بنگال کا باغی شاعر: قاضی نذرالاسلام، قلم سے بغاوت اور آزادی کا نغمہ...شاہد صدیقی علیگ

قاضی نذرالاسلام بنگال کے عظیم باغی شاعر، ادیب اور موسیقار تھے۔ انہوں نے شاعری کو آزادی، انسانی مساوات اور ہندو مسلم اتحاد کی آواز بنایا اور برطانوی استعمار کے خلاف بے خوف جدوجہد کی۔

<div class="paragraphs"><p>قاضی نذرالاسلام / تصویر اے آئی</p></div>
i

قاضی نذرالاسلام برصغیر کے ان عظیم انقلابی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری، نثر اور موسیقی کے ذریعے آزادی، انسانی مساوات، مذہبی ہم آہنگی اور ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے؛ شاعر، ادیب، موسیقار، صحافی، خطیب، فلسفی اور محبِ وطن، سبھی کردار ان کی شخصیت میں یکجا تھے۔ ان کا قلم صرف جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی جبر کو چیلنج بھی کرتا تھا۔ اسی باغیانہ مزاج نے انہیں ’باغی شاعر‘ کا لقب دلایا۔

قاضی نذرالاسلام 24 مئی 1899 کو گاؤں چُرولیا، ضلع بردوان، مغربی بنگال کے ایک غریب مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد فقیر احمد مسجد کے امام تھے، جب کہ والدہ زاہدہ خاتون گھریلو خاتون تھیں۔ نذرالاسلام نے ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کی۔ ابھی وہ پندرہ برس کے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ گھر کے معاشی حالات نے انہیں کم عمری ہی میں مختلف کام کرنے پر مجبور کردیا۔

اسی زمانے میں وہ اپنے چچا فضل کریم کے ’لیٹو‘ تھیٹر گروپ سے وابستہ ہوئے۔ یہاں انہوں نے ڈرامے، گیت اور منظوم تحریریں لکھیں۔ اس تجربے نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ بعد ازاں ایک مقامی زمیندار کی سرپرستی میں انہیں سیرسول راج ہائی اسکول میں داخلہ ملا، جہاں انہیں ماہانہ وظیفہ بھی ملنے لگا۔ وہ غیر معمولی ذہانت کے حامل طالب علم تھے اور ایک ہی سال میں آٹھویں جماعت سے دسویں جماعت تک پہنچ گئے۔ اسی دوران انہوں نے فارسی بھی سیکھی۔

حب الوطنی کے شدید جذبے کے تحت انہوں نے 18 برس کی عمر میں اپنی رسمی تعلیم ترک کردی اور برطانوی فوج کی 49ویں بنگال رجمنٹ میں شامل ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ فوجی تربیت حاصل کرکے ایک دن ملک کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم فوج میں رہتے ہوئے بھی شعر و ادب سے ان کا رشتہ برقرار رہا۔ کراچی میں فوجی قیام کے دوران انہوں نے اپنی پہلی نظم اشاعت کے لیے بھیجی، جو 1919 میں کلکتہ کے بنگالی ادبی رسالے میں شائع ہوئی۔


فوج سے واپسی کے بعد نذرالاسلام نے اپنی زندگی پوری طرح ادب اور سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے بنگالی، سنسکرت اور انگریزی کا مطالعہ کیا اور موسیقی میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کی تخلیقات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ انہوں نے نظمیں، گیت، کہانیاں، ناول، مضامین اور دیگر ادبی اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی شاعری میں بغاوت، آزادی، محبت، انسان دوستی اور مذہبی رواداری ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

1919 میں خلافت اور عدمِ تعاون کی تحریکوں نے پورے ملک کی سیاسی فضا کو بدل دیا۔ نذرالاسلام بھی اس ماحول سے متاثر ہوئے اور سیاسی صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ کلکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ’نویک‘ سے وابستہ ہوکر انہوں نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اداریے اور مضامین لکھے۔ حکام نے متعدد مرتبہ اخبار کو خبردار کیا، مگر نذرالاسلام کے قلم کی رفتار نہ رکی۔ بالآخر اخبار کی ضمانت ضبط کرلی گئی۔

اسی دور میں ان کی نظم ’دوروہی‘ (باغی) منظر عام پر آئی، جس نے بنگال کے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ نظم کا مرکزی کردار ہر قسم کے جبر، استحصال اور غلامی کے خلاف کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ نذرالاسلام نے روایتی بنگالی شاعری کے اسلوب سے بھی بغاوت کی اور اپنی شاعری میں ایک نئی توانائی، موسیقیت اور انقلابی لہجہ پیدا کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ہفت روزہ ’دھوم کیتو‘ جاری کیا۔ اس اخبار نے ان کی ادبی اور سیاسی زندگی کو نئی بلندی عطا کی۔ اس کے صفحات سے برطانوی اقتدار کے خلاف بے باک آواز بلند ہوئی۔ ان کی نظم ’آنند مئی آئن‘ بھی حکومت کے عتاب کا باعث بنی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں انہوں نے غلامی کے خلاف اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’اس ملک میں غلامی کو غلامی کہنا کیوں جرم سمجھا جاتا ہے؟‘‘


جیل میں بھی ان کا احتجاج جاری رہا۔ ہگلی جیل میں سیاسی قیدی کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے خلاف انہوں نے بھوک ہڑتال کی۔ بالآخر سزا مکمل ہونے کے بعد 15 دسمبر 1923 کو انہیں رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد بھی نذرالاسلام سیاسی سرگرمیوں سے دور نہیں ہوئے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کی لیبر سوراج پارٹی کے قیام میں سرگرم رہے اور اس کے ترجمان ’لانگل‘ کے ذریعے اپنے سیاسی اور سماجی خیالات عوام تک پہنچاتے رہے۔ انہوں نے انتخابی سیاست میں بھی حصہ لیا، تاہم کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

1920 کی دہائی کے آخر تک نذرالاسلام کی شہرت پورے بنگال میں پھیل چکی تھی۔ 1929 میں کلکتہ میں ان کا عوامی استقبال ہوا، جہاں ان کی انقلابی شاعری کی پذیرائی کرنے والوں میں نیتا جی سبھاش چندر بوس بھی شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی تحریریں برطانوی حکومت کے لیے باعثِ تشویش رہیں اور ان کی بعض کتابیں اور تحریریں ضبط کرلی گئیں۔

نذرالاسلام کی زندگی کا آخری دور انتہائی کرب ناک تھا۔ 1942 میں ایک شدید بیماری کے نتیجے میں ان کی قوتِ گویائی متاثر ہوگئی اور وہ رفتہ رفتہ تخلیقی سرگرمیوں سے بھی دور ہوتے گئے۔ اس کے باوجود ان کا ادبی اور سیاسی ورثہ زندہ رہا۔ حکومتِ ہند نے 1960 میں انہیں پدم بھوشن سے نوازا۔ قاضی نذرالاسلام 29 اگست 1976 کو ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ ان کی خواہش کے مطابق انہیں ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

نذرالاسلام کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آواز اٹھائی، بلکہ اس میں بھی ہے کہ انہوں نے انسان کو مذہب، ذات اور طبقے کی تقسیم سے بالاتر ہوکر دیکھا۔ ہندو مسلم اتحاد ان کے فکری نظریے کا اہم ستون تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ فن اور ادب کو انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں جوڑنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔


قاضی نذرالاسلام کا قلم اپنے عہد کی زنجیروں سے ٹکرایا اور ان کی شاعری نے آزادی کے خواب کو آواز دی۔ ان کا ’باغی‘ دراصل صرف ایک سیاسی باغی نہیں تھا؛ وہ ہر اس ناانصافی کے خلاف کھڑا انسان تھا جو انسان کی آزادی اور وقار کو مجروح کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آج بھی محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آزادی، مساوات اور انسان دوستی کی ایک زندہ صدا محسوس ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔