آر ایس ایس قانون سے اوپر تو نہیں ہے؟... شمس الاسلام
ناگپور کے للن سنگھ یہ جاننے کے لیے عدالتی دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں کہ آخر کن ہندوستانی اصولوں کے تحت آر ایس ایس چیف کو زیڈ پلس سیکورٹی اور اس کے ہیڈکوارٹر کو سی آئی ایس ایف کا حفاظتی حصار حاصل ہے۔

لگتا ہے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے آر ایس ایس سے براہ راست دو دو ہاتھ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ 13 جون 2026 کو سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کو لکھے ایک خط میں وہ کہتے ہیں کہ ’’جو تنظیم روز روز قوم پرستی، نظم و ضبط اور فرض کی بات کرتی ہے، اسے شفافیت، قواعد کی پابندی اور ہندوستانی آئین کے تئیں احترام کے ذریعے بھی ان اقدار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘
آر ایس ایس عام ہندوستانیوں سے قواعد کی پابندی کرنے کے لیے نہیں کہہ سکتی، جبکہ وہ خود ان قواعد کو نہیں مانتی۔ اگر کارکنان، چھوٹی تنظیموں، مذہبی اداروں، این جی اوز، ٹرسٹوں، کمپنیوں اور شہریوں سے رجسٹریشن کرانے، معلومات فراہم کرنے، آڈٹ کا سامنا کرنے اور ٹیکس ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، تو آر ایس ایس کو بھی ملک کے قوانین اور ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔
سنگھ کو آئین سے باہر حاصل اختیارات پر سوال اٹھانا ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اس کے تحت یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سنگھ اپنی قانونی حیثیت اور فنڈ کے ذرائع کا خود انکشاف کرے، اور سب سے اہم بات یہ کہ اسے ملک کے قوانین سے استثنا کیوں حاصل ہونا چاہیے، اس سوال کا جواب دے۔
آر ایس ایس سرکاری طور پر دعویٰ کرتی ہے کہ ہندوستان اور بیرون ملک اس کی 60 ہزار سے زائد شاخیں اور کروڑوں کارکنان ہیں۔ کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’اسی وسعت، اثر و رسوخ اور رسائی کی وجہ سے آر ایس ایس کو شفافیت، جوابدہی اور آئینی ضوابط کی پابندی کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔‘‘
کیرالم میں صد سالہ تقریبات کے ایک پروگرام میں بھاگوت نے اس خط کو ’سیاسی ہتھکنڈا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ’جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے‘ اور یہ بھی کہ ’ہندو دھرم رجسٹرڈ نہیں ہے‘، یا یہ کہ کئی دیگر ادارے بھی باضابطہ رجسٹریشن کے بغیر کام کرتے ہیں... ایسی ہی کئی اور گول مول باتیں۔ آر ایس ایس یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ’لوگوں کا ایک گروہ‘ ہے، جو کسی قانون کے تحت سوسائٹی، ٹرسٹ، این جی او، کمپنی یا سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے۔
آر ایس ایس خود کو ایک رضاکارانہ ’ثقافتی تنظیم‘ بتانے کا دکھاوا کرتی رہی ہے۔ اس کے انگریزی ترجمان ’آرگنائزر‘ (6 فروری 2000) کے ایک اداریے کے مطابق ’’آر ایس ایس کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے... یہ نہ تو انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور نہ ہی اس کے عہدیدار کسی سیاسی پارٹی کے عہدیدار بن سکتے ہیں... یہ ایک سماجی و ثقافتی تنظیم ہے جو تمام قومی سرگرمیوں کو تحریک دینے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘
آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم بتاتی ہے، لیکن اپنے یوم تاسیس پر ہتھیاروں کی پوجا کرتی ہے! اس کثیرالجہت این جی او کی بے شمار شاخیں اور معاون تنظیمیں ہیں۔ سنگھ لٹریچر کے بڑے ناشر ’روچی پرکاشن‘ کی جانب سے 1997 میں شائع کتاب ’پرم ویبھو کے پتھ پر‘ (مصنف: سدانند ڈی سپرے) میں آر ایس ایس کی جانب سے مختلف کاموں کے لیے قائم کیے گئے 40 سے زائد معاون اور ذیلی اداروں کی معلومات دی گئی ہیں۔ ان میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد)، ہندو جاگرن منچ، وشو ہندو پریشد، سودیشی جاگرن منچ اور سنسکار بھارتی بھی نمایاں طور پر شامل ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم اور تقریباً تمام مرکزی وزراء، بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ اور گورنر کھلے عام خود کو آر ایس ایس کا رکن بتاتے ہیں۔ اس کے ’ثقافتی تنظیم‘ ہونے کے دعوے کی بس یہیں انتہا ہو جاتی ہے۔
آر ایس ایس کیسے کام کرتی ہے، یہ سمجھنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے سپرے کی کتاب کئی نئی باتیں سامنے لاتی ہے اور ان کے لیے اسے پڑھنا ضروری ہے۔ اس کی متعدد معاون اور ذیلی تنظیمیں، ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے الجھن پیدا کرنے کی ایک چالاک حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہ تنظیمیں آر ایس ایس کو پردہ بھی فراہم کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر الگ ہونے کا موقع بھی۔ مثال کے طور پر، 1990 کی دہائی کے اواخر میں عیسائیوں پر حملوں کے لیے اس نے ’ہندو جاگرن منچ‘ کا استعمال کیا، اور جب عوامی رائے مخالف ہو گئی تو آر ایس ایس نے اس سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا۔ جب کبھی وی ایچ پی، بجرنگ دل یا ودیارتھی پریشد کی مجرمانہ سرگرمیاں سامنے آتی ہیں، آر ایس ایس بڑی آسانی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے انہیں آزاد تنظیمیں قرار دے دیتی ہے۔
سپرے لکھتے ہیں کہ ’ہندو جاگرن ابھیان‘ کے لیے ہندو جاگرن منچ 17 ریاستوں میں مختلف ناموں سے سرگرم ہیں، جیسے دہلی میں ’ہندو منچ‘، تمل ناڈو میں ’ہندو منانی‘، مہاراشٹر میں ’ہندو ایکجٹ‘ وغیرہ۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منچ ہیں، نہ کہ کوئی ایسوسی ایشن یا تنظیم، اس لیے ان میں رکنیت، رجسٹریشن یا عہدیداروں کے انتخاب کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ (’پرم ویبھو کے پتھ پر‘، صفحہ 64)
یہ بالکل واضح ہے کہ مافیا طرز کا یہ ڈھانچہ قانونی یا انتظامی جانچ سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان فرنٹ تنظیموں کے ذریعے کام کرنے سے آر ایس ایس کو وہ تحفظ مل جاتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے، تاکہ حالات بگڑنے یا کبھی کبھی کوئی ناخوشگوار نتیجہ سامنے آنے پر وہ خود کو اس سے الگ رکھ سکے۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد دہلی کے ایک معاملے کے حوالے سے سپرے لکھتے ہیں ’’رضاکاروں نے دہلی مسلم لیگ کا اعتماد جیتنے اور ان کی سازشوں کا پتہ لگانے کے لیے مسلمانوں کا بھیس اختیار کر لیا تھا۔‘‘ (ایضاً، ص 86)
آزادی کے وقت مسلمانوں کا بھیس اختیار کرنے والے یہ رضاکار کیا کر رہے تھے، یہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے واضح کیا تھا، جو بعد میں ہندوستانی جمہوریہ کے پہلے صدر بنے۔ ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو 14 مارچ 1948 کو لکھے گئے ایک خط میں پرساد نے لکھا ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے لوگوں کا منصوبہ بدامنی پھیلانے کا ہے۔ انہوں نے کئی لوگوں کو مسلمانوں کے کپڑے پہنا کر اور مسلمانوں جیسا روپ دے کر تیار کیا ہے، جو ہندوؤں پر حملہ کر کے اور انہیں اشتعال دلا کر بدامنی پھیلائیں گے۔ اسی طرح ان میں کچھ ہندو بھی ہوں گے جو مسلمانوں پر حملہ کریں گے اور انہیں اشتعال دلائیں گے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی بدامنی کا نتیجہ ایک بڑی آگ (فسادات) بھڑکنے کی صورت میں نکلے گا۔‘‘ (راجندر پرساد کا 14 مارچ 1948 کا سردار پٹیل کے نام خط، جس کا ذکر نیرج سنگھ (مدیر) کی کتاب ’نہرو-پٹیل: ایگریمنٹ ودن ڈفرینس- سیلیکٹ ڈاکومنٹس اینڈ کوریسپونڈنس 1933-1950‘، این بی ٹی، دہلی، ص 43 میں ہے)
موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ آر ایس ایس سرکاری فنڈ نہیں لیتی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے: انہیں نہ صرف حکومت ہند سے بلکہ ورلڈ بینک جیسی بین الاقوامی ایجنسیوں سے بھی رقم ملتی ہے۔ گزشتہ ماہ (21 تا 25 مئی 2026)، اکھل بھارتیہ ونواسی کلیان آشرم نے دہلی میں ایک بڑا قومی پروگرام منعقد کیا، جس کی میزبانی آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت نے کی تھی۔ (24 مئی 2026 کی ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ)
’انڈین ایکسپریس‘ (18 مئی 2026) کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، این ایس ڈی ایف (نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ فنڈ، جو بہترین کھلاڑیوں کے لیے ’ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم‘ جیسے معروف اسپورٹس مشن کو فنڈ فراہم کرتا ہے) سے کروڑوں روپے سینئر بیوروکریٹس کی سہولتوں اور راجستھان و چھتیس گڑھ میں آر ایس ایس سے وابستہ 2 اداروں کے لیے نکالے گئے۔ ایسے بے شمار معاملات سامنے ہی نہیں آ پاتے کیونکہ آر ایس ایس رجسٹرڈ نہیں ہے اور اس کے مالی لین دین کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوتی۔ ہندوستان اور بیرون ملک سے سینکڑوں کروڑ روپے جمع کرنے اور اپنی اعلانیہ و خفیہ سرگرمیوں کے لیے لاکھوں ملازمین کو کام پر رکھنے کے باوجود آر ایس ایس کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔
ناگپور کے یومیہ مزدور اور ایک سچے ہندوستانی محب وطن للن سنگھ ایک سادہ سے جواب کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں کہ آخر کن ہندوستانی قوانین کے تحت آر ایس ایس سربراہ کو زیڈ پلس وی وی آئی پی سیکورٹی اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کو سی آئی ایس ایف کا حفاظتی حصار حاصل ہے، جس پر ٹیکس ادا کرنے والے عام ہندوستانیوں کے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں؟ اور یہ سب ایک ایسی تنظیم کے لیے ہو رہا ہے جو رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
