جلیل اختر کے دوزخ جیسے دن... بپلب نایک

شمالی دیناج پور کے ایک ہاٹ سے مویشی بازار کو بند کرنے، ووٹر لسٹ سے نام کٹنے اور ایک ہندوستانی شہری کو ’بنگلہ دیشی‘ بنانے کی کہانی۔

<div class="paragraphs"><p>پریشان حال شخص، علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i

رساکھووا شمالی بنگال کے شمالی دیناج پور ضلع کے سب سے قدیم اور سب سے بڑے ہفتہ وار بازاروں میں سے ایک ہے۔ کبھی یہاں اتوار کو ہاٹ لگا کرتا تھا، جس میں دور دراز سے خرید و فروخت کرنے والے جمع ہوتے تھے۔ یہ ہفتہ وار بازار بنیادی طور پر ’گورور ہاٹ‘ (مویشی بازار) ہوا کرتا تھا، جو ایک بڑے رقبہ میں پھیلا ہوا تھا۔ کسان، گھر گرہستی والے، مویشی پالنے والے اور گوالوں سے لے کر قصاب تک یہاں مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے آتے تھے۔ گائے بیل کو پرکھنے کا سب کا اپنا طریقہ تھا: کوئی اس کے دانت گنتا، تو کوئی اس کی پیٹھ اور پٹھوں کو تھپتھپا کر دیکھتا۔

اتوار کے اس مویشی بازار کی گہما گہمی کرن دیگھی کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی تھی۔ اس کے آس پاس دوسری طرح کے بازار بھی پھلتے پھولتے تھے: پھل سبزیوں کی دکانیں، جوٹ، دھان اور چاول کی آڑھتیں، نیز دالوں، خاص طور پر بھنی ہوئی ’مشکلائی‘ (اڑد) دال کا کاروبار۔ ہفتے کے باقی دنوں میں بھی یہاں کچھ نہ کچھ خرید و فروخت ہوتی رہتی تھی۔ دور دراز کے گاؤں کے لوگ باقاعدگی سے جمع ہوتے تھے اور اسی وجہ سے ہاٹ کے آس پاس اسکول، مدرسے، طلبا کے ہاسٹل اور سرکاری دفاتر بھی بنتے چلے گئے۔ دیہی زندگی کے صدیوں پرانے تانے بانے سے بنا رساکھووا عام لوگوں کی زندگی کی شناخت سا بن گیا تھا۔


29 جولائی 2026 کا دن۔ رائے گنج بس ڈپو سے صبح 7 بجے روانہ ہونے والی سرکاری بس نے ہمیں صبح 9 بجے سے کچھ پہلے ہی رساکھووا اتار دیا۔ ہم 4 لوگ تھے۔ وہ بدھ کا دن تھا، یعنی ہاٹ کا دن نہیں تھا، پھر بھی بازار کی وہ خاموشی انتہائی غیر معمولی اور خوفناک لگ رہی تھی۔ یہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے جس چیز نے ہماری توجہ کھینچی، وہ یہاں کی ویرانی تھی۔ کبھی یہیں ’گورور ہاٹ‘ لگا کرتا تھا۔ اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ گزشتہ بقرعید سے ٹھیک پہلے مویشیوں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ پولیس اور ہندوتوادی لاٹھی بردار رساکھووا پہنچے اور مویشی ہاٹ کی تمام تعمیرات کو توڑ ڈالا۔ اب یہ بازار دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے بالکل بند ہے۔

ہم نے کچھ دکانداروں اور ’ٹو ٹو‘ (بیٹری سے چلنے والی ای رکشا) ڈرائیوروں سے بات کی۔ انہوں نے ہاٹ کی حدود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان دو ماہ کے اندر ہی مویشی ہاٹ کی زمین کے کئی حصوں پر غیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے۔ وہاں نئی پکی دکان نما کوٹھریاں بنا دی گئی ہیں، لیکن انہیں کوئی اندازہ نہیں کہ وہاں کس طرح کی دکانیں کھلنے والی ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے ان کے اندر گھر کر گئی دہشت کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہم ہاٹ میں ایک چائے کی دکان پر پہنچے اور وہاں ایک ادھیڑ عمر کے مسلم دکاندار سے گفتگو شروع کی۔ وہ صبح اپنی دکان کھول کر چائے پینے آیا تھا۔ ہم اجنبی تھے، اس لیے اس نے پوچھا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ فوراً ہی گفتگو مویشی ہاٹ کے بند ہونے کی طرف مڑ گئی۔ اس نے بتایا کہ بات صرف رساکھووا کی نہیں ہے، کرن دیگھی بلاک کے تینوں بڑے مویشی ہاٹ بند کرا دیے گئے ہیں۔


وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا ’’مویشی پال کر بیچنے والے انہیں گھر بیٹھا کر کب تک کھلا سکتے ہیں؟ اس لیے وہ انہیں اونے پونے داموں پر ماتھے پر تلک لگائے اور خود کو گؤ رکشک کہنے والوں کو ہی بیچ دیتے ہیں، اور پھر یہی لوگ مویشیوں کو گوشت برآمد کرنے والوں کے دلالوں کو بیچ دیتے ہیں۔ ہم مسلمان جب مویشی خریدتے بیچتے ہیں، صرف تب ہی یہ جرم بن جاتا ہے۔ اس بقرعید ہم مسلمانوں نے مویشی نہ خریدنے کا فیصلہ کیا، اور ہم نے نہیں خریدے۔ لیکن اگر یہی صورت حال رہی، تو ہل چلانے کے لیے بیل کہاں سے آئیں گے؟ دودھ دینے والے مویشی کہاں سے ملیں گے؟‘‘

میں نے پوچھا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ یہ صدیوں پرانا مویشی بازار اب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ اس نے چبھتی نظروں سے گھورتے ہوئے سوال کیا ’’کیا ایسا ہی نہیں لگ رہا؟ ذرا اس ایس آئی آر کو دیکھئے۔ ہمارے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ نام دوبارہ کیسے جڑیں گے؟ کرن دیگھی بلاک میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ تقریباً یہ سب مسلمان ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ لوگوں نے اپنے صندوق کھنگالے، باپ دادا اور پرکھوں کے جو بھی کاغذات ملے، انہیں تھیلوں میں بھر کر افسروں کے پاس پہنچے۔ لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا؛ وہ ووٹ نہیں ڈال سکے۔ اب وہ خوف میں جی رہے ہیں کہ نہ جانے کب بینک، راشن کی دکان، تھانے یا کسی سرکاری دفتر میں ان کے سامنے دیوار کھڑی کر دی جائے گی... وہ کہتے ہیں کہ ٹریبونل تمام نام واپس جوڑ دے گا۔ تین ماہ گزر چکے ہیں اور مجسٹریٹ کے دفتر میں صرف 151 لوگوں کی سماعت ہوئی ہے۔ اب تو ٹریبونل نے بھی کام بند کر دیا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا، کب ہوگا۔ آپ کو معلوم ہے؟‘‘ میں نے سر جھکا لیا۔ وہ کہتے ہیں ’’اور ویسے بھی ووٹر لسٹ میں نام ہونے سے کیا ہو جاتا؟ باگروئی گاؤں کے جلیل اختر کو دیکھئے۔ پولیس اسے اٹھا لے گئی اور ہولڈنگ سنٹر میں ڈال دیا۔ اس کا نام ووٹر لسٹ میں تھا۔ اس نے ووٹ بھی ڈالا تھا۔ اور اب وہ اسے بنگلہ دیشی بتا رہے ہیں۔‘‘

-----


اخبار میں جلیل اختر کے بارے میں پڑھنے کے بعد ہی ہم رساکھووا آئے تھے۔ ایک ٹوٹو کرائے پر لے کر باگروئی گاؤں کے لیے نکل پڑے، جو تقریباً 25 کلومیٹر دور تھا۔ راستے میں جن گاؤں سے ہم گزرے، وہ بنیادی طور پر مسلم اکثریتی تھے۔ کہیں کہیں پختہ مکانات تھے، لیکن بیشتر چھپر والی جھونپڑیاں تھیں۔ جلیل اختر کا بھی گھر کچا تھا۔ برابر میں ان کے ماموں زاد بھائی مطیع الرحمان کا پکا مکان تھا۔ مطیع کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہوگی۔ جس کمرے میں ہم بیٹھے تھے، اسی میں وہ رات کو سوتے ہیں۔ جلیل اختر کا گھر ایک تنگ گلی کے بالکل سرے پر ہے۔ 29 جون کی رات جب پولیس جلیل کو اٹھا لے گئی، تو مطیع کو کوئی آہٹ سنائی نہیں دی۔ جلیل برآمدے میں لکڑی کی چوکی پر سو رہے تھے۔ اندر کمرے میں سو رہی ان کی بیوی کو بھی کچھ پتہ نہیں چلا۔ مطیع نے بتایا کہ پولیس دبے پاؤں آئی، جلیل کو جگایا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ جب جلیل نے کسی کو آواز دینے کی کوشش کی، تو پولیس والے نے اس کی کنپٹی پر بندوق رکھ دی اور کہا کہ اگر ذرا بھی آواز کی، تو گولی مار دیں گے۔

صبح جب ان کی بیوی جاگی اور انہیں غائب پایا، تو پہلے سوچا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے گئے ہوں گے۔ لیکن جب صبح کے بعد بھی وہ واپس نہیں آئے، تو مطیع اور دیگر پڑوسیوں نے تلاش شروع کی، لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ پھر ایک شخص نے بتایا کہ رات میں پولیس گاؤں میں آئی تھی۔ تو کیا وہی انہیں لے گئی؟ قریب ہی ایک پولیس کیمپ تھا۔ سب وہاں پہنچے۔ مطیع نے بتایا کہ ’’کیمپ کا بڑا بابو اچھا آدمی نہیں۔ کوئی شکایت کرتا ہے، تو وہ شکایت کنندہ اور ملزم دونوں کو الگ الگ بلا کر ڈراتا ہے اور دونوں سے پیسے اینٹھتا ہے۔‘‘ بڑا بابو نے بتایا کہ پولیس کے پاس خفیہ اطلاع تھی کہ جلیل بنگلہ دیشی ہے۔ اس لیے اسے بی ایس ایف کے حوالے کر دیا گیا۔ دیہاتی سناٹے میں آ گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جلیل کو بنگلہ دیشی کس نے کہا، کیونکہ اس کا خاندان تو نسلوں سے یہیں رہ رہا ہے۔ اس کے خاندان میں کسی نے آج تک بنگلہ دیش کی سرحد تک نہیں دیکھی۔ ایس آئی آر کے بعد بھی جلیل کا نام ووٹر لسٹ میں تھا اور اس نے ووٹ بھی دیا تھا۔ اس پر بڑا بابو چیخا ’’ہمارے پاس پوری معلومات ہے۔ تم لوگوں کے اس طرح آواز اٹھانے کے دن لد گئے۔ اب حکومت بدل چکی ہے۔‘‘


اس کے باوجود مطیع الرحمان اور دوسرے لوگ پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے جلیل کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ آزمانے کا عزم کیا۔ مطیع نے ہر وہ دستاویز جمع کی جو وہ حاصل کر سکتے تھے- جلیل کا ووٹر کارڈ، راشن کارڈ، پنچایت کے کاغذات اور دیگر شناختی کارڈ۔ مطیع نے تو یہ ثبوت بھی حاصل کر لیا کہ جلیل کے دادا دادی کا نام 1950 کی دہائی میں ہونے والے انتخابات کی ووٹر لسٹ میں بھی تھا۔

شمالی دیناج پور کے دال کھولا تھانے کا انسپکٹر انچارج (آئی سی) واقعے کے دن سے ہی چھٹی پر تھا۔ 9 جولائی کو جب وہ کام پر واپس آیا، تو مطیع اور جلیل کے خاندان کے لوگ تمام دستاویزات کے ساتھ اس سے ملے۔ اس سے پہلے، ایس آئی آر کے دوران کاٹے گئے ناموں کو بحال کرنے کے مطالبے کو لے کر بنائی گئی ’ووٹنگ رائٹس پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کے اسلام پور کنوینر دولال راجبنشی کی مدد سے وہ اسلام پور کے ایس پی سے بھی ملے تھے اور انہیں تمام ثبوت دکھائے تھے۔ تب انہیں پتہ چلا کہ جلیل کو پھلباڑی کے ہولڈنگ سینٹر لے جایا گیا ہے۔ کاغذات دیکھنے کے بعد اسلام پور کے ایس پی نے یقین دلایا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے، تو اسے درست کیا جائے گا۔ انہوں نے دال کھولا آئی سی سے ملنے کو کہا کیونکہ معاملہ ان کے دائرۂ اختیار کا تھا۔ دال کھولا آئی سی نے بھی کہا کہ جلیل کو ایک دو دن میں چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن جب پریشان رشتہ دار بار بار فریاد کرتے رہے، تو وہ جھنجھلا کر بول پڑا ’’تم لوگ بار بار چھوڑ دو، چھوڑ دو کی رٹ لگا رہے ہو... اندازہ بھی ہے کہ مجھ پر کتنا دباؤ ہے؟ مجھے 500 لوگوں کو اٹھانے کی فہرست دی گئی ہے۔ کل ہی پچاس اور نام آئے ہیں۔‘‘ اسے یہ نام کون بھیج رہا تھا؟ یہ فہرستیں کہاں اور کیسے تیار ہو رہی تھیں؟ اس پر یہ دباؤ کون بنا رہا تھا؟


مطیع اور باقی لوگ امید اور دہشت کے درمیان جھولتے ہوئے گاؤں واپس آ گئے۔ جلیل اختر کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، سبھی شادی شدہ ہیں۔ خاندان انتہائی غریب ہے، اس لیے دونوں بیٹے تارک وطن مزدور کے طور پر ریاست سے باہر کام کرتے ہیں... ایک دہلی میں، دوسرا حیدرآباد میں۔ جب انہوں نے سنا کہ والد کو اٹھا لیا گیا ہے، تو دونوں بدحواس ہو گئے۔ وہ روز فون کرتے اور رو پڑتے۔ لیکن نہ تو انہیں کام سے چھٹی مل سکی اور نہ وہ گھر آنے کے لائق پیسے جمع کر سکے۔

-----

اب دال کھولا تھانے میں دستاویزات جمع کیے 10 دن سے زیادہ گزر چکے تھے۔ بار بار منت سماجت کرنے پر ایک ہی جواب ملتا— پولیس ضروری کاموں میں مصروف ہے اور وہ دستاویزات کی تصدیق نہیں کر پائی ہے۔ لیکن خاندان کو بتایا گیا کہ جلیل کو پھلباڑی ہولڈنگ سینٹر سے چاکولیا بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے ٹال مٹول والے جوابوں سے تنگ آ کر دیہاتیوں نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ 20 جولائی کو 300 سے زیادہ دیہاتی جلیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے رساکھووا ہاٹ میں جمع ہوئے۔ پولیس نے انہیں گھیر لیا۔ لہٰذا وہ جلوس نہیں نکال سکے، لیکن ان کے اس ازخود احتجاج نے دیہاتیوں میں پھیلی دہشت کے ماحول کو کچھ دیر کے لیے ضرور توڑ دیا۔ اگلی صبح جلیل اختر کا خاندان چاکولیا ہولڈنگ سینٹر پہنچا۔ انہیں بتایا گیا کہ جلیل اب وہاں نہیں ہے، لیکن کسی نے نہیں بتایا کہ اب وہ کہاں ہے۔ ووٹنگ رائٹس پروٹیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کی مدد سے رائے گنج کے شمالی دیناج پور پریس کلب میں پریس کانفرنس کی گئی۔ جلیل کی اہلیہ توفا بی بی اور بیٹی کلثوم خاتون نے اپنی بات رکھی۔ اگلی صبح پولیس نے انہیں اطلاع دی کہ جلیل اختر کو اسلام پور کی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مطیع بھاگتے ہوئے عدالت پہنچے۔ وہاں پولیس نے پوری طرح من گھڑت اور جعلی رپورٹ پیش کی تھی- جلیل کو پہلے سے حراست میں رکھے جانے پر ایک لفظ بھی نہیں تھا؛ پولیس کا دعویٰ تھا کہ جلیل کو اسی دن سے ایک دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے بنگلہ دیش کے ٹھاکرگاؤں ضلع کے ہری پور کا باشندہ قرار دے دیا گیا تھا۔ دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا؛ عدالت کو صرف اتنا بتایا گیا کہ ’تصدیق‘ جاری ہے اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام ثبوت پیش کیے جائیں گے۔ اسی بنیاد پر پولیس نے حراست کی درخواست کی اور عدالت نے ریمانڈ منظور کر لیا۔


کئی ہفتے اور کئی عدالتی تاریخوں کے بعد بھی پولیس نہ تو ’تصدیق‘ مکمل کر پائی ہے اور نہ اپنے اس من گھڑت معاملے کا کوئی ’ثبوت‘ دے پائی ہے۔ وہ بار بار اگلی تاریخ مانگتے ہیں اور عدالت انہیں تاریخ دیتی جا رہی ہے۔ اس دوران جلیل کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی ہے اور خاندان کو ان کی جان کی فکر ستانے لگی ہے۔ چاکولیا میں بی ایس ایف کے جوان بتاتے ہیں کہ جلیل بمشکل کچھ کھاتے ہیں۔ وہ بلک بلک کر روتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’میں کبھی بنگلہ دیش نہیں گیا۔ وہاں کسی کو نہیں جانتا۔ میں کہاں جاؤں گا؟ ادھر دھکیلنے کے بجائے تم مجھے یہیں مار ڈالو۔‘‘

اسلام پور لاک اپ میں جلیل نے رشتہ داروں کو بتایا کہ پھلباڑی ہولڈنگ سینٹر میں ان کے ساتھ بائیس دیگر قیدی بھی تھے۔ سبھی کو بنگلہ دیش میں ’پش بیک‘ کرنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان کا کیا ہوا۔ چاکولیا ہولڈنگ سینٹر میں 6-7 اور بھی قیدی تھے۔ جلیل کو نہیں معلوم کہ ان کا کیا ہوا۔

-----


اس دن جب ہم مطیع کے گھر بیٹھے تھے، گاؤں کے لوگ آس پاس جمع ہو گئے۔ اسی دوران کسی نے سب کے لیے چائے بسکٹ لا دیے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص بڑبڑا رہا تھا— ’’وہ اپیلوں اور درخواستوں سے کچھ نہیں سننے والے۔ اگر لوگ دہلی کی طرح ہی سڑکوں پر اتر آئیں، تب ہی وہ جھکنے پر مجبور ہوں گے…۔‘‘ میں چونک گیا۔ چند ہی دن پہلے جنتر منتر پر ہونے والے طلبا کے مظاہرے کی گونج اس گاؤں تک بھی پہنچ چکی تھی جہاں کسی کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ کوئی رسائی، اور نہ ہی نیٹ کے امتحان میں بیٹھنے یا ڈاکٹر بننے کا کوئی خواب! ٹو ٹو ڈرائیور پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ وہ ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔ لیکن باگروئی پہنچنے کے بعد وہ خوشی خوشی رکنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس نے پوری گفتگو کو گہری دلچسپی کے ساتھ دیکھا اور سنا۔ دوپہر ڈھلنے لگی تھی جب ہم دوبارہ ٹوٹو میں بیٹھے اور رساکھووا کی طرف چل پڑے۔

جب بھی اسلام پور کی عدالت میں جلیل کے معاملے کی سماعت ہوتی ہے، میں مطیع الرحمان کو فون کرتا ہوں۔ یہی جواب ملتا ہے- ’پولیس نے اب تک رپورٹ جمع نہیں کی ہے... انہیں ایک اور تاریخ مل گئی ہے... مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوگا... کیا وہ جلیل کو مار ڈالیں گے؟‘

بھلا میں کیا جواب دیتا؟

(یہ مضمون بنگلہ ویب میگزین ’گروچنڈالی‘ میں شائع شدہ تفصیلی رپورٹ کا مختصر ترجمہ ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔