یوگی جی، ہنومان گڑھی کو تو بخش دیجیے...کرشن پرتاپ سنگھ
ہنومان گڑھی گنگا-جمنی تہذیب، جمہوری روایت اور ہندو-مسلم بھائی چارے کی زندہ علامت ہے۔ اسے تنگ نظر سیاست کا ہتھیار بنانے کے بجائے اس کی مشترکہ تاریخی اور ثقافتی شناخت کا احترام کیا جانا چاہیے

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں، جہاں ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت قائم ہے، ہندی اور اردو کے نامور شاعر کرشن بہاری ’نور‘ (8 نومبر 1926 – 30 مئی 2003 ) رہا کرتے تھے۔ گر وہ آج ہمارے درمیان ہوتے اور یوگی آدتیہ ناتھ کو ایودھیا کی ایک عوامی تقریب میں یہ کہتے سنتے کہ ’’ان لوگوں (کانگریس اور سماجوادی پارٹی) نے ہماری مقدس ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر نماز پڑھوا کر گناہ کیا تھا‘‘، تو بے اختیار ان کا یہ شعر زبان پر آ جاتا:
’’سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے،
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں!‘‘
اور اگر فیض آباد کے مرحوم شاعر شمیم احمد ’شمیم‘ موجود ہوتے—جو اس زمانے میں بھی، جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) خاندان رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازع کو لے کر ملک میں ہنگامہ برپا کیے ہوئے تھا، مشاعروں اور شاعرانہ نشستوں میں بے دھڑک کہا کرتے تھے:
’’تم کہو، کہتے اگر رام جنم بھومی ہے،
بھائی، یہ پاک زمیں ہم نے بھی تو چومی ہے‘‘
—تو وہ مسکراتے ہوئے شاید پوچھتے کہ حضور، آپ کا وقار بھی قائم رہے اور احتیاط بھی، لیکن ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر تو کیا، کہیں بھی نماز پڑھنا یا پڑھوانا آخر گناہ کیسے ہو سکتا ہے؟ نماز ادا کرنے والا تو اس کے ذریعے اپنے خالق کے سامنے اپنا سب سے پہلا، اہم اور لازمی فرض ادا کرتا ہے اور اس کے احسانات کا شکر بجا لاتا ہے۔ آخر کون سا مذہب ہے جس کے ماننے والے خدا کے حضور اپنے فرائض کی فکر نہیں کرتے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی نے یہ بنیادی سوال نہیں اٹھایا۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو خود کو یوگی آدتیہ ناتھ کا ناقد قرار دیتے ہیں، صرف یہ وضاحتیں پیش کر رہے ہیں کہ نہیں، ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر ایسا کبھی نہیں ہوا، نہ کبھی نماز پڑھی گئی اور نہ پڑھوائی گئی۔
وہ بتا رہے ہیں کہ تقریباً 23 برس پہلے، یعنی 2003ء کے جس واقعے کا حوالہ دے کر یوگی آدتیہ ناتھ—بلاشبہ رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کے معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے—پرانے قصے چھیڑ رہے ہیں، اس وقت ہنومان گڑھی کے اُس وقت کے مہنت گیان داس نے اپنے رہائشی احاطے میں افطار کا اہتمام ضرور کیا تھا، جس میں بابری مسجد مقدمے کے فریق ہاشم انصاری سمیت ایودھیا کے متعدد مسلم رہنما شریک ہوئے تھے۔
یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک ایسی کوشش تھی کہ اس کے بعد جب عید آئی تو مسلم رہنما صادق علی—جو خود کو ہنومان کا عقیدت مند بتاتے تھے اور اپنی درزی کی دکان "بابو ٹیلر" میں بھگوان رام، یا یوں کہیے رام للا وراجمان، کے لیے لباس سیتے تھے—نے قریب ہی رام کوٹ کٹرا علاقے کی ایک مسجد کے پہلو میں واقع احاطے میں عید ملن تقریب منعقد کرائی، جہاں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کروایا گیا اور اس کی نقول بھی تقسیم کی گئیں۔ اس تقریب میں مہنت گیان داس سمیت کئی سنت اور مہنت شریک ہوئے تھے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان دونوں تقریبات میں کسی قسم کی سیاست شامل نہیں تھی۔ اگر کوئی محرک تھا تو وہ صرف اودھ کی مشترکہ، گنگا-جمنی تہذیب تھی۔ اسی لیے نہ اس کے بعد مہنت گیان داس کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوئے یا انتخابی ٹکٹ مانگنے گئے، اور نہ ہی صادق علی نے ایسا کیا، حالاں کہ وہ مسلسل دیکھ رہے تھے کہ نفرت کی سیاست کرنے والے اسی بنیاد پر انتخابات جیت کر رکنِ پارلیمان اور رکنِ اسمبلی بن رہے ہیں۔
ایسے میں بہتر ہوتا کہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی تقریر میں یہ باتیں کہنے سے پہلے، اور ان کے دفاع میں صفائیاں پیش کرنے والے بھی، پہلے ہنومان گڑھی کی تاریخ کو اچھی طرح جان لیتے، خصوصاً اس تاریخ کو جس کی بنیاد ہی مشترکہ، گنگا-جمنی روایت پر قائم ہے۔ اسی لیے ہنومان گڑھی صرف ایک مذہبی مقام ہی نہیں بلکہ ہندو-مسلم بھائی چارے کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
درحقیقت اودھ کے نواب شجاع الدولہ (1754 تا 1775) نے نہ صرف ہنومان گڑھی کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کی بلکہ اپنے ہندو راجہ ٹکیت رائے کو سرکاری خزانے کے خرچ پر اس کی ایسی تعمیر کی ذمہ داری بھی سونپی کہ وہ اپنی مثال آپ بن جائے۔
اس حوالے سے دو روایات مشہور ہیں۔ پہلی یہ کہ شجاع الدولہ کے ایک صاحبزادے کو ایک لاعلاج بیماری لاحق تھی، جس سے بابا ابھے رام داس کی دعا اور آشیرواد سے نجات ملی۔ اس احسان کے اعتراف میں نواب نے اپنے خزانے سے رقم دے کر ان کے معبود ہنومان کے لیے یہ عظیم گڑھی تعمیر کروائی۔
دوسری روایت یہ ہے کہ ایک روز شجاع الدولہ دریائے سرجو میں غسل کے لیے اترے تو ایک مگرمچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔ بڑی مشکل سے وہ اس کے جبڑوں سے نکل کر کنارے تک پہنچے مگر بے ہوش ہو گئے۔ اس وقت بابا ابھے رام داس، جو اس زمانے میں ایک درخت کے کھوکھلے میں ہنومان جی کی مورتی رکھ کر عبادت کیا کرتے تھے، اپنے شاگردوں کے ساتھ انہیں پہچانے بغیر محض انسانی ہمدردی کے جذبے سے ان کی خدمت اور تیمارداری میں لگ گئے۔
جب نواب کو ہوش آیا اور انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو بابا سے کہا کہ بدلے میں جو چاہیں مانگ لیں۔ بابا ابھے رام داس نے جواب دیا، ’’میں جو کچھ بھی مانگتا ہوں، اپنے ہنومنت للا ہی سے مانگتا ہوں۔ وہ مجھے کبھی مایوس نہیں کرتے، اس لیے کسی اور سے کچھ نہیں مانگتا۔ اگر آپ واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہی ہنومنت للا کے لیے کچھ کیجیے، میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔‘‘
اس کے بعد نواب شجاع الدولہ نے اپنے راجہ ٹکیت رائے کے ذریعے ہنومان گڑھی تعمیر کروا دی۔ یہ بھی روایت ہے کہ جب اس گڑھی کی تعمیر جاری تھی تو معلوم ہوا کہ طے شدہ نقشے کے مطابق عمارت بنانے سے ایک صوفی بزرگ کا آستانہ اس کی حدود میں آ جائے گا۔ جب اس بزرگ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے خوش دلی سے اپنا آستانہ خالی کر دیا۔ البتہ انہوں نے صرف ایک شرط رکھی کہ جس طرح روزانہ سادھوؤں اور سنتوں کو سیر سیدھا (راشن یا نذرانہ) دیا جاتا ہے، اسی طرح ایک فقیر کو بھی روزانہ دیا جائے۔ ہنومان گڑھی میں یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔
یہ گڑھی اٹھارہویں صدی کے اختتام سے پہلے ہی، جب ملک میں جمہوریت کا تصور بھی موجود نہیں تھا، اپنے انتظام و انصرام کے لیے بالغ رائے دہی پر مبنی جمہوری نظام اپنا چکی تھی۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک آئین بنایا گیا اور اسے نافذ کیا گیا۔
اس آئین کے مطابق گڑھی کا سب سے اعلیٰ عہدہ گدّی نشین کہلاتا ہے۔ یہ منصب نہ خاندانی وراثت کے ذریعے ملتا ہے، نہ گرو-شاگرد کی روایت سے اور نہ ہی کسی موروثی حق کے تحت۔ گدّی نشین ایک مقررہ مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے یہ عہد کرنا ہوتا ہے کہ وہ گڑھی کی تمام جائیداد کو اجتماعی امانت سمجھے گا، اس کا صرف نگہبان رہے گا، اسے ذاتی استعمال میں نہیں لائے گا، نہ اس کا نقصان کرے گا اور نہ ہی پنچوں کے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ کرے گا۔ اگر وہ اس عہد کی خلاف ورزی کرے تو اسے سزا دینے کی آئینی شق بھی موجود ہے۔
رامانندی سادھوؤں کے نرواِنی اکھاڑے سے وابستہ اس گڑھی میں کوئی بھی ویشنو سنیاسی کسی بھی ناگا کے زیرِ نگرانی تعلیم و تربیت کے لیے رہ سکتا ہے، لیکن حقِ رائے دہی حاصل کرنے کے لیے اسے ایک طویل مرحلہ وار عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے لیے آنے والے کو سادک چیلا یا سادھک ششیہ کہا جاتا ہے۔ سادھو بننے سے پہلے اسے پہلے چھورا، پھر بالترتیب بندگی دار، ہُردنگا، مُریٹھیا، ناگا اور آخر میں پرتی شرینی ناگا بننا پڑتا ہے۔ جب وہ پرتی شرینی ناگا کے درجے تک پہنچ جاتا ہے تو اسے گڑھی کا باقاعدہ ووٹ دینے والا رکن تسلیم کیا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ چھٹے گدّی نشین بابا بلرام داس کے دور میں گڑھی کے سادھوؤں کی تعداد چھ سو سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہونے لگے۔ اس پر گڑھی کو چار پٹّیوں میں تقسیم کیا گیا: ساگریا، بسنتیا، اُجّینیا اور ہری دواری۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ چاروں پٹّیاں نرواِنی اکھاڑے ہی سے وابستہ رہیں گی۔ ہر پٹّی کے مزید تین ذیلی حصے بنائے گئے: جماعت خالصہ، جماعت ہُنڈا اور جماعت جھُنڈی۔ قواعد کے مطابق گڑھی میں تین سطحوں کی پنچایتیں قائم ہیں: پٹّی پنچایت، اکھاڑا پنچایت اور اکھاڑا عاملہ کی پنچایت۔
پہلے چاروں پٹّیوں کے ووٹر اپنے اپنے مہنت کا انتخاب کرتے ہیں، اس کے بعد اکھاڑا پنچایت منتخب ہوتی ہے۔ آخر میں اکھاڑے اور چاروں پٹّیوں سے منتخب ہونے والے 24 پنچ اپنا سرپنچ منتخب کرتے ہیں، جو اکھاڑا عاملہ کی پنچایت کا سرپنچ کہلاتا ہے۔ اس کی مدتِ کار دو سال ہوتی ہے اور اسے گدّی نشین کے سامنے سچائی، دیانت داری اور غیر جانب داری کا حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ گدّی نشین کا انتخاب بھی اکھاڑے کے پنچ ہی کرتے ہیں۔
پٹّی، اکھاڑے یا اکھاڑا عاملہ کی پنچایتوں کے اجلاس بلانے اور ان کی اطلاع پہنچانے کے لیے ایک عہدے دار مقرر ہوتا ہے، جسے کوتوال کہا جاتا ہے، جبکہ حساب کتاب کی ذمہ داری نبھانے والے عہدے دار کو گولکی یا مختار کہا جاتا ہے۔ ہر پٹّی کی ہر جماعت سے ہر تین سال بعد گولکی کا انتخاب بھی ووٹ کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔
اکھاڑا عاملہ کی پنچایت کا اجلاس اس وقت مکمل تصور کیا جاتا ہے جب کم از کم 16 پنچ موجود ہوں۔ تمام فیصلے اکثریتی رائے سے کیے جاتے ہیں، اور اگر کسی معاملے میں موافق اور مخالف ووٹ برابر ہو جائیں تو سرپنچ کا ووٹ فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔ یہ پنچایت ان افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی رکھتی ہے جو گڑھی کی روایات کی خلاف ورزی کریں یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔ ایسے افراد کا سیر سیدھا، جو کسی سادھو کے احترام اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے، بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہنومان گڑھی ابتدا ہی سے موروثی یا شخصی اقتدار کے بجائے پنچایتی مٹھ رہی ہے اور اس کا پورا نظام جمہوریت اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم رہا ہے۔ گڑھی کے سادھوؤں کی چاروں پٹّیوں کو اقتدار کی کشمکش سے محفوظ رکھنے کے لیے گدّی نشین باری باری ہر پٹّی سے منتخب کیا جاتا ہے اور وہ صرف اکھاڑے کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔
اسی طرح پٹّیوں کے مہنتوں کے انتخاب میں بھی مساوی مواقع کے اصول کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تینوں جماعتوں میں سے باری باری مہنت منتخب کیا جاتا ہے، اور جس جماعت کی باری ہوتی ہے وہ خود انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیتی۔ اب اگر یوگی آدتیہ ناتھ اس ہنومان گڑھی کو بھی اپنی تنگ نظر سیاست کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو ان سے صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ خدارا، کم از کم ہنومان گڑھی کو تو بخش دیجیے!
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
