاست میں غیر ضروری فور لین شاہراہوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، نازک پہاڑوں کے اندر درجنوں سرنگیں بنائی جا رہی ہیں اور سالانہ سیاحوں کی تعداد موجودہ دو کروڑ سے بڑھا کر پانچ کروڑ کرنے کا منصوبہ زیر عمل ہے۔ یہ سب کچھ ایسے خطے میں ہو رہا ہے جہاں ماحولیات کے ماہرین اور سائنس دان مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہمالیہ اس درجے کی انسانی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا۔
اب ہمالیہ کا ردعمل زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ صرف 2022 سے 2024 کے درمیان ’انسانی ساختہ‘ آفات نے ریاست کو 13500 کروڑ روپے کا براہ راست مالی نقصان پہنچایا اور 800 جانیں لیں۔ کاروبار اور روزگار کو پہنچنے والے بالواسطہ نقصان اس کے علاوہ ہیں۔ 2026 میں اب تک 1400 کروڑ روپے کا نقصان اور 200 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
ہمالیہ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ بھاری مشینری اور مزدور کیمپوں سے ہونے والا اخراج، برفانی علاقوں پر جمع ہونے والا بلیک کاربن، بلند پہاڑی ماحولیاتی نظام میں گاڑیوں کی بڑھتی آمدورفت اور سبزے کا خاتمہ اس گرمی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ پہاڑوں کی کمزور مٹی اور چٹانوں کو تھامنے والی صدیوں پرانی منجمد زمین، یعنی پرما فراسٹ، تیزی سے پگھل رہی ہے۔ ندی نالوں میں ملبہ ڈالنے سے پانی کے قدرتی بہاؤ کی گنجائش کم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بار بار فلیش فلڈ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ہمالیہ ہمیں مسلسل خبردار کرتا رہا ہے۔ 2013 میں کیدارناتھ، 2021 میں چمولی، 2023 میں سکم، 2025 میں دھرالی اور اب نیپال۔ ہماچل کے لیے ایک بڑا بڑھتا ہوا خطرہ گلیشیئر جھیلوں کی تعداد اور رقبے میں اضافہ ہے۔ 1990 میں ریاست میں قابل ذکر حجم کی 107 گلیشیئر جھیلیں تھیں، جن کا مجموعی رقبہ 5.54 مربع کلومیٹر تھا۔ اب ایسی جھیلوں کی تعداد 669 اور مجموعی رقبہ 11.20 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ لاہول کی گھپن جھیل ان میں ایک مثال ہے، جس کا حجم چھ گنا بڑھ کر تقریباً 100 ہیکٹر ہو گیا ہے۔
ریاست کے بڑے دریا ان جھیلوں کے اوپر موجود گلیشیئرز سے نکلتے ہیں اور انہی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبے گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے کسی بھی منصوبے کو پہنچنے والا نقصان نیچے واقع قصبوں اور وادیوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ہماچل قدرتی طور پر بھی کئی بڑے خطرات سے دوچار ہے۔ ریاست زلزلے کے انتہائی حساس زون میں واقع ہے، یہاں 20 ہزار سے زیادہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے مقامات ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی موسمی واقعات میں بھی حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب مطالعات، سیمیناروں اور محض نگرانی سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ ضرورت ایک ایسے ترقیاتی ماڈل میں بنیادی تبدیلی کی ہے جسے ریاست برسوں سے اختیار کیے ہوئے ہے۔
سب سے پہلے نئی پن بجلی منصوبوں پر روک لگنی چاہیے اور ان منصوبوں کو بھی روکا جانا چاہیے جن پر ابھی عملی تعمیر شروع نہیں ہوئی۔ لاہول اسپیتی کے بلند علاقوں، چناب اور چندر بھاگا کے طاس، کنور اور پنگی میں منظور یا مجوزہ منصوبوں پر ازسرنو غور ضروری ہے۔
2010 میں اس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (جنگلات) کی جانب سے تیار کردہ پن بجلی منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق رپورٹ کو بھی دوبارہ زیر غور لانا چاہیے۔ مصنف کے مطابق ہائی کورٹ نے اس رپورٹ کو قبول کیا تھا، لیکن اس وقت کی حکومت نے اس کی مخالفت کی اور بعد کی حکومتوں نے اسے سرد خانے میں ڈال دیا۔ رپورٹ کی اہم سفارشات میں بلند علاقوں، الپائن خطوں، گلیشیئر علاقوں اور جنگلاتی کیچمنٹ میں پن بجلی منصوبوں پر پابندی، دو منصوبوں کے درمیان کم از کم پانچ کلومیٹر کا فاصلہ، دریاؤں میں کم از کم مستقل بہاؤ برقرار رکھنا اور انفرادی منصوبوں کے بجائے پورے دریا کے طاس کے لیے جامع ماحولیاتی جائزہ شامل ہیں۔
اسی طرح پیر پنجال سلسلے کے نیچے 8.7 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے لاہول کی چندر بھاگا کا پانی کلو کی بیاس میں منتقل کرنے کی مرکزی حکومت کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔ مصنف کے مطابق اس منصوبے سے تین اضلاع کے ارضیاتی استحکام پر اثر پڑ سکتا ہے، کروڑوں ٹن ملبہ پیدا ہو سکتا ہے، زیر زمین آبی ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں اور سیکڑوں پینے کے پانی کی اسکیموں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بیاس میں اضافی پانی اس دریا کی تباہ کن صلاحیت میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
سیاحت کے معاملے میں بھی پانچ کروڑ سالانہ سیاحوں کا ہدف دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اتنی بڑی تعداد کے لیے سڑکوں، ہوٹلوں، پانی، سیوریج، کچرے کے انتظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی جس سطح پر ضرورت ہوگی، وہ ریاست کے نازک ماحول پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ مصنف بھوٹان کے ماڈل سے سبق لیتے ہوئے سیاحوں کی تعداد محدود کرنے اور تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دینے کی تجویز دیتے ہیں۔
بڑے شہروں کے اطراف اور دیہی علاقوں میں سیاحتی، رئیل اسٹیٹ اور تجارتی تعمیرات کو بھی محدود کیا جانا چاہیے۔ کساولی، سولن، شملہ، منالی، پالم پور اور دھرم شالا کے آس پاس کے علاقے اس بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمی کے ماحولیاتی اثرات کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ پہاڑ کاٹنے، درختوں کی کٹائی، جنگلات اور آبی ذخائر میں کچرے اور سیوریج کے اخراج اور شور و روشنی کی آلودگی نے قدرتی ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے۔
فور لین شاہراہوں کے منصوبوں پر بھی ازسرنو غور ضروری ہے۔ مصنف کے مطابق یہ منصوبے پہاڑوں کی ارضیاتی ساخت کو متاثر کرتے، ڈھلوانوں کو غیر مستحکم کرتے، لوگوں کی زمین اور روزگار کو نقصان پہنچاتے اور مزید گاڑیوں کی آمدورفت کو فروغ دیتے ہیں۔ پروآنو-شملہ اور کیرت پور-منالی شاہراہوں کو وہ اس صورت حال کی مثال قرار دیتے ہیں، جو ایک دہائی بعد بھی ’زیر تعمیر‘ ہیں اور بار بار قدرتی آفات سے متاثر ہوتی رہی ہیں۔
فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے۔ ہمالیہ نے صدیوں تک ہماری مداخلت برداشت کی، لیکن اب اس کے خطرے کے اشارے زیادہ تواتر اور شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ہم ہماچل کو ’دیوبھومی‘ کہتے ہیں، لیکن ترقی، سیاسی مفادات اور معاشی فائدے کی دوڑ میں اسی قدرتی ورثے پر دباؤ بڑھاتے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی ماہر فلکیات اور ماحولیات کے ماہر ہیوبرٹ ریوز کے الفاظ میں، انسان ایسی مخلوق ہے جو ایک نظر نہ آنے والے خدا کی عبادت کرتا ہے لیکن نظر آنے والی فطرت کو تباہ کرتا ہے، اس حقیقت سے بے خبر کہ جس فطرت کو وہ برباد کر رہا ہے، وہی اس کی عبادت کا حقیقی مظہر ہے۔ فطرت کا احترام کیجیے۔ قدرت کی حفاظت ہی دراصل خدا کی سچی عبادت ہے۔
(ابھے شکلا، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ مضمون ان کے بلاگ سے لیے گئے اصل مضمون کا ترمیم شدہ روپ ہے)
