بڑھتی گرمی، بگڑتا نظام اور ہماری پالیسیوں کی ناکامی...پنکج چترویدی

گرمی محض موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جنگلات کی کٹائی، غلط زرعی ترجیحات اور کمزور حفاظتی اقدامات نے بحران کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے اثرات معیشت، صحت اور ماحول پر واضح ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

پنکج چترویدی

google_preferred_badge

آج کا انسان ایک ایسی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے جہاں فطرت کی انتہائیں روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں ہی درجہ حرارت کا 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جانا اور محسوس ہونے والا درجہ حرارت 49 ڈگری تک پہنچ جانا صرف ایک موسمی تغیر نہیں، بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر یہ سوال کرنا ہوگا کہ آخر اس تباہ کن گرمی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ محض قدرتی عمل ہے، یا ہم خود اس تباہی کے معمار ہیں؟

ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں نے اس غیر معمولی گرمی کی شکایت کی، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید محسوس ہوئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتے نقشے اور عالمی درجہ حرارت کی فہرستیں اس بات کا ثبوت بن گئیں کہ ہندوستان اس وقت دنیا کے گرم ترین خطوں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان لوگوں کے لیے زندگی کو عذاب بنا دیا جو کھلے آسمان کے نیچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔

حکومتی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے گئے، جیسے اسکولوں میں بچوں کے لیے پانی پینے کی یاد دہانی، ہلکے کپڑے پہننے کی ہدایات اور اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک یونٹس کا قیام، لیکن یہ سب اقدامات مسئلے کی جڑ کو نہیں چھوتے۔ یہ وقتی راحت فراہم کر سکتے ہیں، مگر مستقل حل نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی ایک ’مخلوط بحران‘ ہے، جہاں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور مقامی سطح پر ناقص پالیسیوں کا امتزاج ایک تباہ کن صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ہم نے اپنی زمین، پانی اور جنگلات کو اس حد تک نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اب قدرتی طور پر ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی اپنی صلاحیت کھو چکے ہیں۔


’ہیٹ اسٹریس‘ یعنی گرمی کا دباؤ محض ایک موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک سماجی و اقتصادی مسئلہ بھی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو تعمیراتی کام یا سڑکوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں، اس کے سب سے زیادہ متاثرہ طبقے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک گرمی کے باعث کام کے گھنٹوں میں تقریباً 5.8 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کروڑوں نوکریوں کے برابر ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست معیشت پر ضرب ہے۔

شہری علاقوں میں ’حرارتی جزیرے‘ (اربن ہیٹ آئی لینڈز) کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں کنکریٹ اور ڈامر گرمی کو جذب کر کے دیر تک خارج کرتے ہیں، جس سے مقامی درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دیہی علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جب گندم کے دانوں میں دودھ آتا ہے، اسی وقت درجہ حرارت میں اچانک اضافہ پیداوار کو 15 سے 25 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔

اس کے باوجود ہماری زرعی پالیسیاں ایسی فصلوں کو ترجیح دیتی ہیں جو زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مقامی اور گرمی برداشت کرنے والی فصلوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ مستقبل کے لیے خطرناک حکمت عملی بھی ہے۔

ماحولیاتی نظام بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، کان کنی اور انفراسٹرکچر کی توسیع نے فطری توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جنگلات نہ صرف کاربن کو جذب کرتے ہیں بلکہ مقامی درجہ حرارت کو معتدل رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تباہی کا مطلب ہے کہ ہم خود کو قدرتی تحفظ سے محروم کر رہے ہیں۔

’ون ہیلتھ‘ کا تصور، جو انسان، جانور اور ماحول کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتا ہے، اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری پالیسیاں اس جامع نظریہ کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً، جنگلی حیات انسانی بستیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، کیونکہ ان کے قدرتی مسکن اور پانی کے ذرائع ختم ہو رہے ہیں۔


چھترپور میں، پنا ٹائیگر ریزرو کے قریب جاری مبینہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ٹکراؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پتھر کی کان کنی کے لیے آبی ذخائر کو تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قدرتی پانی کے ذرائع خشک ہو رہے ہیں۔ اس کے باعث جنگلی جانور انسانی آبادیوں کی طرف آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ محکمۂ جنگلات کے اعداد و شمار کے مطابق گرمی کے شدید مہینوں میں پانی کی تلاش میں دیہات کے اطراف تیندوؤں اور ریچھوں کے داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ قدرتی آفات نہیں ہیں بلکہ وہ پالیسی ناکامیاں ہیں جن میں طویل مدتی ماحولیاتی استحکام کے بجائے قلیل مدتی انفراسٹرکچر فوائد کو ترجیح دی گئی ہے۔

پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کنکریٹ کے پھیلاؤ کے لیے کاٹے جانے والے جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک ایسے مقامی موسمی نظام کے محافظ ہوتے ہیں جو فصلوں کو گرمی کے جھٹکوں سے بچاتے ہیں اور مٹی کی ضروری نمی کو برقرار رکھتے ہیں۔ بندیل کھنڈ جیسے سطح مرتفع علاقوں میں ہر ایکڑ جنگل کی تباہی زیر زمین پانی کے ذخیرے کی مستقل کمی کا باعث بنتی ہے، جس سے پانی کی قلت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی میں انسانی کردار کو کم کرنے کے لیے ترقی کے تصور میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ باندا میں کان کنی کے لیے برابر کی گئی ہر پہاڑی اور کین بیسن میں ریت سے خالی ہر دریا کا فرش دراصل ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری تھا، جسے ہم نے مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب تک انفراسٹرکچر میں ’گرین انجینئرنگ‘ کو ترجیح نہیں دی جاتی اور ماحولیاتی قوانین پر سنجیدگی سے عمل نہیں ہوتا، تب تک شدید گرمی سے ہونے والا معاشی نقصان، جیسے محنت کی پیداوار میں کمی، فصلوں کی تباہی اور عوامی صحت کے بحران، ان منصوبوں کے مبینہ مالی فوائد سے کہیں زیادہ ہوگا۔

زمینی حقیقتوں کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ اصل چیلنج اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ ’ہیٹ اسٹریس‘ دراصل انسانی نظامی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ ہماری موجودہ پالیسی ساخت کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ماحولیاتی منظوری کے عمل میں لاپروائی اور جلد بازی شامل ہے۔ جب ہم بڑے ڈیم، شاہراہوں اور کان کنی کے لیے اندھا دھند جنگلات کی کٹائی کی اجازت دیتے ہیں، تو ہم درحقیقت ان قدرتی کاربن ذخائر اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے عوامل کو ختم کر دیتے ہیں جو شدید گرمی کے خلاف ہماری واحد ڈھال ہیں۔


موجودہ ہیٹ ایکشن منصوبوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی توجہ صرف شہری علاقوں میں انسانی اموات تک محدود ہے، جبکہ مٹی اور جنگلی حیات کے حیاتیاتی مسائل کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی موافق زراعت کے تحت مٹی میں نمی برقرار رکھنے کو لازمی جزو بنائے، اور مٹی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھوسہ، پرالی اور خشک گھاس کے استعمال کو فروغ دے، ساتھ ہی نامیاتی کھاد کے لیے کسانوں کو مالی ترغیب فراہم کرے۔

’ون ہیلتھ‘ کے تصور کو ضلعی سطح کے فیصلوں میں لازمی اصول کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ویٹرنری، زراعت اور جنگلات کے محکموں کے درمیان موجود انتظامی رکاوٹیں ختم ہوں اور پورے ماحولیاتی نظام کی نگرانی ایک مشترکہ اکائی کے طور پر ہو سکے۔ پالیسی کو ایسی جوابدہی کی طرف موڑنا ہوگا جہاں ہر انفراسٹرکچر منصوبے کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جائے کہ وہ مقامی درجہ حرارت پر کیا اثر ڈالے گا۔

پالیسی سازی میں بنیادی جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں میں سختی سے نفاذ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ضلعی سطح کے ہیٹ ایکشن منصوبوں کو ایک جامع ’ون ہیلتھ‘ فریم ورک میں ڈھالنا ہوگا، جو مٹی، پانی اور جنگلی حیات کو باہم مربوط نظام کے طور پر دیکھے۔ زراعت کے شعبے میں اس کے لیے مقامی موسمیاتی مراکز کا قیام ضروری ہوگا، جو محض درجہ حرارت کی نگرانی تک محدود نہ ہوں بلکہ ایسے آبپاشی کے طریقے فراہم کریں جو فصلوں کو گرمی کے جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

جنگلات کے انتظام میں ’ماحولیاتی آبی بجٹ‘ کو اپنانا چاہیے اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے خشک علاقوں کی نشاندہی کر کے ایسے اقدامات کیے جائیں جو جنگلی حیات کو پانی کی تلاش میں انسانی آبادیوں کی طرف جانے سے روک سکیں۔


بہت زیادہ لاگت والے دریاؤں کو جوڑنے کے منصوبوں کے بجائے ہمیں بندیل کھنڈ کے چندیل دور کے تالابوں جیسے قدیم آبی ذخائر کو محفوظ اور بحال کرنا چاہیے، جو ایک مؤثر مقامی ٹھنڈک کے نظام کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

جب ال نینو جیسے قدرتی چکر انسانی بے حسی کے ساتھ مل جاتے ہیں تو وہی شدید موسمی حالات پیدا ہوتے ہیں جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، اور امکان ہے کہ مستقبل میں ان کی شدت اور تکرار مزید بڑھے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس چکر کو توڑ سکتے ہیں؟ موجودہ حالات تو انتہائی تشویشناک اشارے دے رہے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔